رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے تعلقات

جلد ہفتم
532
0

 

رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا

س… رشتہ داروں سے کبھی نہ ملنا گناہ ہے کہ نہیں؟ سگے چچا، خالہ، چچازاد بھائی وغیرہ، اگر گناہ ہے تو ماں باپ اگر ان سے کبھی ملنے کو منع کرے تو کیا ماں باپ کا حکم ماننا ضروری ہے؟ اور اگر ماں باپ کی ناراضگی ہوجائے تو کیا حکم ماننا ضروری ہے؟

ج… اپنے ایسے رشتہ داروں سے قطع تعلق جائز نہیں، اگر زیادہ تعلقات نہ رکھے جائیں تو کم سے کم سلام کلام تو بند نہیں ہونا چاہئے، اس معاملے میں والدین کی اطاعت نہ کی جائے۔

س… آج کل عزیز، رشتہ دار اور خاندان میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد ایک دُوسرے سے باتیں نہیں کرتے، قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ بتائیں کہ ایک دُوسرے کے پاس آنا جانا چاہئے یا نہیں؟

ج… اعزّہ میں رنجشیں تو معمولات میں داخل ہیں، لیکن عزیز و اقارب سے قطع تعلق کرلینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے۔

رشتہ داروں کا غلط طرزِ عمل ہو تو ان سے قطع تعلق کرنا

س… حافظ ․․․․․․ کے مطابق “اسلام میں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے اور جو لوگ صلہ رحمی نہیں کرتے، انہیں گمراہ اور فاسق کہا گیا ہے، صلہ رحمی کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق نہ کیا جائے بلکہ ہر ایک سے ملاقات کی جائے۔” اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی مجبوری کی بنا پر رشتہ داروں سے نہیں ملتے تو وہ فاسق اور گمراہ ہوئے۔ لیکن اگر رشتہ دار ایسا ماحول پیدا کریں اور ایسا طرزِ عمل اختیار کریں کہ ان کے ہاں آنے جانے سے ذہنی پراگندگی پیدا ہو اور آدمی رُوحانی طور پر بھی تلخی محسوس کرے کہ رشتہ داروں نے اس کو خوش آمدید نہیں کہا اور غرور و تکبر کا مظاہرہ کیا۔ اگر کوئی آدمی اس بنا پر اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرے تو اس کو فاسق اور گمراہ کہا جائے گا؟ یا اس کے رشتہ دار ذمہ دار ہوں گے؟

ج… رشتہ داروں کا آپس میں قطع تعلق کبھی تو ایک فریق کی بے دِینی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی دُنیوی مفادات کی وجہ سے۔ پس اگر قطع تعلق دِین کی بنیاد پر ہے تو صرف وہ فریق گناہگار ہوگا جس کی بے دِینی کی وجہ سے قطع تعلق ہوا، بشرطیکہ دُوسرا فریق اس قطع تعلقی کے باوجود ان کے ضروری حقوق ادا کرتا رہے۔ اور اگر قطع تعلق کی بنیاد کوئی دُنیوی تنازعہ ہے تو دونوں میں سے جو فریق دُوسرے کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا وہ گنہگار ہوگا۔ اور اگر دونوں کوتاہی کریں گے تو دونوں گنہگار ہوں گے۔ ہماری شریعت کی تعلیم یہ نہیں کہ جو شخص تم سے رشتہ جوڑ کر رکھے تم بھی اس سے جوڑ رکھو، بلکہ شریعت کی تعلیم یہ ہے جو حدیث میں فرمائی گئی ہے: “صِل من قطعک” (مسند احمد ج:۴ ص:۱۵۸) کہ جو شخص تم سے رشتہ توڑے اور رشتہ داری کے حقوق ادا نہ کرے، تم اس کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو اور اس کے رشتے کے حقوق بھی ادا کرو، ورنہ قطع رحمی کا وبال جس طرح اس پر پڑے گا، تم پر بھی پڑے گا۔ یہ مضمون بہت تفصیل طلب ہے، خلاصہ یہی ہے جو میں نے لکھ دیا۔

