# کیا محنت کئے بغیر بھی قسمت اچھی ہوسکتی ہے؟

- URL: https://shaheedeislam.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%85%d8%ad%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%a6%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d8%a7%da%86%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%b3%da%a9%d8%aa%db%8c-%db%81/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

میرا دوست کہتا ہے کہ آدمی کی قسمت اچھی ہو تو بغیر محنت کے بھی اچھا کمالیتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ کمائی اس کے نصیب میں تھی اور اس کی قسمت اچھی تھی۔ میرا کہنا ہے کہ آدمی محنت کرے اور قسمت ساتھ دے، صرف محنت کئے بغیر قسمت اچھی نہیں ہوسکتی۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ ایک آدمی مزدور پورا دن محنت کرتا ہے اور دُوسرا آدمی ایک گھنٹے میں اتنے پیسے کمالیتا ہے، براہِ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں کہ دونوں میں سے کس کا نقطئہ نظر ٹھیک ہے؟

## جواب (Answer)

یہ تو صحیح ہے کہ جو قسمت میں لکھا ہو، وہی ملتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ملتا۔ لیکن حلال روزی کے لئے محنت ضرور کرنی چاہئے،(۱) قسمت کا حال کسی کو معلوم نہیں،(۲) اور حلال روزی کے لئے شرعی فرائض کی پابندی ضروری ہے۔(۳)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا التوبة ٥١، إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ ٤٩ القمر ٤٩ وعن ابن مسعود قال: حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الصادق المصدوق أن خلق أحدکم یجمع فی بطن أُمّہ أربعین یومًا ۔۔۔ ثم یبعث اللہ الیہ مَلَکًا بأربع کلمات، فیکتب عملہ وأجلہ ورزقہ وشقی أو سعید ۔۔۔الخ۔ (ورزقہ) یعنی أنہ قلیل أو کثیر، وغیرھما مما ینتفع بہ حلالًا کان أو حرامًا، مأکولًا أو غیرہ فیعین لہ وینقش فیہ بعد أن کانت مکتوبۃ فی اللوح المحفوظ ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۲۶ باب الْإیمان بالقدر، طبع بمبئی)۔
- (۲) (قولہ) وأصل القدر سر اللہ تعالٰی فی خلقہ لم یطلع علٰی ذٰلک مَلَک مقرَّب ولَا نبیٌّ مرسَل ۔۔۔ أصل القدر: سر اللہ فی خلقہ وھو کونہ أوجد وأفنٰی، وأفقر وأغنٰی وأمات وأحیا وأضلّ وأھدیٰ قال علیٌّ کرّم اللہ وجہہ ورضی عنہ: القدر: سر اللہ فلا تکشفہ ۔۔۔الخ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۷۶، ۲۷۷)۔
- (۳) وعن عبداللہ بن مسعود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یکسب عبد مال حرام ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۴۲ باب الکسب)۔
