# قاتل کو سزا کیوں جبکہ قتل اس کا نوشتۂ تقدیر تھا

- URL: https://shaheedeislam.com/%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%ac%d8%a8%da%a9%db%81-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%88%d8%b4%d8%aa%db%82-%d8%aa%d9%82/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

ایک شخص نے ہم سے یہ سوال کیا ہے کہ ایک آدمی کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اس کے ہاتھوں فلاں شخص قتل ہوجائے گا، تو پھر اللہ پاک کیوں اس کو سزا دے گا؟ جبکہ اس کی تقدیر میں یہی لکھا تھا، اس کے بغیر کوئی چارہ ہو ہی نہیں سکتا، جبکہ ہمارا تقدیر پر ایمان ہے کہ جو تقدیر میں ہے وہی ہوگا تو پھر اللہ پاک نے سزا کیوں مقرّر کی ہوئی ہے؟

## جواب (Answer)

تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ فلاں شخص اپنے ارادہ و اختیار سے فلاں کو قتل کرکے سزا کا مستحق ہوگا، چونکہ اس نے اپنے ارادہ و اختیار کو غلط استعمال کیا، اس لئے سزا کا مستحق ہوا۔(۱)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) والمقتول میّت بأجلہ أی: الوقت المقدر لموتہ ۔۔۔ ان وجوب العقاب والضمان علی القاتل تعبدی، لِارتکابہ المنھی وکسبہ الفعل الذی یخلق اللہ تعالٰی عقبیہ الموت بطریق جری العادۃ، فإن القتل فعل القاتل کسبًا۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶ طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
