مرد اور عورت سے متعلق مسائل

جلد ہفتم
2.1K
0

 

عورت پر تہمت لگانے، مار پیٹ کرنے والے پڑھے لکھے پاگل کے متعلق شرعی حکم

س… ایک آدمی پڑھا لکھا ہے، اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا ہے، بیوی کو کوئی عزّت نہیں دیتا، بیوی پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے، ہر کام میں نقص نکالتا ہے، ہر نقصان کا ذمہ دار بیوی کو ٹھہراتا ہے، گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے، بیوی کے رشتہ داروں کی پاک دامنی پر بھی الزامات لگاتا ہے، بیوی کو اس کے رشہ داروں کے گھر جانے نہیں دیتا، بیوی کا دِل اگر چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے میکے میں کہیں جائے تو ڈَر کی وجہ سے اجازت طلب نہیں کرتی، کیونکہ شوہر اس کے گھر والوں کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور چِلَّا چِلَّاکر اس کے گھر والوں کو گندی گندی گالیاں بکتا ہے، بیوی بے چاری مہینوں مہینوں اپنے گھر والوں کی صورت کو بھی ترس جاتی ہے، بے بس ہے، جب زیادہ یاد آتی ہے تو چپکے چپکے رو لیتی ہے، اور صبر و شکر کرکے خاموش ہوجاتی ہے۔ بیوی کے گھر والے اگر بلائیں تو (شوہر جو کہ شکی مزاج ہے) بیوی اور اس کے میکے والوں پر گندے گندے الزامات لگاتا ہے، کہتا ہے: “تجھے بلاکر تیرے ماں باپ تجھ سے گندہ دھندہ کرواتے ہیں اور پیسہ خود کھاتے ہیں” بات بات پر گالیاں دینا، پاک دامنی پر الزام لگانا، زیادہ غصہ آئے تو چہرے پر تھپڑوں کی بھرمار کرنا، گھر سے نکل جانے کی دھمکی دینا، شوہر کے نزدیک بیوی کا حق روٹی، کپڑا اور مکان سے زیادہ نہیں ہے۔ جب شوہر کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو وہ بیوی سے معافی مانگتا ہے کہ “میں نے غصّے میں جو کچھ بھی کیا، تم معاف کردو” عورت بے چاری مجبور ہوکر معاف کردیتی ہے۔ کچھ عرصے کی بات ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو گالیاں دیں اور بہت سے مردوں کے نام لے کر اس کی پاک دامنی پر الزام لگایا، یہاں تک کہ بیوی کے بھانجوں اور بھتیجوں تک کے ساتھ الزام لگانے سے باز نہ آیا، اس کے میکے والوں پر بھی گندے گندے الزامات لگائے، تین چار روز بعد بیوی سے کہا کہ: “مجھے معاف کردو” بیوی نے کہا کہ: “اب تو میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی، کیونکہ آپ ہر بار معافی مانگنے کے بعد بھی یہی کرتے ہیں” لیکن شوہر بارہا معافی مانگتا رہا اور اس نے یہاں تک وعدہ کیا کہ: “دیکھو میں کعبة اللہ کی طرف ہاتھ اُٹھاکر حلفیہ تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اب میں کبھی بھی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر کوئی الزام نہیں لگاوٴں گا” بیوی نے معاف کردیا، مگر ابھی اس معافی کو بمشکل دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ شوہر صاحب پھر وعدہ بھلاکر اپنی پُرانی رَوِش پر اُتر آئے، اب تو بیوی بالکل بھی معاف نہیں کرتی، شوہر جب بھی اس کی پاک دامنی پر الزامات لگاتا ہے تو بیوی چار بار آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھاکر چار گواہوں کی طرف سے اللہ کو گواہ بناتی ہے اور پانچویں بار اللہ کو گواہ بناکر اپنی پاک دامنی پر لگائے ہوئے الزامات کا بدلہ اللہ کو سونپ دیتی ہے، کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کی پاک دامنی پر الزام کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے الزام لگانے والے پر ۸۰ دُرّوں کی سزا رکھی ہے، اب بیوی اپنے شوہر کی ہر بات صبر اور شکر سے سنتی ہے، اور خاموش رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو کہتی ہے کہ: “اے اللہ! تو ہی انصاف سے میرے ساتھ کی جانے والی تمام حق تلفیوں کا بدلہ دُنیا اور آخرت میں لے لینا” مولانا صاحب! اسلام کی بیٹی کیا اتنی گھٹیا اور حقیر ہے کہ جو ایک مرد کے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حلال کی گئی ہو اور وہ مرد اس کے اُوپر جیسا چاہے الزام لگائے اور اس کے میکے والوں کو یہ کہہ کر حقیر جانے کہ میں ان کی بیٹی بیاہ کر لایا ہوں اس لئے میری عزّت اور رُتبہ زیادہ ہے، اور بیٹی اور اس کے گھر والے مرد سے کم تر ہیں، ان کی کوئی عزّت نہیں، جس کے سامنے جو چاہے ان کو کہہ دیا جائے۔ کیا اسلام نے بیٹی والوں کو اتنا حقیر بنادیا ہے (نعوذ باللہ) کہ وہ سنتِ رسول کو ادا کرکے ایک بیٹی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر ایک مرد کے لئے حلال کردیں اور پھر بیٹی والے اور بیٹی زندگی بھر ان کے آگے جھکیں؟ کیا عورت کو (خاص کر اس کے منہ پر) زور دار تھپڑوں کی مار سے ناک اور منہ سے خون نکالنے کی اجازت ہے؟ جبکہ عورت اللہ کو حاضر اور ناظر جان کر اپنے تمام فرائض ایمان داری سے ادا کرتی ہو، اور وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر بھی نہ جاتی ہو، کیا ایسے شوہر کی عبادت قبول ہوسکتی ہے؟ کیا یومِ حساب اللہ تعالیٰ صابر بیوی کو اس کے شوہر سے تمام حقوق ادا کروائے گا جو کہ دُنیا میں اسے نہ ملے ہوں؟ کیونکہ اب بیوی یہی کہتی ہے کہ اب تو قیامت کے دن ہی حساب بے باق ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں ہوگا۔

ج… اس شخص کے جو حالات آپ نے لکھے ہیں، ان کے نفسیاتی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص “پڑھا لکھا پاگل” ہے، گالیاں بکنا، تہمتیں دھرنا، مارپیٹ کرنا، وعدوں سے پھرجانا، اور قسمیں کھاکھاکر توڑ دینا، کسی شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ جو شخص کسی پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس پر چار گواہ پیش نہ کرسکے، اس کی سزا قرآنِ کریم نے ۸۰ دُرّے تجویز فرمائی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے، اور جو شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے، بیوی اس کے خلاف عدالت میں لعان کا دعویٰ کرسکتی ہے، نکاح ختم کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے، جس کی تفصیل یہاں ذکر کرنا غیرضروری ہے۔ اب اگر آپ اپنا معاملہ یوم الحساب پر چھوڑتی ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان تمام زیادتیوں کا بدلہ دِلائیں گے، اور اگر آپ دُنیا میں اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو عدالت سے رُجوع کرنا ہوگا کہ مظلوم لوگوں کے حقوق دِلانا عدالت کا فرض ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہ بھی کرسکتی ہیں کہ دو چار شریف آدمیوں کو درمیان میں ڈال کر اس سے طلاق لے لیں اور کسی دُوسری جگہ عقد کرکے شریفانہ زندگی بسر کریں۔ بہرحال اس پاگل کے فعل کو اسلام کی طرف منسوب کرنا اور یہ کہنا کہ “اسلام کی بیٹی کیا اتنی گھٹیا اور حقیر ہے” بالکل غلط ہے، اسلام کی تعلیم تو وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاک ارشاد میں ذکر فرمائی:

          “خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی۔”

                                       (مشکوٰة ص:۲۸۱)

          ترجمہ:… “تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بڑھ کر اچھا ہوں۔”

عورت کے اِخراجات کی ذمہ داری مرد پر ہے

س… کیا اسلام عورتوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دفتروں میں مردوں کے دوش بدوش کام کریں؟ حالانکہ اسلام کہتا ہے کہ ان کا اصل گھر اور کام گھر میں ہے، جہاں ان کو رہ کر ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں، آخر یہ بات کہاں تک دُرست ہے؟

ج… کماکر کھلانے کی ذمہ داری اسلام نے مرد پر ڈالی ہے، عورتیں اس بوجھ کو اُٹھاکر اپنے لئے خود ہی مشکلات پیدا کر رہی ہیں، اسلام میں کمائی کے لئے بے پردہ ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

بیوی کے اصرار پر لڑکیوں سے قطع تعلق کرنا اور حصے سے محروم کرنا

س… میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی، جس سے تین لڑکیاں ہیں، اور میں نے ان کی شادی بھی کردی، اب میں یہ چاہتا ہوں کہ میری جائیداد میں یہ لڑکیاں حق دار نہ رہیں، اور تعلق تو میں نے پہلے ہی ختم کرلیا ہے، کیونکہ میری بیوی کی خواہش یہی ہے، کیا میرا یہ فیصلہ شریعت کے عین مطابق ہوگا؟

ج… بیٹیوں سے قطع تعلق؟ توبہ کیجئے․․․! یہ سخت گناہ ہے، اسی طرح ان کو جائیداد سے محروم کرنے کی خواہش بھی سخت گناہ ہے۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو وارث بنایا ہے، بیوی کے اصرار پر اس کو محروم کرنے کی کوشش کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بیوی خدا اور رسول سے زیادہ عزیز ہے۔

باوجود کمانے کی طاقت کے بیوی کی کمائی پر گزارا کرنا

س… کیا مردوں کو عورتوں کی کمائی کھانے کی اجازت ہے؟ مثلاً: کسی کی بیوی کماکر لاتی ہے اور مرد باوجود تندرستی کے نکما ہے، کماتا نہیں، تو ایسے شخص کو بیوی کی کمائی حلال ہے؟ یا کسی نوجوان کی بہن کماتی ہے اور وہ بیٹھ کھاتا ہے، تو کیا ایسے جوان کو بہن کی لائی ہوئی تنخواہ میں سے خرچ کرنے کا حق ہے؟

ج… عورتوں کے معاش کا ذمہ دار مردوں کو بنایا گیا ہے، مگر عورتوں نے یہ بوجھ خود اُٹھانا شروع کردیا، اور تساہل پسند مردوں کو ایک اچھا خاصا ذریعہٴ روزگار مل گیا، جب عورت اپنی خوشی سے کماکر لاتی ہے اور مردوں پر خرچ کرتی ہے، ان کے لئے کیوں حلال نہیں․․․؟

بیوی کو خرچہ نہ دینا اور بیوی کا رَدِّعمل نیز گھر میں سودی پیسے کا استعمال

س… میرے میاں اپنا پیسہ سودی بینک میں مختلف اسکیموں پر لگاتے ہیں اور اس کا منافع ہر مہینے جو ہوتا ہے اس کو بھی گھر کے خرچ میں لگادیتے ہیں۔ والد صاحب کے سائے سے بچپن سے محروم ہوگئے اور اس زمانے میں لڑکیوں کی شادی ایک مسئلہ ہے، تو پھر میرے گھر والوں نے یہ شادی کردی، میرے میاں کی ملازمت حبیب بینک میں بہ حیثیت آڈٹ آفیسر ہے، ایک تو بینک کی نوکری اور اُوپر سے سود کی اسکیموں میں لگایا ہوا پیسہ، یہ تمام پیسہ مجھ پر اور میرے بچوں پر خرچ ہوتا ہے۔ ۱-اس پیسے کے کھانے سے میری نماز، میرا کھانا دُرست ہے؟ ۲-اسی پیسے سے میں اپنے زیور کی زکوٰة ادا کرتی ہوں، کیا وہ دُرست ہے؟

