# شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%85%db%81%d9%85%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%da%be%d9%88%da%91%d8%a7/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

’’وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ‘‘اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ’’آپ کی رائے صحیح ہے۔‘‘ کیا سلف نے بھی اس رائے کے بارے میں کچھ کہا ہے، کیونکہ میں نے پڑھا ہے کہ جس نے قرآن پاک کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا، اس نے۔۔۔۔۔۔ اس لئے جب کسی بزرگ سے اس رائے کی تصدیق ہوجائے گی تو پھر یہ اپنی رائے نہ رہے گی اور اس وعید کے دائرے سے باہر ہوجائیں گے۔

## جواب (Answer)

صحیح بایں معنی ہے کہ شریعت نے اسباب کو مہمل نہیں چھوڑا ہے، اگرچہ اسباب، اسباب ہیں، ارباب نہیں۔ رزق تو سب کا اللہ نے اپنے ذمہ رکھا ہے، لیکن ہماری نظر چونکہ اسباب سے بالاتر نہیں جاتی، اس لئے ہمیں رزق بذریعہ اسباب طلب کرنے کا حکم فرمایا ہے، اور رزق کو بظاہر مشروط بہ اسباب رکھا ہے، ورنہ اس کی مشیت کے بغیر نہ اسباب، اسباب ہیں اور نہ روزی کا حصول اسباب کا مرہونِ منّت ہے۔(۱)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) وما من حیوان یدب علی الأرض إلّا علی اللہ تعالٰی غذاؤہ ومعاشہ ۔۔۔ لما وعدہ سبحانہ وھو جل شأنہ لَا یخل بما وعد ۔۔۔ وحمل العباد علی التوکل فیہ ولَا یمنع المتوکل مباشرۃ الأسباب مع العلم بأنہ سبحانہ المسبب لھا۔ (رُوح المعانی ج:۱۲ ص:۲)۔
