سنت نمازوں کی ادائیگی

جلد دوم
6.9K
0

سنتِ موٴکدہ اور غیرموٴکدہ

س… سنتِ موٴکدہ اور غیرموٴکدہ کسے کہتے ہیں؟

ج… جس چیز کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر پابندی فرمائی ہو، اور جس کے ترک کو لائقِ ملامت قرار دیا گیا ہو، وہ سنتِ موٴکدہ ہے، اور جس چیز کی ترغیب دی گئی ہو، مگر اس کے چھوڑنے پر ملامت نہ کی گئی ہو، وہ سنتِ غیرموٴکدہ ہے، اور اسی کو مستحب اور مندوب بھی کہا جاتا ہے۔

سنن و نوافل کیوں اور کس کے لئے پڑھے جاتے ہیں؟

س… نماز ہم پر فرض ہے، اس کو ہم پڑھتے ہیں، فرض کے علاوہ سنتیں کیوں ضروری ہیں؟ فرض اللہ کے واسطے اور سنتیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ہیں، یہ ”واسطے“ پر بھی ذرا روشنی ڈالئے تاکہ مسئلہ معلوم ہوجائے۔

ج… نماز تو چاہے فرض ہو، چاہے سنت و نفل، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوتی ہیں، یہ خیال غلط ہے کہ سنتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں۔ فرض نماز میں جو کمی (یعنی خشوع و خضوع میں جو کمی) رہ جاتی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے سنتیں اور نفل ہیں۔

کیا آج کے مشینی دور میں صرف فرض پڑھ لینا کافی ہے؟

س… کیا فرض نمازوں میں صرف فرض ادا کرنے سے نماز ہوجاتی ہے، جبکہ سنت، نفل، وتر واجب نہ پڑھے جائیں؟ ہمارے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ آج کے مشینی دور میں کس کو اتنی فرصت ہے کہ سنت و نفل بھی پڑھے؟ نیز غیر ممالک جو کہ اسلامی ہیں، مسلمان عورتیں و مرد اسی طریقے سے صرف فرض پڑھ کر نماز ادا کرتے ہیں، اور اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں کہ انسان کی نیت دُرست ہونی چاہئے، اور بالکل ہی نماز چھوڑ دینے سے بہتر ہے صرف فرض ہی پڑھ لئے جائیں، کیا نماز پڑھنے کا یہ طریقہ دُرست ہے؟

ج… فرض تو فرض ہے، اور وتر کی نماز واجب ہے، گویا عملاً وہ بھی فرض ہے، اس کا چھوڑنا گناہ ہے، اور اگر وقت پر نہ پڑھ سکے تو قضا لازم ہے۔ سنتِ موٴکدہ کا چھوڑنا بُرا ہے، اور اس کے چھوڑنے کی عادت بنالینا بھی گناہ ہے، سنتِ غیرموٴکدہ اور نوافل میں اختیار ہے، خواہ پڑھے، یا چھوڑ دے۔

مشینی دور کی مصروفیات کے باوجود خرافات کے لئے، گپ شپ کے لئے، تفریح کے لئے اور نامعلوم کن کن چیزوں کے لئے وقت نکالا جاتا ہے، تو مشینی دور کی عدیم الفرصتی کا نزلہ نماز ہی پر کیوں گرایا جاتا ہے؟ رہا یہ کہ ”آدمی کی نیت دُرست ہونی چاہئے“ بالکل بجا ہے، لیکن اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ آدمی کا عمل خراب ہونا چاہئے؟ نیت کے ساتھ عمل کا دُرست ہونا بھی تو ضروری ہے! ورنہ نری نیت سے کیا ہوگا․․․؟

سنتِ موٴکدہ کا ترک کرنا کیسا ہے؟

س… سنتِ موٴکدہ کن مجبوریوں کی بنا پر ترک کی جاسکتی ہے؟ کیا انہیں وقت گزرنے کے بعد بھی ادا کیا جاسکتا ہے؟

