February 24, 2026 1:35 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

اسلام کے بنیادی عقائد

سوال

۔ مذہبِ اسلام کے بنیادی عقائد کیا ہیں؟ قرآن وحدیث اور اَقوالِ فقہاء کے حوالہ جات متعلقہ تحریر فرمائیں؟

جواب

۔ اسلام اور کفر کے درمیان خطِ اِمتیاز کیا ہے؟ اور وہ کون سے اُمور ہیں جن کا ماننا شرطِ اسلام ہے؟ اس کے لئے چند نکات ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
۱:۔ یہ بات تو ہر عام وخاص جانتا ہے، بلکہ غیرمسلموں تک کو معلوم ہے کہ: ’’مسلمان ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق تسلیم کرتے ہوئے آپ کے لائے ہوئے دِین کو قبول کرنے کا عہد کریں، گویا یہ طے شدہ امر ہے (جس میں کسی کا اِختلاف نہیں) کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو من وعن تسلیم کرنا اِسلام ہے اور دِینِ محمدی کی کسی بات کو قبول نہ کرنا کفر ہے، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔‘‘
۲:۔ اب صرف یہ بات تنقیح طلب باقی رہ جاتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم قطعی دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دِینِ محمدی میں داخل ہیں، اور واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کی تعلیم فرمائی ہے؟اس سلسلے میں گزارش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دِین ہم تک پہنچا ہے، اس کا ایک حصہ ان حقائق پر مشتمل ہے، جو ہمیں ایسے قطعی ویقینی اور غیرمشکوک تواتر کے ذریعے سے پہنچا ہے کہ ان کے ثبوت میں کسی قسم کے ادنیٰ اِشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً جس درجے کے تواتر اور تسلسل سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیٔ برحق کی حیثیت سے لوگوں کو ایک دِین کی دعوت دی تھی، ٹھیک اسی درجے کے تواتر وتسلسل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت میں لوگوں کو ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ کی طرف بلایا، یعنی توحید کی دعوت دی، شرک وبت پرستی سے منع فرمایا، قرآنِ کریم کو کلامِ اِلٰہی کی حیثیت سے پیش کیا، قیامت کے حساب وکتاب، جزا وسزا اور جنت ودوزخ کو ذِکر فرمایا، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی، اس قسم کے وہ تمام حقائق جو ایسے قطعی ویقینی تواتر کے ذریعے ہمیں پہنچے ہیں، جن کو ہر دور میں مسلمان بالاتفاق مانتے چلے آئے ہیں، اور جن کا علم صرف خواص تک محدود نہیں رہا، بلکہ خواص کے حلقے سے نکل کر عوام تک میں مشہور ہوگیا۔ قرآنِ کریم میں بہت سی جگہ اس مضمون کو ذِکر کیا گیا ہے، ایک جگہ اِرشاد ہے:
ﵟءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ﵞ
(البقرة ٢٨٥)ترجمہ:۔ ’’اِعتقاد رکھتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز کا جو اُن کے پاس اُن کے رَبّ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور مؤمنین بھی، سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ، ہم اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے، اور ان سب نے یوں کہا: ہم نے (آپ کا اِرشاد) سنا اور خوشی سے مانا، ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور آپ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔‘‘(ترجمہ: حضرت تھانویؒ)دُوسری جگہ اِرشاد ہے:
ﵟ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا ٦٥ ﵞ
(النساء ٦٥)ترجمہ:۔ ’’پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ اِیمان دار نہ ہوں گے، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں، پھر اس آپ کے تصفیے سے اپنے دِلوں میں تنگی نہ پاویں، اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘تیسری جگہ اِرشاد ہے:
ﵟ وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا ٣٦ ﵞ
