متفرق مسائل ۴

جلد نهم
142
0

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

س… آپ کو زحمت دے رہا ہوں، روزنامہ “نوائے وقت” اتوار ۱۰/جون ۱۹۹۰ء میں “نورِ بصیرت” کے مستقل عنوان کے ذیل میں میاں عبدالرشید صاحب نے “باز اور بڑھیا” کے عنوان سے ایک اقتباس تحریر کیا (تراشہ ارسالِ خدمت ہے)، جس میں احقر کے علم کے مطابق مصنف نے حدیثِ نبوی کی نفی، جہاد بالسیف اور جہاد باللسان کے بارے میں اپنی آراء اور مسواک (سنتِ رسول) کے بارے میں ہرزہ سرائی سے کام لیا ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ میاں عبدالرشید صاحب کی کوتاہ علمی اور ہرزہ سرائی کا مدلل جواب عنایت فرمائیں تاکہ احقر اسے روزنامہ ہذا میں چھپواکر بہت سارے مسلمانوں کے شکوک، جو کہ مصنف نے تحریر ہذا کے ذریعے پیدا کئے ہیں، دُور کرسکے، اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عنایت فرمائیں۔

          “نورِ بصیرت” کے عنوان سے لکھا ہوا میاں عبدالرشید کا متذکرہ بالا مضمون یہ ہے:

“باز اور بڑھیا”

          “رومی نے ایک حکایت لکھی ہے، کسی بڑھیا کے مکان کی چھت پر ایک باز آکے بیٹھ گیا اور اتفاق سے بڑھیا کے ہاتھ آگیا، بڑھیا نے اسے پیار کرتے کرتے اس کی چونچ کو دیکھا تو بولی: ہائے افسوس! چونچ اتنی بڑھ گئی ہے اور آگے سے ٹیڑھی بھی ہوگئی ہے۔ پھر اس کے پنجے دیکھے تو اسے اور افسوس ہوا کہ ناخن اتنے بڑھ گئے ہیں۔ بڑھیا نے قینچی لی، پہلے باز کی بڑھی ہوئی چونچ کاٹی، پھر اس کے پنجے ٹھیک کئے، پھر اس کے پَر کاٹ کر دُرست کئے، اس کے بعد خوشی سے بولی: اب یہ کتنا پیارا لگتا ہے!

          رومی اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بعض لوگ اچھی بھلی چیزوں کو نکما اور بے کار بنادیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس کی اصلاح کردی ہے۔ یہی کچھ ہمارے اسلام سے کیا جارہا ہے۔ ایک طرف، اس کے اندر سے جہاد اور شوقِ شہادت نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دُوسری طرف، رسوم پر زور دے کر اعمال کو رُوح سے بے گانہ بنایا جارہا ہے، جس سے مسلمانوں میں تنگ نظری، تعصب اور فرقہ پرستی پھیل رہی ہے۔ تیسری طرف، مسلمانوں کو قصے کہانیوں میں اُلجھایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ حقیقت پسندی سے دُور ہو رہے ہیں۔

          ایک فوجی افسر نے مجھے بتایا کہ ان کے دفتر کے ساتھ جو مسجد ہے، وہاں نمازِ ظہر کے بعد ایک کتاب پڑھ کر سنائی جاتی ہے، ایک دن ابنِ ماجہ کے حوالے سے یہ “حدیث” بیان کی گئی کہ دو اشخاص تھے، ان میں سے ایک نے شہادت کی موت پائی، دُوسرا طبعی موت مرا، کسی نے خواب میں دیکھا کہ طبعی موت مرنے والا شہید سے کئی برس پہلے جنت میں داخل ہوا۔ پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ چونکہ طبعی موت مرنے والے نے نمازیں زیادہ پڑھی تھیں، اس لئے اسے شہید پر فوقیت ملی۔ ہے ماننے والی بات؟ کیا یہ بات اسلام کی تعلیم کے سراسر منافی نہیں؟ متفقہ مسئلہ ہے کہ شہادت کی موت افضل ترین موت ہے، شہید بغیر کسی حساب کتاب کے سیدھا جنت میں جاتا ہے، کیا یہ فوجیوں کے اندر سے شہادت کا شوق ختم کرنے کی کوشش تو نہیں؟

          سورة الصف کی چوتھی آیت ہے (ترجمہ): “اللہ تعالیٰ فی الواقع انہیں محبوب رکھتے ہیں جو ان کی راہ میں صف بستہ لڑیں، جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔”

          یہ واضح طور پر لڑائی کے بارے میں ہے۔

          لیکن اسی افسر نے مجھے بتایا کہ وہاں اس آیت کو چھوڑ کر آیہ:۱۱ کی تفسیر یوں بیان کی گئی ہے: “جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد نہیں بلکہ) کوشش کرتے ہیں اپنے اموال سے اپنی جانوں سے۔” ظاہر ہے کہ کوشش سے مراد تبلیغی دوروں پر جانا ہے۔

          ایک اور فوجی افسر نے واقعہ سنایا کہ بہاول پور کی طرف ان کے تین ٹینک بڑی نہر میں گرگئے جوانوں نے تلاش کی، دو مل گئے، تیسرا نہ ملا۔ شام کو کرنل نے جو ماشاء اللہ اسی پرہیزگار جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، جوانوں کا اکٹھا کیا اور کہا: معلوم ہوتا ہے کہ آج تم نے مسواک ٹھیک طرح سے نہیں کی تھی، اس وجہ سے ٹینک نہیں ملا، کل صبح مسواک اچھی طرح سے کرکے آنا۔ دُوسرے دن جوان اچھی طرح سے مسواک کرکے نہر میں اُترے تو تیسرا ٹینک بھی مل گیا۔”

ج… میاں صاحب نے پیر رُومی کے حوالے سے “باز اور بڑھیا” کی جو تمثیلی حکایت نقل کی ہے وہ بھی بجا، اور اس کو نقل کرکے میاں صاحب کا یہ ارشاد بھی سر آنکھوں پر کہ:

          “یہی کچھ ہمارے اسلام کے ساتھ کیا جارہا ہے۔”

          چنانچہ میاں صاحب کا زیرِ نظر مضمون بھی اسی کی اچھی مثال ہے، جس میں متعدّد پہلووٴں سے “روایتی بڑھیا” کا کردار ادا کیا گیا ہے۔

          اوّل:… ایک اُمتی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تعلق ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی سنتے ہی اس کا سر جھک جائے، اور اس کے لئے کسی چوں و چرا کی گنجائش نہ رہ جائے، اس لئے کہ ایک اُمتی کے لئے، اگر وہ واقعتا اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی سمجھتا ہے، سب سے آخری فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم و ارشاد کے بعد نہ کسی چوں و چرا کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف اپیل ہوسکتی ہے، قرآنِ کریم کا ارشاد ہے:

          “فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُوٴْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔”              (النساء:۶۵)

          ترجمہ:… “پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کروالیں، پھر آپ کے اس تصفیے سے اپنے دِلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورے طور پر تسلیم کرلیں۔”                     (ترجمہ حضرت تھانوی)

          لیکن ارشادِ ربانی کے مطابق، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سن کر میاں صاحب کا سر اس کے سامنے نہیں جھکتا، بلکہ وہ اس کو: “جوشِ جہاد اور شوقِ شہادت نکالنے کی کوشش اور رسوم پر زور دے کر اعمال کو رُوح سے بے گانہ بنانے کی غلطی” سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اس حدیثِ نبوی اور ارشادِ مصطفوی (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰة وسلام) کو “اسلام کی بڑھتی ہوئی چونچ” سمجھ کر روایتی بڑھیا کی طرح فوراً اسے مقراضِ قلم سے کاٹ ڈالتے ہیں، اور اسلام کی قطع و برید کا یہ عمل ان کے خیال میں “نورِ بصیرت” کہلاتا ہے۔ حالانکہ روایتی بڑھیا کی طرح نہ انہیں یہ معلوم ہے کہ اس حدیث شریف کا مدعا کیا ہے؟ نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ جذبہٴ جہاد اور شوقِ شہادت کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ وہ اس حدیث شریف کو جذبہٴ جہاد اور شوقِ شہادت کے منافی سمجھتے ہیں، اور انہیں یہ حدیث شریف اسی طرح فالتو نظر آتی ہے، جس طرح بڑھیا کو باز کی چونچ اور بڑھے ہوئے ناخن فالتو نظر آئے تھے۔

          دوم:… میاں صاحب ایک فوجی افسر کے حوالے سے ہمیں بتاتے ہیں کہ: “ان کی مسجد میں ظہر کے بعد ایک کتاب پڑھ کر سنائی جاتی ہے، ایک دن وہاں “ابنِ ماجہ” کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی گئی۔”

          یہ کتاب جو ظہر کے بعد پڑھ کر سنائی جارہی تھی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرِ مدنی نوّر اللہ مرقدہ کی کتاب “فضائلِ نماز” ہے، اور اس میں یہ “حدیث” صرف ابنِ ماجہ کے حوالے سے نہیں ذکر کی گئی، بلکہ اس کے حوالے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا نام درج ہے:

          ۱:… موٴطا امام مالک ۲:… مسندِ احمد                        ۳:…ابوداوٴد

          ۴:… نسائی                            ۵:…ابنِ ماجہ                          ۶:… صحیح ابنِ خزیمہ

          ۷:… صحیح ابنِ حبان                   ۸:… مستدرک حاکم         ۹:…بیہقی

          ۱۰:… ترغیب و ترہیب منذری                                               ۱۱:…درِ منثور

          لیکن ان کے فوجی افسر نے بتایا کہ ابنِ ماجہ کے حوالے سے یہ “حدیث” بیان کی گئی اور میاں صاحب نے بغیر تحقیق اس کو اپنے کالم میں گھسیٹ دیا۔ شاید میاں صاحب نے روایتی بڑھیا کی طرح قرآنِ کریم کی درج ذیل آیت کو بھی (نعوذ باللہ) فالتو سمجھا:

          “یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنْ جَآئکُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا أَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا مبِجَھَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ۔”

                                       (الحجرات:۶)

          ترجمہ:… “اے ایمان والو! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، کبھی کسی قوم کو نادانی سے ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          چنانچہ میاں صاحب نے بغیر تحقیق کے اس خبر پر اعتماد کرلیا اور حدیثِ نبوی کو اپنی ناروا تنقید کے نشانے پر رکھ لیا۔

          سوم:… یہ “حدیث” جو میاں صاحب کے فوجی افسر کے بقول ابنِ ماجہ کے حوالے سے پڑھی جارہی تھی، مندرجہ ذیل صحابہ کرام سے مروی ہے:

          ۱:… حضرت سعد بن ابی وقاص:

          موٴطا امام مالک ص:۱۶۱، مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۷۰، صحیح ابنِ خزیمہ ج:۱ ص:۱۶۰، مستدرک حاکم ج:۱ ص:۲۰۰۔

          امام حاکم اس کو اپنی سند کے ساتھ نقل کرکے فرماتے ہیں: صحیح الاسناد۔ امام ذہبی تلخیص مستدرک میں فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ امام نورالدین ہیثمی اس کو مسند امام احمد اور طبرانی کے حوالے سے نقل کرکے فرماتے ہیں: مسندِ احمد کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔

          ۲:… حضرت عبید بن خالد:

          مسندِ احمد ج:۳ ص:۵۰۰، ج:۴ ص:۲۱۹، ابوداوٴد ج:۱ ص:۳۴۲، نسائی ج:۱ ص:۲۸۱، سننِ کبریٰ بیہقی ج:۳ ص:۳۷۱، مصباح السنة ج:۳ ص:۴۴۲، مشکوٰة ص:۴۵۱۔ یہ حدیث بھی صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

          ۳:… حضرت طلحہ بن عبیداللہ:

          مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۶۳، ابنِ ماجہ ص:۲۸۱، سننِ کبریٰ بیہقی ج:۳ ص:۳۷۲، مسندِ ابویعلیٰ ج:۲ ص:۹، صحیح ابنِ حبان ج:۵ ص:۲۷۷، مسندِ بزار (کشف الاستار عن زوائد البزار ج:۴ ص:۲۲۷)۔

          امام نورالدین ہیثمی اس حدیث کو مسندِ احمد، مسندِ ابویعلیٰ اور مسندِ بزار کے حوالے سے نقل کرکے فرماتے ہیں: ان تمام کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔

(مجمع الزوائد ج:۱۰ ص:۲۰۴)

          ۴:… حضرت ابوہریرہ:

          مسندِ احمد ج:۲ ص:۳۳۳۔

          امام ہیثمی فرماتے ہیں: باسناد حسن۔ (مجمع الزوائد ج:۱۰ ص:۲۰۴) اور یہی بات شیخ نے امام منذری سے بھی نقل کی۔

          ۵:… حضرت عبداللہ بن شداد:

          مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۶۳، مشکوٰة ص:۴۵۱، مجمع الزوائد ج:۱۰ ص:۲۰۴ (حضرت شیخ نے بھی ان تمام احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے)۔

 

          آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ حدیث متعدّد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے، ائمہٴ حدیث نے اس کی تخریج فرمائی ہے اور اس کے راویوں کی توثیق و تعدیل فرمائی ہے۔ لیکن ہمارے میاں صاحب کے نزدیک شاید حضراتِ محدثین کی جرح و تعدیل اور تصحیح و تحسین بھی ایک فالتو چیز ہے اور وہ اسے روایتی بڑھیا کی طرح کاٹ دینا چاہتے ہیں۔

          چہارم:… صحابہ کرام کے دور سے آج تک اہلِ علم اس حدیث کو سنتے سناتے اور پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں، لیکن کسی کے گوشہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ اس سے جذبہٴ جہاد اور شوقِ شہادت کی نفی ہوتی ہے، البتہ اس حدیث سے نماز کی فضیلت اور طاعت و عبادت کے ساتھ طویل عمر ملنے کی سعادت پر ضرور استدلال کیا گیا، چنانچہ صاحبِ مصابیح السنة اور صاحبِ مشکوٰة نے اس حدیث کو “باب استحباب المال والعمر للطاعة” کے تحت ذکر کیا ہے، امام نورالدین ہیثمی نے اسے ایک بار “نماز کی فضیلت” کے بیان میں اور دُوسری بار “باب فیمن طال عمرہ من المسلمین” کے ذیل میں ذکر کیا ہے، صحیح ابنِ حبان میں یہ حدیث درج ذیل عنوان کے تحت ذکر کی گئی ہے:

          “ذکر البیان بأن من طال عمرہ وحسن عملہ قد یفوق الشھید فی سبیل الله تبارک وتعالیٰ۔”

          ترجمہ:… “اس اَمر کا بیان کہ جس شخص کی طویل عمر ہو اور عمل اچھا ہو، وہ کبھی شہید فی سبیل اللہ سے بھی فوقیت لے جاتا ہے۔”

          الغرض! جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت فی سبیل اللہ کے بے شمار فضائل ہیں، لیکن یہ کون نہیں جانتا کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے اور نماز فرضِ عین ہے، نماز کے تارک پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے، اور نماز ہی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ دین کا ستون ہے، جس نے اس کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے اس کو گرایا اس نے دین کو ڈھادیا۔ چنانچہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین کا سب سے بڑا اور سب سے اہم رُکن نماز ہے، نماز کے ان فضائل کو ذکر کرنے سے یہ کیسے لازم آیا کہ جذبہٴ جہاد اور شوقِ شہادت کو ختم کیا جارہا ہے؟ اور جو شخص نماز ہی نہیں پڑھتا (جیسا کہ ہمارے معاشرے کی اکثریت کا حال ہے، جن میں فوجی افسر اور جوان بھی شامل ہیں) وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کیا جہاد کرے گا؟ اور اس کے دِل میں کیا شوقِ شہادت ہوگا؟ لیکن میاں صاحب کے خیال میں شاید جذبہٴ جہاد اور شوقِ شہادت کے مقابلے میں نماز، روزہ اور دین کے دیگر اعمال و شعائر بھی فالتو چیز ہیں۔ اس لئے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی کسی چیز کی فضیلت کو شہادت فی سبیل اللہ سے بڑھ کر فرمائیں تو میاں صاحب اس کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں، اب انصاف فرمائیے کہ اسلام کے ساتھی روایتی بڑھیا کا کردار کون ادا کر رہا ہے․․․؟

          میاں صاحب سورة الصف کی چوتھی آیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے فوجی افسر کے حوالے سے ہمیں بتاتے ہیں کہ:

          “وہاں اس آیت کو چھوڑ کر آیت نمبر۱۱ کی تفسیر یوں بیان کی گئی کہ: جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد نہیں بلکہ) کوشش کرتے ہیں اپنے اموال سے، اپنی جانوں سے۔

          ظاہر ہے کوشش سے مراد تبلیغی دوروں پر جانا ہے۔”

          میں پہلے قرآنی آیت کا حوالہ دے چکا ہوں کہ بغیر تحقیق کے سنی سنائی بات پر اعتماد کرکے کوئی کاروائی نہیں کرنی چاہئے، اور میاں صاحب کے فوجی افسر کی روایت کا حال بھی اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ حضرتِ شیخ ایک حدیث کے لئے ایک درجن کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان “فوجی افسر” کا حافظہ صرف “ابنِ ماجہ” کے نام کا بوجھ بمشکل اُٹھاسکا، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بات کیا کہی جارہی ہوگی اور میاں صاحب کے راوی نے اس کو کیا سے کیا سمجھا ہوگا؟

          جو بات کہی جارہی ہوگی وہ یہ ہوگی کہ دین کی دعوت و تبلیغ اور مسلمانوں میں اسلامی شعائر قائم کرنے کی جو محنت بھی ہو اس پر “فی سبیل اللہ” کا اطلاق ہوتا ہے، خود جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی محنت کی ایک شکل ہے، چنانچہ سب جانتے ہیں کہ جہاد سے پہلے مسلمانوں کے اَمیرِ لشکر کی طرف سے کافروں کو یہ دعوت دی جاتی ہے:

Y:… تم اسلام قبول کرلو، تمہارے حقوق بھی وہی ہوں گے جو ہمارے ہیں، اور تمہاری ذمہ داریاں بھی وہی ہوں گی جو ہماری ذمہ داریاں ہیں۔

Y:… اگر تم اسلام لانا نہیں چاہتے تو ہم نے جو اسلام کے قانون کا نظام قائم کر رکھا ہے، اس کے ماتحت رہنے کو قبول کرلو، اور اس کے لئے جزیہ ادا کرو۔

Y:… اگر جزیہ دے کر اسلامی نظام کے ماتحت رہنا بھی قبول نہیں کرتے ہو تو مقابلے کے لئے تیار ہوجاوٴ، تلوار ہمارا اور تمہارا فیصلہ کرے گی۔

          اسلامی جہاد کی یہ دفعات ہر طالبِ علم کو معلوم ہیں، جس سے واضح ہے کہ جہاد بھی دعوت الی اللہ اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے ہے۔ اس کے بعد دعوت و تبلیغ کے “فی سبیل اللہ” ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟ حضراتِ مفسرین نے “فی سبیل اللہ” کی تفسیر میں جو کچھ لکھا ہے اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے جس سے معلوم ہوگا کہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا بھی “فی سبیل اللہ” میں داخل ہے، اور حج و عمرہ بھی “فی سبیل اللہ” میں شامل ہے، اب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ دین کی سربلندی اور احیائے اسلام کے لئے جو کوشش بھی کی جائے وہ “فی سبیل اللہ” میں داخل ہے، اور اس پر وہی اَجر و ثواب مرتب ہوگا جو “فی سبیل اللہ” کے لئے موعود ہے تو اس کی یہ بات کیا بے جا ہے؟

          میں میاں صاحب سے یہ پوچھتا ہوں کہ تبلیغی سفروں پر جانا تو آپ کے خیال میں “فی سبیل اللہ” میں داخل نہیں، لیکن “جہاد فی سبیل اللہ” کی وہ تین دفعات جو میں نے ذکر کی ہیں، کیا آپ نے ان کو پورا کرلیا ہے․․․؟

          کیا ہمارے فوجی افسران کافروں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ تم بھی ہمارے دین میں داخل ہوکر ہمارے بھائی بن جاوٴ․․․؟

          کیا یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو اسلامی نظام جو ہم نے قائم کر رکھا ہے، جزیہ دے کر اس کی ماتحتی قبول کرلو؟ اور کیا ہمارے ملک میں واقعتا اسلامی نظام نافذ بھی ہے جس کی ماتحتی کی کسی کافر قوم کو دعوت دے جائے․․․؟ جب تک آپ اسلامی نظام نہ قائم کرلیں، اس کی دعوت کیسے دیں گے؟ اور جب تک اس کی دعوت نہ دی جائے، اسلامی جہاد کیسے ہوگا؟ اور اس پر اسلامی جہاد کے فضائل کیسے مرتب ہوں گے؟ کیا میاں صاحب اس معمے کو حل فرمائیں گے․․․؟

          اور مسواک کے بارے میں میاں صاحب نے جو گل افشانی فرمائی ہے، اس کا جواب خود ان کی تحریر کے آخر میں موجود ہے کہ:

          “دُوسرے دن جوان اچھی طرح مسواک کرکے نہر میں اُترے تو تیسرا ٹینک بھی مل گیا۔”

          اگر سنتِ نبوی (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰة وسلام) پر عمل کرنے سے مددِ خداوندی شاملِ حال ہوجائے تو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں، اور جب تک مجاہدینِ اسلام سنتِ نبوی کے پابند نہ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد نہیں ہوسکتی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات اس کے شاہد ہیں، اور خود میاں صاحب نے جو واقعہ نقل کیا ہے وہ بھی اس کی روشن دلیل ہے، لیکن شاید میاں صاحب کے دِل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کوئی اہمیت نہیں، اس لئے وہ اس صحیح واقعہ کو مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں، اور روایتی بڑھیا کی طرح باز کے پَر کاٹ دینا چاہتے ہیں، حق تعالیٰ شانہ فہمِ سلیم عطا فرمائیں۔

 

خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں پر شبہات کی وضاحت

س… ہمارے ایک دوست جو بڑے فنکار ہیں، وہ اکثر دین کی باتوں پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں، اکثر و بیشتر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: میں اس بات پر حیران ہوں کہ اتنی شدید مصروفیات جہاد اور تبلیغِ دین کے باوجود ان کے پاس اتنا وقت کیسے تھا کہ وہ اتنی شادیاں کرتے اور عورتوں کے حقوق ادا کرسکتے تھے۔ ان کے تبصرہ کا میں کیا جواب دوں؟ وضاحت فرمائیں، مجھے شدید افسوس ہوتا ہے!