ج… سفر، مرض یا وقت کی تنگی کی وجہ سے نہ پڑھ سکے تو دُوسری بات ہے، ورنہ سنتِ موٴکدہ کا ترک کرنا بہت بُرا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد سنت کی قضا نہیں ہوسکتی، اور فجر کی سنتیں نصف النہار سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہئیں۔

سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟

س… سنتیں آدمی مسجد میں بھی پڑھ سکتا ہے اور گھر پر بھی، سنا ہے گھر پر پڑھنا افضل ہے؟

ج… گھر پر سنتیں پڑھنا افضل ہے، مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ گھر کا ماحول پُرسکون ہو اور اس کو گھر جاتے ہی گھریلو کاموں کی تشویش لاحق نہ ہوجائے، اگر ایسا اندیشہ ہو تو مسجد میں سنتیں پڑھنا افضل ہے۔

کیا سنت و نفل نماز میں وقتِ نماز کی نیت شرط ہے؟

س… کیا سنت اور نوافل میں بھی وقتِ نماز کی نیت کرنی چاہئے؟

ج… سنت و نفل کے لئے مطلق نماز کی نیت کافی ہے، اس میں وقت اور رکعات کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں۔

سنت، نفل، وتر کی اکٹھی نیت دُرست نہیں

س… کیا ہم اکٹھی رکعت کی نیت باندھ سکتے ہیں؟ یعنی مثلاً: عشاء کی نماز کے فرض امام کے ساتھ پڑھ کر باقی ۲ سنت، ۲ نفل، ۳ وتر، ۲ نفل کی ایک ہی دفعہ نیت باندھ لی جائے۔

ج… سنت، نفل، وتر الگ الگ نمازیں ہیں، ان کی اکٹھی نیت باندھنا دُرست نہیں۔

کیا سنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پڑھی جاتی ہے؟

س… فرض نماز اور سنت کی نیت میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فرض اللہ تعالیٰ کے لئے اور سنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پڑھی جاتی ہے، کیا یہ دُرست ہے؟

ج… سنت نماز بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے پڑھی جاتی ہے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں پڑھی جاتی ہے، اس لئے فرض اور سنت کی نیت میں کوئی فرق نہیں، بس ایک کے لئے فرض کی نیت کی جاتی ہے اور دُوسری کے لئے سنت کی، عبادت دونوں اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے۔

فرض سے پہلے وتر اور سنتیں پڑھنا صحیح نہیں

س… ہمارے گاوٴں میں دو شخص عشاء کی سنتِ موٴکدہ اور وتر فرضوں سے پہلے یعنی جماعت ہونے سے پہلے پڑھ لیتے ہیں، اور جماعت دیر سے ہوتی ہے اس لئے وہ ایسا کرتے ہیں، آیا اس طرح نماز ہوجاتی ہے؟

ج… یہ تو ظاہر ہے کہ فرض کے بعد کی موٴکدہ سنتیں تو بعد ہی میں ہوسکتی ہیں، کیونکہ وہ فرض کے تابع ہیں، یہی وجہ ہے کہ اگر فرض و سنت پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ فرض نماز نہیں ہوئی تو فرض کے ساتھ بعد کی سنتیں بھی دوبارہ پڑھی جائیں گی، جب تک فرض نماز ہی نہیں پڑھی، بعد کی سنتیں کیسے ادا ہوسکتی ہیں؟ وتر کی نماز اگرچہ مستقل نماز ہے، فرض کے تابع نہیں، لیکن عشاء اور وتر میں ترتیب لازم ہے، اس لئے وتر کا عشاء کے فرض سے پہلے ادا کرنا صحیح نہیں، البتہ اگر فرض سنت اور وتر ادا کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ فرض نماز کسی وجہ سے صحیح نہیں ہوئی تھی تو فرض اور سنت کا اعادہ لازم ہے، مگر وتر صحیح ہوگئے۔