ج… سود تو حرام ہے، آپ ایسا کیا کریں، ہر مہینے کسی غیرمسلم سے قرض لے کر گھر کا خرچ چلایا کریں اور آپ کے میاں اپنی رقم سے غیرمسلم کا وہ قرض ادا کردیا کریں۔

مقروض شوہر کی بیوی کا اپنی رقم خیرات کرنا

س… ایک شخص پانچ ہزار روپے کا مقروض ہے، اور یہ قرضِ حسنہ لیا ہوا ہے، اس کی بیوی کے پاس تقریباً تین ہزار روپے کا زیور ہے، اب بیوی چاہتی ہے کہ ۱۵۰۰ روپے کے زیورات بیچ کر گاوٴں میں ایک کنواں کھدوائے، لیکن اس کے میاں کا اصرار ہے کہ یہ پندرہ سو روپے کنویں پر خرچ کرنے کے بجائے میرا قرض ادا کردو، بیوی کہتی ہے کہ یہ میرا حق ہے، میں جہاں چاہوں خرچ کرسکتی ہوں، اس کا ثواب مجھے ضرور ملے گا، اور خاوند کہتا ہے کہ میاں اگر مقروض ہو تو اس کی بیوی کو خیرات کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ اب دریافت طلب یہ بات ہے کہ کیا بیوی اپنے زیورات کو فروخت کرکے اس رقم کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرسکتی ہے یا خاوند کی اطاعت اس کے لئے ضروری ہے؟

ج… اگر زیور بیوی کی ملکیت ہے تو وہ جس طرح چاہے اور جہاں چاہے خیرات کرسکتی ہے، شوہر کا اس پر کوئی حق نہیں۔ لیکن حدیثِ پاک میں ہے کہ عورت کے لئے بہتر صدقہ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بال بچوں پر خرچ کرے۔ اس لئے میں اس نیک بی بی کو جو پندرہ سو روپے خرچ کرنا چاہتی ہے، مشورہ دُوں گا کہ وہ اپنے سارے زیور سے اپنے شوہر کا قرضہ ادا کردے، اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے اور اس کو جنت میں بہترین زیور عطا کریں گے۔

والدین سے اگر بیوی کی لڑائی رہے تو کیا کروں؟

س… میری شادی کو ڈھائی سال ہوئے، ڈھائی سال میں میرے سسرال والوں سے میری معمولی معمولی بات میں نہیں بنتی اور میرے شوہر کے ساتھ بھی ان کے ماں باپ کی نہیں بنتی، ان لوگوں نے مجھے کبھی پیار محبت سے نہیں دیکھا اور میری بیٹی کے ساتھ بھی وہ لوگ بہت تنگ مزاج ہیں۔ بات بات پر طنز کرنا، کھانے کے لئے جھگڑا کرنا، کاروبار ہمارے یہاں مل کر کرتے ہیں اور تمام محنت میرے شوہر ہی کرتے ہیں، الحمدللہ ہمارے یہاں رزق میں بے حد برکت ہے۔ ڈھائی سال کے عرصے میں کئی بار اپنی والدہ کے یہاں آگئی، اور ان لوگوں کے کہنے پر کہ اب کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، بڑوں کا لحاظ کرتے ہوئے والدین کا کہنا مانتے ہوئے میں معافی مانگ کر دوبارہ چلی جاتی، تھوڑے عرصے تک ٹھیک رہتا، پھر وہی حال۔ اس بار بھی میرے شوہر اور ان کے والد میں معمولی بات پر جھگڑا ہوگیا، اور میں مع شوہر اپنی والدہ کے یہاں ہوں۔ میرے شوہر اور میں دونوں چاہتے ہیں کہ ماں باپ کی دُعاوٴں اور پیار محبت سے الگ مکان لے لیں، کاروبار سے الگ نہ ہوں، اس لئے کہ ماں باپ کی خدمت بھی ہو، وہ لوگ دوبارہ بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کچھ نہیں کہیں گے، جیسے پہلے کہتے تھے۔ آپ بتائیے کہ جب گھر میں روز جھگڑا ہو تو برکت کہاں سے رہے گی؟ آپ ہمیں مشورہ دیں کہ ہم الگ مکان لے لیں، ان مسائل کا حل بتائیے، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا، اور میں تازندگی دُعا دیتی رہوں گی، میں بے حد دُکھی ہوں۔

ج… آپ کا خط غور سے پڑھا، ساس بہو کا تنازع تو ہمیشہ سے پریشان کن رہا ہے، اور جہاں تک تجربات کا تعلق ہے اس میں قصور عموماً کسی ایک طرف کا نہیں ہوتا، بلکہ دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ ساس، بہو کی ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر تنقید کیا کرتی اور ناک بھوں چڑھایا کرتی ہے، اور بہو جو اپنے میکے میں ناز پرودہ ہوتی ہے، ساس کی مشفقانہ نصیحت کو اپنی توہین تصوّر کرتی ہے، یہ دو طرفہ نازک مزاجی مستقل جنگ کا اکھاڑہ بن جاتی ہے۔

          آپ کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اگر آپ اتنی ہمت اور حوصلہ رکھتی ہیں کہ اپنی خوشدامن کی ہر بات برداشت کرسکیں، ان کی ہر نازک مزاجی کا خندہ پیشانی سے استقبال کرسکیں، اور ان کی کسی بات پر “ہوں” کہنا بھی گناہ سمجھیں، تو آپ ضرور ان کے پاس دوبارہ چلے جائیں، اور یہ آپ کی دُنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی ہوگی۔ اس ہمت و حوصلہ اور صبر و استقلال کے ساتھ اپنے شوہر کے بزرگ والدین کی خدمت کرنا آپ کے مستقبل کو لائقِ رشک بنادے گا، اور اس کی برکتوں کا مشاہدہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے کرے گا۔ اور اگر اتنی ہمت اور حوصلہ آپ اپنے اندر نہیں پاتیں کہ اپنی رائے اور اپنی “انا” کو ان کے سامنے یکسر مٹا ڈالیں تو پھر آپ کے حق میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ الگ مکان میں رہا کریں۔ لیکن شوہر کے والدین سے قطع تعلق کی نیت نہ ہونی چاہئے، بلکہ نیت یہ کرنی چاہئے کہ ہمارے ایک ساتھ رہنے سے والدین کو جو اذیت ہوتی ہے اور ہم سے ان کی جو بے ادبی ہوجاتی ہے، اس سے بچنا مقصود ہے۔ الغرض! اپنے کو قصور وار سمجھ کر الگ ہونا چاہئے، والدین کو قصور وار ٹھہراکر نہیں۔ اور الگ ہونے کے بعد بھی ان کی مالی و بدنی خدمت کو سعادت سمجھا جائے۔ اپنے شوہر کے ساتھ میکے میں رہائش اختیار کرنا موزوں نہیں، اس میں شوہر کے والدین کی سبکی ہے، ہاں! الگ رہائش اور اپنا کاروبار کرنے میں میکے والوں کا تعاون حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

          میں نے آپ کی اُلجھن کے حل کی ساری صورتیں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں، آپ اپنے حالات کے مطابق جس کو چاہیں اختیار کرسکتی ہیں۔ آپ کی وجہ سے آپ کے شوہر کا اپنے والدین سے رنجیدہ و کبیدہ اور برگشتہ ہونا، ان کے لئے بھی وبال کا موجب ہوگا اور آپ کے لئے بھی، اس لئے آپ کی ہر ممکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ آپ کے شوہر کے تعلقات ان کے والدین سے زیادہ سے زیادہ خوشگوار ہوں اور وہ ان کے زیادہ سے زیادہ اطاعت شعار ہوں، کیونکہ والدین کی خدمت و اطاعت ہی دُنیا و آخرت میں کلیدِ کامیابی ہے۔

مرد اور عورت کی حیثیت میں فرق

س… کیا اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کے غم کم کرنے کے لئے پیدا کیا ہے؟ جیسے مرد حضرات کا دعویٰ ہے کہ عورت کی کوئی حیثیت نہیں، اسے اللہ تعالیٰ نے مرد کے لئے پیدا کیا ہے۔

ج… اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کی بقا کے لئے انسانی جوڑا بنایا ہے، اور دونوں کے دِل میں ایک دُوسرے کا اُنس ڈالا ہے اور دونوں کو ایک دُوسرے کا محتاج بنایا ہے، میاں بیوی ایک دُوسرے کے بہترین مونس و غم خوار بھی ہیں، رفیق و ہم سفر بھی ہیں، یار و مددگار بھی ہیں۔ عورت مظہرِ جمال ہے، اور مرد مظہرِ جلال، اور جمال و جلال کا یہ آمیزہ کائنات کی بہار ہے، دُنیا میں مسرتوں کے پھول بھی کھلاتا ہے، ایک دُوسرے کے دُکھ درد بھی بٹاتا ہے، اور دونوں کو آخرت کی تیاری میں مدد بھی دیتا ہے۔ فطرت نے ایک کے نقص کو دُوسرے کے ذریعے پورا کیا ہے، ایک کو دُوسرے کا معاون بنایا ہے، عورت کے بغیر مرد کی ذات کی تکمیل نہیں ہوتی، اور مرد کے بغیر عورت کا حسنِ زندگی نہیں نکھرتا۔ اس لئے یک طرفہ طور پر یہ کہنا کہ عورت کو صرف مرد کے لئے پیدا کیا، ورنہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، غلط ہے۔ ہاں! یہ کہنا صحیح ہے کہ دونوں کو ایک دُوسرے کا غم خوار و مددگار بنایا ہے۔

س… میں نے اکثر جگہ پڑھا ہے کہ مرد اچھی عورت کی طلب کرتے ہیں اور نیک بیوی چاہتے ہیں، اکثر اپنی پسند کی شادی بھی کرتے ہیں، کیونکہ وہ مرد ہیں، کیا یہ ٹھیک کرتے ہیں؟

ج… نیک اور اچھے جوڑے کی خواہش دونوں کو ہے، اور پسند کی شادی بھی دونوں کرتے ہیں، میں تو اس کا قائل ہوں کہ اپنے بزرگوں کی پسند کی شادی کی جائے۔

س… کیا عورت اپنے لئے اچھے، نیک شوہر کی خواہش نہ کرے؟ عورت کسی ایسے شخص کو پسند کرتی ہے اور اس سے عزّت سے شادی کرنے کی خواہش رکھتی ہے، تو اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسی حرکت عورت کو زیب نہیں دیتی، جبکہ مرد اپنی خواہش پوری کرسکتا ہے۔

ج… اُوپر لکھ چکا ہوں، اکثر لڑکیاں کسی شخص کو پسند کرنے میں دھوکا کھالیتی ہیں، اپنے خاندان اور کنبے سے پہلے کٹ جاتی ہیں، ان کی محبت کا ملمع چند دنوں میں اُتر جاتا ہے، پھر نہ وہ گھر کی رہتی ہیں، نہ گھاٹ کی۔ اس لئے میں تمام بچیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ شادی دستور کے مطابق اپنے والدین کے ذریعے کیا کریں۔

س… میں نے اکثر جگہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی خواہش کی تھی جو کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی تھی۔

