خاندانی منصوبہ بندی

جلد ہفتم
179
0

 

مانع حمل تدابیر کو قتلِ اولاد کا حکم دینا

س… سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت: “اور تم اپنی اولاد کو مال کے خوف سے قتل نہ کرو” کی تفسیر میں مولانا مودودی صاحب نے “تفہیم القرآن” میں آج کل کی مانع حمل تدابیر کو بھی قتلِ اولاد میں شامل کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجود دور میں جو نامناسب تقسیمِ رزق اور دولت انسان نے خود قائم کی ہے، وہ غاصب کے لئے تو پابندِ مسائل نہیں، لیکن مظلوم اپنے حصے سے محروم ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر وہ اپنی انفرادی حیثیت سے صرف مستقبل کے خوف سے مانع حمل تدابیر اختیار کرتا ہے تو کیا یہ خلافِ حکم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا؟ ذاتِ باری تعالیٰ پر یقینِ کامل اپنی جگہ، اور اسی کی عطا کی ہوئی عقلِ سلیم ہمیں غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم بارش، دُھوپ، آندھی، طوفان سے بچاوٴ کی تدابیر کرتے ہیں، نہ کہ ایسے ہی بیٹھے رہتے ہیں کہ یہ سب اسی کے حکم سے ہوتا ہے، اور یہی اس کی رحمت ہے۔ مقصد کہنے کا یہ کہ جب ایک وجود کو اس نے زندگی دینی ہے تو دُنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی، لیکن انسان صرف اپنی مصلحت کی بناء پر اس کے برخلاف تدابیر کرنے کی سعی کرے تو کیا یہ خلافِ حکم النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار ہوگا؟

ج… منع حمل کی تدابیر کو قتلِ اولاد کا حکم دینا تو مشکل ہے، البتہ فقر کے خوف کی جو علت قرآنِ کریم نے بیان فرمائی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض اندیشہٴ فقر کی بنا پر مانع حمل تدابیر اختیار کرنا غیرپسندیدہ فعل ہے، اور آپ کا اس کو دُوسری تدابیر پر قیاس کرنا صحیح نہیں، اس لئے کہ دُوسری جائز تدابیر کی تو نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کا حکم فرمایا گیا ہے، جبکہ منع حمل کی تدبیر کو ناپسند فرمایا گیا ہے۔ بہرحال منع حمل کی تدابیر مکروہ ہیں جبکہ ان کا منشا محض اندیشہٴ فقر ہو، اور اگر دُوسری کوئی ضرورت موجود ہو مثلاً عورت کی صحت متحمل نہیں، یا وہ اُوپر تلے کے بچوں کی پروَرِش کرنے سے قاصر ہے تو مانع حمل تدبیر میں کوئی مضائقہ نہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی کا شرعی حکم

س… ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے شہروں اور دیہاتوں میں بھرپور پروپیگنڈا کرکے عوام کو اور مسلمان قوم کو یہ تاکید کی جارہی ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرکے کم بچے پیدا کریں اور اپنے گھر اور ملک کو خوش حال بنائیں۔ محترم! اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ جو اِنسان بھی دُنیا میں جنم لیتا ہے اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے، نہ کہ اِنسان کے ہاتھ میں، بلکہ انسان تو اس قدر گناہگار اور سیاہ کار ہوتا ہے کہ وہ تو اس قابل ہی نہیں ہوتا کہ اسے رزق دئیے جائیں، اسے جو رزق ملتا ہے وہ بھی ان معصوم بچوں ہی کے طفیل ملتا ہے، تو کیا بچوں کی پیدائش کو روکنے اور خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے؟

ج… خاندانی منصوبہ بندی کی جو تحریکیں آج عالمی سطح پر چل رہی ہیں، ان کے بارے میں تو علمائے اُمت فرماچکے ہیں کہ یہ صحیح نہیں، البتہ کسی خاص عذر کی حالت میں جبکہ اطباء کے نزدیک عورت مزید بچوں کی پیدائش کے لائق نہ ہو، علاجاً ضبطِ ولادت کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

ضبطِ ولادت کی مختلف اقسام اور ان کا حکم

س۱:… ضبطِ ولادت اور اسقاطِ حمل میں کیا فرق ہے؟ کونسا حرام ہے اور کونسا جائز؟

س۲:… ایک لیڈی ڈاکٹر جو ضبطِ ولادت کا کام کرتی ہے اور دوائیں دیتی ہے، اس کی کمائی حلال ہے یا حرام؟

