سوانح حیات

Uncategorized
561
0

        مشرقی پنجاب کے ضلع لدھیانہ اور ضلع جالندھر کے درمیان دریائے ستلج حد فاصل کا کام دیتا تھا۔ ضلع لدھیانہ کے شمال مشرقی کونے میں دریائے ستلج کے درمیان ایک چھوٹی سی جزیرہ نما بستی ”عیسیٰ پور“ کے نام سے آباد تھی، جو ہر برسات میں گرنے اور بننے کی خوگر تھی، یہ مصنف کا آبائی وطن تھا۔ تاریخِ ولادت محفوظ نہیں، اندازہ یہ ہے کہ سن ولادت ۱۳۵۱ھ – ۱۹۳۲ء ہوگا۔

والدہ ماجدہ کا انتقال شیرخوارگی کے زمانے میں ہوگیا تھا۔ والد ماجد الحاج چوہدری اللہ بخش مرحوم و مغفور، حضرتِ اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہسے بیعت اور ذاکر و شاغل اور زیرک و عاقل بزرگ تھے۔ دیہات میں پنچائتی فیصلے نمٹانے میں ان کا شہرہ تھا، قریب کی بستی موضع جسووال میں والد صاحب کے پیربھائی حضرت قاری ولی محمد صاحب ایک خضر صفت بزرگ تھے۔ قرآنِ کریم کی تعلیم انہی سے ہوئی، پرائمری کے بعد ۱۳ برس کی عمر ہوگی کہ لدھیانہ کے مدرسہ محمودیہ اللہ والا میں داخل ہوئے، یہاں حضرت مولانا امداداللہ صاحب حصاروی سے فارسی پڑھی، اگلے سال مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے مدرسہ انوریہ میں داخلہ لیا، دو سال یہاں مولانا انیس الرحمن، مولانا لطف اللہ شہیدو دیگر اساتذہ سے ابتدائی عربی کی کتابیں ہوئیں۔ ۲۷/رمضان ۱۳۶۶ھ کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا، اور مشرقی پنجاب سے مسلم آبادی کے انخلاء کا ہنگامہ رستاخیز پیش آیا۔ مہینوں کی خانہ بدوشی کے بعد چک ۳۳۵ڈبلیوبی ضلع ملتان میں قیام ہوا۔ وہاں سے قریب منڈی جہانیاں میں چوہدری اللہ دادخان مرحوم کی تعمیر کردہ جامع مسجد میں مدرسہ رحمانیہ تھا، وہاں حضرت مولانا غلام محمد لدھیانوی اور دیگر اساتذہ سے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، ایک سال مدرسہ قاسم العلوم فقیروالی ضلع بہاول نگر میں حضرت مولانا عبداللہ رائے پوری، ان کے برادر خورد حضرت مولانا لطف اللہ شہید رائے پوریاور حضرت مولانا مفتی عبداللطیف صاحب مدظلہ العالی سے متوسطات کی تعلیم ہوئی، اس کے بعد چار سال جامعہ خیرالمدارس ملتان میں تعلیم ہوئی۔ ۷۲-۱۳۷۳ھ میں مشکوٰة شریف ہوئی، ۷۳-۱۳۷۴ھ میں دورہٴ حدیث اور دورہٴ حدیث کے بعد ۷۴-۱۳۷۵ھ میں تکمیل کی۔ خیرالمدارس میں درج ذیل اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے:

        حضرتِ اقدس اُستاذ العلماء مولانا خیر محمد جالندھری قدس سرہ(بانی خیرالمدارس و خلیفہ مجاز حضرتِ اقدس حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی)

        حضرت مولانا عبدالشکور کامل پوری

         حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ ڈیروی

        حضرت مولانا محمد نور صاحب

         حضرت مولانا غلام حسین صاحب

         حضرت مولانا جمال الدین صاحب

         حضرت مولانا علامہ محمد شریف کشمیری۔

        تعلیم سے فراغت کے سال حضرتِ اقدس مولانا خیرمحمد جالندھریسے سلسلہٴ اشرفیہ، امدادیہ، صابریہ میں بیعت کی اور علومِ ظاہری کے ساتھ تعمیرِ باطن میں ان کے انوار و خیرات سے استفادہ کیا۔

        تعلیم سے فراغت پر حضرت مرشد کے حکم سے روشن والا ضلع لائل پور کے مدرسہ میں تدریس کے لئے تقرر ہوا، اور دو سال میں وہاں ابتدائی عربی سے لے کر مشکوٰة شریف تک تمام کتابیں پڑھانے کی نوبت آئی۔ دو سال بعد حضرت مرشد نے ماموں کانجن، ضلع لائل پور بھیج دیا، وہاں حضرت الاستاذ مولانا محمد شفیع ہوشیارپوری (حال مدرّس دارالعلوم کورنگی) کی معیت میں قریباً دس سال قیام رہا۔