ج… یورپ کے مستشرقین نے اپنے تعصب، نادانی اور جہلِ مرکب کی وجہ سے اسلام کے جن مسائل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ان میں ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعدّدِ ازواج کا مسئلہ بھی ہے، جس پر انہوں نے خاصی زہرچکانی کی ہے۔ ہمارا جدید طبقہ مستشرقین سے مرعوب اور احساسِ کمتری کا شکار ہے، وہ ایسے تمام مسائل میں -جن پر مستشرقین کو اعتراض ہے- ندامت و معذرت کا انداز اختیار کرتا ہے، اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ مغرب کے سامنے سرخرو ہونے کے لئے ان حقائق کا ہی انکار کردیا جائے، چنانچہ وہ عقلی شبہات کے ذریعہ ان حقائق کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ کے دوست کی گفتگو بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، وہ بظاہر بڑے معصومانہ انداز میں یہ پوچھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بیویوں کے حقوق کیسے ادا کرتے تھے؟ لیکن سوال کا منشا اصل واقعہ پر اعتراض ہے۔

          بہرحال آپ کے دوست اگر چند اصولی باتیں ذہن میں رکھیں تو مجھے توقع ہے کہ ان کے خدشات زائل ہوجائیں گے۔

          ۱:…سب سے پہلے یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ دین کے مسائل کو خوش طبعی اور ہنسی مذاق کا موضوع بنانا نہایت ہی خطرناک مرض ہے۔ آدمی کو شدت کے ساتھ ان سے پرہیز کرنا چاہئے، خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی (جو اہل ایمان کا مرجعِ عقیدت ہی نہیں، مدارِ ایمان بھی ہے)، آپ کے بارے میں لب کشائی تو کسی مسلمان کے لئے کسی طرح بھی روا نہیں۔ قرآن کریم میں ان منافقوں کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو اپنی نجی محفلوں میں رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو، قرآن کریم کی آیاتِ شریفہ کو طنز و مذاق کا نشانہ بناتے تھے، جب ان سے بازپُرس کی جاتی تو کہہ دیتے: “اجی! ہم تو بس یونہی دل لگی اور خوش طبعی کی باتیں کر رہے تھے۔” ان کے اس “عذرِ گناہ، بدتر از گناہ” کے جواب میں ارشاد ہے: “کیا تم اللہ تعالیٰ سے، اس کی آیات سے اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ بہانہ نہ بناوٴ، تم نے دعویٴ ایمان کے بعد کفر کیا ہے!”                                  (التوبہ: ۶۵، ۶۶)

          اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آیاتِ الٰہیہ کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی کو دل لگی اور خوش طبعی کا موضوع بنانا کتنا خطرناک ہے، جسے قرآن کریم کفر قرار دیتا ہے! اس لئے ہر مسلمان سے، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، میری ملتجیانہ درخواست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول و فعل کو اپنے ظریفانہ تبصروں کو موضوع بنانے سے مکمل پرہیز کریں، ایسا نہ ہو کہ غفلت میں کوئی غیرمحتاط لفظ زبان سے نکل جائے اور متاعِ ایمان برباد ہوکر رہ جائے، نعوذ بالله من ذالک!

          ۲:…ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند و بالا ہستی کو اپنی سطح پر غور و فکر کرتے ہیں اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات اپنی ذہنی سطح سے اونچی دیکھتے ہیں تو ان کا ذہن اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے اور جن کمالات و خصوصیات سے آپ کو نوازا ہے وہ ہمارے فہم و ادراک کی حد سے ماورا ہے، وہاں تک کسی جن و ملک کی رسائی ہے، نہ کسی نبیٴ مرسل کی، جہاں جبریل امین کے پَر جلتے ہوں وہاں ما و شما کی عقلی تگ و دو کی کیا مجال ہے! آپ کے دوست بھی اسی بنیادی غلطی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات سے ناپتے تو انہیں کوئی حیرت نہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اتنی بیویوں کے حقوق کیسے ادا فرماتے تھے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اپنے اندر اعجاز کا پہلو رکھتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سے قلیل عرصے میں بتوفیق خداوندی انسانی زندگیوں میں جو انقلاب برپا کیا اور امت کو روحانی و مادّی کمالات کی جس اوجِ ثریا پر پہنچادیا، کیا ساری امت مل کر بھی اس کارنامہ کو انجام دے سکتی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات ایسی ہے جو اپنے اندر حیرت انگیز اعجاز نہیں رکھتی، ام الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ میں: “آپ کا کون سا معاملہ عجیب نہیں تھا!”

          ۳:…آپ کے دوست کو یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ محض عقلی احتمالات یا حیرت و تعجب کے اظہار سے کسی حقیقت، واقعہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً: ایک شخص سر کی آنکھوں سے سورج نکلا ہوا دیکھ رہا ہے، اس کے برعکس ایک “حافظ جی” محض عقلی احتمالات کے ذریعہ اس کھلی حقیقت کا انکار اور اس پر حیرت و تعجب کر رہا ہے۔ اہل عقل اس “حافظ جی” کی عقل و فہم کی داد نہیں دیں گے بلکہ اسے اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ ضدی اور ہٹ دھرم بھی قرار دیں گے۔ ٹھیک اسی طرح سمجھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ازواجِ مطہرات کے حقوق نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ادا کرنا ایک حقیقتِ واقعیہ ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا سے تشریف لے گئے اس وقت آپ کے یہاں نو بیویاں تھیں، ان میں آٹھ کے یہاں باری باری شب باشی فرماتے تھے (حضرت سودہ نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دے رکھی تھی، اس لئے ان کے یہاں شب باشی نہیں فرماتے تھے)۔    (صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰة ص:۲۷۹)

          حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ازواج کے حقوق ادا فرماتے تھے اور پھر یہ دعا کرتے تھے: “یا اللہ! جو بات میرے اختیار میں ہے اس میں تو پورا عدل و انصاف سے برتاوٴ کرتا ہوں، اور جو چیز آپ کے اختیار میں ہے، میرے اختیار میں نہیں (یعنی کسی بی بی کی طرف دل کا زیادہ میلان) اس میں مجھے ملامت نہ کیجئے!” (ترمذی، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰة ص:۲۷۹)۔ اس قسم کی بہت سی احادیث صحابہ کرام اور خود امہات الموٴمنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہیں، گویا یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ازواجِ مطہرات کے حقوق ادا فرماتے تھے بلکہ اس میں آپ نے عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرکے دکھایا، خود ارشاد فرماتے تھے:

          “تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بہتر ہوں!”

                    (ترمذی، دارمی، ابن ماجہ، مشکوٰة ص:۲۸۱)

          اب اس ثابت شدہ حقیقت پر حیرت و تعجب کا اظہار کرنا اور اس سے انکار کی کوشش کرنا اس پر وہی “حافظ جی” کی مثال صادق آتی ہے جو آنکھیں بند کرکے محض عقلی احتمالات کے ذریعہ طلوعِ آفتاب کی نفی کی کوشش کر رہا ہے۔

          ۴:…اور اگر آپ کے دوست کو اس بات کا شبہ ہے کہ امت کے لئے چار تک شادیوں کی اجازت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چار سے زائد شادیاں کیسے جائز تھیں؟ تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے خصوصی احکام دئیے تھے، جن کو اہل علم کی اصطلاح میں “خصائصِ نبوی” کہا جاتا ہے۔ حافظ سیوطی نے “الخصائص الکبریٰ” میں، حافظ ابونعیم نے “دلائل النبوة” میں اور علامہ قسطلانی نے “مواہب لدنیہ” میں ان “خصائص” کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع کردیا ہے۔ نکاح کے معاملے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد خصوصیات تھیں جن کو سورہٴ احزاب کے چھٹے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ کے لئے چار سے زائد شادیوں کی اجازت تھی۔

          ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے پدری و مادری خاندان کی خواتین میں سے صرف اس سے نکاح کرنا جائز تھا جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کی ہو، آپ کے خاندان کی جن عورتوں نے ہجرت نہیں کی تھی ان سے آپ کا نکاح جائز نہیں تھا۔ ایک خصوصیت یہ تھی کہ اگر کوئی خاتون مہر کے بغیر آپ کے عقد میں آنے کی پیشکش کرے اور آپ اس کو قبول فرمالیں تو بغیر مہر کے آپ کا عقد صحیح تھا، جبکہ امت کے لئے نکاح میں مہر کا ہونا ضروری ہے، اگر زوجین نے یہ شرط کرلی ہو کہ مہر نہیں ہوگا تب بھی “مہرِ مثل” لازم آئے گا۔

          آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ بیویوں کے درمیان برابری کرنا آپ کے ذمہ ضروری نہیں تھا (اس کے باوجود آپ ازواجِ مطہرات کے درمیان برابری اور عدل و انصاف کی پوری رعایت فرماتے تھے، جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں)، جبکہ امت کے وہ افراد جن کے عقد میں دو یا زیادہ بیویاں ہوں ان کے ذمہ بیویوں کے درمیان برابری رکھنا فرض ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ:

          “جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل اور برابری نہ کرے وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہوگا۔”

           (ترمذی، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰة ص:۲۷۹)

          الغرض! نکاح کے معاملے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سے خصوصیات تھیں، اور بیک وقت چار سے زائد بیویوں کا جمع کرنا بھی آپ کی انہی خصوصیات میں شامل ہے، جس کی تصریح خود قرآن مجید میں موجود ہے۔

          حافظ سیوطی “خصائصِ کبریٰ” میں لکھتے ہیں کہ: شریعت میں غلام کو صرف دو شادیوں کی اجازت ہے، اور اس کے مقابلے میں آزاد آدمی کو چار شادیوں کی اجازت ہے، جب آزاد کو بمقابلہ غلام کے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے، تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عام افرادِ اُمت سے زیادہ شادیوں کی کیوں اجازت نہ ہوتی؟

          متعدد انبیاء کرام علیہم السلام ایسے ہوئے ہیں جن کی چار سے زیادہ شادیاں تھیں، چنانچہ حضرت داوٴد علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی سو بیویاں تھیں، اور صحیح بخاری (ج:۱ ص:۳۹۵) میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سو یا ننانوے بیویاں تھیں۔ بعض روایات میں کم و بیش تعداد آئی ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر نے ان روایات میں تطبیق کی ہے اور وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے یہاں تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں۔

(فتح الباری ج:۶ ص:۲۶۰)

          بائبل میں اس کے برعکس ذکر کیا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی سات سو بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں (۱۔ سلاطین، ۱۱۔۳) ظاہر ہے کہ یہ حضرات ان تمام بیویوں کے حقوق ادا کرتے ہوں گے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نو ازواجِ مطہرات کے حقوق ادا کرنا ذرا بھی محل تعجب نہیں!

          ۵:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کے بارے میں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس جنتی مردوں کی طاقت عطا کی گئی تھی، اور ہر جنتی کو سو آدمیوں کی طاقت عطا کی جائے گی۔ اس حساب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں چار ہزار مردوں کی طاقت تھی۔                                       (فتح الباری ج:۱ ص:۳۷۸)

          جب امت کے ہر مریل سے مریل آدمی کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جن میں چار ہزار مردوں کی طاقت ودیعت کی گئی تھی کم از کم سولہ ہزار شادیوں کی اجازت ہونی چاہئے تھی․․․!

          ۶:…اس مسئلہ پر ایک دوسرے پہلو سے بھی غور کرنا چاہئے، ایک داعی اپنی دعوت مردوں کے حلقے میں بلاتکلف پھیلاسکتا ہے، لیکن خواتین کے حلقے میں براہ راست دعوت نہیں پھیلاسکتا، حق تعالیٰ شانہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ ہر شخص کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے، جو جدید اصطلاح میں اس کی “پرائیویٹ سیکریٹری” کا کام دے سکیں اور خواتین کے حلقے میں اس کی دعوت کو پھیلاسکیں۔ جب ایک امتی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے یہ انتظام فرمایا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، جو قیامت تک تمام انسانیت کے نبی اور ہادی و مرشد تھے، قیامت تک پوری انسانیت کی سعادت جن کے قدموں سے وابستہ کردی گئی تھی، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت و رحمت سے امت کی خواتین کی اصلاح و تربیت کے لئے خصوصی انتظام فرمایا ہو تو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ حکمت و ہدایت کا یہی تقاضا تھا۔

          ۷:…اسی کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی کتابِ ہدایت تھی، آپ کی جلوت کے افعال و اقوال کو نقل کرنے والے تو ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے، لیکن آپ کی خلوت و تنہائی کے حالات امہات الموٴمنین کے سوا اور کون نقل کرسکتا تھا؟ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ان خفی اور پوشیدہ گوشوں کو نقل کرنے کے لئے متعدد ازواجِ مطہرات کا انتظام فرمادیا، جن کی بدولت سیرتِ طیبہ کے خفی سے خفی گوشے بھی امت کے سامنے آگئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب بن گئی جس کو ہر شخص، ہر وقت ملاحظہ کرسکتا ہے۔

          ۸:…اگر غور کیا جائے تو کثرتِ ازواج اس لحاظ سے بھی معجزہٴ نبوت ہے کہ مختلف مزاج اور مختلف قبائل کی متعدد خواتین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی سے نجی زندگی کا شب و روز مشاہدہ کرتی ہیں، اور وہ بیک زبان آپ کے تقدس و طہارت، آپ کی خشیت و تقویٰ، آپ کے خلوص و للہیت اور آپ کے پیغمبرانی اخلاق و اعمال کی شہادت دیتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی میں کوئی معمولی سا جھول اور کوئی ذرا سی بھی کجی ہوتی تو اتنی کثیر تعداد ازواجِ مطہرات کی موجودگی میں وہ کبھی بھی مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی کی پاکیزگی کی یہ ایسی شہادت ہے جو بجائے خود دلیلِ صداقت اور معجزہٴ نبوت ہے۔ یہاں بطورِ نمونہ ام الموٴمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں جس سے نجی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس و طہارت اور پاکیزگی کا کچھ اندازہ ہوسکے گا۔ وہ فرماتی ہیں: “میں نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر نہیں دیکھا، اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میرا ستر دیکھا۔” کیا دنیا میں کوئی بیوی اپنے شوہر کے بارے میں یہ شہادت دے سکتی ہے کہ مدة العمر انہوں نے ایک دوسرے کا ستر نہیں دیکھا؟ اور کیا اس اعلیٰ ترین اخلاق اور شرم و حیا کا نبی کی ذات کے سوا کوئی نمونہ مل سکتا ہے؟ غور کیجئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی کے ان “خفی محاسن” کو ازواجِ مطہرات کے سوا کون نقل کرسکتا تھا․․․؟

صحیح بخاری پر عدم اعتماد کی تحریک

س… مسئلہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کی روایات و اسناد پر عدم اعتماد کی تحریک چل رہی ہے، اس تحریک کے پسِ پردہ جو لوگ ہیں اس کی تفصیل و فہرست خاصی طویل ہے، بہرحال نمونے کے طور پر صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ ادارہ فکرِ اسلامی کے جنرل سیکریٹری جناب طاہر المکی صاحب، جناب عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب “رجم اصل حد ہے یا تعزیر” کے تعارفی نوٹس میں لکھتے ہیں:

          “اہلِ حدیث حضرات کے علاوہ دُوسرے اسلامی فکر خصوصاً احناف کا امام بخاری کی تحقیقات کے متعلق جو نقطہٴ نظر رہا ہے وہ مولانا عبدالرشید نعمانی مدرّس جامعہ بنوری ٹاوٴن، علامہ زاہدالکوثری مصری اور انور شاہ کشمیری کی کتابوں سے ظاہر ہے۔

          مولانا عبدالرشید نعمانی کی تحقیقات سے صرف ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

“کیا دو تہائی بخاری غلط ہے”

          ترجمہ:… علامہ مقبلی اپنی کتاب الأرواح النوافخ میں لکھتے ہیں:

          ایک نہایت دین دار اور باصلاحیت شخص نے مجھ سے عراقی کی “الفیہ” (جو اُصولِ حدیث میں ہے) پڑھی اور ہمارے درمیان صحیحین کے مقام و مرتبہ خصوصاً بخاری کی روایات کے متعلق بھی گفتگو ہوئی ․․․․․ تو ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ سے دریافت کیا کہ اس کتاب یعنی خصوصاً بخاری کی کتاب کے متعلق حقیقتِ اَمر کیا ہے؟

          آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو تہائی غلط ہے۔

          خواب دیکھنے والا کا گمان غالب ہے کہ یہ ارشادِ نبوی بخاری کے راویوں کے متعلق ہے، یعنی ان میں دو تہائی راوی غیرعادل ہیں کیونکہ بیداری میں ہمارا موضوعِ بحث بخاری کے راوی ہی تھے، واللہ اعلم۔”

           (دیکھئے: مقبلی کی کتاب الارواح النوافخ ص:۶۸۹، ۶۹۰)

          اس اچھوتی اور نادر روزگار دلیل پر طاہر المکی صاحب لکھتے ہیں:

          “یہ ہے بخاری کے فنی طور پر سب سے زیادہ صحیح ہونے کی حقیقت، اس کو ایڈٹ کرنے میں مولانا عبدالرشید نعمانی کے ساتھ جامعہ بنوری ٹاوٴن کے مفتی ولی حسن بھی شریک رہے ہیں جیسا کہ اپنی حواشی کے آخر میں نعمانی صاحب نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا ہے، عبدالرشید صاحب فرماتے ہیں:

          جب بخاری کے دو تہائی راوی غیرعادل ہیں تو ان کی روایات کی کیا حیثیت جو یقینا بخاری کی دو تہائی روایات سے زیادہ بنتی ہیں، کیونکہ بہت سے راوی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کئی کئی روایتیں بیان کرتے ہیں۔”

                    (بحوالہ رجم اصل حد ہے یا تعزیر ص:۳۹)

          محترمی! اب آپ مجھے بتائیں کہ کیا مذکورہ حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے، آیا وہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر آپ کے نزدیک صحیح ہے تو کیا میں صحیح بخاری کے نسخے ضائع کردُوں؟ اور کیا مدارس کی انتظامیہ کو بذریعہ اخبار ترغیب دُوں کہ وہ اپنے مدارس کے نصاب سے صحیح بخاری کو خارج کردیں؟ مجھے اُمید ہے کہ میری اس اُلجھن کو دُور فرماکر عنداللہ مأجور ہوں گے۔

ج… درج بالا خط ملنے پر اس ناکارہ نے حضرت نعمانی مدظلہ العالی کی خدمت میں عریضہ لکھا، جو درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

          “حضرت مخدوم و معظم! مدت فیوضہم وبرکاتہم، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

          ایک صاحب نے طاہر المکی کے حوالے سے آنجناب کی ایک عبارت نقل کرکے تیز و تند سوال کیا ہے۔ یہ اس شخص کا چوتھا خط ہے، میں نے مناسب سمجھا کہ “توجیہ القول بما لا یرضٰی بہ قائلہ” کے بجائے آنجناب ہی سے اس سلسلے میں مشورہ کرلیا جائے۔ مختصر سا اشارہ فرمادیا جائے کہ طاہر مکی کی نقل کہاں تک صحیح ہے؟ اور ان صاحب کے اخذ کردہ نتیجے سے کہاں تک اتفاق کیا جاسکتا ہے؟ چونکہ مجھے ہفتہ کے دن سفر پر جانا ہے اس لئے میں اس خط کا جواب کل ہی نمٹاکر جانا چاہتا ہوں۔ دعواتِ صالحہ کی اِلتجا ہے،                   والسلام

                    خویدکم محمد یوسف عفا اللہ عنہ۔”

          حضرتِ موصوف مدظلہ العالی نے درج ذیل جواب تحریر فرمایا:

          “محترمی! وفقنی الله وایاکم لما یحب ویرضٰی!

          وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ۔

          اس وقت درس گاہ میں “الأرواح النوافخ” موجود نہیں، “دراسات اللبیب” معین سندھی کی تعلیقات میں عرصہ ہوا جب تلقی صحیحین کی بحث میں آپس کے اختلاف میں لکھا تھا کہ تلقی کا مسئلہ اختلافی ہے، اختلافی احادیث میں اجماع کا دعویٰ صحیح نہیں، اس پر بحث کرتے ہوئے کہیں اس خواب کا بھی ذکر آگیا تھا۔ “الارواح” کے مصنف علامہ مقبلی پہلے زیدی تھے پھر مطالعہ کرکے سنی ہوگئے تھے اور عام یمنیوں کی طرح جیسے امیر یمانی، وزیر یمانی، قاضی شوکانی وغیرہ ہیں غیرمقلد ہوگئے تھے، انہوں نے تلقی رواة کے سلسلے میں اس خواب کا ذکر کیا تھا، خواب کی جو حیثیت ہے ظاہر ہے، رواة کی تعدیل و تجریح میں اختلاف شروع سے چلا آتا ہے، جیسے مذاہبِ اربعہ میں اختلاف ہے، اس سے نہ کسی چیز کا بطلان لازم آتا ہے، نہ کسی مختلف چیز پر اجماع۔ یہ ہے اصل حقیقت تلقی امت کی بحث کی کہ نہ متون کی ساری امت کو تلقی ہے نہ رواة پر، جیسے تمام اختلافی مسائل کا حال ہے۔

          قرآنِ کریم کا ثبوت قطعی ہے، لیکن اس کی تعبیر و تفسیر میں اختلاف ہے، پھر کیا اس اختلاف کی بنا پر قرآنِ کریم کو ترک کردیا جائے گا؟ یہی حال متونِ صحیحین و رُواةِ صحیحین کا ہے کہ نہ ان کا متن اُمت کے لئے واجب العمل ہے اور نہ ہر راوی بالاجماع قابلِ قبول ہے۔ اب منکرینِ حدیث اس سلسلے میں جو چاہیں رَوِش اختیار کریں۔ قرآنِ کریم کی تعبیر و تفسیر میں اختلاف تھا، اور رہے گا۔ روایات کے قبول، عدمِ قبول میں مجتہدین کا اختلاف تھا، اور رہے گا، فمن شاء فلیوٴمن ومن شاء فلیکفر۔

                                       والسلام

                                      محمد عبدالرشید نعمانی

                                       ۲۵/۲/۱۴۱۵ھ”

بسم الله الرحمن الرحیم

          مکرّم و محترم! زید لطفہ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

          آپ کے گرامی نامے کے جواب پر چند اُمور مختصراً لکھتا ہوں، فرصت نہیں، ورنہ اس پر پورا مقالہ لکھتا۔

          ۱:… آپ کی اس تحریک کی بنیاد طاہر المکی صاحب کی اس تحریر پر ہے جس کا حوالہ آپ نے خط میں نقل کیا ہے، اور آپ نے اس تحریر پر اس قدر اعتماد کیا کہ اس کی بنیاد پر مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ:

          “مذکورہ حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر آپ کے (یعنی راقم الحروف کے) نزدیک بھی صحیح ہے تو کیا میں صحیح بخاری کے نسخے ضائع کردُوں؟ اور کیا مدارس کی انتظامیہ کو بذریعہ اخبار ترغیب دُوں کہ وہ اپنے مدارس کے نصاب سے صحیح بخاری کو خارج کردیں؟”

          طاہر المکی صاحب کی تحریر پر اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ان صاحب کا تعلق کہیں منکرینِ حدیث کے طائفے سے تو نہیں؟ اور یہ کہ کیا یہ صاحب اس نتیجے کے اخذ کرنے میں تلبیس و تدلیس سے تو کام نہیں لے رہے؟