(الأحزاب ٣٦)ترجمہ:۔ ’’اور کسی اِیمان دار مرد اور کسی اِیمان دار عورت کو گنجائش نہیں ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں کہ پھر (ان مؤمنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اِختیار (باقی) رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔‘‘اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تبعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۳۰)ترجمہ:۔ ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دِین کے تابع نہ ہوجائے۔‘‘انہیں خالص علمی اِصطلاح میں ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی یہ ایسے اُمور ہیں کہ ان کا دِینِ محمدی میں داخل ہونا سوفیصد قطعی ویقینی اور ایسا بدیہی ہے کہ ان میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شک وشبہ اور تردّد کی گنجائش نہیں، کیونکہ خبرِ متواتر سے بھی اسی طرح کا یقین حاصل ہوتا ہے جس طرح کہ خود اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے سے کسی چیز کا علمِ یقین حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مکہ، مدینہ یا کراچی اور لاہور نہیں دیکھا، لیکن انہیں بھی ان شہروں کے وجود کا اسی طرح یقین ہے جس طرح کا یقین خود دیکھنے والوں کو ہے۔دِینِ محمدی کی پوری عمارت اسی تواتر کی بنیاد پر قائم ہے، جو شخص دِین کے متواترات کا اِنکار کرتا ہے، وہ دِین کی پوری عمارت ہی کو منہدم کردینا چاہتا ہے، کیونکہ اگر تواتر کو حجتِ قطعیہ تسلیم نہ کیا جائے تو دِین کی کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوسکتی، تمام فقہاء، متکلمین اور علمائے اُصول اس پر متفق ہیں کہ تواتر حجتِ قطعیہ ہے، اور متواتراتِ دینیہ کا منکر کافر ہے، (کتبِ اُصول میں تواتر کی بحث ملاحظہ کی جائے)۔ مناسب ہوگا کہ تواتر کے قطعی حجت ہونے پر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت پیش کردیں، اپنی کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:’’دُوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلے میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات اِبتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے، ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پردادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہوگیا اور اپنے اصل مبدا تک اس کے آثار اور اَنوار نظر آگئے، اس میں تو ایک ذرّہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اس کے اِنسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اَوّل درجہ کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جبکہ اَئمۂ حدیث نے اس سلسلے میں تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور اُمورِ تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا، تو پھر بھی اس پر جرح کرنا، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرتِ اِیمانی اور عقلِ انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص:۸، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۰۴)اور ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتے ہیں:’’تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیرقوموں کی تواریخ کی رُو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘(اِزالہ اوہام ص:۵۵۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۹۹)یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تین قسم کے اُمور ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں شامل ہیں:
۱:۔ جو قرآنِ کریم میں منصوص ہوں۔
۲:۔ جو اَحادیثِ متواترہ سے ثابت ہوں (خواہ تواتر لفظی ہو یا معنوی)۔
۳:۔ جو صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اُمت کے اِجماع اور مسلسل تعامل وتوارث سے ثابت ہوں۔الغرض ’’ضروریاتِ دِین‘‘ ایسے بنیادی اُمور ہیں، جن کا تسلیم کرنا شرطِ اسلام ہے، اور ان میں سے کسی ایک کا اِنکار کرنا کفر وتکذیب ہے۔ خواہ کوئی دانستہ اِنکار کرے یا نادانستہ، اور خواہ واقف ہو کہ یہ مسئلہ ضروریاتِ دِین میں سے ہے، یا واقف نہ ہو، بہرصورت کافر ہوگا۔ ’’شرح عقائد نسفی‘‘ میں ہے:’’الْإِيْمَانُ فِي الشَّرْعِ هُوَ التَّصْدِيْقُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالٰى، أَيْ تَصْدِيْقُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْقَلْبِ فِيْ جَمِيْعِ مَا عُلِمَ بِالضَّرُوْرَةِ مَجِيْئُهُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالٰى.‘‘(شرح عقائد ص:۱۱۹)ترجمہ:۔ ’’شریعت میں اِیمان کے معنی ہیں ان تمام اُمور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے، یعنی ان تمام اُمور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دِل وجان سے تصدیق کرنا جن کے بارے میں بداہۃً معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے۔‘‘اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا منکر ہو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتا۔ علامہ شامیؒ ’’ردّ المحتار شرح درمختار‘‘ میں لکھتے ہیں:’’لَا خِلَافَ فِيْ كُفْرِ الْمُخَالِفِ فِيْ ضَرُوْرِيَّاتِ الْإِسْلَامِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ الْمُوَاظِبِ طُوْلَ عُمُرِهِ عَلَى الطَّاعَاتِ، كَمَا فِيْ شَرْحِ التَّحْرِيْرِ۔‘‘(ردّالمحتار من الْإمامۃ ج:۱ ص:۳۷۷)ترجمہ:۔ ’’جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں مسلمانوں کا مخالف ہو، اس کے کافر ہونے میں کوئی اِختلاف نہیں، اگرچہ وہ اہلِ قبلہ ہو اور مدۃالعمر طاعات اور عبادات کی پابندی کرنے والا ہو، جیسا کہ شرح تحریر میں اس کی تصریح ہے۔‘‘حافظ ابنِ حزم ظاہریؒ لکھتے ہیں:
’’وَصَحَّ الْاِجْمَاعُ عَلٰی اَنَّ كُلَّ مَنْ جَحَدَ شَيْئًا صَحَّ عِنْدَنَا بِالْاِجْمَاعِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتٰی بِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَصَحَّ بِالنَّصِّ اَنَّ كُلَّ مَنْ اسْتَهْزَأَ بِاللہِ تَعَالٰی، اَوْ بِمَلَكٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، اَوْ بِنَبِيٍّ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، اَوْ بِاٰيَةٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ، اَوْ بِفَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ الدِّينِ، فَهِيَ كُلُّهَا اٰيَاتُ اللہِ تَعَالٰی، بَعْدَ بُلُوْغِ الْحُجَّةِ اِلَيْهِ فَهُوَ كَافِرٌ، وَمَنْ قَالَ بِنَبِيٍّ بَعْدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ، اَوْ جَحَدَ شَيْئًا صَحَّ عِنْدَهُ بِاَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، فَهُوَ كَافِرٌ۔‘‘
(کتاب الفصل لابن حزم ج:۳ ص:۲۵۵، ۲۵۶)ترجمہ:۔ ’’اور اس بات پر صحیح اِجماع ثابت ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا اِنکار کرے جس کے بارے میں اِجماع سے ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لائے تھے، تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہے، اور یہ بات بھی نص سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا، کسی فرشتے کا، کسی نبی کا، قرآنِ کریم کی کسی آیت کا، یا دِین کے فرائض میں سے کسی فریضے کا مذاق اُڑائے (واضح رہے کہ تمام فرائض آیاتُ اللہ ہیں) حالانکہ اس کے پاس حجت پہنچ گئی ہو، ایسا شخص کافر ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا قائل ہو، یا کسی ایسی چیز کا اِنکار کرے کہ اس کے نزدیک ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، تو وہ بھی کافر ہے۔‘‘اور قاضی عیاض مالکیؒ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:’’وَكَذٰلِكَ وَقَعَ الْاِجْمَاعُ عَلٰی تَكْفِيْرِ كُلِّ مَنْ دَافَعَ نَصَّ الْكِتَابِ اَوْ خَصَّ حَدِيْثًا مُجْمَعًا عَلٰی نَقْلِهِ مَقْطُوْعًا بِهِ مُجْمَعًا عَلٰی حَمْلِهِ عَلٰی ظَاهِرِهِ۔‘‘(ج:۲ ص:۲۴۷)ترجمہ:۔ ’’اسی طرح اس شخص کی تکفیر پر بھی اِجماع ہے جو کتابُ اللہ کی نص کا مقابلہ کرے، یا کسی ایسی حدیث میں تخصیص کرے، جس کی نقل پر اِجماع ہو، اور اس پر بھی اِجماع ہو کہ وہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔‘‘آگے لکھتے ہیں:’’وَكَذٰلِكَ نَقْطَعُ بِتَكْفِيْرِ كُلِّ مَنْ كَذَّبَ وَاَنْكَرَ قَاعِدَةً مِنْ قَوَاعِدِ الشَّرْعِ، وَمَا عُرِفَ يَقِيْنًا بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ مِنْ فِعْلِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَقَعَ الْاِجْمَاعُ الْمُتَّصِلُ عَلَيْهِ۔۔۔۔۔الخ۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۴۸)ترجمہ:۔ ’’اسی طرح ہم اس شخص کو بھی قطعی کافر قرار دیتے ہیں جو شریعت کے قاعدوں میں سے کسی قاعدے کا اِنکار کرے، اور ایسی چیز کا اِنکار کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقلِ متواتر کے ساتھ منقول ہو اور اس پر مسلسل اِجماع چلا آتا ہو۔