        تعلیم و تدریس کے ساتھ لکھنے کا شوق شروع ہی سے تھا، مشکوٰة شریف پڑھنے کے زمانے میں طبع زاد مشکوٰة التقریر النجیح کے نام سے تالیف کی تھی۔

        سب سے پہلا مضمون مولانا عبدالماجد دریابادی کے ردّ میں لکھا، موصوف نے ”صدقِ جدید“ میں ایک شذرہ قادیانیوں کی حمایت میں لکھا تھا، اس کے جواب میں ماہنامہ ”دارالعلوم“ دیوبند میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، لیکن اس سے تشفی نہیں ہوئی، اس لئے برادرم مستری ذکراللہ کے ایما پر مرحوم کی تردید میں مضمون لکھا جو ”دارالعلوم“ ہی کی دو قسطوں میں شائع ہوا۔ ماہنامہ دارالعلوم کے ایڈیٹر مولانا ازہر شاہ قیصر کی فرمائش پر ”فتنہٴ انکارِ حدیث“ پر ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے علاوہ ہفت روزہ ”ترجمانِ اسلام“ میں بھی شائع ہوا، جمعیت علمائے اسلام سرگودھا کے احباب نے اس کو کتاب کی شکل میں شائع کیا۔

        فیلڈ مارشل ایوب خان ۱۹۶۲ء میں بی ڈی نظام کے تحت ملک کے صدر بنے تو پاکستان کے ”اکبرِ اعظم“ بننے کے خواب دیکھنے لگے، ڈاکٹر فضل الرحمن اور اس کے رفقاء کو ابوالفضل اور فیضی کا کردار ادا کرنے کے لئے بلایا گیا، ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی اسلام پر تابڑ توڑ حملے شروع کردئیے، ان کے مضامین اخبارات کے علاوہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے ماہنامہ ”فکر و نظر“ میں شائع ہو رہے تھے۔ حضرتِ اقدس شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہکی تمام تر توجہ ”فضل الرحمانی فتنہ“کے کچلنے میں لگی ہوئی تھی، اور ماہنامہ ”بینات“ کراچی میں اس فتنے کے خلاف جنگ کا بگل بجایا جاچکا تھا۔ ”بینات“ میں ڈاکٹر صاحب کے جو اقتباسات شائع ہو رہے تھے ان کی روشنی میں ایک مفصل مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: ”ڈاکٹر فضل الرحمن کا تحقیقاتی فلسفہ اور اس کے بنیادی اُصول“، یہ مضمون ”بینات“ کو تصحیح کے لئے بھیجا، تو حضرتِ اقدس بنورینے کراچی طلب فرمایا، اور حکم فرمایا کہ ماموں کانجن سے ایک سال کی رُخصت لے کر کراچی آجاوٴ۔ یہ ۱۹۶۶ء کا واقعہ ہے، چنانچہ حکم کی تعمیل کی، سال ختم ہوا تو حکم فرمایا کہ یہاں مستقل قیام کرو۔ بعض وجوہ سے ان دنوں کراچی میں مستقل قیام مشکل تھا، جب معذرت پیش کی تو فرمایا کہ کم سے کم ہر مہینے دس دن ”بینات“ کے لئے دیا کرو۔ ہر مہینے دس دن کا ناغہ ماموں کانجن کے حضرات نے قبول نہ کیا، اور جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا حبیب اللہ رشیدی مرحوم و مغفور نے اس کو قبول فرمالیا۔ چنانچہ تدریس کے لئے ماموں کانجن سے ساہیوال جامعہ رشیدیہ میں تقرر ہوگیا، یہ سلسلہ ۱۹۷۴ء تک رہا، ۱۹۷۴ء میں حضرتِ اقدس بنورینے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی امارت و صدارت کی ذمہ داری قبول فرمائی تو جامعہ رشیدیہ کے بزرگوں سے فرمایا کہ ان کو جامعہ رشیدیہ سے ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان آنے کی اجازت دی جائے۔ ان حضرات نے بادلِ نخواستہ اس کی اجازت دے دی، اس طرح جامعہ رشیدیہ سے تدریسی تعلق ختم ہوا۔ بیس دن مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں اور دس دن کراچی میں گزارنے کا سلسلہ حضرتکی وفات (۳/ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ، ۱۷/اکتوبر ۱۹۷۷ء) تک جاری رہا۔ حضرت بنوریکا ہمیشہ اصرار رہا کہ مستقل قیام کراچی میں رکھیں، ان کی وفات کے بعد ان کی خواہش کی تکمیل ہوئی۔ اس طرح ۱۹۶۶ء سے آج تک ”بینات“ کی خدمت جاری ہے اور رَبّ کریم کے فضل و احسان سے توقع ہے کہ مرتے دَم تک جاری رہے گی۔