          طاہر المکی کا تعلق جس طبقے سے ہے، تلبیس و تدلیس اس طبقے کا شعار ہے، اور سنا گیا ہے کہ طاہر المکی کے نام میں بھی تلبیس ہے، اس کے والد میانجی عبدالرحیم مرحوم “مکی مسجد کراچی” میں مکتب کے بچوں کو پڑھاتے تھے، وہیں ان کی رہائش گاہ تھی، اسی دوران یہ صاحب پیدا ہوئے اور “مکی مسجد” کی طرف نسبت سے علامہ طاہر المکی بن گئے، سننے والے سمجھتے ہوں گے کہ حضرت “مکہ” سے تشریف لائے ہیں۔

          ۲:… مولانا عبدالرشید نعمانی مدظلہ العالی کے حوالے سے اس نے قطعاً غلط اور گمراہ کن نتیجہ اخذ کیا ہے، جیسا کہ مولانا مدظلہ العالی کے خط سے ظاہر ہے، اوّل تو مقبلی زیدی اور پھر غیرمقلد تھا، پھر اس کا حوالہ خواب کا ہے، اور سب جانتے ہیں کہ خواب دینی مسائل میں حجت نہیں۔ پھر مولانا نے یہ حوالہ یہ ظاہر کرنے کے لئے نقل کیا ہے کہ رُواةِ بخاری کے بارے میں بعض لوگوں کی یہ رائے ہے۔ مولانا عبدالرشید نعمانی مدظلہ العالی ایک دینی مدرسہ کے شیخ الحدیث ہیں، اگر ان کی وہ رائے ہوتی جو آپ نے طاہر المکی کی تلبیسانہ عبارت سے سمجھی ہے تو وہ آپ کی تحریک “عدم اعتماد” کے علم بردار ہوتے، نہ کہ صحیح بخاری پڑھانے والے شیخ الحدیث۔

          ۳:… طاہر المکی نے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری کو بلاوجہ گھسیٹا ہے، حضرت نے بیس برس سے زیادہ صحیح بخاری کا درس دیا، اور تدریسِ بخاری شروع کرنے سے پہلے ۱۳ مرتبہ صحیح بخاری شریف کا بغور و تدبر مطالعہ فرمایا اور اس کی تمام شروح کا بغور و تدبر مطالعہ فرمایا، صحیح بخاری کی دو بڑی شرحیں “فتح الباری” اور “عمدة القاری” تو حضرت کو ایسے حفظ تھیں جیسے گویا سامنے کھلی رکھی ہوں۔

(مقدمہ فیض الباری ص:۳۱)

          حضرت شاہ صاحب نہ صرف یہ کہ صحیح بخاری کو “أصح الکتب بعد کتاب الله” سمجھتے ہیں بلکہ صحیحین کی احادیث کی قطعیت کے قائل ہیں، چنانچہ “فیض الباری” میں فرماتے ہیں:

          “صحیح کی احادیث قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، جمہور کا قول ہے کہ قطعیت کا فائدہ نہیں دیتیں، لیکن حافظ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے کہ قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔ شمس الائمہ سرخسی حنفیہ میں سے، حنابلہ میں سے حافظ ابنِ تیمیہ اور شیخ ابنِ صلاح بھی اسی طرف مائل ہیں۔ ان حضرات کی تعداد اگرچہ کم ہے مگر ان کی رائے ہی صحیح رائے ہے، شاعر کا یہ قول ضرب المثل ہے:

          میری بیوی مجھے عار دِلاتی ہے ہماری تعداد کم ہے، میں نے اس سے کہا کہ کریم لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔”

                                      (فیض الباری ص:۴۵)

          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی “حجة اللہ البالغہ” میں لکھتے ہیں:

          “محدثین کا اتفاق ہے کہ صحیحین میں جتنی حدیثیں متصل مرفوع ہیں، صحیح ہیں، اور یہ دونوں اپنے مصنّفین تک متواتر ہیں، اور جو شخص ان دونوں کی توہین کرتا ہے وہ متبدع ہے اور مسلمانوں کے راستے سے منحرف ہے۔”

          ۴:… کسی حدیث کا صحیح ہونا اور چیز ہے، اور اس کا واجب العمل ہونا دُوسری چیز ہے، اس لئے کسی حدیث کے صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ واجب العمل بھی ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ منسوخ ہو، یا مقید ہو، یا موٴوّل ہو، اس کے لئے ایک عامی کا علم کافی نہیں، بلکہ اس کے لئے ہم ائمہٴ اجتہاد رحمہم اللہ کی اتباع کے محتاج ہیں۔ قرآنِ کریم کا قطعی ہونا تو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، لیکن قرآنِ کریم کی بعض آیات بھی منسوخ و موٴوّل یا مقید بالشرائط ہیں، صرف انہی اجمالی اشارات پر اکتفا کرتا ہوں، تفصیل و تشریح کی گنجائش نہیں، والله اعلم!

حقانی صاحب کی حج تجاویز

س… بتاریخ ۱۶/جون ۱۹۹۳ء کالم نویس جناب ارشاد احمد حقانی صاحب نے حالیہ نگران حکومت کے زیرِ انتظام حجِ بیت اللہ سے واپسی پر “حج کے انتظامات، بعض توجہ طلب پہلو” کے عنوان سے جن خیالات کا اظہار اخبار “جنگ” کراچی میں کیا ہے، اس کو پڑھ کر سخت تکلیف ہوئی اور طرح طرح کے خیالات کے اظہار سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ منیٰ کی ساری غلاظت کو اپنے ساتھ کراچی لے آئے ہیں۔ جس شہر میں ہر راستے پر، ہر زمانے میں اور خصوصاً سخت گرمی کے زمانے میں جو گٹر بہہ رہا ہے اور حتیٰ کہ ہمارے مکان کے دروازے پر پڑوس کے گٹر کا سیاہ سیلاب سارے راستے پر پھیلا ہوا ہے اس کی طرف کسی کی نظر نہیں، جہاں مستقلاً لوگ رہائش پذیر ہیں اور سارے شہر میں گٹر کے ناپاک پانی نے طہارت اور صفائی کو مستقل عذاب اور خطرہ میں ڈال دیا ہے، اس کی اصلاح کے لئے زورِ قلم اور حکومت اور عمال کی توجہ مبذول نہ کراکر مفت کی مہمانی کا حق اس ذہنیت سے ادا کر رہے ہیں جو پاکستان کی بدنامی کا باعث ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فقہی مسائل میں بھی اپنی قابلیت کا جس طرح اظہار کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت کی معلومات کی داد دینے والا سارے عالمِ اسلام میں کوئی نہیں۔

 

          میں، آپ جیسے مُسلَّم بزرگ اور مفتیٴ وقت سے اس سلسلے میں رُجوع کرنا ایک اسلامی فریضہ سمجھ کر یہ خط لکھ رہا ہوں کہ برائے کرم جناب ارشاد احمد حقانی صاحب کے اظہارِ خیال کی روشنی میں جو انہوں نے “طوافِ زیارت” کے سلسلے میں تحریر فرمایا ہے، اس کی اسلامی اور فقہی حیثیت کیا ہے؟ جیسا کہ ارشاد احمد حقانی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ:

          “بعض فقہاء کے نزدیک اس بات کی اجازت موجود ہے کہ “طوافِ زیارت” عرفات جانے سے پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ میرے بہت سے قارئین کے لئے یہ بات باعثِ حیرت ہوگی، لیکن یہ اجازت موجود ہے۔ مگر اس کا علم بہت کم لوگوں کو ہے اور اس پر عمل بھی شاذ ہی کیا جاتا ہے۔” (کیا یہی صحیح ہے؟)

          “اگر کمزور اور ضعیف حجاج اور خواتین کو اس کی اطلاع دی جائے اور انہیں طوافِ زیارت عرفات جانے سے پہلے ادا کرنے کی ترغیب دی جائے تو دو چار لاکھ حاجی تو ایسا کرسکتے ہیں، جس سے بعد از عرفات کے دنوں میں رش کم کیا جاسکتا ہے۔”

          “ویسے میں اس بات کا بھی حامی اور قائل ہوں کہ عرفات سے واپسی پر کئے جانے والے طوافِ زیارت کے وقت میں بھی توسیع کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور جید علماء اس مسئلے پر غور کریں۔”

          “حرم شریف کی غیرمعمولی توسیع کے باوجود بیس پچّیس لاکھ افراد کا تین روز میں طوافِ زیارت مکمل کرنا شدید اژدہام پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتا، جس سے ضعیف مردوں اور عورتوں کا تو کجا مضبوط اور جوان حاجیوں کا عہد برآ ہونا آسان نہیں۔”

          “طوافِ زیارت کو آسان کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔”

          اس کے بعد حقانی صاحب نے منیٰ اور عرفات کے سلسلے میں عام حجاج کی سہولت کے حوالے سے جس طرح جو کچھ لکھا ہے اس سے ہم جیسے مسلمان دین دار حاجیوں کو قطعی اتفاق نہیں ہے۔

          اللہ تعالیٰ نے علم و قلم مسلمان کو اس لئے عطا نہیں کیا کہ وہ اپنے کو ساری مخلوق سے بالاتر اور اپنی محدود عقل کو سب سے افضل و برتر سمجھے اور ان خیالات کا ہر موقع پر اظہارِ خیال کرے۔ سعودی حکومت تو ٹھنڈے پانی کا تھیلا مفت میں حجاجِ کرام کے لئے منیٰ اور عرفات میں مسلسل تقسیم کیا کرتی ہے، اور روز بروز ہر طرح کی سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کا کہیں ذکر نہیں ہے۔

          منیٰ میں میرا بھی قیام تھا، مگر میں نے وہ تعفن اور گندگی نہیں دیکھی جو حقانی صاحب کو نظر آئی، اگر کسی کا قیام بدقسمتی سے کوڑاکرکٹ اور گٹر کے پاس ہو تو پھر بھی اس کا اظہار عوامی انداز سے ہونا چاہئے، یہ اخبار والوں کو بھی لازم ہے کہ ایسے جذباتی برانگیختی کے مضامین کو اخبار میں جگہ نہ دیں، جو اخبار کے رویہ کو متنازع بنادے اور نفرت و فساد کو جنم دے۔ بہرکیف! اس مسئلے پر علماء اور حجاجِ کرام کو اپنے مُسلَّمہ واضح خیالات کا اظہار کرنا لازم ہے۔

ج… جناب حقانی صاحب کا کالم میں نے آپ کا خط موصول ہونے کے بعد اخبار منگواکر پڑھا، موصوف نے اپنے مضمون (۱۶/جون ۱۹۹۳ء) کی قسط میں چند مسائلِ شرعیہ پر اظہارِ خیال فرماتے ہوئے ان میں اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلا مسئلہ

          جناب حقانی صاحب رقم طراز ہیں:

          “سعودی وزارتِ اطلاعات کے حکام نے عقلمندی کی، ہمیں مزدلفہ سے رات کے گیارہ بجے ہی بسوں پر سوار کرادیا اور سیدھے جمرة العقبیٰ پر لے گئے، اس وقت وہاں کوئی ہجوم نہیں تھا اور ہم سب نے سات سات کنکریاں ماریں۔”

          موصوف کی اس تحریر سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ رات ڈھلنے سے پہلے ہی گیارہ بجے مزدلفہ سے چل کھڑے ہوئے اور آدھی رات سے پہلے پہلے وہ جمرة العقبہ کی رَمی سے بھی فارغ ہوچکے تھے۔ اگر میں نے ان کی اس عبارت کا مفہوم صحیح سمجھا ہے تو سعودی حکام کی عقلمندی نے ان سے مناسکِ حج کی ادائیگی میں دو سنگین غلطیاں کرادیں۔ ایک یہ کہ مزدلفہ پر وقوف کرنا حج کے واجبات میں سے ہے، اس کے فوت ہوجانے پر دَم لازم آتا ہے اور اسے قصداً چھوڑ دینا حرام ہے۔

          وقوفِ مزدلفہ کا وقت حنفیہ کے نزدیک یوم النحر (ذوالحجہ کی دسویں تاریخ) کی صبحِ صادق سے شروع ہوتا ہے، شافعیہ و حنابلہ کے نزدیک نصف شب کے بعد ہے، البتہ مالکیہ کے نزدیک رات کے کسی حصے پر وہاں ٹھہرنا واجب ہے، چونکہ حقانی صاحب اور ان کے رفقاء رات کے گیارہ بجے ہی مزدلفہ سے چل پڑے، اس لئے حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے قول کے مطابق ان کا وقوفِ مزدلفہ فوت ہوگیا، جس کی وجہ سے ان پر دَم بھی واجب ہوا اور گناہ بھی لازم آیا۔

          دُوسری غلطی یہ کہ یوم النحر کو جمرة العقبہ کی رَمی کا وقت شافعیہ و حنابلہ کے نزدیک آدھی رات کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور حنفیہ و مالکیہ کے نزدیک صبحِ صادق کے بعد سے۔ اب اگر حقانی صاحب صبحِ صادق سے پہلے جمرة العقبہ کی رَمی سے فارغ ہوچکے تھے تب تو حنفیہ و مالکیہ کے نزدیک ترکِ واجب کی وجہ سے ان پر دَم لازم آیا اور اگر نصف شب سے پہلے ہی رَمی کرلی تھی تو تمام ائمہ کے نزدیک ان پر دَم لازم ہوا۔

دُوسرا مسئلہ

          حقانی صاحب سفارش کرتے ہیں:

          “اس ضمن میں کمزور حجاج بالخصوص خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے کہ وہ اپنا وکیل مقرّر کرکے رَمیٴ جمرات کا فرض ادا کریں۔”

          اس ضمن میں یہ وضاحت کافی ہے کہ شریعت نے رَمیٴ جمرات کا وقت بہت وسیع رکھا ہے، مثلاً: پہلے دن یوم النحر کو صرف جمرة العقبہ کی رَمی کرنی ہے، مگر اس کا وقت پورے آٹھ پہر (چوبیس گھنٹے) تک پھیلا ہوا ہے، کیونکہ یہ وقت یوم النحر کی صبحِ صادق سے شروع ہوکر گیارہویں تاریخ کی صبحِ صادق تک ہے۔ اور رات کے وقت خصوصاً بارہ بجے کے بعد جمرات پر کوئی ہجوم نہیں ہوتا، اس لئے کمزور مرد اور خواتین رات کو اطمینان سے رَمی کرسکتے ہیں۔ اور رَمیٴ جمرات کے لئے کسی کو وکیل بنانا صرف اس صورت میں صحیح ہے کہ کوئی دن میں یا رات میں خود چل کر جمرات تک پہنچنے اور رَمی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس لئے حقانی صاحب کی یہ سفارش کہ معذور اور غیرمعذور مرد اور خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے کہ بغیر عذرِ شرعی کے وہ کسی کو اپنا وکیل مقرّر کردیں، قطعاً لائقِ التفات نہیں۔

حقانی صاحب کا اپنے اجتہاد پر عمل

          حقانی صاحب خود معذور نہیں تھے، لیکن انہوں نے پہلے دن کی رَمی تو وقت سے پہلے کرلی اور باقی دنوں کی رَمی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

          “بقیہ دو دنوں کے لئے میں نے تو اپنے نوجوان ساتھیوں کو وکیل مقرّر کیا اور انہی کے ذریعہ اپنے حصے کے پتھر مروائے۔”

          حالانکہ منیٰ کے دنوں میں حاجی کو رَمیٴ جمرات کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔

          اب اس کو تساہل پسندی کے سوا کیا کہا جائے کہ بغیر کسی عذرِ شرعی کے موصوف نے رَمی کے لئے نوجوان ساتھیوں کو وکیل مقرّر کردیا اور انہی کے ذریعہ رَمی کروالی۔ ظاہر ہے کہ شرعاً ان کا وکیل مقرّر کرنا دُرست نہ تھا، اور وہ ترکِ واجب کے مرتکب ہوئے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انہیں اس ترکِ واجب پر افسوس بھی نہیں بلکہ وہ اس ضمن میں فقہائے اُمت کی “اصلاح” کے درپے ہیں، چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:

          “فقہاء نے رَمیٴ جمرات کے حوالے سے بعض ایسے اَحکام اور شرائط مقرّر کر رکھی ہیں غالباً جن میں قدرے اجتہاد کی گنجائش ہے۔”

          حضراتِ فقہائے اُمت نے رَمیٴ جمرات کے بارے میں جو اَحکام و شرائط مقرّر کی ہیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہٴ حسنہ سے مستنبط ہیں، تمام فقہائے اُمت کے اجماعی فیصلوں کو نظرانداز کرکے نئی راہ اختیار کرنے کا نام “اجتہاد” نہیں بلکہ خواہشِ نفس کی پیروی ہے۔

تیسرا مسئلہ

          تیسرا مسئلہ جس میں موصوف نے “اجتہاد” کی ضرورت پر زور دیا ہے وہ ہے وقوفِ عرفات سے پہلے طوافِ زیارت سے فارغ ہوجانا، موصوف لکھتے ہیں کہ:

          “بعض فقہاء کے نزدیک اس بات کی اجازت موجود ہے کہ طوافِ زیارت، عرفات جانے سے پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ میرے بہت سے قارئین کے لئے یہ بات باعثِ حیرت ہوگی، لیکن یہ اجازت موجود ہے، مگر اس کا علم بہت کم لوگوں کو ہے اور اس پر عمل بھی شاذ ہی کیا جاتا ہے۔ اگر کمزور اور ضعیف حجاج اور خواتین کو اس کی اطلاع دی جائے اور انہیں طوافِ زیارت، عرفات جانے سے پہلے ادا کرنے کی ترغیب دی جائے تو دو چار لاکھ حاجی تو ایسا کرسکتے ہیں، جس سے بعد از عرفات کے دنوں میں رش کم کیا جاسکتا ہے۔”

          جناب حقانی صاحب نے جو تحریر فرمایا ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک وقوفِ عرفات سے پہلے طوافِ زیارت کرنے کی اجازت موجود ہے۔ یہ اس ناکارہ کے لئے بالکل جدید انکشاف ہے، قریباً نصف صدی تک فقہی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے بال سفید ہوگئے، لیکن افسوس ہے کہ مجھے ایسے کسی فقیہ کا سراغ نہیں مل سکا جو وقوفِ عرفات سے پہلے طوافِ زیارت سے فارغ ہوجانے کا فتویٰ دیتا ہو۔ اگر موصوف ان “بعض فقہاء” کا نام نشان بتادیں تو اہلِ علم ان کے ممنون ہوں گے اور اس پر غور کرسکیں گے کہ ان “بعض فقہاء” کے فتویٰ کی قدر و قیمت کیا ہے․․․؟

          جہاں تک اس ناکارہ کے ناقص مطالعے کا تعلق ہے، مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ وقوفِ عرفات سے قبل طوافِ زیارت نہیں ہوسکتا، کیونکہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک طوافِ زیارت کا وقت یوم النحر کی صبحِ صادق سے شروع ہوتا ہے، اور امام شافعی اور احمد کے نزدیک یوم النحر کی نصف شب کے بعد سے اس کا وقت شروع ہوجاتا ہے، گویا یوم النحر کی نصف شب سے پہلے طوافِ زیارت کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ اور جس مسئلے میں مذاہبِ اربعہ متفق ہوں ان کے خلاف فتویٰ دینا “اجتہاد” نہیں بلکہ “اِلحاد” ہے۔

القرآن ریسرچ سینٹر تنظیم کا شرعی حکم

س… مولانا صاحب! آج کل ایک نیا فتنہ قرآن سینٹر کے نام سے بہت زوروں پر ہے، اس کا بانی محمد شیخ انگلش میں بیان کرتا ہے اور ضروریاتِ دین کا انکار کرتا ہے۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ “آپ کے مسائل اور ان کا حل” میں آپ کی کوئی مفصل تحریر شائع ہوگی، مگر آپ کے مسائل میں ایک خاتون کے سوال نامہ کے جواب میں آپ کا مختصر سا جواب پڑھا، اگرچہ وہ تحریر کسی حد تک شافی تھی مگر اس سلسلہ کی تفصیلی تحریر کی اب بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے ایسی کوئی تحریر لکھی ہو یا کہیں شائع ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی فرمادیں، یا پھر ازراہ کرم امتِ مسلمہ کی اس سلسلے میں راہ نمائی فرماویں۔

ج… آپ کی بات درست ہے، “آپ کے مسائل اور ان کا حل” میں میرا نہایت مختصر سا جواب شائع ہوا تھا، اور احباب کا اصرار تھا کہ اس سلسلے میں کوئی مفصل تحریر آنی چاہئے، چنانچہ میری ایک مفصل تحریر ماہنامہ “بینات” کراچی کے “بصائر و عبر” میں شائع ہوئی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے افادہٴ عام کے لئے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جائے، جو حسبِ ذیل ہے۔

          “مسلمانانِ ہندوستان کی دلی خواہش اور چاہت تھی کہ ایک ایسی آزاد ریاست اور ملک میسر آجائے جہاں مسلمان آزادی سے قرآن و سنت کا آئین نافذ کرسکیں اور انہیں دین اور دینی شعائر کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، چونکہ مسلمانوں کا جذبہ نیک تھا، اس لئے اس میں جوان، بوڑھے، عوام و خواص اور عالم و جاہل سب برابر کے متحرک و فعال تھے۔ بالآخر لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی کے بعد ۱۴/اگست ۱۹۴۷ء کو ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ قیامِ پاکستان کا مقصد اسلامی نظامِ حکومت یعنی حکومتِ الٰہیہ کا قیام باور کرایا گیا تھا، جس کا عنوان تھا: “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!” اور یہ ایسا نعرہ تھا جس کے زیر اثر تمام مسلمان مرمٹنے کے لئے تیار تھے، حتیٰ کہ وہ مسلمان جن کے علاقے تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کی حدود میں آتے تھے وہ بھی اس کے قیام میں پیش پیش تھے، لیکن: اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! “مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!” کے مصداق، آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستانی مسلمانوں کو اسلامی نظامِ حکومت نصیب نہیں ہوا، انا لله وانا الیہ راجعون!

