# سب کچھ پہلے لکھا جاچکا ہے یا انسان کو بھی نیک اعمال کا اختیار ہے؟

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%b3%d8%a8-%da%a9%da%86%da%be-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%84%da%a9%da%be%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%da%86%da%a9%d8%a7-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a8%da%be/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

تقدیر کے بارے میں فرمائیں کہ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جاچکا ہے یا نیک کام کرنے کے لئے آدمی کو بھی کچھ اختیار ہے؟ اور آدمی کا اختیار کہاں تک ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور میں نے قرآن پاک کی یہ آیت (ایف اے) کی تفسیر القرآن (مصنفہ غلام احمد فریدی) صفحہ نمبر:۳۰۹ میں پڑھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ جس کو چاہے مٹادے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھے اور اس کے پاس لوحِ محفوظ ہے‘‘ (الرعد:۳۹)۔ آپ مجھے قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ کے خیالات اور اپنی رائے سے مفصل طور پر آگاہ فرماویں، تاکہ میری پریشانی دُور ہوسکے۔

## جواب (Answer)

ہر چیز پہلے سے لکھی جاچکی ہے، اور تمام اختیاری اُمور میں آدمی کو اِختیار بھی ہے۔ اختیار، تقدیر کے مقابل نہیں، بلکہ اس کے ماتحت ہے۔ یعنی تقدیر میں یوں لکھا ہے کہ آدمی اپنے قصد و اِرادے اور اِختیار سے فلاں فلاں وقت فلاں فلاں کام کرے گا۔ جنت و دوزخ کا فیصلہ واقعی ہوچکا ہے، مگر اس کا ظاہری سبب افعالِ اختیاریہ ہی کو بنایا گیا ہے۔ اور یہ جو فرمایا ’’اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھتا ہے‘‘ اس سے مراد تقدیرِ معلق ہے کہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، لیکن ’’اصل کتاب‘‘ میں تقدیرِ مبرم لکھی ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تقدیرِ معلق ہوئی۔ تقدیرِ مبرم یہ ہے کہ فلاں بیمار، فلاں دوا و علاج کرے گا تو بچ جائے گا، نہیں کرے گا تو مرجائے گا۔ لیکن وہ کرے گا یا نہیں؟ یہ بات ’’اصل کتاب‘‘ میں لکھی ہے، اور یہ تقدیرِ مبرم ہے۔(۱) ہمارے اکابر، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہی عقیدہ ہے جو میں نے لکھا اور یہی قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) وعین مقادیرھم تعیینا بما لَا یتأتی خلافہ بالنسبۃ لما فی علمہ القدیم المعبر عنہ بأم الکتاب أو معلقًا کان یکتب فی اللوح المحفوظ فلان یعیش عشرین سنۃ، ان حج وخمسۃ عشر ان لم یحج، وھٰذا ھو الذی یقبل المحو والْإثبات المذکورین فی قولہ تعالٰی: يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩ أی التی لَا محو فیھا ولَا اثبات فلا یقع فیھا إلّا ما یوافق ما أبرم فیھا کذا ذکرہ ابن حجر۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲)۔
