# اللہ، رسول کی اطاعت سے انبیاء کی معیت نصیب ہوگی، ان کا درجہ نہیں!

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81%d8%8c-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b7%d8%a7%d8%b9%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d9%86%d8%b5/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

کیا آپ مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ کی پوری تشریح بیان فرمائیں گے؟:ﵟ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَٰٓئِكَ رَفِيقٗا ﵞ (النساء ٦٩)بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں، اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔‘‘ اور اس کی تشریح یہ بتلاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبی، صدیق، شہید اور صالح کا درجہ مل سکتا ہے۔

## جواب (Answer)

یہ تشریح دو وجہ سے غلط ہے: ایک تویہ کہ نبوّت ایسی چیز نہیں جو اِنسان کو کسب و محنت اور اطاعت و عبادت سے مل جائے، دُوسرے اس لئے کہ اس سے لازم آئے گا کہ اسلام کی چودہ صدیوں میں کسی کو بھی اطاعتِ کاملہ کی توفیق نہ ہوئی۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کوشاں رہیں گے، گو ان کے اعمال کم درجے کے ہوں، ان کو قیامت کے دن انبیاء کرامؑ، صدیقین، شہداء اور مقبولانِ الٰہی کی معیت نصیب ہوگی۔(۱)

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) أی من عمل بما أمرہ اللہ بہ ورسولہ، وترک ما نہاہ اللہ عنہ ورسولہ، فان اللہ عزّ وجلّ یسکنہ دار کرامتہ ویجعلہ مرافقًا للأنبیاء ثم لمن بعدھم فی الرتبۃ وھم الصدیقون، ثم الشھداء ثم عموم المؤمنین وھم الصالحون ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۳۱۹)۔