ج… صحیح ہے۔

س… اگر آج ایک نیک موٴمن عورت کسی نیک شخص سے شادی کی خواہش کرے تو اس میں کوئی بُرائی تو نہیں ہے، جبکہ عورت اپنی خواہش بیان نہ کرسکتی ہو تو کیا کرے؟ کیونکہ اگر بیان کرتی ہے تو والدین کی، بھائیوں کی عزّت کا مسئلہ بن جاتا ہے، اگر والدین کی بات مانے تو اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنا ہوگا۔

ج… اس کی صورت یہ ہے کہ خود یا اپنی سہیلیوں کے ذریعے اپنی والدہ تک اپنی خواہش پہنچادے، اور یہ بھی کہہ دے کہ میں کسی بے دِین سے شادی کرنے کے بجائے شادی نہ کرنے کو ترجیح دُوں گی، اور اللہ تعالیٰ سے دُعا بھی کرتی رہے۔

س… اگر عورت اپنی خواہش سے شادی کر بھی لے تو یہ مرد حضرات طعنہ دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں، جبکہ عورت کم ہی ایسا کرتی ہوگی، ایسے حضرات کے بارے میں آپ کیا جواب دیں گے؟

ج… جی نہیں! شریف مرد کبھی اپنی بیوی کو طعنہ نہیں دے گا، اسی لئے تو میں نے اُوپر عرض کیا کہ آج کل کچی عمر اور کچی عقل کی لڑکیاں محبت کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی برباد کرلیتی ہیں، نہ کسی کا حسب و نسب دیکھتی ہیں، نہ اخلاق و شرافت کا امتحان کرتی ہیں، جبکہ لڑکی کے والدین زندگی کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہوتے ہیں، اور یہ بھی اکثر جانتے ہیں کہ لڑکی ایسے شخص کے ساتھ نباہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ اس لئے لڑکی کو چاہئے کہ والدین کی تجویز پر اعتماد کرے، اپنی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں دھوکا نہ کھائے۔

شوہر کی تسخیر کے لئے ایک عجیب عمل

س… میری شادی کو دو سال ہوئے ہیں، مجھے شادی سے پہلے کچھ سورتیں، کچھ دُعائیں اور آیات وغیرہ پڑھنے کی عادت تھی، اب وہ ایسی عادت ہوگئی ہے کہ پاکی، ناپاکی، کا کچھ خیال نہیں رہتا اور وہ زبان پر ہوتی ہیں۔ خیال آنے پر رُک جاتی ہوں، مگر پھر وہی۔ اس لئے آپ سے یہ بات پوچھ رہی ہوں کہ اگر کسی گناہ کی مرتکب ہو رہی ہوں تو آگاہی ہوجائے۔ اس کے علاوہ میں اپنے شوہر کی طرف سے بہت پریشان ہوں، مجھے بہت پریشان کرتے ہیں، کوئی توجہ نہیں دیتے، ہم دونوں میں آپس میں ذہنی ہم آہنگی کسی طور نہیں ہے، بہت کوشش کرتی ہوں، لیکن بے انتہا شکی ہیں۔

ج… ناپاکی کی حالت میں قرآنی دُعائیں تو جائز ہیں، مگر تلاوت جائز نہیں، اگر بھول کر پڑھ لیں تو کوئی گناہ نہیں، یاد آنے پر فوراً بند کردیں۔

          شوہر کے ساتھ ناموافقت بڑا عذاب ہے، لیکن یہ عذاب آدمی خود اپنے اُوپر مسلط کرلیتا ہے، خلافِ طبع چیزیں تو پیش آتی ہی رہتی ہیں، لیکن آدمی کو چاہئے کہ صبر و تحمل کے ساتھ خلافِ طبع باتوں کو برداشت کرے، سب سے اچھا وظیفہ یہ ہے کہ خدمت کو اپنا نصب العین بنایا جائے، شوہر کی بات کا لوٹ کر جواب نہ دیا جائے، نہ کوئی چبھتی ہوئی بات کی جائے، اگر اپنی غلطی ہو تو اس کا اعتراف کرکے معافی مانگ لی جائے۔ الغرض! خدمت و اطاعت، صبر و تحمل اور خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی وظیفہ نہیں۔ یہی عملِ تسخیر ہے، جس کے ذریعے شوہر کو رام کیا جاسکتا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی عملِ تسخیر مجھے معلوم نہیں۔ اگر بالفرض شوہر ساری عمر بھی سیدھا ہوکر نہ چلے تو بھی عورت کو دُنیا و آخرت میں اپنی نیکی کا بدلہ دیر، سویر ضرور ملے گا، اور اس کے واقعات میرے سامنے ہیں۔ اور جو عورتیں شوہر کے سامنے تڑتڑ بولتی ہیں ان کی زندگی دُنیا میں بھی جہنم ہے، آخرت کا عذاب تو اَبھی آنے والا ہے۔ بہن بھائیوں کے لئے روزانہ صلوٰة الحاجت پڑھ کر دُعا کیا کیجئے۔

قصور آپ کا ہے

س… ڈھائی تین سال ہوئے، ایک شادی کی تقریب میں جبکہ میں چند قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا گھر کے ورانڈے میں، میری چھوٹی سالی کے لڑکے نے مجھ سے بہت بدتمیزی اور بے ادبی کی، جس پر پاس بیٹھے ہوئے عزیزوں نے بھی میری طرف تمسخرانہ نظروں سے دیکھا، مجھے بہت سبکی محسوس ہوئی، مگر وقت کی نزاکت کی وجہ سے خاموش رہا، اور صرف اپنی اہلیہ سے اس کا ذکر کیا۔ سال بھر تک میں خاموش رہا اور اس انتظار میں رہا کہ میری چھوٹی سالی، اہلیہ یا چھوٹی سالی کا لڑکا خود آکر مجھ سے اپنی بے ادبی اور بدتمیزی کی معذرت کرے گا، مگر وہ لوگ ہمارے گھر برابر آتے رہے۔ اہلیہ کو تو اس بے ادبی کا بالکل احساس نہیں، وہ لڑکا بھی آتا اور میرے سامنے سے اپنی خالہ کے پاس چلا جاتا، دونوں ماں بیٹے نے کبھی مجھے سلام تک نہیں کیا۔ خیر ایک سال یونہی گزر گیا۔ ایک روز وہ لڑکا آیا اور میری اہلیہ سے باتیں کرکے جب جانے لگا تو میں نے اس کو روک کر کہا کہ آئندہ اس گھر میں نہ آنا، اس پر وہ بہت سیخ پا ہوا اور کہا کہ: “میں آوٴں گا، دیکھتا ہوں کون میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟” میری اہلیہ یہ سب سنتی رہیں مگر خاموش رہیں۔ ۱۵/مئی ۱۹۹۴ء کی صبح ساڑھے آٹھ بجے مجھے عارضہٴ قلب ہوا، میں صوفے پر لیٹ گیا اور اس مرض کی گولی زبان کے نیچے رکھی، چار گولیاں رکھنے پر افاقہ ہوا، اور درد کی شدّت کم ہوئی، اسی دوران میری چھوٹی سالی آئیں اور اپنی بہن سے باتیں کرنے لگیں، دن بھر رہیں مگر میرے بارے میں بالکل لاتعلقی ظاہر کی، حالانکہ میں نے جو مجھ سے ہوسکا، ان لوگوں کی بہت مدد کی ہے، میں نہیں چاہتا کہ اس کو ظاہر کروں۔ شام کو چھوٹی سالی کا لڑکا ماں کو لینے آیا، اس کو دیکھ کر مجھے بے حد غصہ آیا اور سخت کلامی بھی ہوئی، لڑکا بھی برابر جواب دیتا رہا، مگر نہ اس کی ماں، نہ میری اہلیہ اور نہ ہی میرے صاحبزادے کچھ بولے، وہ لوگ چلے گئے اور آدھ گھنٹے بعد چھوٹی سالی کی لڑکی نے میری اہلیہ کو فون کیا اور نہ معلوم میرے متعلق کیا کیا کہا کہ میری اہلیہ نے مجھ کو سخت بُرا بھلا کہا اور مجھ سے طلاق مانگی اور گھر سے نکل جانے کو کہا، میں نے کہا: “آپ خلع لے لیں، طلاق تو میں نہیں دُوں گا” اس سے بھی کافی تلخ کلامی ہوئی اور مجھ سے یہاں تک کہا کہ: “میرے لئے اب اچھا نہیں ہوگا” اس دن سے میری اہلیہ کی بھی مجھ سے بات چیت بند ہے، میں برابر جو میرا فرض ہے یعنی پنشن وغیرہ ان کو دے رہا ہوں۔ آپ سے عرض ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے اور ہم دونوں میں بالکل بات چیت بند ہے، اس سلسلے میں شرع کے کیا اَحکامات ہیں؟ میں بہت ممنون ہوں گا، بہت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوں۔

ج… شریعت کا حکم یہ ہے کہ دونوں میاں بیوی پیار و محبت سے رہیں، ایک دُوسرے کے حقوقِ واجبہ ادا کریں، اور اگر نہیں کرسکتے تو علیحدگی اختیار کرلیں۔ سالی کے لڑکے کی وجہ سے آپ نے اپنا معاملہ بگاڑ لیا، اگر وہ بے ادب تھا تو آپ اس کو منہ نہ لگاتے، آپ کے معاملات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے دِل میں گھر نہیں کرسکے، ایک سال سے گفتگو بند ہے، مگر نہ آپ نے بیوی سے پوچھا، نہ بیوی نے آپ سے، نہ صاحبزادے نے دونوں سے، گناہگار تو آپ کی بیوی زیادہ ہے، لیکن اصل قصور آپ کی سخت طبعی کا ہے، جو کسی کے ساتھ بھی نہ بن سکی۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سیرت، حسنِ اخلاق، حسنِ معاملات اور حسنِ دِل ربائی کا معاملہ کریں، پھر نہ آپ کو بیوی سے شکایت رہے گی، نہ اس کی بہن سے، نہ بھانجے سے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے حق میں سب سے اچھا ہوں۔” (مشکوٰة ص:۲۸۱)