‘‘علمائے اُمت کی اس قسم کی تصریحات بے شمار ہیں، نمونے کے طور پر چند حوالے درج کردئیے گئے ہیں۔ آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دو عبارتیں بھی ملاحظہ فرمائیے، ’’انجامِ آتھم‘‘ ص:۱۴۴ میں لکھتے ہیں:’’وَمَنْ زَادَ عَلٰی هٰذِهِ الشَّرِيْعَةِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ اَوْ نَقَصَ مِنْهَا اَوْ كَفَرَ بِعَقِيْدَةٍ اِجْمَاعِيَّةٍ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔‘‘ (رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۱۴۴)ترجمہ:۔ ’’جو شخص اس شریعت میں ایک ذرّے کی کمی بیشی کرے، یا کسی اِجماعی عقیدے کا اِنکار کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی، اور تمام اِنسانوں کی لعنت۔‘‘اور ’’ایام الصلح‘‘ میں لکھتے ہیں:’’وہ تمام اُمور جن پر سلف صالحین کو اِعتقادی اور عملی طور پر اِجماع تھا، اور وہ اُمور جو اہلِ سنت کی اِجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے۔‘‘ (ص:۸۷ ، رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۳۲۳)خلاصہ یہ ہے کہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِقرار واِنکار اِسلام اور کفر کے درمیان حد ِفاصل ہے، جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کو من وعن، بغیر تأویل کے قبول کرتا ہے، وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہے، اور جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِنکار کرتا ہے، یا ان میں ایسی تأویل کرتا ہے کہ جس سے ان کا متواتر مفہوم بدل جائے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اور جو مسائل ایسے ہوں کہ ہیں تو قطعی واِجماعی، مگر ان کی شہرت عوام تک نہیں پہنچی، صرف اہلِ علم تک محدود ہے، ان کو ’’قطعیات‘‘ تو کہا جائے گا، مگر ’’ضروریات‘‘ نہیں کہا جاتا۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کا اِنکار کرے تو پہلے اس کو تبلیغ کی جائے، اور ان کا قطعی اور اِجماعی ہونا اس کو بتایا جائے، اس کے بعد بھی اگر اِنکار پر اِصرار کرے تو خارج اَزاِسلام ہوگا۔’’مسامرہ‘‘ میں ہے:’’وَاَمَّا مَا ثَبَتَ قَطْعًا وَلَمْ يَبْلُغْ حَدَّ الضَّرُوْرَةِ كَاسْتِحْقَاقِ بِنْتِ الْاِبْنِ السُّدُسَ مَعَ الْبِنْتِ الصُّلْبِيَّةِ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِيْنَ فَظَاهِرُ كَلَامِ الْحَنَفِيَّةِ الْاِكْفَارُ بِجَحْدِهِ، لِاَنَّهُمْ لَمْ يَشْتَرِطُوْا فِي الْاِكْفَارِ سُوٰی الْقَطْعِ فِي الثُّبُوْتِ (اِلٰی قَوْلِهِ) وَيَجِبُ حَمْلُهُ عَلٰی مَا اِذَا عَلِمَ الْمُنْكِرُ ثُبُوْتَهُ قَطْعًا۔‘‘ (مسامرہ ص:۳۳۲)ترجمہ:۔ ’’اور جو حکم قطعی الثبوت تو ہو مگر ضرورت کی حد کو پہنچا ہو، جیسے (میراث میں) اگر پوتی اور حقیقی بیٹی جمع ہوں تو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔ سو ظاہر کلام حنفیہ کا یہ ہے کہ اس کے اِنکار کی وجہ سے کفر کا حکم لیا جاوے گا، کیونکہ انہوں نے قطعی الثبوت ہونے کے سوا اور کوئی شرط نہیں لگائی (الیٰ قولہ) مگر واجب ہے کہ حنفیہ کے اس کلام کو اس صورت پر محمول کیا جاوے کہ منکر کو اس کا علم ہو کہ یہ حکم قطعی الثبوت ہے۔‘‘
۳:۔ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کے الفاظ کو مان لیا جائے، بلکہ ان کے اس معنی ومفہوم کو ماننا بھی ضروری ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تواتر وتسلسل کے ساتھ مُسلَّم چلے آتے ہیں۔ فرض کیجئے! ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں قرآنِ کریم پر اِیمان رکھتا ہوں‘‘، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ:’’قرآنِ کریم کے بارے میں میرا یہ عقیدہ نہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا، جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں، بلکہ میں قرآن مجید کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف کردہ کتاب سمجھتا ہوں۔