ج۱:… ضبطِ تولید کے مختلف انواع ہیں۔ ۱-مانع حمل دوائیاں یا گولیاں استعمال کرنا، ۲-حمل نہ ٹھہرنے کے لئے آپریشن کرانا، ۳-حمل ٹھہر جانے کے بعد اس کو دواوٴں سے ضائع کرنا، ۴-اسقاطِ حمل کرانا، ۵-یا مادّہٴ منویہ اندر جانے سے روکنے کے لئے پلاسٹک کوئل استعمال کرنا، یہ سب اقسام ہیں۔

          لہٰذا فقر اور احتیاجی کے خوف سے یا کثرتِ اولاد کو روکنے کے واسطے مذکورہ انواع میں سے جس کو بھی اختیار کیا جائے گا، وہ ضبطِ تولید میں آئے گا، اور ضبطِ تولید کے عمل کرنے اور کرانے والا دونوں گناہگار ہوں گے۔

ج۲:… مذکورہ بالا حالات میں ڈاکٹر کے لئے دوائیاں دینا بھی گناہ ہوگا، اِلَّا یہ کہ کوئی مریض ایسا ہو کہ حمل کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو اور حمل بھی ایسا کہ اس میں جان پیدا نہ ہوئی ہو، یعنی چار ماہ کی مدّت سے کم ہو، اس سے قبل اسقاط کراسکتا ہے۔ ایسی خاص صورت میں ڈاکٹر بھی گناہگار نہ ہوگا اور مانع حمل اور اسقاط کی دوائی استعمال کرنے والا بھی گناہگار نہ ہوگا۔

خاندانی منصوبہ بندی کا حدیث سے جواز ثابت کرنا غلط ہے

س… آج صغریٰ بائی ہسپتال نارتھ ناظم آباد جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ہسپتال کے مختلف شعبوں اور کوریڈور میں خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق ایک اِشتہار دیکھا جس میں نفس کو مارنا جہادِ عظیم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ نس بندی کی تعریف کی گئی تھی اور اسے بھی نفس کو مارنے سے تعبیر کیا گیا تھا، اور ایک حدیث کا حوالہ تھا کہ: “مال کی قلّت اور اولاد کی کثرت سے پناہ مانگو” یعنی یہ حدیث قرآن کی ان تعلیمات کے بالکل ضد ہے جس میں اولاد کو فقر کے ڈَر سے قتل سے منع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ ہر ذی رُوح کو رزق دیتا ہے، کیا یہ حدیث قرآن کی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے؟ اُمید ہے کہ اس حدیث کی وضاحت فرمائیں گے۔

ج… حدیث تو صحیح ہے، مگر اس کا جو مطلب لیا گیا ہے، وہ غلط ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مصائب کی مشقت سے اللہ کی پناہ مانگو، اس کو اولاد کی بندش کے ساتھ جوڑنا غلط ہے۔ اور نس بندی کو نفس کشی کہنا بھی محض اختراع ہے، نفس کشی کا مفہوم یہ ہے کہ نفس کو ناجائز اور غیرضروری خواہشوں سے باز رکھا جائے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی شرعی حیثیت

س… خاندانی منصوبہ بندی یا بچوں کی پیدائش کی روک تھام کے کسی بھی طریقے پر عمل کرنا گناہِ صغیرہ ہے؟ گناہِ کبیرہ ہے؟ یا شرک ہے؟

ج… منع حمل کی تدبیر اگر بطور علاج کے ہو کہ عورت کی صحت متحمل نہیں تو بلاکراہت جائز ہے، ورنہ مکروہ ہے، اور اس نیت سے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جائے، شرعاً گناہ ہے، گناہِ صغیرہ ہے یا کبیرہ؟ اس کی مجھے تحقیق نہیں۔