شوہر کا ظالمانہ طرزِ عمل

س… آٹھ برس قبل ایک متشدّد شوہر نے بہت زیادہ مارپیٹ کر اپنی بیوی کو آدھی رات کو گھر سے باہر گلی میں پھینک دیا، جہاں اسے پڑوس کی بزرگ عورتوں نے گالی گلوچ کی آوازیں سن کر پناہ دی، اور اس کے (عورت کے) ماں باپ کے گھر خبر بھجوادی، دریں اثنا شوہر نے اپنے بڑے بھائی اور بڑی بہن کو ساتھ لے کر عورت کو اس کے چار چھوٹے بچوں سمیت اس کے نانا کے گھر پہنچادیا، ایک بچی اس وقت پیٹ میں تھی، بہرحال یہ مظلوم عورت ننھیال سے اپنے ماں باپ کے پاس پہنچ گئی، عورت کے خاندان کی طرف سے مصالحت کی درخواستیں بلاشنوائی شوہر کے خاندان نے رَدّ کردیں، اور دو تین برس بعد شوہر نے دو طلاقیں اپنی بیوی کو دے دیں، اس وقت اس کے پانچ بچے بھی ننھیال یعنی عورت کے ماں باپ کے پاس رہتے تھے۔ عدّت شوہر نے گزار دی اور بچوں کا خرچہ (بہت ہی معمولی) بھجوانا شروع کردیا، کبھی نہ شوہر (بچوں کا باپ) ملنے یا بچوں کو دیکھنے آیا، نہ ہی اس کے خاندان کا کوئی رحم دِل فرد یا بزرگ آیا، یہ لوگ عجیب روایتی لڑکی والوں کو نفرت سے دیکھنے والا خاندان ثابت ہوئے، اب صورتِ حال یہ ہے کہ بچوں کے لئے باپ خرچہ کبھی بھیجتا تھا، کبھی نہیں، لہٰذا بڑے بچے نے ڈاکیے سے کہہ کر واپس کردیا، اور پھر بالکل ہی بند ہوگیا۔ نکاح پر بطور مہر معجل دیا ہوا ہار (تین ہزار مالیت کا) گھر سے نکالتے وقت شوہر نے چھین لیا تھا، اسی طرح اس کے جہیز کی تمام چیزیں جو بوقتِ شادی شوہر کی بہنوں نے دیکھ دیکھ کر پوری لی تھیں، ان میں سے کچھ بھی واپس تک نہیں کیا ہے۔ کہتے ہیں: “ہم نے تین طلاق نہیں دی، لہٰذا معاملہ ہماری طرف سے بند نہیں ہوا، مطلقہ خلع لے۔” آپ جانتے ہیں عدالتوں میں شرفاء اور دِین دار نہیں جانا چاہتے، اس مرد نے دُوسری شادی کی ہوئی ہے اور وہاں سے اس کی بچی بھی ہے (بچوں کو اس کا کارڈ آیا تھا) اب آپ ہی مشورہ دیں کہ یہ مطلقہ مظلوم عورت کو کیا کرنا چاہئے؟

ج… شرعی حکم: “امساک بمعروف أو تسریح باِحسان” کا ہے، یعنی عورت کو رکھو تو دستور کے مطابق رکھو، اور اگر نہیں رکھنا چاہتے تو اسے خوش اُسلوبی کے ساتھ چھوڑ دو۔ آپ نے جو المناک کہانی درج کی ہے، وہ اس حکمِ شرعی کے خلاف ہے، یہ تو ظاہر ہے کہ شوہر کو عورت کی کسی غلطی پر غصہ آیا ہوگا، لیکن شوہر نے غصّے کے اظہار کا جو انداز اختیار کیا ہے، وہ فرعونیت کا مظہر ہے۔

          ۱:… آدھی رات کو مارپیٹ کر اور گالم گلوچ کرکے گھر سے باہر پھینک دینا، دورِ جاہلیت کی یادگار ہے، اسلام ایسے غیرانسانی اور ایسے غیرشریفانہ فعل کی اجازت نہیں دیتا۔

          ۲:… عورت کو بغیر طلاق کے اس کے چار پانچ بچوں سمیت اس کے نانا کے گھر بٹھادینا بھی اُوپر کے درج کردہ شرعی حکم کے خلاف ہے۔

          ۳:… عورت کے میکے والوں کی مصالحانہ کوشش کے باوجود نہ مصالحت کے لئے آمادہ ہونا، اور نہ طلاق دے کر فارغ کرنا بھی حکمِ شرعی کے خلاف تھا۔

          ۴:… عورت کو دیا ہوا مہر ضبط کرلینا اور اس کے جہیز کے سامان کو روک لینا بھی صریحاً ظلم و عدوان ہے، حالانکہ دو تین سال بعد شوہر نے طلاق بھی دے دی، اس کے بعد اس کے مہر اور جہیز کو روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

          ۵:… بچے تو شوہر کے تھے اور ان کا نان نفقہ ان کے باپ کے ذمے تھا، مگر طویل عرصے تک بچوں کی خبر تک نہ لینا، نہ ان کے ضروری اِخراجات کی کفالت اُٹھانا بھی غیرانسانی فعل ہے۔ یہ مظلوم عورت اگر عدالت سے رُجوع نہیں کرنا چاہتی تو اس معاملے کو حق تعالیٰ کے سپرد کردے، اس سے بہتر انصاف کرنے والا کون ہے؟ حق تعالیٰ اس کی مظلومیت کا بدلہ قیامت کے دن دِلائیں گے اور یہ غاصب اور ظالم دُنیا میں بھی اپنے ظلم و عدوان کا خمیازہ بھگت کر جائے گا، حدیث شریف میں ہے کہ:

          “ان الله لیملی الظالم حتّٰی اذا أخذہ لم یفلتہ۔”

                              (متفق علیہ، مشکوٰة ص:۴۳۵)

          ترجمہ:… “اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتے ہیں، لیکن جب پکڑتے ہیں تو پھر چھوڑتے نہیں۔”

          شوہر اگر زندہ ہو اور یہ تحریر اس کی نظر سے گزرے، تو میں اس کو مشورہ دُوں گا کہ اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا اس پر برسنا شروع ہو، اس کو ان مظالم کا تدارک کرلینا چاہئے۔

بیوی کی محبت کا معیار

س… میری شادی میری کزن سے ہوئی ہے، شادی سے پہلے میں اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا، اس کی وجہ صرف اور صرف اس کا باپردہ اور باکردار ہونا تھا۔ ہمارے درمیان شادی سے پہلے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی، لیکن شادی سے پہلے وہ بھی مجھے پسند کرتی تھی، یہ بات ہم دونوں جانتے تھے۔ شادی ہمارے والدین نے اپنی پسند اور خوشی سے طے کی تھی، شادی کے بعد جب میری بیوی گھر میں آئی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی، لیکن شادی کے بعد میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ ایک محبت کرنے والی بیوی کا نہیں رہا ہے۔ ہماری شادی کو سات سال ہونے والے ہیں، شادی کے بعد سے آج تک میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ کبھی بھی ایک دوست، ایک محبت اور اُلفت رکھنے والی بیوی کا نہیں رہا، بلکہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے ساتھ کسی مجبوری میں رہ رہی ہے، اور اس کو مجھ سے کوئی لگاوٴ نہیں ہے، نہ میری کسی خوشی اور کسی غم میں اپنے دِل اور چاہت کے ساتھ شریک ہوتی ہے۔ ہر انسان جب پریشان ہوتا ہے تو یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس کی بیوی اس کے غم اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے، اور وہ گھر میں آئے تو اس کا خوش دِلی سے استقبال کرے۔ میرے ساتھ معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے، بلکہ وہ تو میرے سلام کا بھی جواب نہیں دیتی، ہمارے درمیان کسی بھی قسم کی بات چیت نہ ہونے کے برابر ہے، وہ میرے تمام کام ایک مشین کی طرح انجام دیتی ہے، اور جلد از جلد مجھ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ انسان شادی اس لئے کرتا ہے کہ جہاں اسے محبت کرنے والا دوست ملے گا، وہاں اس سے اپنے تمام فطری تقاضے بھی پورے کرسکے گا، میری بیوی کی صحت اچھی ہے، لیکن اس کے دِل میں میرے لئے محبت بالکل نہیں ہے، اگر جنسی خواہش نہ ہو تو انسان محبت سے تو پیش آسکتا ہے۔ جناب مولانا صاحب! میری بیوی میرے ساتھ رہنا تو چاہتی ہے لیکن ایک بیوی کی طرح نہیں بلکہ ایک خادم کی طرح۔ میں حساس آدمی ہوں اور اس مسئلے پر بہت سوچتا ہوں، اور رات، رات بھر جاگتا رہتا ہوں، لیکن کوئی حل نظر نہیں آتا۔ جناب مولانا صاحب! میں خود بھی پردے کا بڑا قائل ہوں، میں نے اپنی جائز اور حلال آمدنی سے اپنی اور بیوی بچوں کی ضروریات کا پورا خیال رکھا ہے، اور خاص کر اپنی بیوی کی تمام جائز ضروریات بڑے اچھے طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جناب! کسی کو سمجھنے کے لئے سات سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے، لیکن جب کسی کو آپ سے محبت ہی نہ ہو تو آپ کو کس طرح سمجھ میں آئے گا؟ اگر کوئی تکلیف ہو تو اس کے بارے میں بات کی جائے تو معلوم ہو کہ اس کو مجھ سے کیا تکلیف ہے؟ میں نے جب بھی اپنی بیوی سے معلوم کیا کہ تم کو میری ذات سے کوئی تکلیف یا شکایت ہے تو بتاوٴ؟ اس کا ہر بار یہی جواب ہوتا ہے کہ آپ دُوسری شادی کرلو۔ ایک عورت خود یہ کہے کہ تم دُوسری شادی کرلو، تو اس سے میں کیا سمجھوں؟ جناب مولانا صاحب! سارا دن کاروباری مصروفیات کے بعد جب گھر پر آتا ہوں تو گھر آکر اپنی بیوی کے رویے کی وجہ سے اب میں ذہنی طور پر کمزور ہوتا جارہا ہوں۔ جناب مولانا صاحب! شریعت کے حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں اور مجھے کوئی وظیفہ بھی بتائیں کہ مجھے گھریلو سکون نصیب ہو، اور میری بیوی مجھ سے محبت کرنے لگے اور اپنے بچوں پر بھی توجہ دے، اور میرے لئے پہلے آپ “اِستخارہ” بھی کریں اور دُعا بھی کریں۔ جناب مولانا صاحب! مجھے اُمید ہے کہ آپ اپنے بیٹے کی طرح میری رہنمائی فرمائیں گے اور جلد از جلد مجھے اس پریشانی کا کوئی حل بھی بتائیں گے۔

ج… آپ نے اپنی چاہت کی شادی کی، اس کے باوجود وہ آپ کے بلند ترین “معیار” پر پوری نہیں اُتری، اس پر قصور اس غریب کا نہیں، بلکہ آنجناب کے بلند معیار کا ہے، چونکہ وہ عورت ذات ہے، آپ کے معیار کی بلندیوں کو چھونے سے قاصر ہے، اس لئے آپ کو شکایت ہے، اس مسکین کو کوئی شکایت نہیں، اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے معیار کو ذرا نیچا کیجئے۔

          ۱:… کون بیوی ہوگی جس کو اپنے میاں کے رنج و خوشی سے کوئی تعلق نہ ہو؟ مگر اس کا اظہار ہر شخص کے اپنے پیمانے سے ہوتا ہے، کوئی ڈھول کی طرح اظہار کرتا ہے، کوئی ہارمونیم کی نہایت ہلکی سی آواز میں، اور کوئی سب کچھ اپنے نہاں خانہٴ دِل میں چھپالیتا ہے، کسی کو خبر ہی نہیں کہ اس کے دِل پر کیا گزر رہی ہے؟ اب ہارمونیم کی نہایت خفیف اور سریلی آواز کو ڈھول کی آواز میں کیسے تبدیل کیا جائے․․․؟

          ۲:… آپ گھر تشریف لاتے ہیں تو آپ کا جو پُرجوش استقبال نہیں ہوتا، کچھ معلوم ہے کہ وہ بے چاری گھر گرہستی کے کاموں میں کتنی مصروف رہی؟ ذرا ایک دن گھر کا چارج خود لے کر اس کا تجربہ کرلیجئے․․․!

          ۳:… وہ آپ کے تمام کام مشین کی طرح انجام دیتی ہے اور چالو مشین کی آپ کے دِل میں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ کھانا پکانے کے لئے ایک خانساماں رکھئے، گھر کی صفائی وغیرہ کے لئے ایک خادمہ رکھئے، کپڑے دھونے کے لئے ایک لانڈری رکھئے، بچوں کی نگہداشت کے لئے ایک اَنّا رکھئے اور گھر کی نگرانی کے لئے ایک چوکیدار مقرّر کیجئے، ان تمام ملازمین کی فوج کے باوجود گھر کا نظم و نسق ایسا نہیں چلے گا جیسا کہ یہ مشین چلا رہی ہے، لیکن آپ کے ذہنی معیار میں اس کی ان خدمات کی کوئی قیمت نہیں․․․!