          اُلٹا پاکستان روز بروز مسائلستان بنتا چلا گیا، اس میں مذہبی، سیاسی، روحانی غرض ہر طرح کے فتنے پیدا ہوتے چلے گئے، ایک طرف اگر انگلینڈ میں مرتد رشدی کا فتنہ رونما ہوا، تو دوسری طرف پاکستان میں یوسف کذاب نام کا ایک بدباطن دعویٴ نبوت لے کر میدان میں آگیا، اسی طرح بلوچستان میں ایک ذکری مذہب ایجاد ہوا جس نے وہاں کعبہ اور حج جاری کیا، یہاں رافضیت اور خارجیت نے بھی پَرپُرزے نکالے، یہاں شرک و بدعات والے بھی ہیں اور طبلہ و سارنگی والے بھی، اس ملک میں ایک گوہر شاہی نام کا ملعون بھی ہے جن کے مریدوں کو چاند میں اس کی تصویر نظر آتی ہے، اور خود اس کو اپنے پیشاب میں اپنے مصلح کی شبیہ دکھائی دیتی ہے، اس میں ایک بدبخت عاصمہ جہانگیر بھی ہے جو تحفظِ حقوق انسانیت کی آڑ میں کتنی لڑکیوں کی چادرِ عفت کو تار تار کرچکی ہے۔

          اسی طرح اس ملک میں “جماعت المسلمین” نامی ایک جماعت بھی ہے جو پوری امت کی تجہیل و تحمیق کرتی ہے، یہاں ڈاکٹر مسعود کی اولاد بھی ہے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں، یہاں غلام احمد پرویز کی ذرّیت بھی ہے جو امت کو ذخیرہٴ احادیث سے بدظن کرکے اپنے پیچھے لگانا چاہتی ہے، اور ان سب سے آگے اور بہت آگے ایک نیا فتنہ اور نئی جماعت ہے جس کے تانے بانے اگرچہ غلام احمد پرویز سے ملتے ہیں، مگر وہ کئی اعتبار سے غلام احمد پرویز کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، غلام احمد پرویز نے امت کو احادیث سے برگشتہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، ہاں! البتہ اس نے چند آیاتِ قرآنی پر بھی اپنی تاویلاتِ باطلہ کا تیشہ چلایا تھا، مگر اس نئی جماعت اور نئے فتنے کے سربراہ محمد شیخ نامی شخص نے تقریباً پورے اسلامی عقائد کی عمارت کو منہدم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے، چنانچہ وہ توراة، زبور، انجیل اور دوسرے صحفِ آسمانی کے وجود اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت و برتری اور انبیاء کرام کے مادّی وجود کا منکر ہے، بلکہ وہ بھی اصل میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مدعیٴ نبوت ہے، مگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ناکام حکمتِ عملی کو دہرانا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح براہِ راست نبوت اور عقیدہٴ اجراء وحی کا دعویٰ کرکے قرآن و سنت اور علمائے امت کے شکنجے میں نہیں آنا چاہتا، یہ تو وہ بھی جانتا ہے کہ وحیٴ نبوت بند ہوچکی ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے لئے اجراء وحیٴ نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب اور واجب القتل ہے۔ اس لئے محمد شیخ نامی اس شخص نے اس کا عنوان بدل کر یہ کہا کہ: “جو شخص جس وقت قرآن پڑھتا ہے اس پر اس وقت قرآن کا وہ حصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے، اور جہاں قرآن مجید میں “قل” کہا گیا ہے، وہ اس انسان ہی کے لئے کہا جارہا ہے۔” یوں وہ ہر شخص کو نزولِ وحی کا مصداق بتاکر اپنے لئے نزولِ وحی اور اجراء نبوت کے معاملہ کو لوگوں کی نظروں میں ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے، چنانچہ وہ اس کو یوں بھی تعبیر کرتا ہے:

          “انبیاء، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور میں بھی یہی کام انجام دے رہا ہوں۔”

          نعوذ بالله! منصبِ نبوت کو اس قدر خفیف اور ہلکا کرکے پیش کرنا اور یہ جرأت کرنا کہ میں بھی وہی کام کر رہا ہوں جو – نعوذ بالله- انبیاء کرام کیا کرتے ہیں، کیا یہ دعویٴ نبوت اور منصبِ نبوت پر فائز ہونے کی ناپاک کوشش نہیں․․․؟

          لوگوں کی نفسیات بھی عجیب ہے، اگر وہ ماننے پر آئیں تو ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں، جس کی شکل و شباہت مسلمانوں جیسی نہیں، جس کا رہن سہن کسی طرح اسلاف سے میل نہیں کھاتا، ابلیسِ مغرب کی نقالی اس کا شعار ہے، اسوہٴ نبوی سے اسے ذرّہ بھر مناسبت نہیں، اس کی چال ڈھال، رفتار و گفتار اور لباس و پوشاک سے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا کہ یہ شخص مسلمان بھی ہے کہ نہیں؟ پھر طرہ یہ کہ وہ نصوصِ صریحہ کا منکر ہے، اور تأویلاتِ فاسدہ کے ذریعہ اسلام کو کفر، اور کفر کو اسلام باور کرانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کان کاٹتا ہے، فلسفہٴ اجراء نبوت کا نہ صرف وہ قائل ہے بلکہ اس کا داعی اور مناد ہے۔

          وہ تمام آسمانی کتابوں کا یکسر منکر ہے، وہ انبیاء کے مادّی وجود کا قائل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی وجود کی بھول بھلیوں کے گورکھ دھندوں سے آپ کی نبوت و رسالت اور مادّی وجود کا انکاری ہے، انبیائے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ترجیح دیتا ہے۔

          ذخیرہٴ احادیث کو من گھڑت کہانیاں کہہ کر ناقابلِ اعتماد گردانتا ہے، غرضیکہ عقائدِ اسلام کے ایک ایک جز کا انکار کرکے ایک نیا دین و مذہب پیش کرتا ہے، اور لوگ ہیں کہ اس کی عقیدت و اطاعت کا دَم بھرتے پھرتے ہیں، اور اس کو اپنا پیشوا اور راہ نما مانتے ہیں۔

          اس کے برعکس دوسری جانب اللہ کا قرآن ہے، نصوصِ صریحہ اور احادیثِ نبویہ کا ذخیرہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہٴ حسنہ اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و کردار کی شاہراہ ہے، اور اجماعِ امت ہے، جو پکار پکار کر انسانوں کی ہدایت و راہ نمائی کے خطوط متعین کرتے ہیں، مگر ان ازلی محروموں کے لئے یہ سب کچھ ناقابلِ اعتماد ہے۔

          کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں اس ملحد و بے دین کی غلامی کا پٹہ سجانے اور اس کی امت کہلانے میں “فخر” محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر! جس کی بنیاد الحاد و زندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے ایک جاہل مطلق کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔

          گزشتہ ایک عرصہ سے اس قسم کی شکایات سننے میں آرہی تھیں کہ سیدھے سادے مسلمان اس فتنے کا شکار ہو رہے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں کچھ لکھنے کا خیال ہوا تو ایک صاحب راقم الحروف اور دارالعلوم کراچی کے فتاویٰ کی کاپی لائے اور فرمائش کی کہ اس فتنہ کے خلاف آواز اُٹھائی جائے، اس لئے کہ حکومت اور انتظامیہ اس فتنہ کی روک تھام کے لئے نہایت بے حس اور غیرسنجیدہ ہے، جبکہ یہ فتنے روزبروز بڑھ رہا ہے، کس قدر لائقِ افسوس ہے کہ اگر کوئی شخص بانیٴ پاکستان یا موجودہ وزیراعظم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوجائے تو حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آجاتی ہے، لیکن یہاں قرآن و سنت، دینِ متین اور حضراتِ انبیاء اور ان کی نبوت کا انکار کیا جاتا ہے، ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے ہیں، مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی، اور انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

          اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان ہر دو تحریروں کو یکجا شائع کردیا جائے، تاکہ مسلمانوں کا دین و ایمان محفوظ ہوجائے، اور لوگ اس فتنہ کی سنگینی سے واقف ہوکر اس سے بچ سکیں۔

          راقم الحروف کا مختصر جواب اگرچہ روزنامہ جنگ کے کالم “آپ کے مسائل اور ان کا حل” میں شائع ہوچکا ہے، مگر دارالعلوم کراچی کا فتویٰ شائع نہیں ہوا، چنانچہ سب سے پہلے ایک ایسی خاتون کا مرتب کردہ سوال نامہ ہے جو براہ راست اس فتنے سے متأثر رہی ہے، اس کے بعد راقم الحروف کا جواب ہے، اور آخر میں دارالعلوم کراچی کا جواب ہے، اور سب سے آخر میں اختتامیہ کلمات ہیں، چونکہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ میں قرآنی آیات اور دوسری نصوص کے ترجمے نہیں تھے اس لئے افادہٴ عام کی خاطر قرآنی آیات اور عربی عبارتوں کے ترجمے کردئیے گئے ہیں، قرآنی آیات کا ترجمہ حضرت تھانوی کے ترجمہ سے نقل کیا گیا ہے۔

سوال نامہ

س… محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب۔ السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ!

          احوال حال کچھ اس طرح ہے کہ بحیثیت مسلمان میں اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے دین کو ضرب پہنچانے اور اس کے عقائد کی عمارت کو مسمار کرنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں، اس کے متعلق غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنا چاہتی ہوں۔

          محترم! یہاں پر چند تنظیموں کی جانب سے نام نہاد پمفلٹ آڈیو / ویڈیو کیسٹس کے ذریعے ایسا لٹریچر فراہم کیا جارہا ہے جس سے بڑا طبقہ شکوک و شبہات اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستان، جسے اسلامی فلسفہ و فکر کے ذریعے حاصل کیا گیا، اس کے شہر کراچی میں ایک تنظیم “القرآن ریسرچ سینٹر” کے نام سے عرصہ چھ سات سال سے قائم ہے، اس تنظیم کے بنیادی عقائد مندرجہ ذیل ہیں:

          ۱:…دنیا کے وجود میں آنے سے پہلے انسانیت کی بھلائی کے لئے قرآن پاک معجزانہ طور پر اکٹھا دنیا میں موجود تھا، مختلف انبیاء پر، مختلف ادوار میں، مختلف کتابیں نازل نہیں ہوئیں، بلکہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کو مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا، کبھی توریت، کبھی انجیل اور کبھی زبور کے نام سے۔

          قرآن جو جہاں اور جس وقت پڑھ رہا ہے اس پر اسی وقت نازل ہو رہا ہے، اور جہاں “قل” کہا گیا ہے وہ اس انسان کے لئے کہا جارہا ہے جو پڑھ رہا ہے۔

          ۲:…انبیاء کا کوئی مادّی وجود نہیں رہا، اس دنیا میں وہ نہیں بھیجے گئے، بلکہ وہ صرف انسانی ہدایت کے لئے Symbols کے طور پر استعمال کئے گئے اور موجودہ دنیا سے ان کا کوئی مادّی تعلق نہیں۔ قرآن شریف کے اندر وہ انسانی رہنمائی کے لئے صرف فرضی کرداروں اور کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں۔

          ۳:…قرآن شریف میں چونکہ حضور کو زمان حال یعنی Present میں پکارا گیا ہے، لہٰذا حضور بحیثیتِ روح ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہیں، اور وہ مادّی وجود سے مبرا ہیں اور نہ تھے۔

          ۴:…حضور کی دیگر انبیاء پر کوئی فضیلت نہیں، وہ دیگر انبیاء کے برابر ہیں، بلکہ حضرت موسیٰ، بعض معنوں اور حیثیتوں میں یعنی قرآن پاک نے بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کا کثرت سے ذکر کیا، جس کی وجہ سے ان کی فضیلت حضور پر زیادہ ہے، حضور کے متعلق جتنی بھی احادیث تاریخ اور تفسیر میں موجود ہیں وہ انسانوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔

          ان تمام عقائد کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ قرآن و سنت کے مطابق یہ فتویٰ دیں کہ:

          ۱:…یہ عقائد اسلام کی رُو سے دُرست ہیں یا نہیں؟

          ۲:…اس کو اپنانے والا مسلمان رہے گا؟

          ۳:…ایسی تنظیموں کو کس طرح روکا جائے؟

          ۴:…ایسے شخص کی بیوی کے لئے کیا حکم ہے، جس کے عقائد قرآن و سنت کے مطابق ہیں، جو تمام انبیاء، تمام کتابوں، آخرت کے دن اور احادیث پر مکمل یقین اور ایمان رکھتی ہو؟

          ۵:…آخر میں مسلمانیت کے ناطے اپیل ہے کہ ایسے اشخاص سے بھرپور مناظرہ کیا جائے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، کیونکہ ہم سچے مسلمان ہیں۔                         ایک خاتون۔ کراچی

راقم الحروف کا جواب

ج… السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، میری بہن! یہ فتنوں کا زمانہ ہے اور جس شخص کے ذہن میں جو بات آجاتی ہے، وہ اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سلف بیزاری اور انکارِ حدیث کا نتیجہ ہے، اور جو لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں وہ پورے دین کا انکار کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں میں اپنے رسالہ “انکارِ حدیث کیوں؟” میں لکھ چکا ہوں کہ:

          “آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات کے ساتھ بے اعتنائی برتنے والوں اور آپ کے اقوالِ شریفہ کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کے متعلق اعلان کیا گیا کہ ان کے قلوب پر خدائی مہر لگ چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان و یقین اور رُشد و ہدایت کی استعداد گم کرچکے ہیں، اور ان لوگوں کی ساری تگ و دو خواہشِ نفس کی پیروی تک محدود ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

          “وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ، حَتّٰیٓ اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ٰانِفًا، اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللهُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَاتَّبُعْوْٓا اَھْوَآئَھُمْ۔”          (محمد:۱۶)

          ترجمہ:…”اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اُٹھ کر باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تحقیر کے طور پر) کہتے ہیں کہ: حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          قرآن کریم نے صاف صاف یہ اعلان بھی کردیا کہ انبیا ٴکرام علیہم السلام کو صرف اسی مقصد کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انکار اور آپ کے ارشادات سے سرتابی کرنا گویا انکارِ رسالت کے ہم معنی ہے۔ اس طرح آپ کی اطاعت کے منکرین، انکارِ رسالت کے مرتکب ہیں۔

           آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جب قرآن ہی وحیٴ خداوندی بتلاتا ہے (وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی)، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلماتِ طیبات کو جب قرآن ہی “گفتہ او گفتہ اللہ بود” کا مرتبہ دیتا ہے، تو بتلایا جائے کہ حدیثِ نبوی کے حجتِ دینیہ ہونے میں کیا کسی شک و شبہ کی گنجائش رہ جاتی ہے․․․؟ اور کیا حدیثِ نبوی کا انکار کرنے سے، خود قرآن ہی کا انکار لازم نہیں آئے گا؟ اور کیا فیصلہٴ نبوت میں تبدیلی کے معنی خود قرآن کو بدل ڈالنا نہیں ہوں گے؟ اور اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ قرآن کریم بھی تو امت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبانِ مبارک سے سنا، اور سن کر اس پر ایمان لائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: “یہ قرآن ہے۔” یہ ارشاد بھی تو حدیثِ نبوی ہے۔ اگر حدیثِ نبوی حجت نہیں تو قرآن کریم کا “قرآن” ہونا کس طرح ثابت ہوگا؟ آخر یہ کون سی عقل و دانش کی بات ہے کہ اس مقدس و معصوم زبان سے صادر ہونے والی ایک بات تو واجب التسلیم ہو اور دوسری نہ ہو․․․؟

          امیر شریعت سید عطا ٴاللہ شاہ بخاری نے ایک موقع پر فرمایا تھا:

          “یہ تو میرے میاں (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کمال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: “یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور یہ میرا کلام ہے۔” ورنہ ہم نے تو دونوں کو ایک ہی زبان سے صادر ہوتے ہوئے سنا تھا۔”

          جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ: “قرآن تو حجت ہے، مگر حدیث حجت نہیں ہے۔” ان ظالموں کو کون بتلائے کہ جس طرح ایمان کے معاملے میں خدا اور رسول کے درمیان تفریق نہیں ہوسکتی کہ ایک کو مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے۔ ٹھیک اسی طرح کلام اللہ اور کلامِ رسول کے درمیان بھی اس تفریق کی گنجائش نہیں کہ ایک کو واجب الاطاعت مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے، ایک کو تسلیم کرلیجئے تو دوسرے کو بہرصورت تسلیم کرنا ہوگا۔ اور ان میں سے ایک کا انکار کردینے سے دوسرے کا انکار آپ سے آپ ہوجائے گا۔ خدائی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس کے کلام کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا جائے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ٹھکرادیا جائے، وہ ایسے ظالموں کے خلاف صاف اعلان کرتا ہے:

          ․․․․․․فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللهِ یَجْحَدُوْنَ۔”            (الانعام:۳۳)

          ترجمہ:…”پس اے نبی! یہ لوگ آپ کے کلام کو نہیں ٹھکراتے، بلکہ یہ ظالم، اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں۔”

          لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور کلام اللہ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں لامحالہ رسول اور کلامِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر بھی ایمان لانا ہوگا، ورنہ ان کا دعویٴ ایمان حرفِ باطل ہے۔”

          جس تنظیم کا آپ نے تذکرہ کیا ہے ان عقائد کے رکھنے والے مسلمان نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے دین کی پوری کی پوری عمارت کو مسمار کردینے کا عزم کرلیا ہے، نیز انہوں نے تمام شعائرِ اسلام اور قرآن و حدیث اور انبیاء اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کا انکار کیا ہے، اور جو لوگ اسلامی معتقدات کا انکار کریں، ان میں تاویلاتِ باطلہ کریں، اور اپنے کفر کو اسلام باور کرائیں، وہ ملحد و زندیق ہیں، اور زندیق، کافر و مرتد سے بڑھ کر ہے، اس لئے کہ وہ بکرے کے نام پر خنزیر کا گوشت فروخت کرتا ہے، اور امتِ مسلمہ کو دھوکا دے کر ان کے ایمان و اسلام کو غارت کرتا ہے، اسی بنا پر اگر زندیق گرفتار ہونے کے بعد توبہ بھی کرلے تو اس کی توبہ کا اعتبار نہیں، اس لئے حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو اس الحاد و زندقہ سے روکے، اگر رُک جائیں تو فبہا ورنہ ان پر اسلامی آئین کے مطابق ارتداد و زندقہ کی سزا جاری کرے۔

          اہل ایمان کا ان سے رشتہ ناطہ بھی جائز نہیں، اگر ان میں سے کسی کے نکاح میں کوئی مسلمان عورت ہو تو اس کا نکاح بھی فسخ ہوجاتا ہے۔

          جہاں تک مناظرے کا تعلق ہے، ان حضرات سے مناظرہ بھی کرکے دیکھا، مگر ان کے دل میں جو بات بیٹھ گئی ہے اس کو قبر کی مٹی اور جہنم کی آگ ہی دور کرسکتی ہے، والله اعلم!

دارالعلوم کراچی کا جواب

الجواب حامدًا ومصلیًا

          ۱،۲:… سوال میں ذکر کردہ اکثر عقائد قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی تصریحات اور موقف کے بالکل خلاف ہیں، اس لئے اگر کسی شخص کے واقعتا یہی عقائد ہیں تو وہ کافر اور دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، اور اس کے ماننے والے بھی کافر اور دائرہٴ اسلام سے خارج ہیں۔

          مذکورہ نظریات و عقائد کا قرآن و سنت کی رو سے باطل ہونا ذیل میں ترتیب وار تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں:

          ۱:…یہ (کہنا کہ قرآن پاک کو مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا، کبھی تورات، کبھی انجیل اور کبھی زبور، اور مختلف ادوار میں مختلف کتابیں نازل نہیں ہوئی) کفریہ عقیدہ ہے، کیونکہ پوری امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ صحفِ آسمانی کے علاوہ آسمانی کتابیں چار ہیں، اور قرآن کریم میں اس کی تصریح ہے کہ قرآن کے علاوہ تین آسمانی کتابیں اور ہیں، جن میں سے توراة حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور زبور حضرت داوٴد علیہ السلام پر نازل کی گئی، لہٰذا قرآن کے علاوہ مذکورہ تین کتب کے مستقل وجود کا انکار کرنا درحقیقت قرآنِ کریم کی ان آیات کا انکار کرنا ہے جن میں ان کتابوں کے مستقل وجود کا ذکر ہے، درج ذیل آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

          “وَاَنْزَلَ التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِیْلَ۔ مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ۔”                               (آل عمران:۳، ۴)

          ترجمہ:…”اور (اسی طرح) بھیجا تھا تورات اور انجیل کو اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰةُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْم بَعْدِہ۔”

                                       (آل عمران:۶۵)

          ترجمہ:…”حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر ان کے (زمانہ کے بہت) بعد۔”    (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَٰاتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّنُوْرٌ۔” (المائدة:۴۶)

          ترجمہ:…”اور ہم نے ان کو انجیل دی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔”

          “وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللهُ فِیْہِ۔”

                                       (المائدة:۴۷)

          ترجمہ:…”اور انجیل والوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے اس کے موافق حکم کیا کریں۔”

          “وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِیْلَ۔”                          (المائدة:۱۱۰)

          ترجمہ:…”اور جبکہ میں نے تم کو کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توارت اور انجیل تعلیم کیں۔”

          “اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِیْلِ۔”

                                       (الاعراف:۱۵۷)

          ترجمہ:…”جو لوگ ایسے رسول نبی اُمّی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔”

          “وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ۔”    (الانبیاء:۱۰۵)

          ترجمہ:…”اور ہم (سب آسمانی) کتابوں میں لوحِ محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔”

          “وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّنَ عَلٰی بَعْضٍ وَٰاتَیْنَا دَاودَ زَبُوْرًا۔”                  (الاسراء:۵۵)

          ترجمہ:…”اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور ہم داوٴد (علیہ السلام) کو زبور دے چکے ہیں۔”

          “فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔”

                                       (آل عمران:۹۳)

          ترجمہ:…”پھر توراة لاوٴ، پھر اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔”

          “وَکَیْفَ یُحِکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَھُمُ التَّوْرٰةُ فِیْھَا حُکْمُ اللهِ۔”                        (المائدة:۴۳)

          ترجمہ:…”اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “اِنَّآ أَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ۔”(المائدة:۴۴)

          ترجمہ:…”ہم نے تورات نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔”

          “وَقَفَّیْنَا عَلٰٓی ٰاثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰةِ۔”                 (المائدة:۴۶)

          ترجمہ:…”اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو اس حالت میں بھیجا کہ وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق فرماتے تھے۔”                  (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “اِنِّیْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰةِ۔”                                       (الصف:۶)

          ترجمہ:…”میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (آچکی) ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔”                         (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللهِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا م بَعِیْدًا۔”  (النساء:۱۳۶)

          ترجمہ:…”اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے، اور اس کے فرشتوں کا، اور اس کی کتابوں کا، اور اس کے رسولوں کا، اور روزِ قیامت کا، تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “کُلٌّ ٰامَنَ بِاللهِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ۔”

                                       (البقرة:۲۸۵)

          ترجمہ:…”سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ۔”

          اور یہ کہنا کہ: “قرآن جو جس وقت پڑھ رہا ہے، اس پر اسی وقت نازل ہو رہا ہے، اور “قل” اسی کے لئے کہا جارہا ہے جو پڑھ رہا ہے۔” یہ بھی تعبیر کے لحاظ سے غلط ہے، کیونکہ قرآن کریم ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا نازل ہوچکا ہے، اس کے اولین اور آخرین براہ راست مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اب جو شخص پڑھ رہا ہے وہ قرآن کا اولین اور براہِ راست مخاطب نہیں ہے، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مخاطب ہے اور اس اعتبار سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھنا بھی چاہئے۔

