# کوئی آدمی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب حالانکہ محنت دونوں کرتے ہیں

- URL: https://shaheedeislam.com/%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a2%d8%af%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%ad%d8%a7%d9%84/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

قسمت کیا ہے؟ کیا جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے؟ مثال کے طور پر دو اِنسانوں کو لے لیں، ان میں سے ایک تو بہت ہی امیر ہے اور دُوسرا بہت ہی غریب۔ امیر کے بچے تو سونے کے سکوں سے کھیلتے ہیں اور غریب کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، محنت دونوں اپنی اپنی جگہ پر کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس کے بچے بھوک سے مر ر ہے ہیں، اس نے کیا قصور کیا ہے؟ اس کی روزی میں کم کیوں لکھا ہے؟

## جواب (Answer)

روزی کم یا زیادہ کرنا، اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ اور یہ ہر ایک کے لئے پیدائش سے پہلے مقدّر کردی گئی ہے، خواہ کوئی کتنی ہی محنت کرے، ملتا وہی ہے جو مقدّر میں لکھا ہے،(۱) اور اس کی حکمتوں کو وہی بہتر جانتا ہے، مگر مسلمانوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہ کرامؓ کا اُسوۂ حسنہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدّۃ العمر دو دن متواتر جو کی روٹی سے بھی سیر نہیں ہوئے،(۲) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کی گئی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنادیا جائے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول نہیں فرمایا، بلکہ یہ عرض کیا کہ: یا اللہ! میں چاہتا ہوں کہ ایک وقت کھانے کو ملے تاکہ شکر کروں، اور دُوسرے وقت نہ ملے تاکہ صبر کروں۔(۳)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زُہد و قناعت اور فقر و فاقہ کے بے شمار واقعات ہیں، اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بھی، مگر ان اکابر نے کبھی تنگی ترشی کی شکایت نہیں کی، بلکہ اس کو نعمت سمجھا، کیونکہ جتنا کم ہوگا، اتنا حساب بھی کم ہوگا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ مال دار لوگ اپنے مال کے حساب و کتاب میں پھنسے ہوں گے اور فقراء ان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہوں گے۔(۴)اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے: ایک حصہ دُنیا کی بہت ہی کم اور محدود سی زندگی ہے، اور ایک حصہ مرنے کے بعد برزخ کی طویل ترین زندگی ہے، اور ایک حصہ قیامت اور جنت و دوزخ کی لامحدود زندگی کا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اکابرِ اُمت کے سامنے زندگی کے یہ تینوں حصے تھے اور وہ ان تینوں حصوں کو سامنے رکھ کر نفع و نقصان اور فقر و غنی ا کا میزانیہ کرتے تھے۔ اس لئے دُنیا کی زندگی کے حقیر و قلیل سے وقفے کا فقر و فاقہ ان کی نظر میں برزخ کی طویل اور آخرت کی لامحدود زندگی کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ وہ روزے دار کے روزے کی طرح اس کو ایک معمولی مجاہدہ سمجھ کر برداشت کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے سامنے دُنیا ہی دُنیا کی زندگی ہے، برزخ اور آخرت کا یقین اس قدر مضمحل اور کمزور ہوچکا ہے کہ گویا سرے سے یقین ہی نہیں، اس لئے ہم صرف اور صرف دُنیا کی زندگی کو سامنے رکھ کر اپنی کامیابی و ناکامی اور فقر و غنی ا کا میزانیہ مرتب کرتے ہیں، اور جب اس میں کچھ کمی نظر آتی ہے تو شکایتوں کا دفتر کھول بیٹھتے ہیں۔ اے کاش! ہماری یقین کی آنکھیں روشن ہوجائیں تو ہمیں دُنیا کی زندگی سرابِ محض نظر آنے لگے۔(۵)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ عزّ وجلّ فرغ الٰی کل عبد من خلقہ من خمس: من أجلہ، وعملہ، ومضجعہ، وأثرہ، ورزقہ۔ رواہ احمد، (مشکوٰۃ ص:۲۳، باب الْإیمان بالقدر، الفصل الثالث)۔
- (۲) عن عائشۃ قالت: ما شبع آل محمدٍ من خبز الشعیر یومین متتابعین حتّٰی قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۶)۔
- (۳) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: عرض علَیَّ ربّی لیعجل لی بطحاء مکۃ ذھبا، قلت: لَا یا رَبّ! ولٰـکن أشبع یومًا وأجوع یومًا۔ أو قال ثلاثًا، أو نحو ھٰذا، فإذا جعت تضرّعت إلیک وذکرتک، فإذا شبعت شکرتک وحمدتک۔ (ترمذی ج:۲ ص:۵۸، باب ما جاء فی الکفاف الصبر علیہ)۔
- (۴) عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یدخل الفقراء الجنّۃ قبل الأغنیاء بخمس مأۃ عام نصف یوم۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۴۷ طبع قدیمی)۔
- (۵) فالحاصل أن الدور ثلاث: دار الدنیا، ودار البرزخ، ودار القرار۔ وقد جعل اللہ لکل دار أحکامًا تخصھا ورکّب ھٰذا الْإنسان من بدن ونفس وجعل أحکام الدنیا علی الأبدان والأرواح تبع لھا، وجعل أحکام البرزخ علی الأرواح والأبدان تبع لھا، فإذا جاء یوم حشر الأجساد وقیام الناس من قبورھم صار الحکم والنعیم والعذاب علی الأرواح والأجساد جمیعًا۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۵۲)۔
