# اسباب کا اِختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں

- URL: https://shaheedeislam.com/%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%90%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/
- موضوع (Topic): مسلمانوں کے بنیادی عقائد
- Answered by: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ (Maulana Muhammad Yusuf Ludhianvi Shaheed)
- Book: آپ کے مسائل اور ان کا حل (Aap ke Masail aur un ka Hal)

## سوال (Question)

کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر کوئی آدمی کوئی قدم اٹھائے اور بیماری کے حملہ آور ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اِختیار کرنا کیا توکل کے خلاف تو نہیں؟ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا صحیح مفہوم سمجھادیجئے۔

## جواب (Answer)

توکل کے معنی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے ہیں،(۱) اور بھروسہ کا مطلب یہ ہے کہ کام اسباب سے بنتا ہوا نہ دیکھے بلکہ یوں سمجھے کہ اسباب کے اندر مشیتِ الٰہی کی روح کارفرما ہے، اس کے بغیر تمام اسباب بیکار ہیں:عقل در اسباب می دارد نظرعشق می گوید مسبّب رانگرمطلقاً ترکِ اسباب کا نام توکل نہیں، بلکہ اس بارے میں تفصیل ہے کہ جو اَسباب ناجائز اور غیرمشروع ہوں ان کو توکلاً علی اللہ بالکل ترک کردے، خواہ فوراً یا تدریجاً، اور جو اَسباب مشروع اور جائز ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ ہے:۱:۔ وہ اسباب جن پر مسبّب کا مرتب ہونا قطعی و یقینی ہے، جیسے کھانا کھانا، ان اسباب کا اختیار کرنا فرض ہے اور ان کا ترک کرنا حرام ہے۔

۲:۔ ظنی اسباب: جیسے بیماریوں کی دوا دارو، اس کا حکم یہ ہے کہ ہم ایسے کمزوروں کو ان اسباب کا ترک کرنا بھی جائز نہیں، البتہ جو حضرات قوتِ ایمانی اور قوتِ توکل میں مضبوط ہوں، ان کے لئے اسباب ظنّیہ کا ترک جائز ہے۔

۳:۔ تیسرے وہمی اور مشکوک اسباب: (یعنی جن کے اختیار کرنے میں شک ہو کہ مفید ہوں گے یا نہیں) ان کا اختیار کرنا سب کے لئے خلافِ توکل ہے، گو بعض صورتوں میں جائز ہے، جیسے جھاڑ پھونک وغیرہ۔(۲)(فتاویٰ ھندیۃ ج:۵ ص:۳۵۵ طبع کوئٹہ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: بوادر النوادر ص:۲۶۷، ۲۶۸)۔

## حوالہ جات (References)

The numbers (۱), (۲)… in the answer refer to these references.

- (۱) التوکل: ھو الْإعتماد علی اللہ وعدم الْإلتفات الٰی ما عداہ، قال السید: ھو الثقۃ بما عند اللہ والیأس عما فی أیدی الناس۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۱)۔
- (۲) الأسباب المزیلۃ للضرر تنقسم إلٰی مقطوع بہ ۔۔۔ وإلٰی مظنون ۔۔۔ وإلی موہوم ۔۔۔ اما المقطوع بہ فلیس ترکہ من التوکل، بل ترک حرام عند خوف الموت واما الموھوم فشرط التوکل ترکہ ۔۔۔ واما الدرجۃ المتوسطۃ وھی المظنونۃ ۔۔۔ ففعلہ لیس مناقضًا للتوکل ۔۔۔
