# توفیق کی دُعا مانگنے کی حقیقت

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%8f%d8%b9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

توفیق کی تشریح فرمادیجئے! دُعاؤں میں اکثر خدا سے دُعا کی جاتی ہے کہ اے اللہ! فلاں کام کرنے کی توفیق دے۔ مثال کے طور پر ایک شخص یہ دُعا کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے نماز پڑھنے کی توفیق دے، مگر وہ صرف دُعا ہی پر اکتفا کرتا ہے اور دُوسروں سے یہ کہتا ہے کہ: ’’جب توفیق ہوگی تب سے میں نماز شروع کروں گا‘‘ اس سلسلے میں وضاحت فرمادیجئے، تاکہ ہمارے بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا توفیق کا پردہ اُتر جائے۔

## جواب (Answer)

توفیق کے معنی ہیں: کسی کارِخیر کے اسباب من جانب اللہ مہیا ہوجانا،(۱)جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تندرستی عطا فرما رکھی ہے اور نماز پڑھنے سے کوئی مانع اس کے لئے موجود نہیں، اس کے باوجود وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ صرف توفیق کی دُعا کرتا ہے، وہ درحقیقت سچے دِل سے دُعا نہیں کرتا، بلکہ نعوذ باللہ! دُعا کا مذاق اُڑاتا ہے، ورنہ اگر وہ واقعی اِخلاص سے دُعا کرتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ نماز سے محروم رہتا۔

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) قولہ: التوفیق، ھو توجیہ الأسباب نحو المطلوب الخیر۔ (کشاف اصطلاح الفنون ج:۲ ص:۱۵۰۱)۔ التوفیق: جعل اللہ فعل عبادہ موافقًا بما یحبّہ ویرضاہ۔ (التعریفات للجرجانی ص:۵۲)۔
