# انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور؟

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%aa%d9%86%d8%a7-%d9%85%d8%ac%d8%a8%d9%88%d8%b1%d8%9f/
- موضوع (Topic): تقدیر
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

میں نے پڑھا ہے کہ صوفیائے کرام کا ایک فلسفہ ہے: ’’فلسفہ جبر و قدر‘‘ جس کے مطابق انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ وہی ہوتا ہے جو کاتبِ تقدیر لکھ چکا ہوتا ہے، انسان کے اپنے بس میں کچھ نہیں ہوتا:ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیااس کے مطابق انسان آزاد ہوگیا کہ وہ غلط کام کرتا ہے اور یہ سمجھ لے کہ جو کر رہا ہے، وہ لکھا جاچکا ہے، اس کو کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کسی کام کا کرنا اور کسی سے بچنا اس کے بس میں نہیں۔ اور وہ آزمائش جن سے انسان بندھا ہوا ہے، اس سے آزاد ہوجائے۔

## جواب (Answer)

یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، یہ صوفیاء کا مسلک و عقیدہ نہیں، بلکہ اہلِ اسلام کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ انسان ایک حد تک بااختیار ہے اور ایک حد تک مجبور، لہٰذا نہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرح مختارِ مطلق ہے اور نہ اِینٹ پتھر کی طرح مجبورِ محض۔(۱)حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ: انسان مختار ہے یا مجبور؟ فرمایا: ایک پاؤں اُٹھاؤ! اس نے اُٹھایا، فرمایا: دُوسرا بھی اُٹھاؤ! اس نے کہا: حضرت! ایک پاؤں اُٹھا سکتا ہوں، بیک وقت دونوں تو نہیں اُٹھاسکتا۔ فرمایا: بس تم اتنے مختار ہو اور اتنے مجبور۔(۲)بعض لوگوں نے دیکھا کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد افعال کرتا ہے، انہوں نے اس کو قادرِ مطلق سمجھ لیا۔(۳) ایک دُوسری جماعت نے دیکھا کہ انسان بار بار اپنے ارادے و عزم پر شکست کھاتا ہے، انہوں نے سمجھا کہ انسان مجبورِ محض ہے۔(۴) مگر اہلِ سنت کے اکابر نے قرآن و سنت کی روشنی پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو فی الجملہ اختیار بھی دیا گیا اور ایک حد تک اس کو پابند بھی کیا گیا ہے۔ لہٰذا نہ یہ قادرِ مطلق ہے اور نہ مجبورِ محض۔ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے نیک و بد میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے، لہٰذا اس پر وہ مکلف بھی ہے اور مدح و ستائش اور عذاب و ثواب کا مستحق بھی۔(۵)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) ومجمل الأمر أنّ القدر وھو ما یقع من العبد المقدر فی الأزل من خیرہ وشرہ وحلوہ ومرہ کائن عنہ سبحانہ وتعالٰی بخلقہٖ وارادتہ ما شاء کان وما لَا فلا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۴۹)۔ واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح العقائد ص:۷۵ تا۸۱ طبع خیر کثیر)۔
- (۲) علم الکلام ص:۸۰ لمولَانا اِدریس کاندھلویؒ طبع مکتبہ عثمانیہ لَاہور۔
- (۳) زعمت المعتزلۃ ان العبد خالق لأفعالہ۔ (شرح العقائد ص:۷۵)۔
- (۴) زعمت الجبریۃ أنہ لَا فعل للعبد أصـلًا۔ (شرح العقائد ص:۸۱)۔
- (۵) واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد من الکفر والْإیمان والطاعۃ والعصیان ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔ الخ۔ (شرح العقائد ص:۷۵،۸۱)۔
