# خیر اور شر سب خدا کی مخلوق ہے، لیکن شیطان شر کا سبب و ذریعہ ہے

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%ae%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1-%d8%b3%d8%a8-%d8%ae%d8%af%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ae%d9%84%d9%88%d9%82-%db%81%db%92%d8%8c-%d9%84%db%8c%da%a9%d9%86-%d8%b4%db%8c%d8%b7%d8%a7/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

اخبار جنگ کے ایک مضمون بعنوان ’’ایمان کی بنیادیں‘‘ میں صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ حضرت عمرؓ سے (ایک طویل حدیث میں) روایت ہے کہ: آنے والے شخص نے جو درحقیقت جبرائیل علیہ السلام تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور آخرت کو حق جانو، حق مانو، اور اس بات کو بھی مانو کہ دُنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، خدا کی طرف سے ہوتا ہے، چاہے وہ خیر ہو، چاہے شر ہو۔ (صحیح مسلم)۔ہم اب تک یہ سنتے آئے تھے کہ خیر خدا کی طرف سے اور شر شیطان کی طرف سے ہے۔ اب مذکورہ بالا حدیث پڑھ کر اِیمان ڈانواڈول ہو رہا ہے اور نہ جانے مجھ جیسے کتنے کمزور اِیمان والے بھی شش و پنج میں پڑگئے ہوں گے، کیونکہ جب شر بھی خدا کی طرف سے ہے تو پھر اِنسان مجرم کیوں؟

## جواب (Answer)

ہر چیز کی تخلیق خدا تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے، خواہ خیر ہو یا شر، شیطان شر کا خالق نہیں، بلکہ ذریعہ اور سبب ہے، اس لئے اگر شر کی نسبت شیطان کی طرف سبب کی حیثیت سے کی جائے تو غلط نہیں، لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ خیر کا خالق ہے، اسی طرح شیطان کو شر کا خالق سمجھا جائے تو یہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے،(۱) مسلمانوں کے نزدیک ہر چیز کا ایک ہی خالق ہے۔(۲)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) القدریۃ مجوس ھٰذہ الاُمّۃ حیث ذھبوا الٰی ان للعالم فاعلین، أحدھما سبحانہ وتعالٰی، وھو فاعل الخیر، والثانی شیطان وھو فاعل الشر۔ (شرح فقہ اکبر ص: ۶۱)۔ وعنہ أی ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: القدریۃ مجوس ھٰذہ الاُمّۃ، أی اُمّۃ الْإجابۃ، لأن قولھم أفعال العباد مخلوقۃ بقدرھم یشبہ قول المجوس القائلین بأن للعالم اِلٰھین: خالق الخیر وھو یزدان وخالق الشر وھو اھرمن أی الشیطان ۔۔۔الخ۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۱۴۹، کتاب القدر، طبع بمبئی ودہلی)۔
- (۲) ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ ٦٢ الزمر ٦٢۔ واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان لَا کما زعمت المعتزلۃ: ان العبد خالق لأفعالہ ۔۔۔الخ۔ (شرح عقائد ص:۷۵ طبع خیر کثیر)۔
