# رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کا وسیلہ

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b5%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d9%88%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%a1/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

دُعا کے وقت اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء اللہ کا واسطہ دینا جائز ہے؟ بحوالہ حدیث جواب سے نوازیں۔

## جواب (Answer)

صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۷۳ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دُعا منقول ہے:’’اَللّٰہُمَّ اِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ۔‘‘(۱)ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے، اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباس) کے ذریعے توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔‘‘اس حدیث سے ’’توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’توسل باولیاء اللہ‘‘ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے اسے بطورِ شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، اس مسئلے کی کچھ تفصیل میں اپنے مقالے ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں لکھ چکا ہوں، ملاحظہ فرمالیا جائے۔(۲)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) صحیح البخاری، أبواب الْإستسقاء، باب سؤال الناس الْإمام الْإستسقاء إذا قحطوا۔
- (۱) اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۶۳ تا ۷۶ (طبع مکتبہ لدھیانوی کراچی)۔