          ۲:…یہ عقیدہ بھی کفریہ ہے (کہ انبیاء کا مستقل کوئی وجود نہیں تھا)، کیونکہ قرآن کریم کی متعدد آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ انبیاء کا مستقل وجود تھا، وہ دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے اور وہ بشریت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، انہوں نے عام انسانوں کی طرح دنیا میں زندگی گزاری، ان میں بشری حوائج اور مادّی صفات پائی جاتی تھیں، چنانچہ وہ کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور انہوں نے نکاح بھی کئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ سے معجزات بھی ظاہر فرمائے، انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا، یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو اپنے وجود کے لئے مادّہ اور مستقل وجود کا تقاضا کرتی ہیں، اس کے بغیر ان کا وجود اور ظہور ہی محال ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ: “انبیاء کا مادّی وجود نہیں رہا، قرآن میں وہ صرف فرضی کرداروں اور کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں” بالکل غلط اور قرآن و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے، اس سلسلے میں درج ذیل آیاتِ قرآنیہ ملاحظہ فرمائیں:

          “کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِیّنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ۔”          (البقرة:۲۱۳)

          ترجمہ:…”سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو کہ خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں، اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امورِ اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمادیں۔”

          “وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔”

                                       (الانعام:۴۸)

          ترجمہ:…”اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈراویں۔”

          “یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَأْتُکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ ٰایٰتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔”

                                       (الانعام:۱۳۰)

          ترجمہ:…”اے جماعت جنات اور انسانوں کی! کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے؟ جو تم سے میرے احکام بیان کرتے تھے اور تم کو آج کے دن کی خبر دیا کرتے تھے۔”                         (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَّةً۔”                          (الرعد:۳۸)

          ترجمہ:…”اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دئیے۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔”                     (النحل:۳۶)

          ترجمہ:…”اور ہم ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَمَا کُنَّا مُعَذَّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔”

                                       (الاسراء:۱۵)

          ترجمہ:…”اور ہم (کبھی) سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج دیتے۔”

          “وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآ اِنَّھُمْ لَیَأْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ۔” (الفرقان:۲۰)

          ترجمہ:…”اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔”                                    (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ۔ وَمَا یَأْتِیْھِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوْا بِہ یَسْتَھْزِئُوْنَ۔”         (الزخرف:۶،۷)

          ترجمہ:…”اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں، اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو۔”

          “کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ ٰایٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعِلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔”           (البقرة:۱۵۱)

          ترجمہ:…”جس طرح تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا تم ہی میں سے ہماری آیات (واحکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الٰہی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے رہتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی۔”           (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔”                         (الفرقان:۷)

          ترجمہ:…”اور یہ (کافر) لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَی الْمُوٴْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ٰایٰتِہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ۔”                     (آل عمران:۱۶۴)

          ترجمہ:…”حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں، اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں۔”

          “ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ۔”                          (الفتح:۲۸)

          ترجمہ:…”وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت دی، اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر دنیا میں بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔”          (ترجمہ حضرت تھانوی)

          “رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ ٰایٰتِ اللهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ۔”

                                       (الطّلاق:۱۰)

          ترجمہ:…”ایک ایسا رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ ایسے لوگوں کو کہ جو ایمان لاویں اور اچھے عمل کریں (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے نور کی طرف لے آویں۔”

          “لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوٴْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔”

                                       (التوبة:۱۲۸)

          ترجمہ:…”(اے لوگو) تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں، جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے بالخصوص) ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق (اور) مہربان ہیں۔”

          “یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْا لَہ بِالْقَوْلِ۔” (الحجرات:۲)

          ترجمہ:…”اے ایمان والو! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو۔”

          قرآن کریم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہٴ حال میں جو خطاب کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت قرآن کریم کا نزول آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو رہا تھا اس وقت آپ اپنے مادّی وجود کے ساتھ دنیا میں موجود تھے، اس لئے زمانہٴ حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کیا گیا، یہ مطلب نہیں کہ آپ بحیثیت روح ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں۔

          یہ عقیدہ (رکھنا کہ چونکہ قرآن شریف میں صیغہ حال سے پکارا گیا ہے، اس لئے حضور بحیثیتِ روح ہر جگہ موجود ہیں، اور وہ مادّی وجود سے مبرا ہیں) قرآن و سنت کی صریح نصوص اور اہل السنة والجماعة کے موقف کے خلاف ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں، اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں، تو یہ کھلا ہوا شرک ہے، اور نصاریٰ کی طرح رسول کو خدائی کا درجہ دینا ہے، اور اگر کوئی شخص کسی تأویل کے ساتھ یہ عقیدہ رکھتا ہے تب بھی اس عقیدہ کے غلط اور فاسد ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور ایسا شخص گمراہ ہے۔ ملاحظہ ہو: جواہر الفقہ ج:۱ ص:۱۱۵، تبرید النواظر مصنفہ مولانا سرفراز صفدر صاحب مدظلہم۔

          ۴:…اہل السنة والجماعة کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ مجموعی تمام انبیاء سے افضل ہیں، البتہ بعض جزئیات اور واقعات میں اگر کسی نبی کو کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ اس کے معارض نہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شرفِ کلام حاصل ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صفت “خلت” حاصل ہے، وغیرہ وغیرہ، یہ تمام جزئی فضیلتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجموعی فضیلت کے منافی اور اس کے معارض نہیں ہیں۔

          اور یہ کہنا کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جتنی بھی احادیث، تاریخ اور تفسیر میں موجود ہیں وہ انسانوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔” درحقیقت احادیثِ نبویہ کا انکار ہے، جو کہ موجبِ کفر ہے، پوری امتِ محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ حدیث، قرآن کریم کے بعد دین کا دوسرا اہم مأخذ ہے، قرآن کریم نے جس طرح اللہ رب العزت کے احکام کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے، اسی طرح جنابِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال کی بھی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے، لہٰذا قرآن میں بہت سے ایسے احکام ہیں جن کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں، بلکہ ان کی تفصیلات اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور عمل پر چھوڑ دی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ان کی تفصیلات اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ اپنے قول و فعل سے بیان کیا، اگر احادیث انسانوں کی من گھڑت ہیں تو قرآن کریم کے ایسے احکام پر عمل کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور یہ ہمیں کیسے معلوم ہوں گے؟

          اور اللہ رب العزت نے جس طرح قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اسی طرح قرآن کریم کے معانی کی بھی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اور معانی قرآن کی تعلیم حدیث ہی میں ہوئی، اور جن ذرائع سے قرآن کریم ہم تک پہنچا ہے، انہی ذرائع سے احادیث بھی ہم تک پہنچی ہیں، اگر یہ احادیث من گھڑت ہیں اور ذرائع قابلِ اعتماد نہیں، تو یہ امکان قرآن کریم میں بھی ہوسکتا ہے، تو پھر قرآن کریم کو بھی -نعوذ بالله- من گھڑت کہنا لازم آتا ہے، لہٰذا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح قرآن کریم اب تک محفوظ چلا آرہا ہے، اسی طرح احادیث بھی محفوظ چلی آرہی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا بے نظیر انتظام فرمایا ہے، جس کی تفصیل تدوینِ حدیث کی تاریخ سے معلوم ہوسکتی ہے، لہٰذا احادیث کو انسانوں کی من گھڑت کہانیاں قرار دینا صریح گمراہی اور موجبِ کفر ہے۔

          مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: “حجیتِ حدیث” مصنفہ مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم، “کتابتِ حدیث عہدِ رسالت و عہدِ صحابہ میں” مصنفہ مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم، “حفاظت و حجیتِ حدیث” مصنفہ مولانا فہیم عثمانی صاحب۔

          ۳:…مسلمانوں کو چاہئے کہ جو شخص یا تنظیم ایسے عقائد کی حامل ہو اس سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں، اور ان کے لٹریچر اور کیسٹ وغیرہ سے مکمل احتراز کریں، خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں، اور اربابِ حکومت کو بھی ایسی تنظیم کی طرف توجہ دلائیں تاکہ ان پر پابندی لگائی جاسکے۔

          ۴:…جو شخص مذکورہ عقائد کو بغیر کسی مناسب تأویل کے مانتا ہے وہ شخص مرتد اور دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، اس کی مسلمان بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اب اس کے عقد میں کوئی مسلمان عورت نہیں رہ سکتی، اور نہ کسی مسلمان عورت کا اس سے نکاح ہوسکتا ہے۔

          مذکورہ بالا شخص کے عقائد قرآن و سنت، اجماعِ امت اور اکابر علمائے اہل سنت والجماعت کی تصریحات کے خلاف ہیں، اس کے لئے درج ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں:

          “فی شرح العقائد ص:۲۱۷: ولله تعالیٰ کتب انزلھا علی انبیائہ وبین فیھا امرہ ونھیہ ووعدہ ووعیدہ وکلھا کلام الله تعالیٰ ․․․․․ وقد نسخت بالقرآن تلاوتھا وکتابتھا بعض احکامھا۔ وفی الحاشیة قولہ “ولله کتب” رکن من ارکان ما یجب بہ الایمان مما نطقت النصوص القرآنیة والاخبار النبویة۔”

          ترجمہ:…”شرح عقائد ص:۲۱۷ میں ہے کہ: اللہ تعالیٰ کی (قرآن کے علاوہ) کئی کتابیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء پر نازل فرمایا اور ان کتابوں میں امر و نہی، وعدہ و وعید کو بیان فرمایا اور یہ تمام کتابیں کلامِ الٰہی ہیں ․․․․․․ اور قرآن مجید کے نازل ہونے پر ان سابقہ کتب کی تلاوت اور کتابت اور ان کے بعض احکام کو منسوخ کیا گیا۔ اور حاشیہ میں ہے: قولہ “ولله کتب” یعنی ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن یہ بھی ہے کہ ان سابقہ کتب پر ایمان لایا جائے جن کے بارے میں نصوصِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ شہادت دیتی ہیں۔”

          “وفیہ ص:۴۵: والرسول انسان بعثہ الله تعالیٰ الی الخلق لتبلیغ الاحکام۔”

          ترجمہ:…”اور شرح عقائد ص:۴۵ میں ہے: اور رسول وہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرف تبلیغِ احکام کے لئے مبعوث فرماتے ہیں۔”

          “وفی شرح المقاصد ج:۵ ص:۵: النبی انسان بعثہ الله تعالیٰ لتبلیغ ما اوحی الیہ وکذا الرسول۔”

          ترجمہ:…”اور شرح مقاصد ج:۵ ص:۵ میں ہے کہ: نبی وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ ان احکام کی تبلیغ کے لئے بھیجتے ہیں جو ان کی طرف وحی فرماتے ہیں اور رسول کی تعریف بھی یہی ہے۔”

          “وفی شرح العقیدة الطحاویة لابن ابی العز ص:۲۹۷۰: قولہ: ونوٴمن بالملٰئکة والنبیین والکتب المنزلة علی المرسلین نشھد انھم کانوا علی الحق المبین۔ ھذہ الامور من ارکان الایمان، قال تعالیٰ: “ٰامَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہ وَالْمُوٴْمِنُوْنَ، کُلٌّ ٰامَنَ بِاللهِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ، لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہ۔”

                                       (البقرة:۲۸۵)

          وقال تعالیٰ: “لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ ٰامَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَةِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّنَ۔”          (البقرة:۱۷۷)

          فجعل الله سبحانہ وتعالیٰ الایمان ھو الایمان بھذہ الجملة وسمی من آمن بھذہ الجملة موٴمنین، کما جعل الکافرین من کفر بھذہ الجملة بقولہ: وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللهِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًام بَعِیْدًا۔”                        (النساء:۱۳۷)

          ترجمہ:…”اور ابن ابوالعز کی شرح عقیدہٴ طحاویہ کے ص:۲۹۷ میں ہے کہ: ہم ایمان لاتے ہیں ملائکہ پر، نبیوں پر اور ان پر نازل ہونے والی تمام کتابوں پر اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ (رسول) سب کے سب حق پر تھے۔ اور یہ تمام امور ارکانِ ایمان میں سے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اور موٴمنین بھی سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں میں سے کسی سے تفریق نہیں کرتے۔” اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “کچھ سارا کمال اس میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو، لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر، اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر۔”

          (ان دلائل سے معلوم ہوا کہ) اللہ تعالیٰ نے ایمان ہی اس چیز کو قرار دیا ہے کہ ان تمام چیزوں پر ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں “موٴمنین” نام ہی ان لوگوں کا رکھا ہے جو ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ “کافرین” ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو ان تمام چیزوں کا انکار کرتے ہیں، جیسے کہ ارشادِ الٰہی ہے: “اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے، اور اس کے فرشتوں کا، اور اس کی کتابوں کا، اور اس کے رسولوں کا، اور روزِ قیامت کا، تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا۔”

          “وقال فی الحدیث المتفق علی صحتہ، حدیث جبریل، وسوالہ للنبی صلی الله علیہ وسلم عن الایمان فقال: ان توٴمن بالله وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ ․․․․ الخ۔ فھذہ الاصول التی اتفقت علیھا الانبیاء والرسل صلوات الله علیہم وسلامہ، ولم یوٴمن بھا حقیقة الایمان الا اتباع الرسل۔”

          ترجمہ:…”اور حدیثِ جبریل (جس کی صحت پر بخاری و مسلم متفق ہیں) میں ہے کہ: حضرت جبریل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی تمام کتابوں پر، اور تمام رسولوں پر․․․․․” پس یہ وہ اصول ہیں جن پر تمام پیغمبروں اور رسولوں کا اتفاق ہے، اور اس پر صحیح معنی میں کوئی ایمان نہیں لایا مگر وہ جو انبیاء و رسل کے متبعین ہیں۔”

          “وفیہ ص:۳۱۱: واما الانبیاء والمرسلون فعلینا الایمان بمن سمی الله تعالیٰ فی کتابہ من رسلہ، والایمان بان الله تعالیٰ ارسل رسلا سواھم وانبیاء لا یعلم اسمائھم وعددھم الا الله تعالیٰ الذی ارسلھم ․․․․․ وعلینا الایمان بانھم بلغوا جمیع ما ارسلوا بہ علی ما امرھم الله بہ وانھم بینوہ بیانا لا یسع احدا ممن ارسلوا الیہ جھلہ ولا یحل خلافہ ․․․․ الخ۔

          ․․․․․ واما الایمان بالکتب المنزلة علی المرسلین فنوٴمن بما سمی الله تعالیٰ منھا فی کتابہ من التوراة والانجیل والزبور، ونوٴمن بان الله تعالیٰ سوی ذالک کتبا انزلھا علی انبیائہ لا یعرف اسمائھا وعددھا الا الله تعالیٰ۔”

          ترجمہ:…”اور اسی کتاب کے ص:۳۱۱ پر ہے: رہے انبیاء اور رسول! پس ہمارے ذمہ واجب ہے کہ ان میں سے ان تمام نبیوں پر ایمان لائیں جن کا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، (اسی طرح) اس پر بھی ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ دوسرے انبیاء اور رسول بھی بھیجے کہ جن کے نام اور تعداد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ․․․․․․ اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو جن احکام کے پہنچانے کا حکم دیا تھا، ان انبیاء نے وہ تمام احکام پہنچادئیے، اور انبیاء نے ان احکام کو اتنا کھول کھول کر بیان کردیا کہ امت میں سے ناواقف سے ناواقف آدمی کو بھی کوئی اشکال نہ رہا، اور ان کے خلاف کرنا حلال نہ رہا ․․․․․․ اور رہا ان کتابوں پر ایمان لانا جن کو رسولوں پر نازل کیا گیا، سو ہم ان تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نام لیا ہے، یعنی تورات، انجیل اور زبور، اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ کتابوں کے علاوہ اور کتابیں بھی اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں، جن کا نام اور ان کی تعداد سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔”

          “وفی شرح العقیدة الطحاویة للمیدانی ص:۱۰۴: والایمان المطلوب من المکلف ھو الایمان بالله وملٰئکتہ وکتبہ بانھا کلام الله تعالیٰ الازلی القدیم المنزہ عن الحروف والاصوات وبانہ تعالیٰ انزلھا علیٰ بعض رسلہ بالفاظ حادثة فی الواح او علیٰ لسان ملک وبان جمیع ما تضمنتہ حق وصدق، ورسلہ بانہ ارسلھم الی الخلق لھدایتھم وتکمیل معاشھم معادھم وایدھم بالمعجزات الدالة علیٰ صدقھم فبلغوا عنہ رسالتہ ․․․․․الخ۔”

          ترجمہ:…”اور میدانی کی شرح عقیدہٴ طحاویہ ص:۱۰۴ پر ہے: مکلف (یعنی جن و انس) سے جو ایمان مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ: اللہ پر ایمان لانا، اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی تمام کتابوں پر، اس طرح ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام، کلامِ ازلی اور قدیم ہے، جو حروف اور آواز سے پاک ہے، اور نیز اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو اپنے بعض رسولوں پر تختیوں میں حادث الفاظ کی صورت میں نازل کیا، یا فرشتہ کی زبان پر اتارا۔ اور نیز وہ تمام کا تمام کلام جس پر کتاب مشتمل ہے حق اور سچ ہے۔ اور اللہ کے رسول جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف ان کی ہدایت، اور ان کی تکمیل معاش و معاد کے لئے بھیجا، اور ان انبیاء کی ایسے معجزات سے تائید کی جو ان انبیاء کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ ان انبیاء نے اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔”

          “قال القاضی عیاض فی شرح الشفاء ص:۳۳۵: واعلم ان من استخف بالقرآن او المصحف او بشیء منہ او سبہ او جحدہ او حرف منہ او آیة او کذب بہ او بشیء مما صرح بہ فیہ من حکم او خبر او اثبت ما نفاہ او نفی ما اثبتہ علیٰ علم منہ بذالک او شک فی شیء من ذالک فھو کافر عند اھل العلم باجماع۔”

          ترجمہ:…”علامہ قاضی عیاض شرح شفاء ص:۳۳۵ میں لکھتے ہیں: جان لیجئے کہ جس نے قرآن یا کسی مصحف، یا قرآن کی کسی چیز کو ہلکا جانا یا قرآن کو گالی دی یا اس کے کسی حصہ کا انکار کیا یا کسی حرف کا انکار کیا یا قرآن کو جھٹلایا، یا قرآن کے کسی ایسے حصہ کا انکار کیا جس میں کسی حکم یا خبر کی صراحت ہو، یا کسی ایسے حکم یا خبر کو ثابت کیا جس کی قرآن نفی کر رہا ہے، یا کسی ایسی چیز کی جان بوجھ کر نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے، یا قرآن کی کسی چیز میں شک کیا ہے، تو ایسا آدمی بالاجماع، اہل علم کے نزدیک کافر ہے۔”

          “وفی شرح العقائد ص:۲۱۵: وافضل الانبیاء محمد صلی الله علیہ وسلم، لقولہ تعالیٰ: “کنتم خیر امة۔” ولا شک ان خیریة الامة بحسب کمالھم فی الدین وذالک تابع لکمال نبیھم الذی یتبعونہ۔”

          ترجمہ:…”شرح عقائد ص:۲۱۵ میں ہے کہ: انبیاء میں سے سب سے افضل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ: “تم بہترین امت ہو!” اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امت کا بہترین ہونا دین میں ان کے کمال کے اعتبار سے ہے، اور امت کا دین میں کامل ہونا یہ تابع ہے ان کے اس نبی کے کمال کے، جس کی وہ اتباع کر رہے ہیں۔”

          “وفی المشکوٰة: عن ابی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ سلم: انا سید ولد آدم یوم القیامة واول من ینشق عنہ القبر واول شافع واول مشفع۔”                               (رواہ مسلم)

          ترجمہ:…”اور مشکوٰة شریف میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی، اور میں سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا، اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی۔”

          “وفی المرقاة ج:۷ ص:۱۰: فی شرح مسلم للنووی ․․․․․ وفی الحدیث دلیل علیٰ فضلہ علیٰ کل الخلق لان مذھب اھل السنة ان الآدمی افضل من الملٰئکة وھو افضل الآدمیین بھذا الحدیث۔”

          ترجمہ:…”اور مرقاة ج:۷ ص:۱۰ میں ہے کہ: یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق پر فضیلت کی دلیل ہے، کیونکہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ آدمی ملائکہ سے افضل ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث کی بنا پر تمام آدمیوں سے افضل ہیں (تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات سے افضل ہوئے)۔”

          الغرض یہ شخص ضال و مضل اور مرتد و زندیق ہے، اسلام اور قرآن کے نام پر مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈال رہا ہے، اور سیدھے سادے مسلمانوں کو نبیٴ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے کاٹ کر اپنے پیچھے لگانا چاہتا ہے۔

          حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ فوراً اس فتنہ کا سدباب کرے، اور اس بے دین کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور اسے ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ اس کی آئندہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں، اور کوئی بدبخت آئندہ ایسی جرأت نہ کرسکے۔

          نیز اس کا بھی کھوج لگایا جائے اور اس کی تحقیق کی جائے کہ کن قوتوں کے اشارہ پر یہ لوگ پاکستان میں اور مسلمانوں میں اضطراب اور بے چینی کی فضاء پیدا کر رہے ہیں؟

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عذابِ الٰہی روکنے کا ذریعہ ہے

س… السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ! اِن شاء اللہ بخیریت ہوں گے۔ “بینات” کی ترسیل جاری ہے، بروقت پرچہ ملنے پر خوشی کا اظہار کر رہا ہوں۔ خدا کرے “بینات” اُمتِ مسلمہ کی اُمنگوں کا آئینہ دار بن جائے۔ ایک عرض ہے کہ یہ دینی رسالہ خالص دینی ہونا چاہئے، کسی پر اعتراض و تشنیع مجھے پسند نہیں، اس سے نفرت کا جذبہ اُبھرتا ہے، صدر ضیاء الحق کے بیانات پر اعتراض یقینا عوام میں نفرت پھیلنے کا ذریعہ بنتا ہے جس سے مملکت کی بنیادیں کھوکھلی پڑجانے کا خطرہ ضرور ہے، ویسے بھی ملک اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، کہیں بھارت آنکھیں دِکھا رہا ہے، تو کہیں کارمل انتظامیہ کی شہ پر رُوس کی آواز سنی جاتی ہے، کہیں خمینی کے اسلامی انقلاب کی آمد آمد کی خبریں سننے میں آجاتی ہیں، کہیں ملک کے اندر ہتھوڑا گروپ، کلہاڑا گروپ وغیرہ کی صدائیں سننے میں آرہی ہیں۔ غرض ایسے حالات میں ذرا سی چنگاری بھی پورے پاکستان کا شیرازہ بکھیر سکتی ہے، اس صورت میں پھر یہ ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اس بارے میں اگر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تو نوازش ہوگی۔