          ۴:… سات سال کا عرصہ واقعی بہت ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ آپ نے اپنے بلند معیار کی بلندیوں سے نیچے اُترکر اپنی بیگم کے پوشیدہ کمالات کو جن کو حق تعالیٰ نے حیا کی چادر سے ڈھانک رکھا ہے، کبھی جھانکا ہی نہیں، آپ کبھی عرشِ معلی سے نیچے اُترتے تو اس فرشی مخلوق کو سمجھتے․․․!

          ۵:… آپ چاہے کتنی شادیاں رچالیں، جب تک اپنے ذہنی عرشِ معلی سے نیچے نہیں تشریف لائیں گے، نہ آپ کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ آئے گا، نہ آپ کو ذہنی تسکین ہوگی۔

          ۶:… آپ کو کسی وظیفے یا کسی تعویذ گنڈے کی ضرورت نہیں، البتہ کسی اللہ کے بندے کی صحبت میں رہ کر انسان بننے کی ضرورت ہے، جب آپ کی نگاہِ جوہر شناس کھلے گی، تب آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنی بڑی نعمت اس بیوی کی شکل میں دے رکھی ہے․․․!

چولہا الگ کرلیں

س… میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں، میرے تین بچے ہیں، میرے شوہر اور ان کے دو بھائی ہیں، ہم سب ساتھ رہتے ہیں، میری ساس نہیں ہیں، اور سسر کی ایسی طبیعت خراب ہے کہ ان کو اپنے آپ کا بھی ہوش نہیں ہے۔ میرے شوہر اکثر جماعتوں میں جاتے رہتے ہیں، میں کبھی میکے میں رہتی ہوں، کبھی سسرال میں رہتی ہوں، تو مجھے معلوم یہ کرنا تھا کہ میں اپنے شوہر کے پیچھے اپنے سسرال میں رہ سکتی ہوں جبکہ میرا وہاں کوئی محرَم نہیں۔ ایک دیور ہے، ایک جیٹھ ہیں، میں اُمید کرتی ہوں کہ آپ میرے اس مسئلے کو بہتر طریقے سے سمجھ گئے ہوں گے۔

        دُوسرا یہ مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ ہم سب ساتھ رہتے ہیں، تو اَب میں الگ رہنا چاہتی ہوں، کیونکہ ہماری عورتوں کی آپس میں بنتی نہیں، بچوں کی بھی آپس میں بہت لڑائیاں ہوتی ہیں، بہت سی غلط فہمیاں بھی ہوتی رہتی ہیں، ذرا ذرا سی بات پر لڑائیاں ہوتی ہیں، اور بھی بہت ساری مشکلات ہیں۔ بچوں کی وجہ سے بھی کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوجاتی ہے، پھر اسی پریشانی اور اُلجھن میں رہتی ہوں، ساتھ ہی اس طرح کہ بالکل ایک دُوسرے کے کمرے ملے ہوئے ہیں، میں اپنے شوہر سے الگ رہنے کا کہتی ہوں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ: “ہم سوچ رہے ہیں” ایسے سوچتے سوچتے بھی پانچ سال گزر گئے، ایسی صورت میں کیا مجھے یہ حق ہے کہ میں الگ گھر کا مطالبہ کروں؟ اور کیا یہ شوہر کا فرض ہے کہ وہ الگ گھر دے؟ الگ گھر سے مراد چولہا وغیرہ الگ یا صرف کمرہ الگ مراد ہے؟

ج… اگر عزّت و آبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو تو شوہر کی غیرحاضری میں سسرال میں رہ سکتی ہیں۔

          الگ گھر کا مطالبہ عورت کا حق ہے، مگر الگ گھر سے مراد یہ ہے کہ اس کا چولہا اپنا ہو، اور اس کے پاس مکان کا جتنا حصہ ہے اس میں کسی دُوسرے کا عمل دخل نہ ہو، خواہ بڑے مکان کا ایک حصہ مخصوص کرلیا جائے۔

اسلامی اَحکامات میں والدین کی نافرمانی کس حد تک؟

س… آج کل کے ماحول میں اگر اسلامی تعلیمات پر کوئی شخص پوری طرح عمل کرنا چاہے تو باقی دُنیا اس کے پیچھے پڑجاتی ہے، اور اگر وہ شخص اپنی ہمت اور قوّتِ برداشت سے ان کا مقابلہ کر بھی لیتا ہے تو اس کے گھر والے خصوصاً والدین اس کے راستے میں سب سے بڑی رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثلاً: میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے اپنے ماں باپ کی وجہ سے تنگ آکر اپنی داڑھیاں تک کٹوادیں، اور اگر والدین کو سمجھاوٴ تو کہتے ہیں کہ:”اسلام میں تو باپ اور ماں کا بہت مقام ہے، ماں کی اجازت کے بغیر جہاد پر بھی نہیں جاسکتے، لہٰذا کوئی عمل بھی ہماری مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا۔” خصوصاً جب کوئی شخص اپنا لباس اور چہرہ سنت کے مطابق بنالیتا ہے تو پھر اس کے گھر والے اس کا جینا حرام کردیتے ہیں، یا کوئی شخص ٹی وی دیکھنا چھوڑ دے، گانے سننا چھوڑ دے، بینک میں نوکری نہ کرے، نامحرَم سے بات چیت نہ کرے، اور حتی الامکان اپنے آپ کو منکرات سے بچائے تو والدین کہتے ہیں کہ: “جناب! یہ کونسا اسلام ہے کہ آدمی باقی دُنیا سے الگ تھلگ ہوکر بیٹھ جائے” اسلام کے اندر کیا حدود ہیں، کسی سنت کو اگر والدین منع کریں تو ہم اس کو چھوڑ دیں؟ (مثلاً: لباس اور ظاہری صورت)، اور اگر والدین کسی واجب پر ناراض ہوں تو پھر کیا کیا جائے؟ اور فرائض کے معاملے میں کیا رویہ رکھنا چاہئے؟

ج… یہ اُصول سمجھ لینا چاہئے کہ جس کام میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو، اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ نہ ماں باپ کی، نہ پیر اور اُستاد کی، نہ کسی حاکم کی۔ اگر کوئی شخص کسی کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا، وہ خود بھی جہنم میں جائے گا اور جس کے کہنے پر نافرمانی کی تھی اس کو بھی ساتھ لے کر جائے گا۔

          مرد کے لئے داڑھی بڑھانا واجب ہے، اور اس کو منڈانا یا کٹانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل میرے رسالے “داڑھی کا مسئلہ” میں دیکھ لی جائے، لہٰذا والدین کے کہنے سے اس گناہِ کبیرہ کا ارتکاب جائز نہیں، اور جو والدین اپنی اولاد کو اس گناہِ کبیرہ پر مجبور کرتے ہیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ ان کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو اور وہ دُنیا سے جاتے وقت ایمان سے محروم ہوکر جائیں، (اللہ تعالیٰ اس سے اپنی پناہ میں رکھیں)۔

          اسی طرح والدین کے کہنے سے ٹی وی دیکھنا، گانے سننا اور نامحرَموں سے ملنا بھی حرام ہے، جب ان گناہوں پر قہرِ اِلٰہی نازل ہوگا تو نہ والدین بچاسکیں گے اور نہ عزیز و اقارب اور دوست احباب، اور قبر میں جب ان گناہوں پر عذابِ قبر ہوگا تو کوئی اس کی فریاد سننے والا بھی نہ ہوگا، اور قیامت کے دن ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والا گرفتار ہوکر آئے گا، تو کوئی اس کو چھڑانے والا نہیں ہوگا۔

          والدین کا بڑا درجہ ہے اور ان کی فرمانبرداری اولاد پر فرض ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ والدین کسی جائز کام کا حکم کریں، لیکن اگر بگڑے ہوئے والدین اپنی اولاد کو جہنم کا ایندھن بنانے کے لئے گناہوں کا حکم کریں تو ان کی فرمانبرداری فرض کیا، جائز بھی نہیں، بلکہ ایسی صورت میں ان کی نافرمانی فرض ہے، ظاہر ہے کہ والدین کا حق اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہیں، جب والدین گناہ کے کام کا حکم کرکے اللہ تعالیٰ کے نافرمان بن جائیں تو ایسے نافرمانوں کی فرمانبرداری کب جائز ہوسکتی ہے․․․؟

          اور یہ دلیل جو پیش کی گئی کہ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا بھی جائز نہیں، یہ دلیل غلط ہے، اس لئے کہ یہ تو شریعت کا حکم ہے کہ اگر جہاد فرضِ عین نہ ہو اور والدین خدمت کے محتاج ہوں تو والدین کی خدمت کو فرضِ کفایہ سے مقدّم سمجھا جائے، اس سے یہ اُصول کیسے نکل آیا کہ والدین کے کہنے پر فرائضِ شرعیہ کو بھی چھوڑ دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانیوں کا بھی ارتکاب کیا جائے۔

          اور یہ کہنا کہ “یہ کونسا اسلام ہے کہ آدمی باقی دُنیا سے الگ تھلگ ہوکر بیٹھ جائے؟” نہایت لچر اور بے ہودہ بات ہے، اسلام تو نام ہی اس کا ہے کہ ایک کے لئے سب کو چھوڑ دیا جائے، قرآنِ کریم میں ہے:

          “آپ فرمادیجئے کہ یقینا میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔”

                                       (سورہٴ اَنعام)

          کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اللہ تعالیٰ کے اَحکام کی تعمیل کے لئے باقی ساری دُنیا سے الگ تھلگ نہیں ہوگئے تھے؟

          اگر دُنیا بگڑی ہوئی ہو تو ان سے الگ تھلگ ہونا ہی آدمی کو تباہی و بربادی سے بچاسکتا ہے، ورنہ جب یہ بگڑی ہوئی دُنیا قہرِ اِلٰہی کے شکنجے میں آئے گی تو ان سے مل کر رہنے والا بھی قہرِ اِلٰہی سے بچ کر نہیں نکل سکے گا․․․!

