# گناہ کی سزا کیوں دی جاتی ہے جبکہ یہ اس کے مقدّر میں لکھا تھا؟

- URL: https://shaheedeislam.com/%da%af%d9%86%d8%a7%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%af%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92-%d8%ac%d8%a8%da%a9%db%81-%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

انسان جب دُنیا میں آتا ہے تو اس کی تقدیر میں لکھا جاتا ہے کہ یہ گناہ کرے گا، اور یہ ثواب کے کام۔ جب گناہ کرتا ہے تو اس کو سزا کیوں دی جاتی ہے؟

## جواب (Answer)

انسان کو نیک اور بدعمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، وہ اپنے اختیار سے گناہ کرتا ہے، اس لئے سزاد دی جائے گی۔(۱)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) واذا عرفت ذٰلک فللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ، لَا کما زعمت الجبریۃ: أنہ لَا فعل للعبد أصلًا۔ (شرح العقائد النسفی ص:۸۱ طبع خیر کثیر، روح المعانی ج:۱ ص:۱۳۳ سورۃ البقرۃ:۷)۔
