مسلمانوں کے بنیادی عقائد
اللہ، رسول کی اطاعت سے انبیاء کی معیت نصیب ہوگی، ان کا درجہ نہیں!
سوال
۔ کیا آپ مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ کی پوری تشریح بیان فرمائیں گے؟:ﵟ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَٰٓئِكَ رَفِيقٗا ﵞ (النساء ٦٩)بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں، اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔‘‘ اور اس کی تشریح یہ بتلاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبی، صدیق، شہید اور صالح کا درجہ مل سکتا ہے۔
جواب
۔ یہ تشریح دو وجہ سے غلط ہے: ایک تویہ کہ نبوّت ایسی چیز نہیں جو اِنسان کو کسب و محنت اور اطاعت و عبادت سے مل جائے، دُوسرے اس لئے کہ اس سے لازم آئے گا کہ اسلام کی چودہ صدیوں میں کسی کو بھی اطاعتِ کاملہ کی توفیق نہ ہوئی۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کوشاں رہیں گے، گو ان کے اعمال کم درجے کے ہوں، ان کو قیامت کے دن انبیاء کرامؑ، صدیقین، شہداء اور مقبولانِ الٰہی کی معیت نصیب ہوگی۔(۱)
(۱) أی من عمل بما أمرہ اللہ بہ ورسولہ، وترک ما نہاہ اللہ عنہ ورسولہ، فان اللہ عزّ وجلّ یسکنہ دار کرامتہ ویجعلہ مرافقًا للأنبیاء ثم لمن بعدھم فی الرتبۃ وھم الصدیقون، ثم الشھداء ثم عموم المؤمنین وھم الصالحون ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۳۱۹)۔