# انسان کے حالات کا سبب اس کے اعمال ہیں

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%a8%d8%a8-%d8%a7%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84-%db%81%db%8c%da%ba/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

ایک انسان جس کو اپنی قسمت سے ہر موقع پر شکست ہو یعنی کوئی آدمی مفلس ونادار بھی ہو، غربت کی مار پڑی ہو، علم کا شوق ہو، لیکن علم اس کے نصیب میں نہ ہو، خوشی کم ہو، غم زیادہ، بیماریاں اس کا سایہ بن گئی ہوں، ماں باپ، بہن بھائی کی موجودگی میں محبت سے محروم ہو، رشتے دار بھی ملنا پسند نہ کرتے ہوں، محنت زیادہ کرے، پھل برائے نام ملے، ایسا انسان یہ کہنے پر مجبور ہو کہ یا اللہ! جیسا میں بدنصیب ہوں، ایسا تو کسی کو نہ بنا۔ اس کے یہ الفاظ اس کے حق میں کیسے ہیں؟ اگر وہ اپنی تقدیر پر صبر کرتا ہو اور صبر نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟

## جواب (Answer)

انسان کو جو ناگوار حالات پیش آتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اِنسان کی شامتِ اعمال کی وجہ سے آتے ہیں،(۱) ان میں اللہ تعالیٰ سے شکایت ظاہر ہے کہ بے جا ہے، آدمی کو اپنے اعمال کی دُرستی کرنی چاہئے۔ اور جو اُمور غیراختیاری طور پر پیش آتے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی تو ذاتی غرض ہوتی نہیں، بلکہ بندے ہی کی مصلحت ہوتی ہے، ان میں یہ سوچ کر صبر کرنا چاہئے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کو میری ہی کوئی بہتری اور بھلائی منظور ہے، اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں، ان کو بھی سوچنا چاہئے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی كُلِّ حَالٍ ‘‘ کہنا چاہئے۔(۲)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ الشوري ٣٠۔ وعن أبی موسی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یصیب عبدًا نکبۃ فما فوقھا أو دونھا إلّا بذنب، وما یعفو اللہ تعالٰی عنہ أکثر، وقرأ: وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص: ۱۳۶، باب عیادۃ المریض)۔
- (۲) عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا أخذ مضجعہ من اللیل قال: الحمد ﷲ الذی کفانی وآوانی ۔۔۔ فاجزل، الحمد ﷲ علٰی کل حال ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۱۲، باب الدعوات فی الأوقات، ابوداوٗد ج:۲ ص:۳۳۳ کتاب الأدب، باب ما یقال عند النوم)۔