کیا بدکردار عورتوں کے پاوٴں تلے بھی جنت ہوتی ہے؟

س… عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، لیکن جو بدکردار قسم کی عورتیں اپنے معصوم بچوں کو چھوڑ کر گھروں سے فرار ہوتی ہیں، ان کے بارے میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا ایسی عورتوں کے بارے میں بھی یہ تصوّر ممکن ہے کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت ہے؟

ج… ایسی عورتیں تو انسان کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہیں، “ماں” کا تقدس ان کو کب نصیب ہوسکتا ہے․․․؟ اور جو خود دوزخ کا ایندھن ہوں، ان کے قدموں تلے جنت کہاں ہوگی․․․؟ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اولاد کو چاہئے کہ اپنی ماں کو ایذا نہ دے اور اس کی بے ادبی نہ کرے۔

پھوپھی اور بہن کا حق دیگر رشتہ داروں سے زیادہ کیوں ہے؟

س… حقوق العباد کے تحت ہر شخص کے مال و دولت پر اس کے عزیزوں، رشتہ داروں، غریبوں، ناداروں، مسافروں کے کچھ حقوق ہیں، لیکن کیا رشتہ داروں میں کسی رشتہ دار کے (ماں باپ کے علاوہ) کوئی خاص حقوق ہیں؟ ہمارے گھر میں یہ تصوّر کیا جاتا ہے کہ بہن اور پھوپھی کے کچھ زیادہ ہی حقوق ہیں۔

ج… بہن اور پھوپھی کا حق اس لئے زیادہ سمجھا جاتا ہے کہ باپ کی جائیداد میں سے ان کو حصہ نہیں دیا جاتا بلکہ بھائی غصب کرجاتے ہیں، ورنہ ان کو ان کا پورا حصہ دینے کے بعد ان کا ترجیحی حق باقی نہیں رہتا۔

رشتہ دار کو دُشمن خیال کرنے والے سے تعلقات نہ رکھنا کیسا ہے؟

س… ہمارے ایک نہایت قریبی عزیز ہم سے تعلقات قائم رکھنا نہیں چاہتے، جبکہ ہم لوگوں نے ان کی پروَرِش کی، انہیں پالا پوسا، مگر اب وہ ہمارے کسی احسان کو نہیں مانتے، نہ صرف یہ بلکہ ہمیں اپنا دُشمن خیال کرتے ہیں، ہم سے حسد کرتے ہیں، ہم پر بے بنیاد الزامات کی بھرمار کرتے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “عن جبیر بن مطعم قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا یدخل الجنة قاطع۔ متفق علیہ” (مشکوٰة ص:۴۱۹) “یعنی تعلقات قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔” ان حالات میں ہمارے لئے ان سے میل جول رکھنا سخت مضر ہے کیونکہ وہ ملنے والوں اور پڑوسیوں سے بھی ہماری غیبت کرتے ہیں، تو کیا ہم دوزخی ہوں گے؟ اور قطع تعلق کی بنا پر خدا ہم سے ناراض ہوگا؟ ان حالات میں آپ ہمیں بتائیے کہ ہم کیا طریقہ اختیار کریں؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم بھی قطع تعلقی اختیار کرلیں کیونکہ معمولی ملاقات سے بھی وہ ہم پر طرح طرح کی جھوٹی باتیں عائد کردیتے ہیں اور ہمیں بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ج… زیادہ میل جول نہ رکھی جائے، لیکن سامنے آئیں تو سلام کہہ دیا جائے، بیمار ہوں تو عیادت کی جائے، انتقال کرجائیں تو جنازے میں شرکت کی جائے، اس صورت میں آپ پر قطع رحمی کا وبال نہیں ہوگا، اور اگر سلام و کلام بالکل بند کردیا جائے تو قطع رحمی کا گناہ آپ کو بھی ہوگا۔