برتھ کنٹرول کی گولیوں کے مضر اَثرات

س… آج سے پندرہ بیس سال قبل بچے کی پیدائش ماں یا باپ کے لئے مسئلہ نہیں بنتی تھی، بلکہ مشترکہ خاندان کی بدولت بچہ ہاتھوں ہاتھ پل جاتا تھا، اس کے علاوہ مسائل کی فراوانی بھی نہیں تھی، نوکر آسانی سے مل جاتے تھے، بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاسکتی تھی، کیونکہ عموماً بچے دادی یا نانی کی سرپرستی میں پروَرِش پاتے تھے۔ مائیں بھی بچوں پر خصوصی توجہ دے لیتی تھیں، کیونکہ نوکر بآسانی کم تنخواہوں پر مل جاتے تھے، اکثر اوقات تو گھریلو قسم کی عورتیں صرف دو وقت کی روٹی کی خاطر کھاتے پیتے گھرانوں میں کام کرنے لگتی تھیں، ظاہری نمود و نمائش کا نام و نشان نہ تھا، اگر کسی کی تنخواہ کم ہے تو وہ دال روٹی کھاکر اپنے بچوں کی پروَرِش کرلیتا تھا، اور کبھی بھی کسی بھی جوڑے کو “کم بچے خوش حال گھرانہ” کا خیال تک نہیں آیا۔ لیکن آج کا دور جبکہ مسائل نے پریشانیوں کی صورت اختیار کرلی ہے، مشترکہ خاندان کا تصوّر خال خال نظر آتا ہے، دادی یا نانی اپنے بچوں کی اولادوں سے بیزار نظر آتی ہیں، ظاہری نمود و نمائش کا ایک طوفان برپا ہے، ہر شخص دولت کی ہوس میں اندھا ہو رہا ہے، بیوی اور شوہر دونوں ملازمت کرکے اپنے معیارِ زندگی کو اعلیٰ سے اعلیٰ کرنے کی تگ و دو میں کوشاں ہیں، ہر شخص کی فکر اپنی حد تک محدود ہے، رنگین ٹی وی، فرج، قالین، صوفے، عمدہ کراکری، گاڑی ہر شخص کے اعصاب پر سوار ہیں، ہر شخص اس بات کی فکر میں ہے کہ وہ خاندان کا اَمیر ترین آدمی کہلائے، معاشرے کے یہ ناسور اس پر طرّہ ٹی وی، ریڈیو پر “کم بچے خوش حال گھرانہ” کے پروپیگنڈے نے ہزاروں عورتوں کو ذہنی مریض، جسمانی مریض اور پھر موت کی گھاٹ اُتار دیا۔ آج کا مرد، عورت کو برتھ کنٹرول کی گولیاں کھلاکر اپنے معیارِ زندگی کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، اور عورت جو مرد کا دایاں بازو کہلاتی ہے، آج ہمارے معاشرے کا بیمار اور روگی عضو بنتی جارہی ہے، ان گولیوں نے نامعلوم کتنی زندگیاں تباہ و برباد کی ہوں گی، ہمارے معاشرے میں کسی کا نام لکھنا اور مشتہر کرنا باعثِ رُسوائی ہے۔ بہرحال یہ گولیاں عورت کے سر درد پیدا کرتی ہیں، ماہانہ نظام میں خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، بعض عورتیں بے پناہ موٹی اور بعض عورتیں دُبلی اور کمزور ہوجاتی ہیں، بینائی پر اثر پڑتا ہے، سر کے بال سفید ہوجاتے ہیں، مختلف قسم کی اندرونی تکالیف پیدا ہوجاتی ہیں، بعض عورتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہیں۔ مانع حمل گولیوں کے استعمال کرنے والی عورتوں سے اس کے مضر اثرات کے متعلق پوچھا تو ہر عورت کو سر درد کی شدید تکلیف میں مبتلا پایا، جو ہفتے عشرے میں ضرور اُٹھتا ہے، اور جس کو روکنے کے لئے وہ اسپرین کی گولیاں استعمال کرتی ہیں، یہ سر درد تقریباً دو تین روز رہتا ہے۔ عموماً عورتوں کے پیروں کے پٹھے اکڑنے کی بھی شکایت ہوجاتی ہے، پیر سن ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ان کو حرکت تک نہیں دے سکتیں۔ ایک صاحبہ جو شادی سے قبل بہت اسمارٹ ہوا کرتی تھیں، ان گولیوں کے استعمال کے بعد بے پناہ موٹی ہوکر ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوگئیں۔ بہرحال اگر سروے کیا جائے تو ہر پڑھی لکھی عورت اس لعنت سے پریشان ہے، لیکن وہ اس کے استعمال کو بند کرنے کے لئے بھی تیار نہیں، کیونکہ ان کے مسائل اتنے ہیں کہ وہ تیزی سے اپنی صحت کو داوٴ پر لگارہی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس کا باقاعدہ طور پر سروے کرکے عورتوں کو اس کے مضر اَثرات سے آگاہ کیا جائے، اور ان گولیوں کے استعمال پر سختی سے گورنمنٹ کو پابندی عائد کرنی چاہئے، جبکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارے لئے گناہِ عظیم بھی ہے۔