کیا فجر کی سنتوں کی بھی قضا ہوتی ہے؟

س… قضا نماز میں صرف فرض پڑھے جاتے ہیں، مگر بعض لوگ کہتے ہیں کہ فجر کی نماز قضا ہوجائے تو اس کی سنتیں بھی پڑھنی چاہئیں، اگر یہ اس وجہ سے ہے کہ فجر کی سنتیں موٴکدہ ہیں، تو پھر ظہر کی بھی موٴکدہ ہیں، کیا ان کی بھی قضا پڑھنی چاہئے؟

ج… فجر کی سنتوں کی تاکید بہت زیادہ ہے، اس لئے اگر نمازِ فجر فوت ہوجائے تو سورج طلوع ہونے کے بعد زوال سے پہلے اس کو سنتوں سمیت پڑھنے کا حکم ہے، لیکن اگر زوال سے پہلے نمازِ فجر قضا نہیں کی تو بعد میں صرف فرض پڑھے جائیں، وقت نکل جانے کے بعد فجر کی سنتوں کے علاوہ باقی کسی سنت کی قضا نہیں۔

قضا سنت کی نیت کس طرح کریں؟

س… محترم! آپ نے فرمایا ہے کہ فجر کی نماز اگر قضا ہوجائے تو دوپہر سے پہلے سنتوں کے ساتھ قضا کرنی چاہئے۔ تو محترم! سوال یہ ہے کہ قضا سنتوں کی نیت کس طرح ہوگی؟

ج… بس سنتِ فجر کی نیت کرلینا کافی ہے۔

فجر کی سنتیں رہ جائیں تو بعد طلوع پڑھیں

س… اخبار جنگ میں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے زیرِ عنوان آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ: ”صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ نوافل مکروہ ہیں، سنتوں سے پہلے بھی اور بعد بھی۔“ اس سلسلے میں وضاحت طلب بات یہ ہے کہ اگر کسی کی سنتیں رہ جائیں اور وہ سنتیں پڑھے بغیر فجر کی جماعت میں شریک ہوجائے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اب سورج طلوع ہونے کے بعد سنتیں پڑھے، تو جب صرف نوافل مکروہ ہیں تو سنتوں پر یہ پابندی کیوں ہے؟ سنتیں تو نوافل کی تعریف میں نہیں آتیں۔

ج… اس مسئلے میں سنتوں اور نفلوں کا ایک ہی حکم ہے، فرض کے بعد طلوع سے پہلے فجر کی سنتیں پڑھنا بھی دُرست نہیں۔

نمازِ فجر کے بعد فجر کی سنتیں ادا کرنا

س… نمازِ فجر کی دو رکعت سنت کے بارے میں سنا ہے کہ یہ فرض نماز سے قبل لازماً ادا کرنی چاہئے، لیکن ہمارے محلے کی مسجد میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ نمازی حضرات مذکورہ سنتوں کو چھوڑ کر فرض نماز باجماعت پڑھ لیتے ہیں، اور نماز فرض مکمل ہونے پر اکیلے کھڑے ہوکر دو رکعت سنت ادا کرلیتے ہیں۔

ج… فقہِ حنفی کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر جماعت کی دُوسری رکعت (بلکہ تشہد بھی) مل جانے کی توقع ہو تو کسی الگ جگہ پر فجر کی سنتیں پہلے ادا کرے، تب جماعت میں شریک ہو، ورنہ جماعت میں شریک ہوجائے اور سنتیں سورج نکلنے کے بعد اشراق کے وقت پڑھے، فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز ممنوع ہے، البتہ قضا نمازیں، سجدہٴ تلاوت اور نمازِ جنازہ جائز ہے۔

فجر کی سنتوں کی تقدیم و تأخیر پر علمی بحث

س… دو سنت فجر، فرض نماز کھڑی ہونے کے بعد پڑھنا کیسا ہے؟ اس سلسلے میں ایک دفعہ آپ کو تحریر کیا تھا جس میں حضرت نے کہا تھا کہ حدیثِ تقریری پر حدیثِ قولی مقدم ہوتی ہے، اور صحابہ کے آثار بھی موجود ہیں کہ قیامِ فرض کے بعد جماعت میں شامل ہونے سے قبل دو سنت پڑھنا بہتر ہے، ورنہ طلوعِ شمس کے بعد پڑھے۔