والدین کے منع کرنے پر رشتہ داروں سے تعلقات کم کرنا

س… اگر والدین رشتہ داروں سے ملنے کو منع کریں جبکہ کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں والدین کا حکم مان لینا چاہئے اور صلہ رحمی ترک کردینی چاہئے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

ج… قطع رحمی حرام ہے، حدیث میں ہے:

          “عن جبیر بن مطعم رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا یدخل الجنة قاطع۔ متفق علیہ۔”                        (مشکوٰة ص:۴۱۹)

          ترجمہ:… “قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔”

          اور ناجائز کاموں میں والدین کی اطاعت نہیں، لیکن اگر والدین کسی مصلحت کی بنا پر زیادہ میل جول سے منع کریں تو ٹھیک ہے۔

رشتہ داروں سے قطع تعلق جائز نہیں

س… مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گھر کا اور تین چار اور خاندانوں کا ہمارے رشتہ داروں سے کسی بات پر ناچاقی کی وجہ سے میل جول بند ہوگیا ہے دُوسری طرف والدین کی نافرمانی والی بھی بات ہے، میں اللہ کے خوف کی وجہ سے یہ چاہتا ہوں کہ رشتہ داروں سے قطع تعلق والا گناہ مجھ سے نہ ہو۔ میں والدہ سے اس کی اجازت مانگتا ہوں کیونکہ ان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا، تو وہ کہتی ہیں کہ: “میل جول ہونے کے بعد پھر کسی نہ کسی بات پر ناراضگی ہوجائے گی۔” اس کے علاوہ تین چار اور خاندانوں نے جو ان سے بائیکاٹ کیا ہوا ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ: “اگر تم نے ان رشتہ داروں سے میل جول بڑھایا تو ہم لوگ تم سے نہیں ملیں گے۔” تو مولانا صاحب! میں چاہتا ہوں کہ کوئی ناراض بھی نہ ہو اور ان رشتہ داروں سے تعلقات بھی دوبارہ قائم ہوجائیں۔

ج… عزیز و اقارب سے قطع تعلق حرام ہے، حدیث میں ہے کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا، اگر کسی سے زیادہ میل جول نہ رکھا جائے تو اس کا تو مضائقہ نہیں، لیکن ایسا قطع تعلق کہ اس کے جنازے میں بھی شرکت نہ کی جائے اور بیمار ہو تو عیادت بھی نہ کی جائے، یہ جائز نہیں۔

پڑوسی کے حقوق

س… کیا اسلام کی رُو سے جائز ہے کہ ہمارے گھر روشن رہیں لائٹ سے اور ہمارے پڑوسی اندھیرے میں رہیں، کسی وجہ سے لائٹ نہ لگواسکیں؟ تو کیا ہم ان کی مدد نہیں کرسکتے؟ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ارشاد ہے: “وہ مسلمان، مسلمان نہیں ہے جس کا پڑوسی بھوکا رہے اور خود سیر ہوکر کھائے” آخر یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

ج… آپ کی سوچ بالکل صحیح ہے، اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو تو پڑوسیوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچانا چاہئے، پس اگر آپ کے پڑوسیوں کے گھر میں بجلی نہیں تو آپ بجلی کا کنکشن لگوانے پر ان کی مدد کریں، اور جب تک کنکشن نہیں ملتا تب تک اپنے گھر سے روشنی فراہم کردیں۔

پڑوس کے ناچ، گانے والوں کے گھر کا کھانا کھانا

س… زکریا کے محلے میں ساتھ پڑوس میں ایسے افراد رہتے ہیں جن کا پیشہ ناچ گانا و بدکاری ہے، لیکن یہ پیشہ محلے میں نہیں بلکہ اور جگہ کرتے ہیں، محلے والوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے ہیں، تو ایسی صورت میں محلے والوں کو طوائف کے خاندان سے میل جول جائز ہے یا نہیں؟ ان کے یہاں سے آیا ہوا کھانا قبول کرنا کیسا ہے؟ اور محلے والوں کے کیا فرائض ہونے چاہئیں؟

