# مسلمان کی تعریف قرآن وسنت کی رُو سے

- URL: https://shaheedeislam.com/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d9%82%d8%b1%d8%a2%d9%86-%d9%88%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%8f%d9%88-%d8%b3%db%92/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ یہ بات پھر عرض کروں گا کہ صرف قرآن شریف اور حدیث شریف کے حوالے سے بتائیں، دوسرا کوئی حوالہ نہ دیں، ورنہ لوگوں کو پھر موقع ملے گا کہ یہ ہمارے فرقے کے بزرگ کا حوالہ نہیں۔

## جواب (Answer)

ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں’’مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ‘‘ کے ماننے کو ’’ایمان‘‘ اور ’’مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ‘‘ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو ’’کفر‘‘ فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً: صحیح مسلم (ج:۱ ص:۳۷) کی حدیث میں ہے: ’’اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر(۱)۔‘‘ اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہوجاتی ہے۔ یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اور جو شخص قطعیاتِ دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو، وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔(۲)مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن فرمایا ہے،(۳)اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔(۴) اور ملتِ اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کرکے نبوت کا دعویٰ کیا،(۵) اس وجہ سے قادیانی غیرمسلم اور کافر قرار پائے۔اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے،(۶)مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدے سے منحرف ہیں، اور وہ مرزا کے ’’عیسیٰ‘‘ ہونے کے مدعی ہیں،(۷) اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدارِ نجات ٹھہرایا گیا ہے، لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے، اس لئے اب میری وحی اور میری تعلیم مدارِ نجات ہے۔‘‘ (اربعین نمبر:۴ ص:۷، حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیاتِ اسلام کا انکار کیا ہے، اس لئے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔(۸)تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ختم نبوت کامل، تالیف مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ۔تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو: ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ لِامام العصر العلامۃ محمد أنور شاہ الکشمیری۔

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’أُمرتُ أن أُقاتل الناس حتّٰی یشھدوا أن لَا اِلٰہ اِلّا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہٖ، فاذا فعلوا ذٰلک عصموا مِنِّی دِمائھم وأموالھم اِلّا بحقھا وحسابھم علی اللہ۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۳۷ طبع قدیمی کراچی)۔
- (۲) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱ طبع پشاور)۔
- (۳) مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ الأحزاب٤٠۔
- (۴) عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: وأنا خاتم النبیّین لَا نبیّ بعدی۔‘‘ (ترمذی شریف ج:۲ ص:۴۵، کتاب الفتن)۔
- (۵) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں ۔۔۔ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ (ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷)۔
- (۶) وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ النساء ١٥٩ ۔ ایضًا ’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا ۔۔۔ الخ۔‘‘ (باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مشکوٰۃ ص:۴۷۹)۔
- (۷) مرزا ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں قسم کھاکر کہتا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا۔‘‘ (آئینہ کمالات ص:۵۵۱، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۵۵۱)۔
- (۸) تفصیل کے لئے فتاویٰ ختمِ نبوّت طبع ملتان ملاحظہ ۔