        مئی ۱۹۷۸ء میں جناب میر شکیل الرحمن صاحب نے جنگ کا اسلامی صفحہ ”اقرأ“ جاری فرمایا تو ان کے اصرار اور مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی اور مولانا مفتی احمدالرحمن کی تاکید و فرمائش پر اس سے منسلک ہوئے اور دیگر مضامین کے علاوہ ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کا مستقل سلسلہ شروع کیا۔ جس کے ذریعے بلامبالغہ لاکھوں مسائل کے جوابات، کچھ اخبارات کے ذریعہ اور کچھ نجی طور پر لکھنے کی نوبت آئی، الحمدللہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

        بیعت کا تعلق حضرتِ اقدس مولانا خیرمحمد جالندھری نوّر اللہ مرقدہسے تھا، ان کی وفات (۲۱/شعبان ۱۳۹۰ھ، ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۰ء) کے بعد حضرت قطب العالم ریحانة العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی مہاجرِ مدنی نوّر اللہ مرقدہ(المتوفی ۲۴/مئی ۱۹۸۲ء، ۲۹/رجب ۱۴۰۲ھ) سے رُجوع کیا اور حضرتِ شیخ نے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، اسی کے ساتھ عارف باللہ حضرتِ اقدس ڈاکٹر عبدالحی صاحب عارفی نوّر اللہ مرقدہ(المتوفی ۱۵/رجب ۱۴۰۶ھ) نے بھی سندِ اجازت و خلافت عطا فرمائی۔

        بینات، ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ اقرأ ڈائجسٹ کے علاوہ ملک کے مشہور علمی رسائل میں شائع شدہ سیکڑوں مضامین کے علاوہ چند کتابیں بھی تالیف کیں، جن کی فہرست درج ذیل ہے:

        ۱اُردو ترجمہ خاتم النبیین، از علامہ محمد انور شاہ کشمیری۔

        ۲اُردو ترجمہ حجة الوداع وعمرات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، از حضرت شیخ مولانا محمد زکریا مہاجرِ مدنی۔

        ۳عہدِ نبوت کے ماہ و سال (ترجمہ بذل القوة فی سنی النبوة، از مخدوم محمد ہاشم سندھی

        ۴سیرتِ عمر بن عبدالعزیز(عربی سے ترجمہ)۔

        ۵سوانح حیات حضرت شیخ الحدیث۔

        ۶اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم، دو جلدیں۔

        ۷عصرِ حاضر حدیثِ نبوی کے آئینہ میں۔

        ۸شہاب مبین لرجم الشیاطین۔

        ۹تنقید اور حقِ تنقید۔

        ۱۰آپ کے مسائل اور انکا حل ۔(دس جلدیں)

        ۱۱شخصیات و تاثرات۔ (دو جلدیں)

        ۱۲تحفہ قادیانیت۔(چھ جلدیں)

        ۱۳دور حاضر کے تجد د پسندوں کے افکار۔

        ۱۴دنیا کی حقیقت ۔(دو جلدیں)

        ۱۵دعوت و تبلیغ کے چھ بنیادی اصول۔

        ۱۶اصلاحی مواعظ۔ (سات جلدیں)

        ۱۷شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم ۔(بولتے حقائق)

        ۱۸ذریعة الوصول الی جناب الرسول ﷺ

        ۱۹حسن یوسف ۔(مقالات کا مجموعہ)

        ۲۰رسائل یوسفی۔

        ۱۲ارباب اقتدار سے کھری کھری باتیں۔

        ۲۲اطیب النعم فی مدح سید العرب والعجم

        ۲۳ترجمہ فرمان علی پر ایک نظر۔

        ۲۴مرزائی اور تعمیرِ مسجد۔

        ۲۵قادیانیوں کو دعوتِ اسلام۔

        ۲۶سر ظفراللہ خان کو دعوتِ اسلام۔

        ۲۷قادیانی جنازہ۔

        ۲۸قادیانی مردہ۔

        ۲۹قادیانی ذبیحہ۔

        ۳۰قادیانی کلمہ۔

        ۱۳قادیانی مباہلہ (مرزا طاہر کے جواب میں)۔

        ۲۳قادیانیوں اور دُوسرے غیرمسلموں کا فرق۔

        ۳۳مرزا قادیانی اپنی تحریروں کے آئینہ میں۔

        ۳۴حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام، اکابرِ اُمت کی نظر میں۔

        ۳۵نزولِ عیسیٰ علیہ السلام۔

        ۳۶حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی۔

        ۳۷المہدی والمسیح۔

        ۳۸غدارِ پاکستان، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی۔

        ۳۹ربوہ سے تل ابیب تک۔

 صفر ۱۳ھ مطابق مئی ۲۰۰۰ بروز جمعرات علم و عمل کا یہ کوہ گراں اور شہادت کا آرزومند ،تھکا ماندہ ستر سالہ مسافر صبح دس بجے گھر سے ختم نبوت دفتر آتے ہوئے جام شہادت نوش فرما کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگیا۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔

Facebook Comments

Comments are closed.