ج… آپ کا یہ ارشاد تو بجا ہے کہ وطنِ عزیز بہت سے اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے، اور یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ ان حالات میں حکومت سے بے اعتمادی پیدا کرنا قرینِ عقل و دانش نہیں، لیکن آنجناب کو معلوم ہے کہ “بینات” میں یا راقم الحروف کی کسی اور تحریر میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے کسی سیاسی فیصلے کے بارے میں کبھی لب کشائی اور حرف زنی نہیں کی گئی:

کارِ مملکت خسرواں دانند

          لیکن جہاں تک دینی غلطیوں کا تعلق ہے اس پر ٹوکنا نہ صرف یہ کہ اہلِ علم کا فرض ہے (اور مجھے افسوس اور ندامت کے ساتھ اعتراف ہے کہ ہم یہ فرض ایک فیصد بھی ادا نہیں کر پارہے) بلکہ یہ خود صدرِ محترم کے حق میں خیر کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں آپ کو امیرالموٴمنین حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما کا واقعہ سناتا ہوں، جو حضرت مولانا محمد یوسف دہلوی قدس سرہ نے “حیاة الصحابہ” میں نقل کیا ہے:

 

 

 

          “وأخرج الطبرانی وأبو یعلیٰ عن أبی قنیل(۱) عن معاویة بن أبی سفیان رضی الله عنھما أنہ صعد المنبر یوم القمامة فقال عند خطبة: انما المال مالنا، والفیٴ فیئنا، فمن شئنا أعطیناہ، فمن شئنا منعناہ۔ فلم یجبہ أحد، فلما کان فی الجمعة الثانیة قال مثل ذالک، فلم یجبہ أحد، فلما کان فی الجمعة الثالثة قال مثل مقالتہ فقام الیہ رجل ممن حضر المسجد فقال: کلا! انما المال مالنا والفیٴ فیئنا فمن حال بیننا وبینہ حکمناہ الی الله بأسیافنا۔ فنزل معاویة رضی الله عنہ فأرسل الی الرجل فادخلہ، فقال القوم: ھلک الرجل، ثم دخل الناس فوجدوا الرجل معہ علی السریر، فقال معاویة رضی الله عنہ للناس: ان ھٰذا أحیانی أحیاہ الله! سمعت رسول الله صلی الله علیہ وسلم یقول: سیکون بعد أمراء یقولون ولا یردّ علیھم یتقاحمون فی النار کما تتقاحم القردة۔ وان تکلمت أوّل جمعة فلم یرد علیّ أحد، فخشیت أن أکون منھم، ثم تکلمت فی الجمعة الثانیة فلم یرد علیّ أحد، فقلت فی نفسی: انی من القوم، ثم تکلمت فی الجمعة الثالثة فقام ھٰذا الرجل، فردّ علیّ فأحیانی، أحیاہ الله!” (قال الھیثمی (ج:۵ ص:۲۳۶) رواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط وأبویعلٰی ورجالہ ثقات، انتھٰی۔ حیاة الصحابہ ج:۲ ص:۶۸)

 

 

 

          ترجمہ:… “حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما قمامہ کے دن منبر پر تشریف لے گئے، اور اپنے خطبہ میں فرمایا کہ: مال ہمارا ہے اور فئے (غنیمت) ہماری ہے، ہم جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ ان کی یہ بات سن کر کسی نے جواب نہیں دیا۔ دُوسرا جمعہ آیا تو حضرت معاویہ نے اپنے خطبہ میں پھر یہی بات کہی، اب کے بھی انہیں کسی نے نہیں ٹوکا، تیسرا جمعہ آیا تو پھر یہی بات کہی، اس پر حاضرینِ مسجد میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا: ہرگز نہیں! یہ مال ہمارا ہے، اور غنیمت ہماری ہے، جو شخص اس کے اور ہمارے درمیان آڑے آئے گا ہم اپنی تلوار کے ذریعہ اس کا فیصلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں گے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر سے اُترے تو اس شخص کو بلا بھیجا، اور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے، لوگوں نے کہا کہ: یہ شخص تو مارا گیا، پھر لوگ اندر گئے تو دیکھا کہ وہ شخص حضرت معاویہ کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہے، حضرت معاویہ نے لوگوں سے فرمایا کہ: اس شخص نے مجھے زندہ کردیا، اللہ تعالیٰ اسے زندہ رکھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ: “میرے بعد کچھ حکام ہوں گے جو (خلافِ شریعت) باتیں کریں گے، لیکن کوئی ان کو ٹوکے گا نہیں، یہ لوگ دوزخ میں ایسے گھسیں گے جیسے بندر گھستے ہیں۔” میں نے پہلے جمعہ کو ایک بات کہی، اس پر مجھے کسی نے نہیں ٹوکا، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میں بھی انہیں لوگوں میں سے نہ ہوں، پھر میں نے دُوسرے جمعہ کو یہ بات دُہرائی، اس بار بھی کسی نے میری تردید نہیں کی تو میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میں انہی میں سے ہوں، پھر میں نے تیسرے جمعہ یہی بات کہی تو اس شخص نے مجھے ٹوک دیا، پس اس نے مجھے زندہ کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو زندہ رکھے۔”

          اور یہ نہ صرف صدرِ محترم کے حق میں خیر و برکت کی چیز ہے، بلکہ اُمت کی صلاح و فلاح بھی اسی پر منحصر ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

          “والذی نفسی بیدہ! لتأمرنّ بالمعروف ولتنھون عن المنکر أو لیوشکن الله أن یبعث علیکم عذابًا من عندہ ثم لتدعنہ ولا یستجاب لکم۔”

                              (رواہ الترمذی، مشکوٰة ص:۴۳۶)

          ترجمہ:… “اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تمہیں معروف کا حکم کرنا ہوگا اور بُرائی سے روکنا ہوگا، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کردے، پھر تم اس سے دُعائیں کرو، اور تمہاری دُعائیں بھی نہ سنی جائیں۔”

          ارشاداتِ نبویہ کی روشنی میں راقم الحروف کا احساس یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل عذابِ الٰہی کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ آج اُمت پر جو طرح طرح کے مصائب ٹوٹ رہے ہیں، اور ہم گوناگوں خطرات میں گھرے ہوئے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی “احتسابی حس” کمزور اور “نہی عن المنکر” کی آواز بہت دھیمی ہوگئی ہے۔ جس دن یہ آواز بالکل خاموش ہوجائے گی اس دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہمیں اس روزِ بد سے محفوظ رکھیں۔

ٹی وی ․․․ ایک اصلاحی ذریعہ

س… اس مرتبہ ۲۰/ربیع الثانی ۱۴۱۴ھ بمطابق ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء کا اخبار پڑھنے کے دوران “مسبوق کی نماز” کے متعلق سوالوں کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: “ٹی وی ایک لعنت ہے”۔

          اس ضمن میں میری گزارشات کو اگر آپ تھوڑی سی توجہ عطا فرمائیں اور مجھے اجازت ہو کہ میں گزارشات پیش کرسکوں، تاکہ میری عقلِ ناقص میں جو خیالات اُمڈ رہے ہیں ان کی تسلی و تشفی ہوسکے۔ میں اسلامی شعائر کی پابندی کی کوشش کرنے والا ایک حقیر انسان ہوں، مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ ادائیگیٴ حج کے دوران حج ادا کرنے کے طریقے ٹی وی سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے، ٹی وی کی مدد سے خانہٴ کعبہ کی زیارت زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہے، ٹی وی کی مدد سے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے قاری صاحبان الفاظ کی ادائیگی اور ساتھ الفاظ کی شناخت کراتے ہیں جس کے باعث عام ٹی وی دیکھنے والوں کو اپنی تلاوت میں غلطیوں کی تصحیح کرنے میں مدد ملتی ہے، ٹی وی کی مدد سے عام لوگوں کو نماز پڑھنے اور نماز میں کھڑا ہونے، تکبیر کے بعد ہاتھ اُٹھانے اور پھر ہاتھ باندھ کے صحیح کھڑے ہونے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، رُکوع، قومہ، قعدہ، سجدہ اور تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ بار بار لوگوں کے ذہن نشین کرایا جاسکتا ہے، لوگ نماز میں کھڑے اکثر ہاتھ ہلاتے اور خشوع و خضوع توڑنے کی حرکتیں کرتے ہیں، ان کو سمعی اور بصری طریقہ ہائے بیان سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ ایک وقت میں ایک عالمِ دین ٹی وی پر تقریر کرلے تو سمعی، بصری قوّتیں ناظر و سامع کو وہ کچھ جاننے میں آسانی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ ٹی وی کو اگر تبلیغِ دینِ اسلام کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ ایک انتہائی موٴثر ذریعہٴ تبلیغ بن سکتا ہے۔ بلکہ میں تو یہ پروگرام ترتیب دینے کی کوشش میں ہوں کہ ایک عالمِ اسلام کی مرکزی ٹی وی نشریات ہوں جس کے ذریعہ بین الاقوامی زبانوں میں قرآن پاک اور احادیثِ مبارکہ کی تعلیمات سمعی و بصری ذریعے سے لوگوں تک دُنیا کے کونے کونے میں پھیلائی جائیں۔ مکة المکرمہ میں بین الاقوامی اسلامی مرکزِ نشریات ہو، اور اس سے مسلم دُنیا اور غیرمسلم دُنیا میں اسلامی نشریات پہنچیں اور تبلیغ کا کام بجائے محدود رکھنے کے عام کیا جائے۔ اسی طرح اسلام کا تبلیغی مرکز تعلیماتِ اسلام کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرے، بین الاقوامی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو اور ٹی وی تعلیماتِ اسلامی کے عام کرنے میں استعمال کیا جائے۔ آج ڈش انٹینا کی مدد سے لوگوں کے گھروں میں بین الاقوامی اداروں کے فحش لٹریچر اور اخلاق سوز پروگرام لوگ دیکھتے ہیں، اگر اسلامی بین الاقوامی ٹی وی نیٹ ورک سے اسلامی پاور فل چینل کی مدد سے اسلامی اخلاقیات عام کی جائیں، اخلاقِ اسلامی پر تیار معاشرے کی عملی تصویریں پیش کی جائیں تاکہ لوگوں کے دِلوں میں اس سکونِ قلب کے حصول کی جانب کشش ہو، وہ لچر اور اخلاق سوز پروگرام دیکھنے کی بجائے اسلامی بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی مبنی براخلاقیات عملی زندگی کے نمونے دیکھیں اور اسلام کا پیغام جو صرف سمعی ذریعے سے پھیلایا جارہا ہے، بصری ذریعے سے پھیلے موٴثر انداز میں۔ اس اہم ذریعہٴ پیغام رسانی سے اسلام کا پیغام عام ہو لہٰذا مندرجہ بالا اُمور ٹی وی کو اور اس کے استعمال کو باعثِ برکت و رحمت بناسکتے ہیں۔

ج… آپ کے خیالات تو لائقِ قدر ہیں، مگر یہ نکتہ آپ کے ذہن میں رہنا چاہئے کہ دینِ اسلام، دینِ ہدایت ہے، جس کی دعوت و تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضراتِ صحابہ کرام نے، حضراتِ تابعین نے، ائمہٴ دین نے، بزرگانِ دین نے، علمائے اُمت نے اس فریضے کو ہمیشہ انجام دیا۔ ہدایت پھیلانے کا کام انہی حضرات کے نقشِ قدم پر چل کر ہوسکتا ہے، ان کے راستے سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج بھی دین کی دعوت کا کام اسی منہاج پر ہو رہا ہے۔ تبلیغِ دین کے لئے ایسے ذرائع اختیار کرنے کی اجازت ہے جو بذاتِ خود مباح اور جائز ہوں، حرام اور ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہدایت پھیلانے کا کام نہیں ہوسکتا، کیونکہ ناجائز ذرائع خود شر ہیں، شر کے ذریعہ شر تو پھیل سکتا ہے، شر کے ذریعہ خیر اور ہدایت کو پھیلانے کا تصوّر ہی غلط ہے۔ ٹی وی کا مدار تصویر پر ہے اور ہماری شریعت نے تصویرسازی کو حرام قرار دیا ہے، اب جو چیز کہ شرعاً حرام ہو اس کو ہدایت پھیلانے کا ذریعہ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ اس سے شر و گمراہی کو تو فروغ ہوسکتا ہے لیکن اگر آپ چاہیں کہ اس کے ذریعہ لوگوں کے دِلوں میں ایمان اور ہدایت اُتار دیں تو یہ خیال محض خیال ہے۔ ہزاروں لوگ ٹی وی پر “دینی پروگرام” دیکھتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک آدمی بھی نہیں ملے گا جس نے ٹی وی دیکھ کر ایمان سیکھ لیا ہو، اور اس نے گناہوں سے توبہ کرکے نیک اور پاک زندگی اختیار کرلی ہو۔ ہاں! بے شمار لوگ ایسے ہیں جو ٹی وی دیکھ کر گمراہ ہوگئے اور ان کے اندر ایمان کی جو رمق باقی تھی اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ آپ نے جتنی بھی مثالیں دی ہیں وہ صحیح ہیں، لیکن ٹی وی کی مثال غلط ہے، کیونکہ میں بتا چکا ہوں کہ ٹی وی تصویر کی وجہ سے نجس العین ہے، اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ “ٹی وی بُرا نہیں” غلط ہے۔ خنزیر کا آپ اچھا استعمال کریں یا بُرا، وہ ہر حال میں نجس العین ہے، اس کے اچھے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

          “غرض یہ کہ” کہہ کر آپ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ بھی غلط ہے، کیونکہ آپ کا یہ نظریہ کہ “کوئی چیز بھی بذاتِ خود اچھی یا بُری نہیں” غلط ہے، میرا کہنا یہ ہے کہ جس چیز کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، وہ بذاتِ خود بُری ہے، اس کو کسی اچھائی کے لئے استعمال کرنا اس سے زیادہ بُرا ہے۔ آپ نے یہ اُصول مقرّر کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھی ہے کہ ہمارے دین نے دُنیا کی کسی چیز کو نہ بذاتِ خود اچھا قرار دیا ہے اور نہ کسی چیز کو بذاتِ خود بُرا قرار دیا ہے، حالانکہ یہ بات صریحاً غلط ہے۔ شریعت نے تمام چیزوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، کچھ چیزیں بذاتِ خود اچھی ہیں، کچھ چیزیں بذاتِ خود بُری ہیں، اور کچھ چیزیں نہ بذاتِ خود اچھی ہیں نہ بُری، آپ کا یہ اُصول تیسری قسم میں تو جاری ہوتا ہے کہ ایسی چیز کا استعمال اچھا ہو تو اچھی ہیں، بُرا ہو تو بُری ہیں۔ لیکن جو چیزیں کہ بذاتِ خود بُری ہیں، نجس العین ہیں، حرام ہیں، ان کی اچھائی بُرائی ان کے استعمال پر موقوف نہیں، ان کا بُرا استعمال ہو تب بھی بُری ہیں، اور اگر بفرضِ محال اچھا استعمال ہو تب بھی بُری ہیں، ٹی وی نجس العین ہے، اس کا بُرا استعمال بھی بُرا ہے، اور اچھا استعمال بھی بُرا ہے، بلکہ بدتر ہے کہ دین کو اس گندگی کے ساتھ ملوّث کرنا بجائے خود ایک جرم ہے۔

سنت کے مطابق بال رکھنے کا طریقہ

س…۱: بال رکھنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کے بال رکھے تھے؟ پٹے رکھے تو کتنے بڑے رکھے تھے؟ اگر چھوٹے بال تھے تو کتنے چھوٹے تھے؟ آج کل انگریزی بال بنائے جاتے ہیں، اس طرح کے بال دین دار اور عام لوگ دونوں رکھتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

ج… آج کل جو بال رکھنے کا فیشن ہے یہ تو سنت کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک پر بال رکھتے تھے، اور وہ عام طور سے کانوں کی لو تک ہوتے تھے، کبھی اصلاح کرنے میں دیر ہوجاتی تو اس سے بڑھ بھی جاتے تھے، لیکن آج کل جو نوجوان سر پر بال رکھتے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں بلکہ غیرقوموں کی نقل ہے۔

س…۲: فجر کی نماز ایک مسجد میں پڑھی، پھر کسی کام سے مسجد سے باہر جانا ہوا، اِشراق کی نماز دُوسری مسجد میں یا گھر پر پڑھ سکتے ہیں یا کہ اسی مسجد میں بیٹھے رہیں؟

ج… اگر کسی ضرورت سے جانا پڑے تو دُوسری جگہ بھی اِشراق کی نماز پڑھ سکتے ہیں، خواہ گھر پر پڑھیں یا کسی اور مسجد میں، البتہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور پھر اپنی جگہ بیٹھا رہے یہاں تک کہ اِشراق کا وقت ہوجائے اور پھر اُٹھ کر دو رکعتیں یا چار رکعتیں اِشراق کی نماز پڑھے تو اس کو ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔

دین پر عمل کرنے کی راہ میں رُکاوٹیں

س… ہم لوگ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، خدا کا شکر ہے کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے، لیکن دُنیا کی نظروں میں تو ظاہر ہے کہ ہم غریب ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ ہم الحمدللہ پردہ کو اپنائے ہوئے ہیں، اور آپ تو جانتے ہیں کہ آج کے معاشرے میں غریب لڑکیوں اور خاص کر باپردہ لڑکیوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے، جیسے وہ کسی اور دُنیا کی مخلوق ہوں۔ خیر! ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں، اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ماں باپ ہمارے رشتوں کی طرف سے بہت پریشان ہیں، پہلے تین بہنوں کے رشتے آتے ہی نہیں تھے اور جو آتے تھے وہ بہت آزاد خیال لوگوں کے، آخرکار تھک ہار کر جب بہنوں کی عمریں نکلنے لگیں تو ایسے گھرانوں میں ہی رشتے طے کردئیے گئے کہ جن کے یہاں بس دِکھاوے کو خدا کا نام لیا جاتا ہے، لیکن والد صاحب نے رشتہ طے کرتے وقت شرط رکھی تھی کہ میری بیٹیاں پردہ نہیں توڑیں گی، جو انہوں نے قبول کرلیں اور بالآخر شادیاں ہوگئیں، لیکن آپ خود سوچئے جب گھر کے ماحول میں اس قدر آزادی ہو کہ کوئی لڑکی چادر تک نہ اوڑھتی ہو ایسے ماحول میں پردہ قائم رکھنا کتنا مشکل کام ہے؟ بہرحال اللہ میری بہنوں کو ہمت دے۔ اس ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بہت سے جاننے والے ایسے ہیں جو بہت نیک ہیں، اس قدر نیک کہ ان کے یہاں اتنا سخت پردہ ہے کہ عورتوں کو کوئی برقع میں بھی آزادانہ پھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، اور شریعت کے تمام قوانین کی پابندی ہوتی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب کے سب بہت امیر لوگ ہیں، اس لئے وہ لوگ جب اپنے بیٹوں کی شادیاں کرتے ہیں تو امیروں کی بیٹیوں سے ہی کرتے ہیں۔ برائے کرم مولانا صاحب! مجھے بتائیے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ غریبوں کی بیٹیاں صرف اپنی غربت کے باعث ایسے گھرانوں میں بیاہی جانے پر مجبور ہوں جہاں وہ اللہ کے دین کی پابندی نہ کرپائیں جبکہ صاحبِ حیثیت لوگ صرف صاحبِ حیثیت لوگوں سے ہی رشتہ جوڑتے چلے جائیں جبکہ ان کے سامنے ہی ایسے گھرانے موجود ہوں جہاں نیک، شریف، باپردہ لڑکیاں موجود ہوں، کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم بھی تمام عمر اللہ کے دین پر قائم رہ سکیں؟ لیکن ہمیں ایک وقت پر مجبوراً ایسی جگہ جانا پڑتا ہے جہاں ہماری توقع سے بہت مختلف ماحول ملتا ہے، جہاں کوشش کے باوجود دین پر قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے، آخر اس میں کس کا قصور ہے؟ ہم کس سے انصاف مانگیں؟

ج… آپ کی یہ تحریر تمام دین دار لوگوں کے لئے تازیانہٴ عبرت ہے۔ بہرحال اپنے معیار کے شریف اور دین دار گھرانوں کو تلاش کرکے رشتے کئے جائیں، بلکہ اگر کوئی غریب مگر شریف اور دین دار رشتہ مل جائے تو اس کو بڑے پیٹ والے لوگوں پر ترجیح دی جائے۔ اس نوعیت کے مسائل تقریباً تمام والدین کو پیش آتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے میں دین داری کی یہ قیمت بہت معمولی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ ایسے تمام والدین کی خصوصی مدد فرمائیں، آمین!

غیبت اور حقیقتِ واقعہ

س… عرض ہے کہ غیبت کے بارے میں مسئلہ بتادیجئے، مثلاً: ایک مولانا نے مسئلہ بیان کیا کہ ایک عورت حضرت عائشہ کے پاس آئی جس کا قد چھوٹا تھا، اس کے جانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ: حضور! اس عورت کا قد چھوٹا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ بات غیبت ہوئی۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ: حضور! یہ بات اس میں تھی، وہی میں نے کہی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو غیبت ہے، اگر اس میں یہ بات نہ ہوتی تو یہ بہتان ہوجاتا۔

          مثلاً: میں نے ایک صاحب سے پیسے لینے ہیں، اگر وہ پیسے نہیں دے رہا ہے، میں نے اس کے بھائی سے کہا کہ آپ اس کو کہئے کہ وہ پیسے دے، تو کیا یہ بھی غیبت ہوئی؟ دُوسرا مسئلہ میرا بھانجا مسقط گیا ہوا تھا، واپسی پر میرے گھر میں نہیں ٹھہرا سیدھا لاہور چلا گیا، میں نے اپنی بہن سے اس کی شکایت کی، کیا یہ بھی غیبت ہوئی؟

ج… یہ غیبت نہیں، واللہ اعلم!