‘‘کیا کوئی شخص تسلیم کرے گا کہ ایسا شخص قرآن پر اِیمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتا ہوں، لیکن ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان مانتے ہیں، بلکہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے خود میری ذات شریف مراد ہے۔‘‘ کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پر اِیمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تواتر کے ساتھ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دی تھی، لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے خود اس کی ذات مراد ہے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اِیمان رکھتا ہے؟الغرض ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں اِجماعی اور متواتر مفہوم کے خلاف کوئی تأویل کرنا بھی درحقیقت ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِنکار ہے، اور ضروریاتِ دِین میں ایسی تأویل کرنا اِلحاد وزَندقہ کہلاتا ہے، قرآنِ کریم میں ہے:
ﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا لَا يَخۡفَوۡنَ عَلَيۡنَآۗ أَفَمَن يُلۡقَىٰ فِي ٱلنَّارِ خَيۡرٌ أَم مَّن يَأۡتِيٓ ءَامِنٗا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ٱعۡمَلُواْ مَا شِئۡتُمۡ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٤٠ ﵞ
(حم السجده ٤٠)ترجمہ:۔ ’’جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں، وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں، بھلا ایک جو پڑتا ہے آگ میں، وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن سے، دن قیامت کے، کئے جاؤ جو چاہو، بے شک جو تم کرتے ہو، وہ دیکھتا ہے۔‘‘جو لوگ ضروریاتِ دِین میں تأویلیں کرکے انہیں اپنے عقائد پر چسپاں کرتے ہیں، انہیں ’’ملحد وزِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، اور ایسے لوگ نہ صرف کافر ومرتد ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر، کیونکہ کافر ومرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے، لیکن زِندیق کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔ راقم الحروف نے اپنے رسالے ’’قادیانی جنازہ‘‘ میں زِندیق کے بارے میں ایک نوٹ لکھا تھا، جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:اوّل:۔ جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اِسلام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور نصوصِ شرعیہ کی غلط سلط تأویلیں کرکے اپنے عقائدِ کفریہ کو اِسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، علامہ شامیؒ باب المرتد میں لکھتے ہیں:’’فَاِنَّ الزَّنْدِيْقَ يُمَوِّهْ كُفْرَهُ وَيُرَوِّجْ عَقِيْدَتَهُ الْفَاسِدَةَ وَيُخْرِجْهَا فِي الصُّوْرَةِ الصَّحِيْحَةِ هٰذَا مَعْنٰی اِبْطَانِ الْكُفْرِ۔‘‘ (الشامی ج:۴ ص:۲۴۲ الطبع الجدید)ترجمہ:۔ ’’کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رِواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘اور اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسویٰ شرح عربی مؤطا میں لکھتے ہیں:’’بَيَانُ ذٰلِكَ اَنَّ الْمُخَالِفَ لِلدِّيْنِ الْحَقِّ اِنْ لَمْ يَعْتَرِفْ بِهِ وَلَمْ يُذْعِنْ لَهُ لَا ظَاهِرًا وَلَا بَاطِنًا فَهُوَ كَافِرٌ، وَاِنِ اعْتَرَفَ بِلِسَانِهِ وَقَلْبِهِ عَلَی الْكُفْرِ فَهُوَ الْمُنَافِقُ، وَاِنِ اعْتَرَفَ بِهِ ظَاهِرًا، لٰكِنَّهُ يُفَسِّرُ بَعْضَ مَا ثَبَتَ مِنَ الدِّيْنِ ضَرُوْرَةً بِخِلَافِ مَا فَسَّرَهُ الصَّحَابَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمْ وَالتَّابِعُوْنَ وَاجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْاُمَّةُ فَهُوَ الزَّنْدِيْقُ ۔‘‘ترجمہ:۔ ’’شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دِینِ حق کا مخالف ہے، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دِینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو جو صحابہؓ و تابعینؒ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو، تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ثُمَّ التَّأوِيْلُ، تَأوِيْلَانِ، تَأوِيْلٌ لَا يُخَالِفُ قَاطِعًا مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَاتِّفَاقِ الْاُمَّةِ، وَتَأوِيْلٌ يُصَادِمُ مَا ثَبَتَ بِقَاطِعٍ فَذٰلِكَ الزَّنْدَقَةُ ۔