# متعدی امراض اور اِسلام

- URL: https://shaheedeislam.com/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%b6-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%90%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

کیا جذام والے سے اسلام نے رشتہ ختم کردیا ہے؟ اگر نہیں تو اس کے مریض سے جینے کا حق کیوں چھینا جاتا ہے؟ اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ: ’’اس سے شیر کی طرح بھاگو اور اس کو لمبے بانس سے کھانا دو‘‘؟

## جواب (Answer)

جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس سے لوگوں کو اَذیت ہوتی ہو، اگر لوگوں کو اس سے الگ رہنے کا مشورہ دیا جائے تو یہ تقاضائے عقل ہے، باقی بیماری کی وجہ سے اس کا رشتہ اسلام سے ختم نہیں ہوگا، اس بیماری پر اس کو اَجر ملے گا۔ اسلام تو مرض کے متعدی ہونے کا قائل نہیں، لیکن اگر جذامی سے اختلاط کے بعد خدانخواستہ کسی کو یہ مرض لاحق ہوگیا تو ضعیف الاعتقاد لوگوں کا عقیدہ بگڑے گا اور وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ مرض اس کو جذامی سے لگا ہے، اس فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ: اس سے شیر کی طرح بھاگو، ۔۔۔ باقی لمبے بانس سے کھانا دینے کا مسئلہ مجھے معلوم نہیں اور نہ کہیں یہ پڑھا ہے۔۔۔۔ الغرض جذام والے کی تحقیر مقصود نہیں بلکہ لوگوں کو اِیذائے جسمانی اور خرابیٔ عقیدہ سے بچانا مقصود ہے۔(۱) اگر کوئی شخص قوی الایمان اور قوی المزاج ہو وہ اگر جذامی کے ساتھ کھا،پی لے، تب بھی کوئی گناہ نہیں، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھایا ہے۔(۲)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) وعنہ (أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا عدوی ولَا طیرۃ ۔۔۔ وفر من المجذوم کما تفر من الأسد۔ (وفی حاشیتہٖ) وانما أراد بذٰلک نفی ما اعتقدوا من ان العلل المعدّیۃ مؤثرۃ لَا محالۃ، فأعلمھم ان لیس کذٰلک، بل ھو متعلق بالمشیۃ، إن شاء کان، وإن لم یشأ، لم یکن ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۱، باب الفال والطیرۃ، الفصل الأوّل)۔
- (۲) عن جابر: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أخذ بید مجزوم فأدخلہ معہ فی القصعۃ ۔۔۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴، باب ما جاء فی الأکل معذ المجوم)۔
