مسلمانوں کے بنیادی عقائد
اسباب کا اِختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں
سوال
۔ کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر کوئی آدمی کوئی قدم اٹھائے اور بیماری کے حملہ آور ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اِختیار کرنا کیا توکل کے خلاف تو نہیں؟ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا صحیح مفہوم سمجھادیجئے۔
جواب
۔ توکل کے معنی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے ہیں،(۱) اور بھروسہ کا مطلب یہ ہے کہ کام اسباب سے بنتا ہوا نہ دیکھے بلکہ یوں سمجھے کہ اسباب کے اندر مشیتِ الٰہی کی روح کارفرما ہے، اس کے بغیر تمام اسباب بیکار ہیں:عقل در اسباب می دارد نظرعشق می گوید مسبّب رانگرمطلقاً ترکِ اسباب کا نام توکل نہیں، بلکہ اس بارے میں تفصیل ہے کہ جو اَسباب ناجائز اور غیرمشروع ہوں ان کو توکلاً علی اللہ بالکل ترک کردے، خواہ فوراً یا تدریجاً، اور جو اَسباب مشروع اور جائز ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ ہے:۱:۔ وہ اسباب جن پر مسبّب کا مرتب ہونا قطعی و یقینی ہے، جیسے کھانا کھانا، ان اسباب کا اختیار کرنا فرض ہے اور ان کا ترک کرنا حرام ہے۔
۲:۔ ظنی اسباب: جیسے بیماریوں کی دوا دارو، اس کا حکم یہ ہے کہ ہم ایسے کمزوروں کو ان اسباب کا ترک کرنا بھی جائز نہیں، البتہ جو حضرات قوتِ ایمانی اور قوتِ توکل میں مضبوط ہوں، ان کے لئے اسباب ظنّیہ کا ترک جائز ہے۔
۳:۔ تیسرے وہمی اور مشکوک اسباب: (یعنی جن کے اختیار کرنے میں شک ہو کہ مفید ہوں گے یا نہیں) ان کا اختیار کرنا سب کے لئے خلافِ توکل ہے، گو بعض صورتوں میں جائز ہے، جیسے جھاڑ پھونک وغیرہ۔(۲)(فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۵ طبع کوئٹہ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بوادر النوادر ص:۲۶۷، ۲۶۸)۔
(۱) التوکل: ھو الْإعتماد علی اللہ وعدم الْإلتفات الٰی ما عداہ، قال السید: ھو الثقۃ بما عند اللہ والیأس عما فی أیدی الناس۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۱)۔
(۲) الأسباب المزیلۃ للضرر تنقسم إلٰی مقطوع بہ ۔۔۔ وإلٰی مظنون ۔۔۔ وإلی موہوم ۔۔۔ اما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ ۔۔۔ واما الدرجۃ المتوسطۃ وھی المظنونۃ ۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضًا للتوکل ۔۔۔