۱:… قولی حدیث کہ سنتِ فجر بعد طلوعِ شمس پڑھو۔ (ترمذی جلد:۱)

۲:… قولی حدیث کہ سنتِ فجر بعد جماعت پڑھو، اگر جماعت کھڑی ہوجائے۔ (صحاحِ ستہ کی کسی کتاب میں ہے)

۳:… فرض نماز کھڑی ہونے کے بعد کوئی نماز نہیں۔

۴:… سنت کو جماعت کے درمیان پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار جلد:۱)

۵:… صبح کے فرض کے بعد سنت پڑھ سکتا ہے۔ (ہدایہ جلد:۱، شرح وقایہ)

۶:… جس نے فجر تنہا شروع کی اور پھر تکبیر کہی گئی، تو نماز توڑ ڈالے اگرچہ ایک رکعت پڑھ چکا ہو۔ (شرح وقایہ، ہدایہ)

(جب فرض نہیں پڑھ سکتا تو سنت کیوں پڑھے)

اب صرف یہ پوچھنا ہے کہ قولی حدیث دونوں طرف ہے، تقریری حدیث کا قاعدہ ساقط ہوگیا۔

ہماری فقہ بھی اس بات کی اجازت دے رہی ہے کہ صبح کی نماز کے بعد دو سنت پڑھ سکتا ہے اگر بوقتِ ضرورت ہم بھی ایسا ہی کرلیں تو کیا حرج ہے؟ اگر وقت ہو تو بعد طلوعِ شمس ادا کرلیں۔

ج… ہمارے ائمہ کے نزدیک بالاتفاق فجر کی قضاشدہ سنتوں کو فرض کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے پڑھنے کی اجازت نہیں، آپ نے نمبر:۵ پر ہدایہ اور شرح وقایہ کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ: ”صبح کے فرض کے بعد سنت پڑھ سکتا ہے“ یہ صحیح نہیں، میں نے ہدایہ، شرح وقایہ دونوں کو دیکھا، دونوں میں ممانعت لکھی ہے، ہدایہ کی عبارت یہ ہے:

”واذا فاتتہ رکعتا الفجر لا یقضیھما قبل طلوع الشمس لأنہ یبقیٰ نفلًا ملطقًا وھو مکروہ بعد الصبح۔“(ہدایہ ج:۱ ص:۱۵۹، باب ادراک الفریضة، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

۱:… قولی حدیث طلوعِ شمس کے بعد پڑھنے کی ترمذی (ج:۱ ص:۵۷، باب ما جاء فی اعادتھما بعد طلوع الشمس) کی ہے۔

یہ روایت مستدرک حاکم (ج:۱ ص:۲۷۴) میں بھی ہے، امام حاکم اور علامہ ذہبی نے اس کو ”صحیح“ کہا ہے۔

۲:… قولی حدیث ”سنتِ فجر بعد نماز پڑھو“ مجھے کسی کتاب میں نہیں ملی، البتہ ایک واقعہ ابوداوٴد اور ترمذی میں ہے کہ: ”ایک شخص نے فجر کی نماز کے بعد سنتیں پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: صبح کی چار رکعتیں ہیں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ فرمایا: فلا اذن! (پھر نہیں)۔“ یہ روایت اوّل تو کمزور ہے، علاوہ ازیں ہمارے نزدیک اس کا یہ مطلب ہے کہ: ”تب بھی جائز نہیں!“