“بابا رشتہ سب سے توڑ، بابا رشتہ حق سے جوڑ”

عورت اور مرد کا رُتبہ

س… رئیس امروہوی صاحب اپنے دو کالموں بعنوان “مگر یہ مسئلہ زن” اور “آہ بیچاروں کے اعصاب” (جو موٴرخہ ۱۷/ اور ۲۴/ستمبر کو “جنگ” میں شائع ہوئے) میں عورتوں کے معاشرتی مقام پر بحث کی ہے۔ انہوں نے مولانا عمر احمد عثمانی کی تصنیف “فقہ القرآن” (جلد سوم) سے اقتباسات نقل کئے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ اس کتاب میں قرآنی حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ نہ عورت کی عقل ناقص ہے نہ ایمان! بلاشبہ مرد و عورت کی صلاحیتوں میں فرق ہے، مگر اس فرق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورت مرد سے کم تر ہے۔ “قوامون علی النساء” کے یہ معنی لینا کہ مرد عورت کے حاکم اور داروغہ ہیں، صحیح نہیں۔ از رُوئے لغت “قوام” کے معنی معاشی کفیل کے ہیں، اور یقینا مرد، عورت کا معاشی کفیل ہوتا ہے، مرد کو عورت پر از رُوئے قرآن کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ مصنف نے عالمانہ بحث کے بعد (جو صرف قرآنی استدلال پر مبنی ہے) یہ ثابت کردیا ہے کہ عورت کی شہادت مرد کی طرح مستند، قابلِ قبول اور شرعی اعتبار سے دُرست ہے۔

          امروہوی صاحب آگے چل کر رقم طراز ہیں:

          “قرآن مجید کا خطاب ہر معاملے میں عورت اور مرد دونوں کی طرف یکساں ہے، عورت کی کمتری کی ایک طفلانہ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قرآن مجید میں صالح مردوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہیں جنت میں حوریں ملیں گی، جبکہ عورت سے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ مولانا عمر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ اس دعوے کی کمزوری یہ ہے کہ حور کے معنی ہیں، سفید رنگ (عورتیں بھی سفید رنگ کی ہوسکتی ہیں، مرد بھی) تو سفید رنگ کے مرد کو بھی حور کہا جاسکتا ہے۔”

          ۲۴/ستمبر کے کالم میں رقم طراز ہیں:

          “قرآنِ کریم میں انسانیت کی ان دونوں صنفوں (یعنی مردوں اور عورتوں) میں کوئی فرق و امتیاز نہیں رکھا گیا۔ دونوں کو ایک سطح پر رکھا ہے۔”

          مصنف نے ہر جگہ قرآنی استدلال کے ساتھ تاریخ اور روایات سے سند لی ہے، مرد کے بجائے عورت سربراہِ خانہ ہے، کاروبارِ حکومت یعنی شوریٰ میں بھی عورت کا مشورہ (ووٹ) اسی طرح حاصل کیا جانا چاہئے جس طرح مردوں کا۔ مولانا نے ثابت کیا ہے کہ عورتیں ایسی مشترک محفلوں میں شریک ہوسکتی ہیں جن میں مرد موجود ہوں، شرط یہی ہے کہ وہ اپنی زینت کی نمائش نہ کریں۔ پارلیمنٹ، اسمبلی اور مردانہ مجمعوں میں عورتیں تقریر کرسکتی ہیں، شرط یہی ہے کہ اسلامی ستر و حجاب کو ملحوظ رکھیں، وہ تنہا سفر کرسکتی ہیں۔ مصنف نے قرآنی دلائل سے اس مفروضے کو غلط ثابت کیا ہے کہ عورت کی دیت (خون بہا) مرد سے نصف ہوتی ہے، عورت قاضی (جج) کے فرائض انجام دے سکتی ہے، سیاسی تحریکوں میں حصہ لے سکتی ہے، سربراہِ مملکت بن سکتی ہے۔ شرعی پردے کے بارے میں مولانا عمر احمد عثمانی کی بحث فیصلہ کن ہے، لکھتے ہیں کہ قرآن مجید نے عام مسلمان خواتین کو اس سلسلے میں جو ہدایات دی ہیں، وہ یہ ہیں کہ:

          ۱:… اپنی نظریں نیچی رکھیں۔

          ۲:… بے حیائی کی مرتکب نہ ہوں، زینت و آرائش جمال کی نمائش نہ کرتی پھریں، زیورات پہنے ہوں تو پیروں کو اس طرح زور سے نہ ماریں کہ گھنگرو بجنے لگیں۔

          ۳:… گھر سے باہر نکلیں تو جلباب (اوڑھنی) اوڑھ لیا کریں۔

          مولانا (عمر احمد عثمانی) کا بیان ہے کہ: “ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں عورتیں اپنے چہروں کو کھول کر خود بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا کرتی تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔”

          مولانا! یہ ہیں وہ مختصر سی باتیں جو رئیس امروہوی نے مولانا عمر احمد عثمانی کی ایک کتاب کو بنیاد بناتے ہوئے نقل کی ہیں۔ اُمید ہے کہ آپ مندرجہ ذیل سوالات کا قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دے کر ان شکوک و شبہات کا اِزالہ فرمائیں گے جو مذکورہ مضامین پڑھ کر لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے ہیں۔

س۱:… کیا واقعی قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق و امتیاز نہیں رکھا گیا؟

س۲:… کیا صلحاء عورتوں کو بھی جنت میں حوریں (مرد، جیسا کہ مضمون میں کہا گیا ہے) ملیں گے؟

س۳:… کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عورتیں اپنے چہروں کو کھول کر خود بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا؟

س۴:… کیا مردانہ مجمعوں میں عورتیں تقریر کرسکتی ہیں؟

س۵:… کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟ سیاسی تحریکوں میں حصہ لے سکتی ہے اور سربراہِ مملکت بن سکتی ہے؟

الجواب:

          جناب عمر احمد عثمانی کے جو اَفکار سوال میں نقل کئے گئے ہیں، یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں، قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور شریعتِ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

قوام کے معنی

          عثمانی صاحب کے نزدیک تو “قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ” کے یہ معنی کہ مرد حاکم ہیں، صحیح نہیں، مگر ان کے دادا حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی اپنی تفسیر “بیان القرآن” میں آیتِ کریمہ “اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ” کا ترجمہ یہ کرتے ہیں:

          “مرد حاکم ہیں عورتوں پر (دو وجہ سے، ایک تو) اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (یعنی مردوں کو) بعضوں پر (یعنی عورتوں پر قدرتی) فضیلت دی ہے، (یہ تو وہبی اَمر ہے) اور (دُوسری) اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں پر) اپنے مال (مہر میں، نان و نفقہ میں) خرچ کئے ہیں، (اور خرچ کرنے والے کا ہاتھ اُونچا اور بہتر ہوتا ہے، اس سے جس پر خرچ کیا جائے، اور یہ اَمر مکتسب ہے) سو جو عورتیں نیک ہیں (وہ مرد کے ان فضائل و حقوق کی وجہ سے) اطاعت کرتی ہیں ․․․․․۔”

          اور عمر احمد عثمانی صاحب کے والد ماجد شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی نوّر اللہ مرقدہ “اَحکام القرآن” میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

          “قوّام وہ شخص ہے جو دُوسرے کے مصالح، تدابیر اور تأدیب کا ذمہ دار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے عورتوں پر قوّام ہونے کے دو سبب ذکر کئے ہیں، ایک وہبی، دُوسرا کسبی، چنانچہ ارشاد ہے: “اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے” یعنی مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے، اصل خلقت میں، کمالِ عقل میں، حسنِ تدبیر میں، علم کی فراخی میں، اعمال کی مزید قوّت میں اور بلندیٴ استعداد میں، یہی وجہ ہے کہ مردوں کو بہت سے ایسے اَحکام کے ساتھ مخصوص کیا ہے جو عورتوں سے متعلق نہیں، مثلاً: نبوّت، اِمامت، قاضی اور جج بننا، حدود و قصاص وغیرہ میں شہادت دینا، وجوبِ جہاد، جمعہ، عیدین، اَذان، جماعت، خطبہ، وراثت میں حصہ زائد ہونا، نکاح کا مالک ہونا، طلاق دینے کا اختیار، بغیر وقفے کے نماز روزے کا کامل ہونا، وغیر ذٰلک، یہ اَمر تو وہبی ہے۔ پھر فرمایا: “اور اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں کے نکاح میں) اپنے مال خرچ کئے ہیں” یعنی مہر اور نان و نفقہ اور یہ اَمر کسبی ہے۔”

                              (اَحکام القرآن ج:۲ ص:۱۷۶)

          اس کے بعد حضرت شیخ الاسلام نے اس آیت کے شانِ نزول میں متعدّد روایات نقل کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بیوی کے طمانچہ ماردیا تھا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شوہر سے بدلہ لینے کی اجازت دی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ نیز حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے آیت کی یہ تفسیر نقل کی ہے: “ویقومون علیھن قیام الولاة علی الرعیة مسلطون علٰی تأدیبھنّ” یعنی مرد عورتوں کے مصالح کے ذمہ دار ہیں، جس طرح حکام رعیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اور ان کو عورتوں کی تأدیب پر مقرّر کیا گیا ہے۔      (حوالہ گزشتہ)

          اس سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ اُمت نے تو آیت: “قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ” کا یہی مطلب سمجھا ہے کہ مرد کی حیثیت حاکم کی ہے، اور وہ صرف عورت کا معاشی کفیل نہیں، بلکہ اس کے دِین و اخلاق کی نگرانی کا ذمہ دار اور اس کی تأدیب پر مأمور بھی ہے۔

مرد کی عورت پر فضیلت

          مرد و عورت کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے فطری تفاوت رکھا ہے، اور ہر ایک کو ان صلاحیتوں سے بہرہ ور فرمایا ہے جو اس کے فرائض کے مناسبِ حال ہے۔ مردوں کے اوصاف عورتوں میں نہیں، نہ عورتوں کے اوصاف مردوں میں ہیں۔ کسی فرد کی فضیلت عنداللہ کا مدار صلاح و تقویٰ پر ہے، خواہ مرد ہو یا عورت، تاہم اللہ تعالیٰ نے بہت سے اُمور میں مرد کی صنف کو عورت کی صنف پر فوقیت عطا فرمائی ہے، جن کا ذکر اُوپر حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی کے حوالے سے گزرچکا ہے۔ دو جگہ اللہ تعالیٰ نے عورت پر مرد کی فضیلت کی صراحت فرمائی ہے، ایک تو یہی گزشتہ بالا آیت جس میں: “بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ” کی تصریح ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے، اور دُوسری اسی سورة النساء کی آیت نمبر:۳۲ میں، جس میں فرمایا گیا ہے: “وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِہ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ” حضرت حکیم الاُمت نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے:

          “اور تم (سب مردوں اور عورتوں کو حکم ہوتا ہے کہ فضائلِ وہبیّہ میں سے) ایسے کسی اَمر کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (مثلاً: مردوں کو) بعضوں پر (مثلاً: عورتوں پر بلا دخل ان کے کسی عمل کے) فوقیت بخشی ہے (جیسے مرد ہونا، یا مردوں کا دونا حصہ ہونا، یا ان کی شہادت کا کامل ہونا، وغیر ذٰلک)۔”

          اور حضرت نے اس کی شانِ نزول میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ:

          “حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: ہم کو آدھی میراث ملتی ہے اور بھی فلاں فلاں فرق ہم میں اور مردوں میں ہیں، مطلب اعتراض نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ اگر ہم بھی مرد ہوتے تو اچھا ہوتا ․․․․․ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔”

          اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فطری فوقیت و فضیلت دی ہے، اور بہت سے احکامِ شرعیہ میں اسے ملحوظ رکھا گیا ہے، مگر جناب عمر احمد عثمانی کو اس مسئلے میں اللہ میاں سے اختلاف ہے۔

مرد و عورت کے درمیان فرق و امتیاز

          موصوف کا یہ دعویٰ کہ قرآنِ کریم میں مرد و عورت کے درمیان کسی سطح میں کوئی فرق و امتیاز نہیں رکھا گیا، بلکہ ہر جگہ دونوں کو ایک ہی سطح پر رکھا ہے، یہ ایک ایسی غلط بیانی ہے جسے ایک عام آدمی بھی جو قرآنِ کریم سے کچھ مناسبت رکھتا ہو، واضح طور پر محسوس کرسکتا ہے، دونوں کے درمیان فرقِ مراتب کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