“السلام علیکم پاکستان” کہنا

س… آج کل ایک مقامی ریڈیو چینل ہے، نشریات مغربی تہذیب اور کلچر کی تقلید کرتے ہوئے ۲۴ گھنٹے مسلسل شروع کی گئی ہیں۔ مخلوط ٹیلیفون کالز کے ذریعہ نہ صرف فحاشی کو فروغ دیا جارہا ہے بلکہ دُوسری طرف مال کا اسراف بھی کیا جاتا ہے۔

          پوری پوری رات عورتیں، مرد کمپیئر سے فون پر اپنے دِل کا راز و نیاز بیان کرتی ہیں اور جواباً مرد کمپیئر اظہار اشعار اور گانوں کے ذریعہ کرتا ہے۔ اس پروگرام میں ہر فون کرنے والا پہلے “السلام علیکم پاکستان” کہتا ہے، جواب میں بھی اسے “السلام علیکم پاکستان” کہا جاتا ہے، یعنی جنت کا کلام “السلام علیکم” کی بھی بے ادبی کی جاتی ہے، اور بعض ٹی وی پروگرام میں پنجابی تہذیب کو اُجاگر کرتے ہوئے دیہات کا ماحول پیش کیا جاتا ہے جس میں آنے والے مہمان کو میزبان کہتا ہے: “بسملیاں! بسملیاں!” مندرجہ بالا گزارشات کے بعد میرے ذہن میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:

          ۱:… کیا “السلام علیکم” کے ساتھ اور کوئی لفظ ملاکر کہنا یعنی “السلام علیکم پاکستان” کہنا جائز ہے؟

          ۲:… کیا عورتیں ٹیلیفون پر غیرمحرَم سے بے تکلف ہوکر باتیں کرسکتی ہیں؟

          ۳:… بسم اللہ کے بجائے جو لوگ (نعوذ باللہ) “بسملیاں” کہتے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے؟ اور جو لوگ قرآن کی آیتوں کو توڑ مروڑ کر اس طرح پڑھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن و حدیث کا کیا فیصلہ ہے؟

ج… جو لوگ پاکستان میں فحاشی اور عریانی پھیلاتے ہیں، مرنے کے بعد عذابِ قبر میں مبتلا ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے حکمران بھی پکڑے جائیں گے، اس لئے کہ یہ ملک فحاشی کا اڈّا بنانے کے لئے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ یہاں قرآن و سنت کی حکمرانی جاری کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔

          ۱:… “السلام علیکم” مسلمانوں کا شعار ہے، لیکن اس کا اس طرح استعمال اس شعار کی بے حرمتی ہے۔

          ۲:… عورتوں کا نامحرَم مردوں سے بے تکلف گفتگو کرنا حرام اور ناجائز ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی آواز کو بھی پردہ بنایا ہے اور قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: “فلا تخضعن بالقول” یعنی بات کرتے وقت تمہاری زبان میں لوچ نہیں آنا چاہئے، اس لئے یہ مرد اور عورتیں گنہگار ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرنا چاہئے اور اپنے رویے سے باز آجانا چاہئے، ورنہ مرنے کے بعد ان کو اتنا سخت عذاب ہوگا کہ دیکھنے والوں کو بھی ترس آئے گا۔

          ۳:… یہ “بسملیاں” مہمل لفظ ہے اور یہ پنجابی تہذیب نہیں بلکہ ایسا کرنے والوں کا قلبی روگ ہے۔

بدامنی اور فسادات ․․․ عذابِ الٰہی کی ایک شکل

س… آج کے اس پُر مصائب دور میں جبکہ ہم مسلمانوں کے ایمان غالباً تیسرے درجے سے گزر رہے ہیں اور فرقہ واریت اور لسانی بندشوں کا شکار ہیں اس دور میں قتل و غارت، ڈکیتیاں، بدامنی، بدکاری غرضیکہ تمام سماجی بُرائیاں (سوشل لیول) جمگھٹا ڈالے ہوئے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان رکھتے ہیں، ان کے کہنے پر (قرآن و حدیث پر) عمل کرتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے مسائل کا حل ملتا ہے، لیکن آزمائشیں بہت ہیں اور صحیح ہیں، گو کہ ہر مسلمان موٴمن نہیں ہوتا، اس لئے آزمائش پر پورا نہیں اُترتا۔ میرا مدعا یہ ہے کہ انسان جو ایک دُوسرے کا خون بہادیتا ہے چاہے وہ اپنی حفاظت میں یا دُوسرے کی دُشمنی میں، یہ کہاں تک دُرست ہے؟ مطلب یہ کہ کوئی شخص اپنے جان و مال کی حفاظت میں اگر دُوسرے مسلمان کا خون بہادیتا ہے یا اپنی زَن (عورت) چاہے ماں، بہن یا بیوی ہو، اس کی خاطر خون بہادیتا ہے، اگرچہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ وہ حق پر ہے، لیکن اللہ پر ایمان مکمل ہونے کے بعد اللہ ہمارے جان و مال کی حفاظت کرتا ہے تو ہم کسی صورت میں ہتھیار اُٹھاسکتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائی کا خون بہاسکتے ہیں؟ کیونکہ عدل و انصاف اس معاشرے میں تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

 

ج… جس بدامنی اور فساد کا آپ نے ذکر کیا ہے، یہ عذابِ الٰہی ہے، جو ہماری شامتِ اعمال کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں، تمام ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑنے کا عہد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تمام اجتماعی و انفرادی گناہوں اور بدعملیوں کی معافی مانگیں۔ کسی بے گناہ مسلمان کو قتل کرنا کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، جس کی سزا قرآنِ کریم نے جہنم میں بتائی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ہر وہ شخص جس کے دِل میں ایمان کا کوئی ذرّہ موجود ہو، اور جو آخرت کی جزا و سزا کا قائل ہو اس کو اس سے سو بار توبہ کرنی چاہئے کہ اس کے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے رنگین ہوں۔ جو مسلمان ان ہنگاموں میں بے گناہ مارا گیا کہ اس کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا وہ شہید ہے، اور جو گروہ ایک دُوسرے کو قتل کرنے کے درپے تھے ان میں قاتل اور مقتول دونوں جہنم کا ایندھن ہیں۔ اگر کسی مسلمان پر ناحق حملہ کیا اور اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے حملہ آور کو مار دیا تو وہ گناہ سے بَری ہے اور حملہ آور جو قتل ہوا وہ سیدھا جہنم میں گیا۔ اسی طرح اگر کسی کے بیوی بچوں پر حملہ کیا اور اس شخص کے ہاتھ سے حملہ آور مارا گیا، یہ بھی گناہ سے بَری ہے اور حملہ آور سیدھا جہنم میں پہنچا۔

خیالاتِ فاسدہ اور نظرِ بد کا علاج

س… مجھ میں ایک مرض یہ ہے کہ جب کسی کو گناہ میں مشغول دیکھتا ہوں تو اس میں دِل کو نکیر ہوتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے، اس کی اور گناہ کی حقارت بھی ہوتی ہے، لیکن جب خود سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے تو نہ خوف، نہ حقارت، نہ نفرت، نہ انکار، نہ حیا کچھ بھی نہیں ہوتا، ہاں مخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ کسی کو پتہ نہ لگ جائے، ذِلت ہوگی، اس کے باوجود گناہ سے اجتناب نہیں ہوتا۔

ج… گناہ اور گناہ گار سے کبیدگی تو علامتِ ایمان ہے، تاہم یہ احتمال کہ یہ شخص مجھ سے حالاً و مآلاً اچھا ہو، بس اس کا استحضار کافی ہے، اس سے زیادہ کا انسان مکلف نہیں ہے۔

س… خیالاتِ فاسدہ، گندے غلیظ وساوس، نظرِ بد جیسے جرائم کا ارتکاب ہوتا رہتا ہے، کبھی کبھی فوراً ندامت پشیمانی ہوتی ہے اور کبھی ندامت پاس سے بھی نہیں گزرتی، داڑھی منڈوانے سے، راگ ناچ گانا اس طرح کے ہر گندے فعل سے نفرت ہے، اس کے مرتکبین سے نفرت ہے، لیکن مجھے بے لذّت گناہوں کی خواہشات کا غلبہ رہتا ہے۔

ج… خیالاتِ فاسدہ، وساوس وغیرہ جن کو آپ مرض سمجھ رہے ہیں یہ مرض نہیں، بلکہ غیراختیاری اُمور ہیں، جن پر موٴاخذہ نہیں، بلکہ مجاہدہ ہے۔ آپ کسی فارغ وقت میں “مراقبہٴ دُعائیہ” کیا کریں، باوضو قبلہ رُخ بیٹھ کر آنکھیں اور زبان بند کرکے اپنی حالت اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردیں اور دِل میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کہ: یا اللہ! میری حالت تو آپ کے سامنے ہے، آپ قادرِ مطلق ہیں، میری حالت اچھی کردیجئے اور مجھے آخرت میں رُسوا نہ کیجئے۔

س… آج کل زیبائش، عریانی عام ہے، جب کبھی ضرورت کے لئے نکلتا ہوں تو غیرمحرَم پر نظرِ بد کے جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے، نظرِ بد سے بچنا میرے جیسے کے لئے تو بہت ہی مشکل ہے۔

ج… فوراً نظر ہٹالی جائے، خیالات کا ہجوم غیراختیاری ہو تو مضر نہیں، بلکہ ہجومِ خیالات کے باوجود بالقصد دوبارہ نہ دیکھنا مجاہدہ ہے، اور اِن شاء اللہ اس پر اَجر ملے گا، اسی کے ساتھ اِستغفار کرلیا جائے، اِن شاء اللہ غلط خیالات کے اثرات قلب سے دُھل جائیں گے۔

والدہ کی قبر معلوم نہ ہو تو دُعائے مغفرت کیسے کروں؟

س… میری والدہ مرحومہ کراچی میں دفن ہیں، میں اکثر ان کی مغفرت کی دُعائیں کرتا رہتا ہوں، اب یہ میری بدنصیبی ہے کہ میں کبھی ان کی قبر پر نہیں گیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ قبر پر جانا ضروری ہے یا نہیں؟ اور قبر پر نہ جانے سے گھر ہی پر دُعائیں کرنا بیکار تو نہیں؟ دُوسرے یہ کہ قبرستان اگر جاوٴں بھی تو والدہ کی قبر کا پتہ نہیں، تو قبرستان میں جاکر والدہ کے لئے کہاں کھڑا ہوکر دُعا کروں اور کیا کیا دُعا کروں؟ کیا وہاں کچھ پڑھنا ہوگا یا ایسے ہی دُعائے مغفرت کروں؟

ج… اگر آپ کو والدہ کی قبر کا پتہ ہی نہیں تو آپ کو جانے کا مشورہ کیسے دُوں؟ البتہ آپ کو نشانی رکھنا چاہئے تھی یا اگر کوئی آدمی جاننے والا ہے تو آپ اس سے پتہ کرلیجئے، قبر پر جانے سے میّت کو اتنی خوشی ہوتی ہے کہ جتنا ماں کو اپنے بیٹے سے مل کر خوشی ہوتی ہے۔ بہرحال ان کو پڑھ کر بخشتے رہنا چاہئے یہ بھی بیکار نہیں ہے۔

وہم کا علاج کیا ہے؟

س… میں بی اے کی طالبہ ہوں، ہمارا گھر تھوڑا بہت مذہبی ہے، نماز تقریباً سب ہی لوگ پڑھتے ہیں، لیکن جب سے میں نے نماز شروع کی ہے، آہستہ آہستہ آج ایسی ہوگئی ہوں کہ اگر کسی کا پاوٴں لگ جائے تو دھونے بیٹھ جاتی ہوں، اگر جھاڑو کسی کپڑے کو لگ جائے تو فوراً دھوتی ہوں، اگر گیلا پونچھا کمرے میں لگتا ہے تو میں اس سے بچتی ہوں، چھینٹوں سے تو اس طرح بچتی ہوں جیسے انسان آگ سے بچتا ہے، اگر پانی زمین پر گرا اور میرے کپڑوں پر چھینٹیں آگئیں تو پائینچے دھوتی ہوں کہ ہر وقت میرے پائینچے گیلے رہتے ہیں، کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر ہے، آخر کب تک کمرے میں رہا جاسکتا ہے؟ بس میری یہ ہی کیفیت ہے جس کی وجہ سے اب گھر والے مجھے نفسیاتی مریضہ، ذہنی مریضہ اور وہمن کے نام سے پکارتے ہیں، جس پر مجھے دِلی دُکھ ہوتا ہے اور پھر میں یہ سوچتی ہوں کہ اب ایسا نہ کروں گی، لیکن پھر ایسا نہیں کرپاتی۔ خیال آتا ہے کہ اگر کپڑے ناپاک ہوگئے تو نماز نہ ہوگی۔ گھر والے مجھے ہر وقت پانی میں گھسے رہنے سے منع کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے اب ایگزیما بھی ہوگیا ہے، لیکن میں کہتی ہوں کہ میرے اُوپر کسی قسم کی چھینٹ نہ آئے۔ گھر والے کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی بچہ نہیں ہے کہ جس کے پیشاب وغیرہ کی چھینٹ سے تیرے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔ کبھی کبھی جب مجھے اس بات پر ڈانٹ پڑتی ہے تو میرا دِل چاہتا ہے کہ نماز ہی چھوڑ دُوں تاکہ میں ان چیزوں سے نجات پاسکوں، لیکن دِل نہیں مانتا اور نماز کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ آپ میرے سوال کا جلد از جلد جواب دے کر ذہنی اذیت سے نجات دِلاسکتے ہیں۔

ج…بیٹی! ایک بات سمجھ لو، اگر پاکی ناپاکی کا مسئلہ اتنا ہی مشکل ہوتا، جتنی مشکل کہ آپ نے اپنے اُوپر ڈال رکھی ہے، تو دُنیا کا کارخانہ ہی بند ہوجاتا۔ آپ کی طرح ہر شخص بس پائینچے دھونے ہی میں لگا رہتا۔ یہ تمہیں وہم کا مرض ہے اور اس کا علاج بہت آسان ہے۔ وہ یہ کہ جن چیزوں کی وجہ سے آپ کو ناپاکی کی فکر لگی رہتی ہے ان کی ذرا بھی پروا نہ کرو، اور جب تمہارا شیطان یوں کہے کہ یہ چھینٹے ناپاک تھے، فلاں چیز ناپاک تھی تو شیطان سے کہا کہ: تو غلط کہتا ہے، میں تیری بات نہیں مانوں گی۔ اگر ایک مہینے تک آپ نے میرے کہنے پر عمل کرلیا تو اِن شاء اللہ تعالیٰ اس وہم کے مرض سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔

حقوقِ والدین یا اطاعتِ امیر؟

س… میرا بڑا بیٹا بچپن سے ہی والد کے ساتھ مسجد جاتا رہا، مسجد ہی سے ایک دینی جماعت کے پروگرام سنتا رہا، ہم نے اسے ہمیشہ اچھے ماحول میں رہنے کی تعلیم دی۔ گانے ناچ اور دیگر فضولیات سے دُور رکھا۔ اس لئے وہ دینی جماعت کے بچوں کے رسائل لاتا رہا، ان کے ساتھ اچھے معلوماتی مقابلوں میں حصہ لیتا رہا۔ جب میٹرک کلاس میں گیا تو ہم نے کہا کہ اسکول کا کام پورا کیا کرو، تعلیم پر توجہ دو، مگر وہ کہتا کہ ہمارے ناظم نے فلاں وقت بلایا ہے، فلاں کام ہے۔ باپ صبح کے گئے رات کو آتے، اس نے تعلیم پر توجہ کم دی، نتیجہ یہ نکلا کہ بہت خراب نمبر سے پاس ہوا، مجبوراً ٹیکنیکل تعلیم دِلوائی، وہاں نوکری بھی لگ گئی، لیکن پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ زیادہ سمجھاتی تو کہتا کہ امیر کی اطاعت لازمی ہے، امیر کی اطاعت خدا کے رسول کی اطاعت ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نوکری جاتی رہی، تعلیم بھی ختم ہوگئی۔ گھر سے تعلق کا صرف اتنا حال ہے کہ بہن، بوڑھا باپ کام کرتے ہیں، میں سلائی کرتی ہوں، وہ آتا ہے، ہوٹل کی طرح کھاکر چلا جاتا ہے، بہن بھائیوں پر حکم چلاتا ہے، اسے غرض نہیں کہ کوئی بیمار ہے تو کون ہسپتال لے جارہا ہے؟ کس طرح خرچ چل رہا ہے؟ یہی دُھن دماغ میں ہے کہ جماعت سے نکلنا کفر ہے، امیر کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔

          اس کے ساتھی بہت تعریف کرتے ہیں کہ ہر کام میں آگے آگے رہتا ہے، ہر پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، لیکن حقیقت کوئی ہمارے دِل سے پوچھے، اس بگڑے ہوئے ماحول میں بچیوں سے سودے منگوانے پڑتے ہیں، خود بازار سے سامان اُٹھاکر لانا پڑتا ہے، ایک بچہ ہے وہ زیادہ تر کام کرتا ہے، پڑھنے کے ساتھ ساتھ کام کرکے ہمارے حوالے کردیتا ہے، خدا کے فضل سے نماز روزے کا پابند ہے، یہ آتے ہی اس پر حکم چلاتا ہے، اگر کسی کام کو کہا جائے تو کہتا ہے اس سے کراوٴ۔

          چھوٹی بچیوں نے، ماں باپ نے رو رو کر دُعائیں مانگیں تو ایک عارضی نوکری ملی ہے، اس میں بھی یہی حال ہے، دس دن پروگراموں کی نظر ہیں، اب کسی کا استقبال ہے، اب کسی جگہ مظاہرہ ہے، کہیں کے لئے فنڈ اکٹھا کرنا ہے، کسی کو کتابیں دینی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

          یہ صرف ایک بچے کا حال نہیں، اس میں بی اے، ایم اے اور دیگر تعلیم یافتہ بچے بھی شامل ہیں جو ذہنی مریض بن چکے ہیں، والدین اور امیر کی اطاعت کے درمیان ان کے ذہن اُلجھ کر رہ گئے ہیں، کبھی کبھی ان پر ترس بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔

          مولانا صاحب! آپ بتائیے کہ ہم جیسے سفید پوش لوگ جن کی جمع پونجی ایک مکان ہوتی ہے کیا وہ وراثت میں اس طرح کی اولاد کو حق دار بناسکتے ہیں؟ کیا شریعت میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان کو مکان کی ملکیت سے عاق کرسکیں؟ کیونکہ جب ہماری زندگی میں ان کا رویہ ایسا ہے تو بعد میں تو چھوٹے بہن بھائیوں کا حق مارکر اپنی من مانی کرسکتے ہیں۔ کیا اسلام میں ایسا کوئی تصوّر موجود ہے کہ معاش کی جدوجہد نہ کرے، والدین اور عزیز و اقارب کے حقوق پورے نہ کرے، صرف امیر کی اطاعت کرے؟ اگر ایسا ہے تو ہم ضرور صبر کریں گے، اگر ایسے بچے وراثت کے حق دار ہیں تو ہم خدا کے رسول کی نافرمانی ہرگز نہ کریں گے۔

ج… نوجوانوں کے مزاج میں جوشِ عمل ہوتا ہے، تجربہ محدود، ذہن ناپختہ، طبیعت میں شاخِ تازہ کی طرح لچک، ان کو کسی اچھے یا بُرے کام میں لگادینا بڑا آسان ہوتا ہے، اور جب ان کے ذہن میں کسی تحریک کی اچھائی بیٹھ جاتی ہے یا بٹھادی جاتی ہے تو وہ اس میں نتائج و عواقب سے بے نیاز ہوکر منہمک ہوجاتے ہیں، اس کے خلاف نہ وہ والدین کی پروا کرتے ہیں، نہ کسی کی نصیحت پر کان دھرتے ہیں۔ اس لئے عام طور سے تمام تحریکوں کا نتیجہ شور شرابے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ بہت سے نوجوان ان تحریکی سرگرمیوں کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، بہت سے روزگار سے جاتے رہتے ہیں، بہت سے والدین سے باغی ہوکر اپنے عزیز و اقارب اور والدین کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ جوانی بھی جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔ جب تک یہ نوجوان تحریکاتی جماعتوں کے سرگرم کارکن رہتے ہیں اس وقت تک ان پر دیوانگی کا دورہ رہتا ہے اور جب جنونِ شباب کا دور ختم ہوتا ہے اور عمر میں پختگی آتی ہے تب انہیں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ ایسے نوجوان دورِ شباب ختم ہونے کے بعد ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں، ماں باپ کی بددُعائیں ہمیشہ کے لئے ان کے گلے کا ہار بن جاتی ہیں، اس طرح ان کی دُنیا بھی تباہ ہوجاتی ہے اور آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ میں سیاسی قائدین سے اِلتجا کرتا ہوں کہ وہ بھولے بھالے ناتجربہ کار نوجوانوں کو تحریکات کے الاوٴ کا ایندھن نہ بنائیں۔ اور ان نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ والدین سے بغاوت کا راستہ اختیار کرکے کسی کا بُرا نہیں کرتے بلکہ خود اپنا مستقل تاریک کرتے ہیں۔ ان کی دیوانہ وار تحریکی مصروفیات سے نہ ان کو کچھ ملتا ہے نہ ان کے والدین، اور نہ معاشرے کو۔ آج وطنِ عزیز میں جیسی بدامنی اور شر و فساد ہے، یہ انہی تحریکات کا ثمرہٴ تلخ ہے۔ ہمارے جن نوجوانوں کو “کنتم خیر أمّة” کا تاج سر پر رکھ کر نوعِ انسانی کی بھلائی، امن و آشتی اور اسلامی اخوت و محبت کے مبلغ ہونا چاہئے تھا، وہ ان تحریکات کے نتیجے میں گروہی عصبیت، نفرت و عداوت اور قتل و غارت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائیں اور اپنے نبیٴ اُمی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ہمارے نوجوانوں کو دینِ قیم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائیں۔

          آپ نے جو پوچھا ہے کہ کیا ان صاحبزادے کو عاق کردیں؟ میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہ کریں، کیونکہ اولاد کو جائیداد سے محروم کرنا شرعاً جائز نہیں۔ علاوہ ازیں کسی شخص کو اس سے بڑھ کر کیا سزا دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو، (اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس سزا سے محفوظ رکھیں)، پھر اولاد خواہ کیسی بھی ہو والدین کو اس کے لئے خیر ہی مانگنی چاہئے۔ دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے صاحبزادے کو عقل و ایمان نصیب فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے والدین کی شکل میں جو نعمت ان کو عطا فرمائی ہے اس کی قدر کرنے کی توفیق سے نوازیں۔

ہوائی جہاز کے عملے کے لئے سحری و اِفطاری کے اَحکام

س… ہوائی جہاز کے عملے کے لئے ماہِ رمضان کے روزوں سے متعلق چند سوالات ہیں جن کی وضاحت مطلوب ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لئے مضبوط بنیاد ضروری ہے اسی طرح ایمان کے لئے صحیح عقائد اور ان پر عمل ضروری ہے۔ اس ضمن میں علمائے راسخ ہی صحیح نمائندگی کرسکتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ ان سوالات کے تفصیلی جوابات شریعت اور حنفی علمِ فقہ کی روشنی میں عنایت فرماکر مشکور کریں۔

          ہوائی جہاز کے عملے کی مختلف قسم کی ڈیوٹی ہوتی ہے، ایک قسم کی ڈیوٹی کی نوعیت اس طرح کی ہے کہ وہ گھر پر ہی Stand by Duty رہتا ہے، اور اسی صورت میں ڈیوٹی پر چلا جاتا ہے، جبکہ دُوسرا عملہ جو ڈیوٹی پر جارہا تھا Operating Gew عین وقت پر بیمار ہوجائے یا اور کسی وجہ سے اپنی ڈیوٹی پر جانے سے قاصر ہے، ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور زیادہ تر اس قسم کی ڈیوٹی والا Stand by Duty گھر ہی پر رہتا ہے، اس شکل میں اگر عملہ روزہ رکھنا چاہے تو وہ دیر سے دیر کب تک روزہ کی نیت کرسکتا ہے؟