ج… خدا کرے کہ حکومت اور عورتیں آپ کے مشورے پر دونوں عمل کریں۔ اور جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا ہے یہ تمام نحوستیں اس وجہ سے ہیں کہ اس زندگی کو اصل زندگی سمجھ لیا گیا ہے، موت اور موت کے بعد کی زندگی کو فراموش کردیا گیا ہے۔ اسلام نے جس سادگی اور کم تر آسائشِ زندگی حاصل کرنے کی تعلیم دی تھی، اس کے بجائے سامانِ تعیش کو مقصد بنالیا گیا ہے،یہ معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا بھوت پوری قوم پر سوار ہے، جس نے قوم کی دُنیا و آخرت دونوں کو غارت کردیا ہے، ان تمام بیماریوں کا علاج یہ ہے کہ مسلمانوں میں آخرت کے یقین کو زندہ کیا جائے۔

          حکومت ضبطِ تولید پر کروڑوں روپیہ ضائع کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آبادی کو محدود کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے، البتہ اس سے چند خرابیاں رُونما ہو رہی ہیں:

          اوّل:… عورت کا بچے پیدا کرنا ایک فطری عمل ہے، جو عورتیں اس فطری عمل کو روکنے کے لئے غیرفطری تدابیر اختیار کرتی ہیں وہ اپنی صحت کو برباد کرلیتی ہیں، اور بلڈپریشر سے لے کر کینسر تک کے روگ ان کی زندگی بھر کے ساتھ ہوجاتے ہیں، اور وہ جلد سے جلد قبر میں پہنچنے کی تیاری کرلیتی ہیں، گویا ضبطِ تولید کی گولیاں اور دُوسری غیرفطری تدابیر ایک زہر ہے جو ان کے جسم میں اُتارا جارہا ہے۔

          دوم:… اس زہر کا اثر ان کی اولاد پر بھی ظاہر ہوتا ہے، چونکہ ایسی خواتین کی اپنی سوچ گھٹیا ہے، اس لئے ان کی اولاد بھی ذہنی و جسمانی طور پر تندرست نہیں ہوتی، بلکہ یا تو جسمانی طور پر معذور ہوتی ہے، یا ذہنی بلندی سے عاری۔ کام چور، کھیل کود کی شوقین، والدین کی نافرمان، اور جوان ہونے کے بعد نفسانی و جنسی امراض کی مریض۔ اس طرح ضبطِ تولید کی یہ تحریک، جس پر حکومت قوم کا کروڑوں، اربوں روپیہ غارت کرچکی ہے، اور کر رہی ہے، درحقیقت ایک معذور اور ذہنی طور پر اپاہج معاشرہ وجود میں لانے کی تحریک ہے۔

          سوم:… ہمارے معاشرے میں مرد و زَن کے اختلاط پر کوئی پابندی نہیں، تعلیم گاہوں میں (جن کو نئی نسل کی قتل گاہیں کہنا زیادہ صحیح ہوگا) نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مخلوط تعلیم حاصل کرتے ہیں، عقل ناپختہ اور جذبات فراواں، اس ماحول میں نوجوان نسل بجائے فنی تعلیم کے عشق لڑانے کی مشق کرتی ہے، اور جنسی ملاپ کو منتہائے محبت تصوّر کرتی ہے، اس راستے میں سب سے بڑی رُکاوٹ یہ ہے کہ اگر جنسی ملاپ کا نتیجہ ظاہر ہوگیا تو دُنیا میں رُسوائی ہوجائے گی، اس برتھ کنٹرول کی تحریک نے ان کے راستے کی یہ مشکل حل کردی، اب لڑکیاں اس غلط روی کے خوفناک انجام سے بے فکر ہوگئی ہیں، اور اگر برتھ کنٹرول کے باوجود “نتیجہٴ بد” ظاہر ہی ہوجائے تو ہسپتال میں جاکر صفائی کرالی جاتی ہے۔

          الغرض! حکومت کی یہ تحریک صرف اسلام ہی کے خلاف نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے خلاف ایک ہولناک سازش ہے۔

مانع حمل ادویات اور غبارے استعمال کرنا

س… آج کل لوگ جماع کے وقت عام طور پر مانع حمل ادویات استعمال کرتے ہیں، یا اس کی جگہ آج کل مختلف قسم کے غبارے چل رہے ہیں، جن سے حمل قرار نہیں پاتا، کیا ایسا عمل جس سے حمل قرار نہ پائے جائز ہے؟ نیز کیا ان غباروں کا استعمال جائز ہے؟

ج… جائز ہے۔

Facebook Comments

Comments are closed.