ج… حرام کمائی کا کھانا پینا جائز نہیں، محلے والوں کو چاہئے کہ اپنی حد تک ان کو ترکِ گناہ کی فہمائش کریں، اور اگر وہ اس کاروبار کو نہ چھوڑیں تو ان سے زیادہ تعلق نہ رکھیں، نہ ان کی دعوت میں جائیں۔

تکلیف دینے والے پڑوسی سے کیا سلوک کیا جائے؟

س… سیّد خاندان کے ایک صاحب عرصہ دس سال سے میرے پڑوس میں رہائش پذیر ہیں اور سرکاری عہدے ہم دونوں کے مساوی ہیں، مگر وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو پریشان اور تنگ کرنے کی تدبیریں کرتے رہتے ہیں، مختلف انداز سے ذہنی کوفت پہنچاتے رہتے ہیں، کبھی بچوں کو مار دیا اور کبھی کوئی بہتان لگادیا، غرضیکہ شیطانی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سے ہر طرح سے نبھاہنے کی کوشش کی، مگر وہی مرغی کی ایک ٹانگ! ان کی اولاد، ان کی بیگم اور وہ خود حرام کی بے پناہ دولت کی فراوانی کے باعث غرور میں رہتے ہیں، آپ بتائیں کہ اسلام ان جیسے پڑوسیوں سے کس طرح کا سلوک روا رکھنے کی تلقین کرتا ہے؟

ج… اپنی طرف سے ان کو کسی طرح ایذا نہ پہنچائی جائے اور ان کی ایذاوٴں پر صبر کیا جائے، جن صاحب کا آپ نے تذکرہ کیا ہے، اگر وہ واقعتا سیّد ہوتے تو ان کا اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوتا۔ حدیث میں ایسے لوگوں کو جو کہ پڑسیوں کو ایذا پہنچاتے ہیں، موٴمن کی صف سے خارج قرار دیا گیا ہے:

          “عن أبی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: والله! لا یوٴمن، والله! لا یوٴمن، والله! لا یوٴمن۔ قیل: من یا رسول الله؟ قال: الذی لا یوٴمن جارہ بوائقہ۔ رواہ مسلم۔”     (مشکوٰة ص:۴۲۲)

          ترجمہ:… “اللہ کی قسم! موٴمن نہیں ہوگا، اللہ کی قسم! موٴمن نہیں ہوگا، اللہ کی قسم! موٴمن نہیں ہوگا، عرض کیا گیا: کون؟ یا رسول اللہ! فرمایا: وہ شخص جس کے پڑوسی اسی کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہوں۔”

بغیر حلالہ کے مطلقہ عورت کو پھر سے اپنے گھر رکھنے والے سے تعلقات رکھنا

س… ہمارے گاوٴں میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق، دس طلاق، سو طلاق کے الفاظ سے طلاق دی، تمام علماء و مفتیانِ کرام نے فتوے دئیے کہ بغیر حلالہ کے نکاحِ ثانی جائز نہیں، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لڑکی اور لڑکا ایک پیر صاحب کے پاس گئے، شاید وہاں جاکر بیان بدل دیا، طلاق کے الفاظ بدل دئیے، پیر صاحب نے نکاحِ ثانی کا فتویٰ دیا، یعنی طلاقِ بائن کہا، تو انہوں نے نکاح کرلیا، اس پر ہم لوگوں نے لڑکی والوں اور لڑکے والوں سے بائیکاٹ کردیا اور ان کی شادی غمی میں شرکت چھوڑ دی، لیکن دیگر گاوٴں والے کہتے ہیں کہ انہوں نے پیر صاحب کے فتوے پر عمل کیا، اس لئے وہ جاتے ہیں۔