۳:… یہ حدیث صحیح ہے کہ: ”جب فرض نماز کی اقامت ہوجائے تو فرض کے سوا کوئی اور نماز نہیں“ اسی لئے ہمارے ائمہ احناف فرماتے ہیں کہ مسجد میں نہ پڑھی جائیں، بلکہ خارجِ مسجد یا کسی اوٹ میں پڑھی جائیں۔ جیسا کہ آپ نے نمبر:۴ میں درمختار سے نقل کی ہے، عین صف میں پڑھنا مکروہ ہے۔

۵:… جماعت کی نماز کھڑی ہوجائے تو فرض نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونے کا حکم ہے، کیونکہ تنہا نماز کے بجائے جماعت کے ساتھ پڑے گا۔ لیکن سنت چھوڑ کر جماعت میں شریک ہوگا تو سنتیں قضا ہوجائیں گی، جبکہ ان کے پڑھنے کی تاکید ہے۔ بہرحال فجر کے بعد سنتیں پڑھنے کی اجازت نہیں، متواتر احادیث میں فجر اور عصر کے بعد نماز کی ممانعت آئی ہے۔

سنتیں پڑھنے کے دوران اذان یا اقامت کا ہوجانا

س… اذان یا اقامت ہو تو سنتوں کی نماز ختم کردینی چاہئے یا نہیں؟

ج… اذان پر سنتوں کی نماز ختم کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ اقامت کے بارے میں سوال ہوسکتا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر غیرموٴکدہ سنتوں یا نفلوں کی نیت باندھ رکھی ہو تو دو رکعت پوری کرکے سلام پھیردے، اور اگر ظہر یا جمعہ سے پہلے کی چار سنتیں پڑھ رہا تھا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوگئی یا جمعہ کا خطبہ شروع ہوگیا تو ان کو پورا کرے، اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پہلے دوگانے میں ہو تو دو رکعت پوری کرکے سلام پھیردے، اور بعد میں چار رکعتوں کی قضا کرے، اور اگر دُوسرے دوگانے میں ہو تو چار رکعتوں کو پورا کرلے، درمیان میں نہ توڑے۔

ظہر اور عشاء کی سنتیں اگر رہ جائیں تو کب پڑھی جائیں؟

س… اگر ایک شخص نمازِ ظہر کی پہلی چار سنتیں ادا نہیں کرسکتا اور جماعت کھڑی ہوچکی ہے اور وہ جماعت کی نماز امام صاحب کے ساتھ پڑھ لیتا ہے تو بعد میں اس شخص کے لئے کیا حکم ہے کہ وہ پہلی چار سنتیں کس طرح ادا کرے؟ جبکہ ظہر کی پہلی چار سنتیں موٴکدہ ہیں اور عشاء کی پہلی چار سنتیں غیرموٴکدہ ہیں۔

ج… ان کو فرضوں کے بعد پڑھے، پہلے دو رکعتیں بعد والی پڑھ لے، پھر چار رکعتیں پہلے والی پڑھے، اگر پہلے چار، پھر دو پڑھ لے تب بھی صحیح ہے۔

فرض سے پہلے والی چار رکعت سنتوں میں سے صرف دو رکعت پڑھ سکا تو کیا کرے؟

س… فرضوں سے قبل ادا کی جانے والی سنتیں اگر چار رکعتیں ہوں اور وقت دو رکعتوں کا ہو، یعنی جماعت کھڑی ہونے میں صرف دو منٹ باقی ہوں، تو کوئی آدمی لاعلمی کی وجہ سے سنتیں پڑھنا شروع کردیتا ہے تو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیردیتا ہے، کیونکہ جماعت کھڑی ہوگئی ہے، تو کیا فرضوں کے بعد اس کو پھر سے چار سنتیں ادا کرنا پڑیں گی یا دو جو پہلے ادا کی جاچکی ہیں وہ پہلے والی اور دو سنتیں اور پڑھ لینی چاہئیں؟

