# کراماتِ اولیاء برحق ہیں

- URL: https://shaheedeislam.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa%d9%90-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%a8%d8%b1%d8%ad%d9%82-%db%81%db%8c%da%ba/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

اسی طرح ایک اور قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بزرگ تھے، وہ فرماتے ہیں کہ: جب میرے والد کا انتقال ہوا، ان کو نہلانے کے لئے تختہ پر رکھا تو وہ ہنسنے لگے، نہلانے والے چھوڑ کر چل دئیے، کسی کی ہمت ان کو نہلانے کی نہ پڑتی تھی، ایک اور بزرگ ان کے رفیق آئے انہوں نے غسل دیا۔ کیا یہ واقعہ صحیح ہے یا غلط؟ جو بزرگ اپنے مریدوں کو ایسی باتیں بتاتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟ برائے مہربانی! مجھے راہنمائی کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ کر ہم اپنا ایمان خراب کرلیں، کیونکہ ہمارے دیوبند عقیدے میں تو یہ چیزیں آج تک نہیں سنیں، اس لئے مجھے یہ نئی معلوم ہوتی ہیں، کہلاتے تو یہ لوگ بھی اہلسنّت والجماعت ہیں، لیکن عقیدے بہت زیادہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں۔

## جواب (Answer)

بطورِ کرامت یہ واقعہ بھی صحیح ہوسکتا ہے، دیوبندی اہلِ سنت ہیں، اور اہلِ سنت کا عقیدہ تمام عقائد کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ’’اولیاء کی کرامات برحق ہیں‘‘(۱) اس لئے ایسے واقعات کا انکار اہلِ سنت اور دیوبندی مسلک کے خلاف ہے، اور ان واقعات میں عقیدہ کی خرابی کی کوئی بات نہیں، ورنہ اہلِ سنت کراماتِ اولیاء کے برحق ہونے کے قائل نہ ہوتے۔تقدیر

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) والکرامات للأولیاء حق، ای ثابت بالکتاب والسنۃ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۹۵)