ج… یہ تو ظاہر ہے کہ یہ طلاق مغلّظہ تھی، جس کے بعد بغیر شرعی حلالہ کے نکاح جائز نہیں، پیر صاحب کے سامنے اگر غلط صورت پیش کرکے فتویٰ لیا گیا تو پیر صاحب تو گنہگار نہیں مگر فتویٰ غلط ہے، اور اس سے حرام چیز حلال نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ جوڑا دُہرا مجرم ہے، ان سے قطع تعلق شرعاً صحیح ہے، اور جو لوگ اس جرم میں شریک ہیں وہ سب گنہگار ہیں، سب کا یہی حکم ہے۔

برادری کے جوڑ کے خیال سے گناہ و منکرات والی محفل میں شرکت

س… میرا تعلق میمن برادری کی ایک جماعت سے ہے، ہماری جماعت کی ایک منتظمہ کمیٹی ہے، جو کہ ہر سال سالانہ جلسہ “تقسیمِ انعامات” کے نام سے منعقد کرتی ہے، اس جلسے میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے طلباء و طالبات کو انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں۔ یہ جلسہ عورتوں اور مردوں کا مخلوط جلسہ ہے اور اِنعامات حاصل کرنے کے لئے طالبات اسٹیج پر آتی ہیں، دیگر یہ کہ پروگرام کو دِلچسپ بنانے کے لئے میوزک اور نغموں کو بھی اس پروگرام میں شامل کرتے ہیں، اور اس پورے پروگرام کی فلم (مووی) بھی بنائی جاتی ہے۔ اسلامی نقطئہ نظر سے تو یہ پروگرام قطعاً جائز نہیں ہے، لیکن ہمارے چند ساتھی حضرات کا خیال ہے کہ برادری میں جوڑ رکھنے کے لئے اس پروگرام میں شرکت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آپ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں یہ بتائیے کہ برادری کے جوڑ کے لئے پروگرام میں شرکت کی جاسکتی ہے؟ اگر اس پروگرام میں شرکت جائز نہیں ہے اور اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس پروگرام میں شرکت کر رہا ہے تو اس کا یہ گناہ انفرادی ہوگا یا اجتماعی؟

ج… جس محفل میں منکرات کا ارتکاب ہو رہا ہو اس میں شرکت کرنا حرام ہے، اور حرام چیز جوڑ کی خاطر حلال نہیں ہوجاتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا ذریعہ بنتی ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے جوڑ میں توڑ پیدا کردیتے ہیں جو محرّمات کے ارتکاب پر قائم کیا جائے۔ مشکوٰة شریف (ص:۴۳۵) میں ترمذی شریف کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:

          “عن معاویة أنہ کتب الٰی عائشة: أن اکتبی الیّ کتابًا توصینی فیہ ولا تکثری، فکتبت: سلام علیک أمّا بعد فانی سمعت رسول الله صلی الله علیہ وسلم یقول: من التمس رضی الله بسخط الناس کفاہ الله مونة الناس ومن التمس رضی الناس بسخط الله وکّلہ الله الی الناس، والسلام علیک۔ رواہ الترمذی۔”

                                       (مشکوٰة ص:۴۳۵)

          ترجمہ:… “حضرت معاویہ رضی الله عنہ نے اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں خط لکھا کہ: مجھے کوئی مختصر سی نصیحت لکھ بھیجے۔ جواب میں حضرت اُمّ الموٴمنین رضی اللہ عنہا نے لکھوایا: السلام علیکم، اما بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد خود سنا ہے کہ جو شخص انسانوں کی ناراضگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے شر سے اس کی کفایت فرماتے ہیں، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے لوگوں کی رضامندی تلاش کرے، اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے سپرد کردیتے ہیں (اور اپنی نصرت و حمایت کا ہاتھ اس سے اُٹھالیتے ہیں)۔”

Facebook Comments

Comments are closed.