ج… ظہر سے پہلے کی چار سنتیں موٴکدہ ہیں، اگر وقت کم ہو تو ان کو جماعت سے پہلے شروع ہی نہ کیا جائے اور اگر غلطی سے شروع کرلی تھیں تو ان کو پورا کرکے سلام پھیرے، اور اگر دو رکعت پر سلام پھیردیا تو فرض نماز کے بعد چار رکعت پڑھے، اور عصر اور عشاء سے پہلے کی چار سنتیں غیرموٴکدہ ہیں، اگر ان کے دوران جماعت کھڑی ہوجائے تو دو رکعت پر سلام پھیر دے، باقی دو رکعتیں بعد میں پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں۔

سنتِ موٴکدہ کی آخری دو رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورة پڑھنی ضروری ہے

س… کیا سنتِ موٴکدہ کی آخری دو رکعتوں میں الحمد شریف اور سورة پڑھنا لازمی ہے، یا صرف سورة بھی پڑھ سکتے ہیں؟

ج… سنتِ موٴکدہ، غیرموٴکدہ، نفل اور وتر کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ کے بعد سورة ملانا واجب ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی، اور اگر سورہٴ فاتحہ بھول گیا یا سورة ملانا بھول گیا سجدہٴ سہو واجب ہوگا، صرف فرض نماز ایسی ہے کہ اس کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرض ہے، پچھلی دو رکعتوں میں قرأت فرض نہیں، بلکہ سورہٴ فاتحہ بطور استحباب پڑھی جاتی ہے۔

سنتوں کے لئے جگہ بدلنا

س… باجماعت نماز پڑھنے کے بعد اکثر لوگوں کو اپنی جگہ بدلتے دیکھا ہے، کیا ایسا کرنا دُرست ہے؟ اگر دُرست ہے تو کس سمت کو جگہ بدلنی چاہئے؟ (نیز ایسا کرنا سنت ہے یا بدعت؟)۔ امام بھی ایسا ہی کرتا ہے کہ باجماعت نماز پڑھانے کے بعد محراب چھوڑ کر پیچھے چلا آتا ہے، اور اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیتا ہے، کیا یہ بھی کوئی سنت ہے؟

ج… فرض نماز سے فارغ ہوکر امام اور مقتدی دونوں کے لئے جگہ بدل لینا مستحب ہے۔ سنن ابوداوٴد (ج:۱ ص:۱۴۴) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے:

”ایعجز احدکم ان یتقدم او یتأخر عن یمینہ او عن شمالہ یعنی فی السبحة۔“

ترجمہ:…”کیا تم میں سے ایک آدمی اس بات سے قاصر ہے کہ فرض نماز کے بعد جب سنت شروع کرے تو ذرا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہولیا کرے۔“

چار رکعتوں والی غیرموٴکدہ سنتوں اور نفلوں کا افضل طریقہ

س… ہماری مسجد میں سنت نماز (غیرموٴکدہ) عصر اور عشاء کی نماز سے پہلے مختلف طریقوں سے ادا کی جاتی ہے، میں اور بعض دُوسرے لوگ تو ظہر کی نماز کی سنتوں کی طرح ادا کرتے ہیں، مگر بعض لوگ دو رکعات پڑھ کر بیٹھنے کے بعد التحیات کے بعد دُرود اور دُعا بھی پڑھتے ہیں، پھر تیسری رکعت میں ”سبحانک اللّٰھم“ سے پڑھنا شروع کرتے ہیں اور باقی نماز عام نمازوں کی طرح۔ آپ میری رہنمائی فرمائیں اور بتائیں کہ کون سا طریقہ زیادہ موزوں ہے؟

س۲… کیا عصر اور عشاء کی چار سنتیں (غیرموٴکدہ) دو دو سنتیں کرکے الگ الگ پڑھی جاسکتی ہیں؟

ج… غیرموٴکدہ سنتوں اور نفلوں کی دو رکعت پر التحیات کے بعد دُرود شریف اور دُعا پڑھنا، اور تیسری رکعت میں ”سبحانک اللّٰھم“ سے شروع کرنا افضل ہے، اگر صرف التحیات پڑھ کر اُٹھ جائے اور تیسری رکعت الحمدشریف سے شروع کردے تب بھی کوئی حرج نہیں۔