          ۱:… قرآنِ کریم نے عورت کو مرد کی فرمانبرداری کا حکم فرمایا ہے، اور اسی کو شریف اور نیک بیبیوں کی علامت قرار دیا ہے: “فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ” (النساء) جبکہ مردوں کو عورتوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرمایا ہے: “وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ” (النساء) اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو حاکم اور گھریلو ریاست کا سربراہ اور اَفسرِ اعلیٰ بنایا ہے اور عورت کو اس کی ماتحتی میں رکھا ہے ۔

          ۲:… قرآنِ کریم نے عورت کا حصہٴ وراثت مرد سے نصف رکھا ہے: “لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ” چنانچہ لڑکے کا حصہ لڑکی سے، باپ کا حصہ ماں سے، شوہر کا حصہ بیوی سے اور بھائی کا حصہ بہن سے دُگنا ہے۔

          ۳:… قرآنِ کریم نے عورت کی شہادت مرد سے نصف رکھی ہے: “فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَأَتَانِ”۔

          ۴:… قرآنِ کریم نے طلاق کا اختیار مرد کو دیا ہے، اور اگر عورت کو کسی بدقماش شوہر سے پالا پڑے اور وہ اس سے گلوخلاصی چاہتی ہو تو اس کے لئے “خلع” کی صورت تجویز فرمائی ہے، جو یا تو برضامندیٴ طرفین ہوسکتا ہے، یا بذریعہ عدالت۔

          ۵:… قرآنِ کریم نے مرد کو بیک وقت چار تک نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اور اسے پابند کیا ہے کہ وہ متعدّد بیویوں کی صورت میں ان کے درمیان عدل و مساوات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا، لیکن عورت کو ایک سے زیادہ شوہر کرنے کی اجازت نہیں دی۔

          ان چند مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآنِ کریم نے مرد و عورت کے درمیان فرق و امتیاز کو ہر سطح پر ملحوظ رکھا ہے، جسے کوئی مسلمان نظرانداز نہیں کرسکتا۔

عورت کی دیت

          شریعتِ اسلام میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، اور اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر اَئمہ اَربعہ تک سب کا اتفاق ہے، چنانچہ ملک العلماء اِمام علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی “بدائع الصنائع” میں لکھتے ہیں:

          “فدیة المرأة علی النصف من دیة الرجل لاجماع الصحابة رضی الله عنہم فانہ روی عن سیّدنا عمر وسیّدنا علی وابن مسعود وزید بن ثابت رضوان الله تعالٰی علیھم انھم قالوا فی دیة المرأة انھا علی النصف من دیة الرجل، ولم ینقل انہ أنکر علیہم أحد، فیکون اجماعًا ولأن المرأة فی میراثھا وشھادتھا علی النصف من الرجل فکذٰلک فی دیتھا۔”

                              (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۲۵۴)

          ترجمہ:… “پس عورتوں کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، کیونکہ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے، چنانچہ حضرات عمر، علی، ابنِ مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، اور کسی صحابی سے یہ منقول نہیں کہ اس نے ان حضرات پر اس مسئلے میں نکیر کی ہو، لہٰذا یہ اجماع ہوا اور عقلی دلیل یہ ہے کہ عورت کی وراثت و شہادت مرد سے نصف ہے، اسی طرح اس کی دیت بھی نصف ہوگی۔”

          اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی المالکی اپنی تفسیر “الجامع لاحکام القرآن” میں لکھتے ہیں:

          “وأجمع العلماء علٰی أن دیة المرأة علی النصف من دیة الرجل، قال أبو عمر: انما صارت دیتھا (والله أعلم) علی النصف من دیة الرجل ان لھا نصف میراث الرجل، وشھادة امرأتین بشھادة رجل۔”

           (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی ج:۵ ص:۳۲۵)

          ترجمہ:… “اور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، ابو عمر (ابنِ عبدالبر) فرماتے ہیں کہ: اس کی دیت مرد کی دیت سے نصف اس لئے ہوئی کہ عورت کا حصہٴ وراثت بھی مرد سے نصف ہے، اور اس کی شہادت بھی مرد کی شہادت سے نصف ہے، چنانچہ دو عورتوں کی شہادت مل کر ایک مرد کی شہادت کے برابر ہوتی ہے۔”

          شرح مہذب کے تکملہ میں ہے:

          “دیة المرأة نصف دیة الرجل ھٰذا قول العلماء کافة الَّا الأصم وابن علیة فانھما قالا: دیتھا مثل دیة الرجل۔ دلیلنا ما سبقناہ من کتاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم الٰی أھل الیمن وفیہ: “ان دیة المرأة نصف دیة الرجل” وما حکاہ المصنف عن عمر وعثمان وعلی وابن مسعود وابن عمر وابن عباس وزید بن ثابت انھم قالوا: “دیة المرأة نصف دیة الرجل” ولا مخالف لھم فی الصحابة فدل علٰی أنہ اجماع۔”

                              (شرح مہذب ج:۱۹ ص:۵۴)

          ترجمہ:… “عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، یہ تمام علماء کا قول ہے، سوائے اصم اور ابنِ علیہ کے یہ دونوں صاحب کہتے ہیں کہ اس کی دیت مرد کی دیت کی مثل ہے۔ ہماری دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ گرامی نامہ ہے، جو آپ نے اہلِ یمن کو لکھا تھا اور جسے ہم پہلے نقل کر آئے ہیں، اس میں یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ: “عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے” نیز جیسا کہ مصنف نے نقل کیا، حضرات عمر، عثمان، علی، ابنِ مسعود، ابنِ عمر، ابنِ عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا ارشاد ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہوتی ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس کے کوئی خلاف نہیں تھا، پس معلوم ہوا کہ اس مسئلے پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔”

          اور سیّدی و مرشدی حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی ثم مدنی نوّر اللہ مرقدہ “اوجز المسالک” میں فرماتے ہیں:

          “قال ابن المنذر وابن عبدالبر: أجمع أھل العلم علٰی أن دیة المرأة نصف دیة الرجل وحکی غیرھما عن ابن علیة والأصم انھما قالا: دیتھا کدیة الرجل، لقولہ صلی الله علیہ وسلم فی النفس الموٴمنة مائة من الابل۔ وھٰذا قول شاذ یخالف اجماع الصحابة وسنة النبی صلی الله علیہ وسلم فان فی کتاب عمرو بن حزم: دیة المرأة علی النصف من دیة الرجل وھی أخص مما ذکروہ فیکون مفسرًا لما ذکروہ مخصصًّا لہ، ودیة نساء کل أھل دین علی النصف من دیة رجالھم۔”     (اوجز المسالک ج:۱۳ ص:۲۸، طبع بیروت)

          ترجمہ:… “حافظ ابنِ منذر اور حافظ ابنِ عبدالبر فرماتے ہیں کہ: اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، بعض دُوسرے حضرات نے ابنِ علیہ اور اَصم سے نقل کیا ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: موٴمن جان کے قتل کی دیت سو اُونٹ ہے، اور یہ قول شاذ ہے، جو اِجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور سنتِ نبوی کے خلاف ہے، چنانچہ عمرو بن حزم سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ مروی ہے اس میں ہے کہ: “عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے” اس میں چونکہ خصوصیت سے عورت کی دیت مذکور ہے، اس لئے یہ حدیث ان کی روایت کردہ حدیث کی شارحِ مخصّص ہوگی اور تمام اہلِ اَدیان میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔”

          ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا “غلط مفروضہ” نہیں، بلکہ اسلام کا اجماعی مسئلہ ہے، اور اس کا انکار آفتاب نصف النہار کا انکار ہے۔

مرد و عورت کی شہادت

          موصوف کا یہ کہنا ایک حد تک صحیح ہے کہ: “عورت کی شہادت مرد کی طرح مستند، قابلِ قبول اور شرعی اعتبار سے دُرست ہے” لیکن اگر یہ مطلب ہے کہ مرد اور عورت کی شہادت میں کوئی فرق نہیں تو یہ غلط ہے، قرآن و سنت نے مرد و عورت کی شہادت میں چند وجہ سے فرق کیا ہے:

          ۱:… عورت کی شہادت مرد کی شہادت کا نصف ہے، یعنی دو عورتوں کی شہادت مل کر مرد کی شہادت کے قائم مقام ہوتی ہے۔

          ۲:… مرد کی شہادت عورتوں کی شہادت کے لئے شرط ہے، پس تنہا عورتوں کی شہادت مقبول نہیں ہوگی، جب تک کہ ان کے ساتھ کوئی مرد شہادت دینے والا نہ ہو (اِلَّا یہ کہ وہ معاملہ ہی عورتوں کے ساتھ مخصوص ہو کہ اس اَمر پر مردوں کا مطلع ہونا عادةً ممکن نہیں) ان دونوں مسئلوں کو سورہٴ بقرہ کی آیت:۲۸۲ کے ایک فقرے میں بیان فرمایا گیا ہے: “فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَأَتٰنِ” پھر اگر دو گواہ مرد (میسر) نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بنالی جاویں)۔                     (بیان القرآن)

          ۳:… حدود و قصاص میں صرف مردوں کی شہادت معتبر ہے، عورتوں کی نہیں، شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی نے اَحکام القرآن (ج:۱ ص:۵۰۲) میں نصب الرایہ (ج:۲ ص:۲۰۸) کے حوالے سے اِمام زہری کی حدیث نقل کی ہے:

          “عن الزھری قال: مضت السنة من رسول الله صلی الله علیہ وسلم والخلیفتین بعدہ ان لا تجوز شہادة النساء فی الحدود والقصاص، رواہ ابن أبی شیبة۔”

          ترجمہ:… “حضرت زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے دو خلیفوں حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سنت جاری ہے کہ عورتوں کی شہادت حدود و قصاص میں معتبر نہیں۔” (ابنِ ابی شیبہ)

          “عن الحکم أن علی بن أبی طالب قال: لا یجوز شھادة النساء فی الحدود والدماء۔” (اخرجہ عبدالرزاق)

          ترجمہ:… “حکم سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: عورتوں کی شہادت حدود و قصاص میں معتبر نہیں۔”

خواتین کا گھر سے باہر نکلنا

          عورتوں کے لئے اصل حکم تو یہ ہے کہ بغیر ضرورت کے گھر سے باہر قدم نہ رکھیں، چنانچہ سورة الاحزاب کی آیت نمبر:۳۳ میں اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو حکم ہے:

          “وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّةِ الْأُوْلٰی۔”

          ترجمہ:… “تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو، (مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ کر پردہ کرلینے پر کفایت مت کرو، بلکہ پردہ اس طریقے سے کرو کہ بدن مع لباس نظر نہ آوے، جیسا آج کل شرفاء میں پردے کا طریقہ متعارف ہے کہ عورتیں گھروں ہی سے نہیں نکلتیں، البتہ مواقعِ ضرورت دُوسری دلیل سے مستثنیٰ ہیں) اور (اسی حکم کی تاکید کے لئے ارشاد ہے کہ) قدیم زمانہٴ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو (جس میں بے پردگی رائج تھی، گو بلا فحش ہی کیوں نہ ہو۔ اور قدیم جاہلیت سے مراد وہ جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھی اور اس کے مقابلے میں ایک مابعد کی جاہلیت ہے کہ بعد تعلیم و تبلیغ اَحکامِ اسلام کے ان پر عمل نہ کیا جائے، پس جو تبرّج بعد اسلام ہوگا وہ جاہلیتِ اُخریٰ ہے۔”  (تفسیر بیان القرآن از حکیم الاُمت)

          اس پر شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ یہ حکم تو صرف اَزواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن کے ساتھ خاص ہے، مگر یہ خیال صحیح نہیں، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب “اَحکام القرآن” میں لکھتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ میں پانچ حکم دئیے گئے ہیں:

