# مسلمانوں کو ’’اہلِ کتاب‘‘ کہنا کیسا ہے؟

- URL: https://shaheedeislam.com/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%a7%db%81%d9%84%d9%90-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%81%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

حالانکہ مسلمان کتابِ سماوی کے حامل ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، تو کیا اس وجہ سے ان کو اہلِ کتاب کہنا شرعاً یا لُغۃً کسی بھی نوع سے دُرست ہے یا نہیں؟

## جواب (Answer)

’’اہلِ کتاب‘‘ اصطلاحی لفظ ہے، جو قرآنِ کریم سے پہلے کی منسوخ شدہ کتابوں کے ماننے والوں پر بولا جاتا تھا، مسلمانوں پر نہیں۔(۱)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) قال تعالٰی: قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ آل عمران ٦٤ ھٰذا الخطاب یعمّ أھل الکتاب من الیھود والنصاریٰ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۵۰ طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