ج۲… پڑھ سکتے ہیں۔

نمازِ جمعہ کی سنتوں کی نیت کس طرح کی جائے؟

س… نمازِ جمعہ میں چار سنتیں فرضوں سے قبل اور چار سنتیں اور دو سنتیں فرضوں کے بعد جو ہیں، ان سنتوں کی نیت بالترتیب تحریر کریں۔ اور فرضوں کی نیت بھی بتائیں اور یہ بتائیں کہ جمعہ کے دو فرضوں سے قبل چار سنتیں پڑھنے کا وقت نہ ملے اور خطبہ شروع ہوچکا ہو تو ان کو کس وقت پڑھنا چاہئے؟ اس وقت ان سنتوں کی نیت میں کیا کہنا چاہئے؟

ج… سنت کے لئے مطلق نماز کی نیت کافی ہے، وقت اور رکعات کے تعین کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کوئی کرنا چاہے تو پہلی سنت میں ”سنت قبل از جمعہ“ کی اور بعد والی سنتوں میں ”بعد از جمعہ“ کی نیت کرلی جائے، جمعہ سے پہلے کی سنتیں رہ جائیں تو ان کو بعد کی سنتوں کے بعد ادا کرلے، اور ان میں قبل از جمعہ کی نیت کرے۔

نمازِ جمعہ کی کتنی سنتیں موٴکدہ ہیں؟

س… نمازِ جمعہ میں دو رکعت فرض سے پہلے اور بعد میں پڑھی جانے والی سنتوں کے بارے میں ارشاد فرمائیں، کیا پہلے کی چار سنت اور بعد میں پڑھی جانے والی چھ (چار اور دو) سنتیں موٴکدہ ہیں؟ اگر کوئی نہ پڑھے تو گناہگار ہوگا؟ ہمارے ایک بزرگ فرماتے ہیں فرض کے بعد کی چار سنتیں پڑھنا ضروری نہیں۔

ج… جمعہ کے بعد کی سنتوں میں اختلاف ہے، فتویٰ اس پر ہے کہ جمعہ کے بعد چھ سنتیں ہیں، پہلے چار سنتیں موٴکدہ اور پھر دو غیرموٴکدہ، اگر کوئی شخص ترتیب بدل لے کہ پہلے دو پڑھے پھر چار پڑھے تب بھی کوئی حرج نہیں۔

عشاء کی چار سنتیں موٴکدہ ہیں یا غیرموٴکدہ؟

س… نماز عشاء کی پہلی چار سنتیں موٴکدہ ہیں یا غیرموٴکدہ؟ اور ان کا پڑھنا لازم ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

ج… عصر اور عشاء کی پہلی چار سنتیں غیرموٴکدہ ہیں، ان کا پڑھنا فضیلت کی چیز ہے، مگر ضروری نہیں۔

عشاء کی بعد کی دو سنتیں پہلے پڑھنا صحیح نہیں

س… ہمارے علاقے کی مسجد میں کچھ اصحاب ایسے نماز پڑھنے آتے ہیں، جو کہ عشاء کی نماز کی شروع کی چار سنت کے بجائے دو پڑھتے ہیں، ایک صاحب نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہ بعد کی دو سنت پہلے ادا کرلیتے ہیں، تو کیا بعد کی دو سنتیں پہلے پڑھی جاسکتی ہیں؟

ج… فرض کے بعد کی سنتیں فرض کے تابع ہیں، فرض ادا کرنے سے پہلے ان کو ادا کرنا صحیح نہیں، بلکہ اگر فرض اور سنتیں پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ فرض نماز کسی وجہ سے صحیح نہیں ہوئی اور سنتیں صحیح پڑھ لی تھیں، تو فرض کو لوٹانے کے بعد سنتوں کو لوٹانا بھی ضروری ہے، پہلے کی پڑھی ہوئی سنتیں کافی نہیں۔

Facebook Comments

Comments are closed.