          ۱- اجنبی لوگوں سے نزاکت کے ساتھ بات نہ کرنا، ۲-گھروں میں جم کر بیٹھنا، ۳-نماز کی پابندی کرنا، ۴-زکوٰة ادا کرنا، ۵-اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام اَحکام عام ہیں، صرف اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ مخصوص نہیں، چنانچہ تمام اَئمہ مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ اَحکام سب مسلمان خواتین کے لئے ہیں۔ حافظ ابنِ کثیر کہتے ہیں کہ یہ چند آداب ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات کو حکم فرمایا ہے، اور اہلِ ایمان کی عورتیں ان اَحکام میں اَزواجِ مطہرات کے تابع ہیں۔

(اَحکام القرآن، حزبِ خامس ص:۲۰۰)

          البتہ ضرورت کے موقعوں پر عورتوں کو چند شرائط کی پابندی کے ساتھ گھر سے نکلنے کی اجازت ہے، حضرت مفتی صاحب نے “اَحکام القرآن” میں اس سلسلے کی آیات و احادیث کو تفصیل سے لکھنے کے بعد ان شرائط کا خلاصہ حسبِ ذیل نقل کیا ہے:

          ۱:… نکلتے وقت خوشبو نہ لگائیں اور زینت کا لباس نہ پہنیں، بلکہ میلے کچیلے کپڑوں میں نکلیں۔

          ۲:… ایسا زیور پہن کر نہ نکلیں جس میں آواز ہو۔

          ۳:… زمین پر اس طرح پاوٴں نہ ماریں کہ ان کے خفیہ زیورات کی آواز کسی کے کان میں پڑے۔

          ۴:… اپنی چال میں اِترانے اور مٹکنے کا انداز اختیار نہ کریں، جو کسی کے لئے کشش کا باعث ہو۔

          ۵:… راستے کے درمیان میں نہ چلیں، بلکہ کناروں پر چلیں۔

          ۶:… نکلتے وقت بڑی چادر (جلباب) اوڑھ لیں، جس سے سر سے پاوٴں تک پورا بدن ڈھک جائے، صرف ایک آنکھ کھلی رہے۔

          ۷:… اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلیں۔

          ۸:… اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر کسی سے بات نہ کریں۔

          ۹:… کسی اجنبی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ان کے لب و لہجے میں نرمی اور نزاکت نہیں ہونی چاہئے، جس سے ایسے شخص کو طمع ہو جس کے دِل میں شہوت کا مرض ہے۔

          ۱۰:… اپنی نظریں پست رکھیں، حتی الوسع نامحرَم پر ان کی نظر نہیں پڑنی چاہئے۔

          ۱۱:… مردوں کے مجمع میں نہ گھسیں۔

          اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پارلیمنٹ وغیرہ کی رُکنیت قبول کرنا اور مردانہ مجمعوں میں تقریر کرنا، عورتوں کی نسوانیت کے خلاف ہے، کیونکہ ان صورتوں میں اسلامی ستر و حجاب کا ملحوظ رکھنا ممکن نہیں۔

عورتوں کا تنہا سفر کرنا

          عورت کا بغیر محرَم کے سفر کرنا جائز نہیں، احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، چنانچہ صحاحِ ستہ، موٴطا امام مالک، مسندِ احمد اور حدیث کے تمام متداول مجموعوں میں متعدّد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: “کسی عورت کے لئے، جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ بغیر محرَم کے تین دن کا سفر کرے” جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر محرَم کے سفر نہ کرنا عورت کی نسوانیت کا ایمانی تقاضا ہے۔ جو عورت اس تقاضائے ایمانی کی خلاف ورزی کرتی ہے، وہ فعلِ حرام کی مرتکب ہے کیونکہ اس فعل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم “لا یحل” فرما رہے ہیں (یعنی حلال نہیں)۔

عورتوں کا جج بننا

          ایسے تمام مناصب جن میں ہرکس و ناکس کے ساتھ اختلاط اور میل جول کی ضرورت پیش آتی ہے، شریعتِ اسلامی نے ان کی ذمہ داری مردوں پر عائد کی ہے، اور عورتوں کو اس سے سبکدوش رکھا ہے۔ (ان کی تفصیل اُوپر شیخ الاسلام مولانا ظفراحمد عثمانی نوّر اللہ مرقدہ کی عبارت میں آچکی ہے) انہی ذمہ داریوں میں سے ایک جج اور قاضی بننے کی ذمہ داری ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کے زمانے میں بڑی فاضل خواتین موجود تھیں، مگر کبھی کسی خاتون کو جج اور قاضی بننے کی زحمت نہیں دی گئی، چنانچہ اس پر اَئمہ اَربعہ کا اتفاق ہے کہ عورت کو قاضی اور جج بنانا جائز نہیں، اَئمہ ثلاثہ کے نزدیک تو کسی معاملے میں اس کا فیصلہ نافذ ہی نہیں ہوگا، اِمام ابوحنیفہ کے نزدیک حدود و قصاص کے ماسوا میں اس کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا، مگر اس کو قاضی بنانا گناہ ہے، فقہِ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں ہے:

          “والمرأة تقضی فی غیر حد وقود وان اثم المولّی لھا لخبر البخاری لن یفلح قومٌ ولّوا أمرھم امرأة۔”                        (شامی طبع جدید ج:۵ ص:۴۴۰)

          ترجمہ:… “اور عورت حد و قصاص کے ماسوا میں فیصلہ کرسکتی ہے، اگرچہ اس کو فیصلے کے لئے مقرّر کرنے والا گناہگار ہوگا، کیونکہ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔”

عورت کو سربراہِ مملکت بنانا

          اسلامی معاشرے میں عورت کو سربراہِ مملکت بنانے کا کوئی تصوّر نہیں، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

          “لن یفلح قومٌ ولّوا أمرھم امرأة۔” (صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۳۷، ۱۰۲۵، نسائی ج:۲ ص:۳۰۴، ترمذی ج:۲ ص:۳۳۳)

          ترجمہ:… “وہ قوم کبھی فلاح یاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔”

          ایک اور حدیث میں ہے:

          “اذا کان أمرائکم خیارکم وأغنیاوٴکم سمحائکم وأمورکم شوریٰ بینکم فظھر الأرض خیر لکم من بطنھا، واذا کان أمرائکم شرارکم وأغنیاوٴکم بخلائکم وأمورکم الٰی نسائکم فبطن الأرض خیر لکم من ظھرھا۔”                    (ترمذی ج:۲ ص:۳۳۳)

          ترجمہ:… جب تمہارے حکام تم میں سب سے اچھے لوگ ہوں، تمہارے مال دار سب سے سخی اور کشادہ دست ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوں، تو تمہارے لئے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے، اور جب تمہارے حکام بُرے لوگ ہوں، تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لئے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے (یعنی ایسی صورت میں جینے سے مرنا اچھا ہے)۔”

          چنانچہ اُمت کا اس پر اتفاق و اجماع ہے کہ عورت کو سربراہِ مملکت بنانا جائز نہیں۔                                            (بدایة المجتھد ج:۲ ص:۴۴۹)

          شاہ ولی اللہ محدث دہلوی “ازالة الخفاء” میں شرائطِ خلافت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          “وازاں جملہ آں است کہ ذکر باشد نہ امراة، زیرا کہ در حدیث بخاری آمدہ “ما أفلح قوم ولّوا أمرھم امرأة” چوں بسمع مبارک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسید کہ اہلِ فارس دخترِ کسریٰ را ببادشاہی برداشتہ اند فرمود رستگار نشد قومی کہ والی امر بادشاہی خود ساختند زنے را وزیرا کہ امرأة ناقص العقل والدِّین است و در جنگ و پیکار بیکار و قابل حضور محافل و مجالس نے، پس ازوئے کارہائے مطلوب نہ برآید۔” (ازالة الخفاء ج:۱ ص:۴)

          ترجمہ:… “اور ایک شرط یہ ہے کہ سربراہِ مملکت مرد ہو، عورت نہ ہو، کیونکہ صحیح بخاری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “ما أفلح قوم ولّوا أمرھم امرأة” جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا ہے تو فرمایا کہ: وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنی بادشاہی کا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔ نیز اس لئے کہ عورت فطرةً ناقص العقل والدِّین ہے، جنگ و پیکار میں بیکار ہے، اور محفلوں اور مجلسوں میں حاضر ہونے کے قابل نہیں، پس اس سے مقاصدِ مطلوبہ پورے نہیں ہوسکتے ہیں۔”

حوریں اور حورے

          اور سوال میں جو ذکر کیا گیا ہے کہ جنت میں نیک مردوں کو حوریں ملیں گی تو نیک عوتوں کو “حورے” ملیں گے، یہ محض لطیفہ ہے۔ بلاشبہ جنتی مردوں کے چہرے بھی روشن، نورانی اور سفید ہوں گے، مگر لغت و عرف میں “حور” کا اطلاق صرف عورتوں پر ہوتا ہے، مردوں کو ان کے زُمرے میں شامل کرنا بڑی زیادتی ہے، کیونکہ “حور” کا لفظ “حَوْرَأٌ” کی جمع ہے، اور “حَوْرَأ” کا لفظ موٴنث ہے، جس کے معنی ہیں گوری چٹی، نیز قرآنِ کریم میں جہاں “حور” کا ذکر آیا ہے، وہاں ان کی صفات موٴنث ہی ذکر کی گئی ہیں۔ مثلاً: دو جگہ ارشاد ہے: “وَزَوَّجْنٰھُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ”، ایک جگہ ارشاد ہے: “وَحُوْرٌ عِیْنٌ کَأَمْثَالِ اللُّوٴْلُوءِ الْمَکْنُوْنِ”، اور ایک جگہ ارشاد ہے: “حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ”۔

          موٴخر الذکر دونوں آیاتِ شریفہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی اصل خوبی پوشیدہ رہنا ہے، اور خیموں میں بند رہنا ہے، کہ ان دونوں صفتوں کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ حورانِ بہشتی کی مدح فرما رہے ہیں۔ حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیة الاولیاء (ج:۲ ص:۴۰) میں، اور حافظ نورالدین ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج:۹ ص:۲۰۲) میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا: بتاوٴ! عورت کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ صحابہ کرام سے اس کا جواب نہ بن پڑا، سوچنے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ چپکے سے اُٹھ کر گھر گئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال ذکر کیا، انہوں نے برجستہ فرمایا کہ: تم لوگوں نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ عورت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ غیرمرد اس کو نہ دیکھیں، نہ وہ غیرمردوں کو دیکھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جواب کس نے دیا ہے؟ عرض کیا: فاطمہ نے! فرمایا: کیوں نہ ہو، فاطمہ آخر میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔

          موجودہ دور کے روشن خیال حضرات، جن کی ترجمانی جناب عمر احمد عثمانی کر رہے ہیں، خدانخواستہ جنت میں تشریف لے گئے تو یہ شاید وہاں بھی “حورانِ بہشتی” میں آزادی کی مغربی تحریک چلائیں گے، اور جس طرح آج مولویوں کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، یہ وہاں حق تعالیٰ شانہ کے خلاف احتجاج کریں گے کہ ان مظلوموں کو “مَقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ” کیوں رکھا ہے؟ انہیں آزادانہ گھومنے پھرنے اور اجنبی مردوں سے گھلنے ملنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِللهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

Facebook Comments

Comments are closed.