‘‘ترجمہ:۔ ’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تأویل جو کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘آگے زِندیقانہ تأویلوں کی مثالیں بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’اَوْ قَالَ اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَلٰكِنْ مَعْنٰی هٰذَا الْكَلَامِ اَنَّهُ لَا يَجُوْزُ اَنْ يُسَمّٰی بَعْدَهُ اَحَدٌ بِالنَّبِيِّ، وَاَمَّا مَعْنٰی النُّبُوَّةِ وَهُوَ كَوْنُ الْاِنْسَانِ مَبْعُوْثًا مِنَ اللہِ تَعَالٰی اِلٰی الْخَلْقِ مُفْتَرَضَ الطَّاعَةِ مَعْصُوْمًا مِنَ الذُّنُوْبِ وَمِنَ الْبَقَاءِ عَلَی الْخَطَأِ فِيْمَا يَرٰی فَهُوَ مَوْجُوْدٌ فِي الْاُمَّةِ بَعْدَهُ فَهُوَ الزَّنْدِيْقُ ۔‘‘(مسوی ج:۲ ص:۱۳۰ مطبوعہ رحیمیہ دہلی)ترجمہ:۔ ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوّت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالی کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُمت میں موجود ہے، تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اِسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اِسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تأویلیں کرتا ہو، ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔دوم:۔ یہ کہ زِندیق، مرتد کے حکم میں ہے، بلکہ ایک اعتبار سے زِندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، چنانچہ درمختار میں ہے:’’وَكَذٰلِكَ الْكَافِرُ بِسَبَبِ (الزَّنْدَقَةِ) لَا تَوْبَةَ لَهُ، وَجَعَلَهُ فِي الْفَتْحِ ظَاهِرَ الْمَذْهَبِ، لٰكِنْ فِي حَظْرِ الْخَانِيَّةِ الْفُتْوٰی عَلٰی اَنَّهُ (اِذَا اُخِذَ) السَّاحِرُ اَوِ الزَّنْدِيْقُ الْمَعْرُوْفُ الدَّاعِي (قَبْلَ تَوْبَتِهِ) ثُمَّ تَابَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ وَيُقْتَلُ، وَلَوْ اُخِذَ بَعْدَهَا قُبِلَتْ ۔‘‘ (الشامی ج:۴ ص:۲۴۱ طبع جدید)ترجمہ:۔ ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظرمیں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے گرفتار ہوجائیں، اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘البحر الرائق میں ہے:’’لَا تُقْبَلْ تَوْبَةُ الزَّنْدِيْقِ فِيْ ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ وَهُوَ مَنْ لَا يَتَدَيَّنُ بِدِيْنٍ ۔۔۔۔۔۔ وَفِي الْخَانِيَّةِ: قَالُوْا اِنْ جَاءَ الزَّنْدِيْقُ قَبْلَ اَنْ يُؤْخَذَ فَاَقَرَّ اَنَّهُ زَنْدِيْقٌ فَتَابَ مِنْ ذٰلِكَ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ، وَاِنْ اُخِذَ ثُمَّ تَابَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ وَيُقْتَلُ ۔‘‘ (ج:۵ ص:۱۲۶)ترجمہ:۔ ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ: اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرے، تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا، پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘سوم:۔ قادیانیوں کا زِندیق ہونا بالکل واضح ہے، کیونکہ ان کے عقائد اِسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں، اور وہ قرآن و سنت کے نصوص میں غلط سلط تأویلیں کرکے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں، ان کے سوا باقی پوری اُمت گمراہ اور کافر و بے اِیمان ہے، جیسا کہ قادیانیوں کے دُوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ:’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینۂ صداقت ص:۳۵)۔۔۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • اجتہاد و تقلید
  • انبیائے کرام علیہم السلام
  • ایمانیات
  • تقدیر
  • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
  • سنت و بدعت
  • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
  • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
  • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
  • محاسن اسلام
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
  • معراج

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