مسلمانوں کے بنیادی عقائد
اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا شرعی حکم
سوال
۔ رزق کے بارے میں یہاں تک حکم ہے کہ جب تک یہ بندے کو مل نہیں جاتا، وہ مر نہیں سکتا۔ کیونکہ خدا نے اس کا مقدر کردیا ہے۔ خدا کی اتنی مہربانیوں کے باوجود جو لوگ انسانوں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ملازمت سے نہ نکال دئیے جائیں، تو اس وقت ڈر، خوف وغیرہ رکھنے والے کیا مسلمان ہیں؟ جن کا ایمان خدا پر کم اور انسانوں پر زیادہ کہ یہ خوش ہیں تو سب ٹھیک ہے، ورنہ زندگی اجیرن ہے۔
جواب
۔ ایسے لوگوں کی اسباب پر نظر ہوتی ہے، اور اسباب کا اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں، بشرطیکہ اسباب کے اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے، البتہ ناجائز اسباب کا اختیار کرنا کمالِ ایمان کے منافی ہے۔(۱)(فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۵ طبع کوئٹہ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بوادر النوادر ص:۲۶۷، ۲۶۸)۔
(۱) الأسباب المزیلۃ للضرر تنقسم إلٰی مقطوع بہ ۔۔۔ وإلٰی مظنون ۔۔۔ وإلی موہوم ۔۔۔ اما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ ۔۔۔ واما الدرجۃ المتوسطۃ وھی المظنونۃ ۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضًا للتوکل ۔۔۔