ج… رمضان کے روزے کی نیت نصف النہار شرعی سے پہلے کرلی جائے تو روزہ صحیح ہے، ورنہ صحیح نہیں۔ ابتدائے صبحِ صادق سے غروب تک کا وقت، اگر برابر دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو اس کا عین وسط یعنی درمیانی حصہ “نصف النہار شرعی” کہلاتا ہے، اور یہ زوال سے قریباً پون گھنٹہ پہلے شروع ہوتا ہے۔ اگر روزہ رکھنا ہو تو روزہ کی نیت اس سے پہلے کرلینا ضروری ہے، اگر عین نصف النہار شرعی کے وقت نیت کی یا اس کے بعد نیت کی تو روزہ نہیں ہوگا۔

س… نیت کرنے کے بعد اگر فلائیٹ پر جانا پڑے اور عملے نے روزہ توڑ دیا تو اس کا کیا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟

ج… کفارہ صرف اس صورت میں لازم آتا ہے جبکہ روزہ کی نیت رات میں یعنی صبحِ صادق سے پہلے کی ہو، اگر صبحِ صادق کے بعد اور نصف النہار شرعی سے پہلے روزے کی نیت کی تھی اور پھر روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیں ہوگا۔         (درمختار، شامی)

س… دو قسم کی فلائٹ ہوتی ہیں، ایک چھوٹی فلائٹ ہوتی ہے مثلاً کراچی سے لاہور یا اسلام آباد وغیرہ، اور واپسی کراچی، صبح جاکر دوپہر تک واپسی یا دوپہر جاکر رات میں واپسی۔ اور دُوسری فلائٹ لمبے دوران کی ہوتی ہے جو ملک سے باہر جاتی ہے، اس صورت میں عملے کو روزہ رکھنا مستحب ہے یا نہ رکھنا؟ زیادہ تر عملہ چھوٹی فلائٹ پر روزہ رکھنا چاہتا ہے۔

ج… سفر کے دوران روزہ رکھنے سے اگر کوئی مشقت نہ ہو تو مسافر کے لئے روزہ رکھنا افضل ہے، اور اگر اپنی ذات کو یا اپنے رفقاء کو مشقت لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔

س… ہوائی جہاز کا عملہ دو قسم کے مسافروں میں آتا ہے، دونوں قسم کا عملہ ڈیوٹی پر شمار ہوتا ہے، ایک قسم کا وہ عملہ ہے جس پر جہاز یا مسافروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی، وہ سفر اس لئے کر رہا ہے کہ اسے آدھے راستے یا دوتہائی راستے پر اُتر کر ایک دو دن آرام کے بعد پھر جہاز آگے کی منزل کی طرف لے جانا ہے۔ دُوسری قسم کا عملہ وہ ہوتا ہے جس پر جہاز اور مسافروں کی ساری ذمہ داری ہوتی ہے، ان دو قسم کے عملے پر روزے کے کیا اَحکام ہیں؟

ج… جس عملے پر جہاز اور اس کے مسافروں کی ذمہ داری ہے، اگر ان کو یہ اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے کی صورت میں ان سے اپنی ذمہ داری کے نبھانے میں خلل آئے گا تو ان کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ دُوسرے وقت قضا رکھنی چاہئے، خصوصاً اگر روزہ کی وجہ سے جہاز اور اس کے مسافروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو ان کے لئے روزہ رکھنا ممنوع ہوگا۔ مثلاً: جہاز کے کپتان نے روزہ رکھا ہو اور اس کی وجہ سے جہاز کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے۔

س… سفر دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک سفر مغرب سے مشرق کی طرف، جس میں دن بہت چھوٹا ہے، جبکہ دُوسرے سفر میں جو مشرق سے مغرب کی طرف ہے اس میں دن بہت لمبا ہوجاتا ہے، سورج تقریباً جہاز کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور روزہ بیس بائیس گھنٹے کا ہوجاتا ہے، اس صورت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ روزہ گھنٹوں کے حساب سے کھول لیتے ہیں، مثلاً پاکستان کے حساب سے روزہ رکھا تھا اور پاکستان میں جب روزہ کھلا اسی حساب سے انہوں نے بھی روزہ کھول لیا۔ اس صورت میں بعض مرتبہ سورج بالکل اُوپر ہوتا ہے اور جس مقام سے جہاز گزر رہا ہوتا ہے وہاں ظہر کا وقت ہی ہوتا ہے، کیا اس طرح سے روزہ کھول لینا صحیح ہے؟

ج… گھنٹوں کے حساب سے روزہ کھولنے کی جو صورت آپ نے لکھی ہے یہ صحیح نہیں ہے۔ اِفطار کے وقت روزہ دار جہاں موجود ہو وہاں کا غروب معتبر ہے، جو لوگ پاکستان سے روزہ رکھ کر چلیں ان کو پاکستان کے غروب کے مطابق روزہ کھولنے کی اجازت نہیں، جن لوگوں نے ایسا کیا ہے ان کے وہ روزے ٹوٹ گئے اور ان کے ذمہ ان کی قضا لازم ہے۔

س… اُوپر کے استواء (Higher Latitudes) میں جہاں سورج ۲۰-۲۲ گھنٹے تک رہتا ہے یا اور اُوپر جانے سے چھ ماہ تک سورج غروب نہیں ہوتا اور اگلے چھ ماہ جہاں اندھیرا رہتا ہے وہاں کے لئے کیا اَحکامات ہیں نماز اور روزے کے بارے میں؟ اکثر لوگ ان جگہوں پر مدینہ منوّرہ یا مکہ معظمہ کے اوقات کا اعتبار کرتے ہوئے نماز اور روزہ اختیار کرتے ہیں، کیا اس طرح کرنا دُرست ہے؟

ج… مدینہ منوّرہ یا مکہ معظمہ کے اوقات کا اعتبار کرنا تو بالکل غلط ہے۔ جن مقامات پر طلوع و غروب تو ہوتا ہے لیکن دن بہت لمبا اور رات بہت چھوٹی ہوتی ہے ان کو اپنے ملک کے صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھنا لازم ہے۔ البتہ ان میں جو لوگ ضعف کی وجہ سے اتنے طویل روزے کو برداشت نہیں کرسکتے وہ معتدل موسم میں قضا رکھ سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں نماز کے اوقات بھی معمول کے مطابق ہوں گے۔ اور جن علاقوں میں طلوع و غروب ہی نہیں ہوتا، وہاں دو صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ وہ چوبیس گھنٹے میں گھڑی کے حساب سے نماز کے اوقات کا تعین کرلیا کریں اور اسی کے مطابق روزوں میں سحر اور اِفطار کا تعین کرلیا کریں۔ دُوسری صورت یہ ہے کہ وہاں سے قریب تر شہر جس میں طلوع و غروب معمول کے مطابق ہوتا ہے، اس کے اوقاتِ نماز اور اوقاتِ سحر و اِفطار پر عمل کیا کریں۔

س… بعض حضرات درمیانی استواء (Mid Letitudes) میں بھی اپنی نمازیں اور روزہ مدینہ منوّرہ کی نمازوں اور روزہ کے اوقات کے ساتھ ادا کرتے ہیں، یہ کہاں تک دُرست ہے؟

ج… اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ ہر شہر کے لئے اس کے طلوع و غروب کا اعتبار ہے، نماز کے اوقات میں بھی اور روزہ کے لئے بھی۔ مدینہ منوّرہ کے اوقات پر نماز روزہ کرنا بالکل غلط ہے اور یہ نمازیں اور روزے ادا نہیں ہوئے۔

س… کراچی سے لاہور / اسلام آباد جاتے ہوئے گو کہ لاہور / اسلام آباد میں سورج غروب ہوچکا ہوتا ہے اور روزہ کھولا جارہا ہوتا ہے، مگر جہاز میں اُونچائی کی وجہ سے سورج نظر آتا رہتا ہے، اس صورت میں روزہ زمین کے وقت کے مطابق کھولا جائے یا کہ سورج جب تک جہاز سے غروب ہوتا ہوا نہ دیکھا جائے تب تک ملتوی کیا جائے؟

ج… پرواز کے دوران جہاز سے طلوع و غروب کے نظر آنے کا اعتبار ہے، پس اگر زمین پر سورج غروب ہوچکا ہو مگر جہاز کے اُفق سے غروب نہ ہوا ہو تو جہاز والوں کو روزہ کھولنے یا مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہوگی، بلکہ جب جہاز کے اُفق سے غروب ہوگا تب اجازت ہوگی۔

س… دُوسری صورت میں جب عین روزہ کھلتے ہی اگر سفر شروع ہو تو جہاز کے کچھ اُونچائی پر جانے کے بعد پھر سے سورج نظر آنے لگتا ہے اور مسافروں میں بے چینی پیدا ہوجاتی ہے کہ روزہ گڑبڑ ہوگیا یا مکروہ ہوگیا، اس کے متعلق کیا اَحکام ہیں؟

ج… اگر زمین پر روزہ کھل جانے کے بعد پرواز شروع ہوئی اور بلندی پر جاکر سورج نظر آنے لگا تو روزہ مکمل ہوگیا۔ روزہ مکمل ہونے کے بعد سورج نظر آنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص تیس روزے پورے کرکے اور عید کی نماز پڑھ کر پاکستان آیا تو دیکھا کہ یہاں رمضان ختم نہیں ہوا، اس کے ذمہ یہاں آکر روزہ رکھنا فرض نہیں ہوگا۔

س… اگر عملے نے سفر کے دوران یہ محسوس کیا کہ روزہ رکھنے سے ڈیوٹی میں خلل پڑ رہا ہے اور روزہ توڑ دیا تو اس کا کیا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟

ج… اگر روزہ سے صحت متأثر ہو رہی ہو اور ڈیوٹی میں خلل آنے اور جہاز کے یا مسافروں کے متأثر ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑ دیا جائے، اس کی صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، واللہ اعلم!

تبلیغی جماعت پر اعتراضات کی حقیقت

س… امید ہے کہ آنجناب بعافیت ہوں گے، اور شب و روز دین کی عالی محنت میں ساعی و کوشاں ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس پر تاحیات ثابت قدم رہنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔ (آمین)

          یہ بات بلامبالغہ کہتا ہوں کہ آپ کی تصنیف و تحریر سے بندہ کے دل میں آنجناب کا جتنا احترام سمایا ہوا ہے شاید اتنا قدر و احترام اپنے والد کا بھی میرے دل میں نہیں ہوگا۔ میرا تعلق چونکہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ہے اور تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی آراء کئی دفعہ نظروں سے گزری ہے، جس میں آپ نے تبلیغی جماعت کی تائید بہت عقیدت مندی اور زبردست ولولے کے ساتھ کی تھی۔ چونکہ یہ کام ہمارا ایک مقصدی فریضہ ہے اگرچہ ہمیں اس کام کو شرحِ صدر کے ساتھ کرنا چاہئے محض تقلیدی طریقہ پر نہیں، لیکن پھر بھی علماء حضرات کی تائید اس پُرفتن دور میں بہت ضروری ہے اور بار بار ضروری ہے۔

          اس سلسلے میں آپ سے استدعا یہ ہے کہ آج کل ایک جماعت پھرتی ہے، جن کی اچھی خاصی داڑھی بھی ہوتی ہے، یہ جماعت مختلف شہروں میں آکر لاوٴڈ اسپیکر کے ذریعہ نماز و روزہ اور اس قسم کے اچھے اعمال کی آواز لگاتے ہیں، مثلاً: جھوٹ نہ بولو، چوری نہ کرو، وغیرہ وغیرہ، اور ساتھ ہی رسالے بھی تقسیم کرتے ہیں، جس کا نام “ضربِ حق” رکھا ہے اور مصنف کا نام عتیق الرحمن گیلانی لکھا ہے۔ اس دفعہ یہ جماعت ہمارے شہر ضلع پشین کوئٹہ میں آئی تھی، اور ساتھ ہی بہت سے رسالے بھی لائے تھے، جلدی جلدی کچھ آوازیں لگاکر رسالے تقسیم کرکے فوراً شہر سے نکل گئے۔

          ان رسالوں میں عجیب قسم کی خرافات اور بکواس لکھی ہوئی تھی، رسالے کے اکثر صفحوں پر بڑی بڑی سرخیاں قائم کرکے تبلیغی جماعت پر الزام لگائے تھے، ایک صفحے پر جس کی نقل آپ کے پاس بھیج رہا ہوں آپ کی کتاب “عصرِ حاضر” کا سہارا لے کر لکھا تھا کہ مفتی محمد یوسف لدھیانوی نے اس جماعت کو عالمگیر فتنہ قرار دیا ہے، اب تبلیغی جماعت کے اپنے اکابرین نے اس جماعت کو فتنہ قرار دینا شروع کردیا۔

          گزارش یہ ہے کہ آپ کے بارے میں میرا سینہ بالکل صاف ہے، لیکن اُمت کے سادہ لوح انسانوں کا اس فتنے میں پھنسنے کا شدید خطرہ ہے، اس لئے اخبار کے ذریعے اس جماعت کا دجل آشکارا کریں، اور ایک بار پھر تبلیغی جماعت کو اپنے زرّیں خیالات سے نوازنے کی زحمت فرماکر باطل فرقوں کی حوصلہ شکنی کریں، تاکہ ہمارے علاقے کے بلکہ پورے پاکستان کے سادہ لوح باشندے اس فتنے سے بچ جائیں۔

          جواب جلد از جلد پوری تفصیل کے ساتھ مطلوب ہے۔

ج… مکرم و محترم! زید مجدہ السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ!

          آپ نے عتیق الرحمن گیلانی نام کے کسی شخص کا ذکر کیا ہے کہ اس نے تبلیغی جماعت کے خلاف پمفلٹ لکھے ہیں، اور ان میں کہا گیا ہے کہ اکابرین نے اس جماعت کو فتنہ قرار دیا ہے، اور یہ کہ اس کے معتقدین تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے لئے مستقل مہم چلا رہے ہیں، اور بہت سے سادہ لوح لوگ ان سے متأثر ہو رہے ہیں، اس سلسلے میں چند امور لکھتا ہوں، بہت غور سے ان کو پڑھیں:

          ۱:…تبلیغ والوں کا جس مسجد میں گشت یا بیان ہوتا ہے، اس سے پہلے ان الفاظ میں اس کا اعلان کیا جاتا ہے:

          “حضرات! ہماری اور سارے انسانوں کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پورا کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں پر چلنے میں ہے، اس کے لئے ایک محنت کی ضرورت ہے، اس محنت کے سلسلے میں نماز کے بعد بات ہوگی، آپ سب حضرات تشریف رکھیں، اِن شاء اللہ بڑا نفع ہوگا۔”

          یہ ہے دعوت و تبلیغ کی وہ “محنت” جو تبلیغی جماعت کا موضوع ہے، اور جس کا اعلان ہر مسجد میں ہوتا ہے۔

          ۲:…اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا یہ وہ پاک مقصد ہے جس کے لئے حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، اور ان حضرات نے بغیر کسی اجر کے محض رضائے الٰہی کے لئے دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیا، اس راستے میں ان کے سامنے مصائب و مشکلات کے پہاڑ آئے، انہیں ایذائیں دی گئیں، ان کی تحقیر کی گئی، انہیں ستایا گیا، ان کو گالیاں دی گئیں، انہیں دھمکایا اور ڈرایا گیا، لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی، بلکہ تمام تر مصائب و مشکلات کو ان حضرات نے محض رضائے الٰہی کے لئے برداشت کیا، اور اس کے لئے جان و مال اور عزت و آبرو کی کسی قربانی سے دریغ نہیں فرمایا۔ حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے جو حالات قرآن کریم اور احادیثِ شریفہ میں بیان فرمائے گئے ہیں، ان میں جہاں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حضرات ایمان و یقین، صبر و استقامت اور بلندہمتی کے کتنے بلند مقام پر فائز تھے، وہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا مقصد کس قدر عظیم الشان اور عالی مقصد ہے کہ اس مقصد کے لئے حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام نے فوق العادت قربانیاں پیش کیں۔

          ۳:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہٴ نبوت ختم کردیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوت و رسالت کے منصبِ رفیع پر فائز نہیں کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے طفیل میں دعوت الی اللہ کا یہ کام، جس کے لئے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو کھڑا کیا گیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے سپرد کردیا گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

          “وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔”                            (آل عمران:۱۰۴)

          ترجمہ:…”اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔”                               (ترجمہ حضرت تھانوی)

          نیز ارشاد ہے:

          “کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُوٴْمِنُوْنَ بِاللهِ۔”

                                       (آل عمران:۱۱۰)

          ترجمہ:…”تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔”

                                       (ترجمہ حضرت تھانوی)

          ان آیاتِ شریفہ میں دعوت الی اللہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام امتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلٰوات والتسلیمات) کے سپرد کرکے اسے “خیرِ امت” کا لقب دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کا “خیرِ امت” ہونا اسی مبارک کام کی وجہ سے ہے۔

          ۴:…ان آیاتِ شریفہ میں دعوت الی اللہ کا جو فریضہ امت کے سپرد کیا گیا ہے، الحمدلله! کہ یہ امت اس فریضہ سے کبھی غافل نہیں ہوئی، بلکہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک اکابرِ امت اس مقدس خدمت کو بجالاتے رہے ہیں، اور دعوت الی اللہ کے خاص خاص شعبوں کے لئے افراد اور جماعتیں میدان میں آتی رہی ہیں، کبھی قتال و جہاد کے ذریعہ، کبھی وعظ و ارشاد کی شکل میں، کبھی درس و تدریس کی صورت میں، کبھی تصنیف و تالیف کے ذریعہ، کبھی مدارس اور خانقاہوں کے قیام کے طریقہ سے، کبھی اصلاح و ارشاد کے راستہ سے، کبھی قضا و افتا کے ذریعہ سے، کبھی باطل اور گمراہ فرقوں کے ساتھ مناظرہ و مباحثہ کے ذریعہ، کبھی انفرادی طور پر، کبھی اجتماعی طور پر تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ، یہ سب کی سب دعوت الی اللہ ہی کی مختلف شکلیں اور اس کے مختلف شعبے ہیں۔ الحمدلله! دعوت الی اللہ کا کوئی میدان ایسا نہیں جس کو امت نے خالی چھوڑ دیا ہو، اور کوئی شعبہ ایسا نہیں، جس میں کام کرنے والی ایک معتد بہ جماعت موجود نہ ہو، فالحمدلله علی ذالک!

          ۵:…تبلیغی جماعت جس طرز پر دعوت الی اللہ کا کام کر رہی ہے، یہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور طریقہٴ سلف صالحین کے عین مطابق ہے۔

          حضرت اقدس مولانا شاہ محمد الیاس کاندہلوی ثم دہلوی، حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی کے خادم، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری مہاجر مدنی کے خلیفہ اور اپنے دور کے تمام اکابرِ امت کے معتمد اور منظورِ نظر تھے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک عمل سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا، وہ ایمان و اخلاص، زہد و توکل، ایثار و ہمدردی، صبر و استقامت، بلند نظری و بلند ہمتی اور اخلاق و اوصاف میں فائق الاقران تھے، حق تعالیٰ شانہ نے ان سے دین کی دعوت و تبلیغ کا تجدیدی کام لیا، اور اللہ تعالیٰ نے مادّیت کے جدید طوفان کے مقابلے میں ان پر “عمومی دعوت” کا طریقہ منکشف فرمایا، اور انہوں نے ایک عام سے عام آدمی کو بھی دین کی دعوت کے کام میں لگایا، حضرت مولانا محمد الیاس کے وقت سے آج تک “تبلیغی جماعت” اسی نہج اور اسی نقشہ پر دعوت الی اللہ کا کام کر رہی ہے، اور الحمدلله ثم الحمدلله اس کے ذریعہ کروڑوں افراد کو حق تعالیٰ نے فسق و فجور کی تاریکیوں سے نکال کر شریعتِ مطہرہ کی پابندی اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی ڈھالنے کا جذبہ عطا فرمادیا ہے۔

          ۶:…تبلیغی جماعت کے اس مبارک کام پر لوگوں کی طرف سے ناواقفی کی وجہ سے نکتہ چینیاں بھی ہوئیں، اس کے کام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی، اور ان کو بدنام کرنے کے لئے افسانے بھی گھڑے گئے، لیکن یہ اللہ کا کام ہے، الحمدلله! کہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں سے اپنے دین کی دعوت کا کام لے رہا ہے، اور حق تعالیٰ شانہ کی رحمت و عنایت سے قوی امید ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اس کام کے لئے کھڑا کرتے رہیں گے۔

          ۷:…اس ناکارہ کو ایک عرصہ تک تبلیغی اسفار میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، اور اکابرِ تبلیغ کی نجی سے نجی محفلوں میں بیٹھنے اور ان کے حالات کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے، حق تعالیٰ شانہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ناکارہ کو اس سلسلے میں جس قدر قریب سے قریب ہونے کا موقع ملا ہے، اسی قدر اس کام کی افادیت اور اس کام میں لگنے والے حضرات کی حقانیت اس ناکارہ پر کھلتی گئی ہے، اس لئے یہ ناکارہ کامل انشراح اور پوری بصیرت کے ساتھ یہ اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا کام نہایت مبارک ہے، اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات) کی نشأة ثانیہ کا ذریعہ ہے، اور تمام مسلمان بھائیوں کا اس بابرکت کام میں لگنا دنیا و آخرت کی سعادتوں کا ذریعہ ہے، حق تعالیٰ شانہ ہمیں اپنی رضا و محبت نصیب فرمائیں اور دنیا و آخرت میں اپنے مقبول بندوں کی رفاقت و معیت نصیب فرمائیں۔

کیا رُوٴیتِ ہلال میں فلکیات پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

س… “رُوٴیتِ ہلال کا مسئلہ” کے عنوان سے مولانا محمد جعفر پھلواری کا ایک مضمون اپریل ۱۹۶۷ء کے ماہنامہ “ثقافت” لاہور میں چھپا تھا، جسے اب ابتدائی تعارفی نوٹ کے اضافے کے ساتھ ادارہٴ ثقافتِ اسلامیہ، کلب روڈ لاہور، نے کتابچے کی شکل میں “رُوٴیتِ ہلال” کے نام سے شائع کیا ہے۔ کیا آنجناب کے نزدیک پھلواری صاحب کی تحقیق لائقِ اعتماد ہے؟ نیز یہ کہ رُوٴیتِ ہلال کے بارے میں ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ مدلل تحریر کریں۔

ج… مولانا موصوف کے رُوٴیتِ ہلال کے موقف اور ان کے استدلال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

          موصوف کے اس کتابچے کا موضوع یہ بتانا ہے کہ “رُوٴیتِ ہلال کا حکم فنِ فلکیات پر اعتماد کرنے سے بھی پورا ہوسکتا ہے۔”

          موصوف نے اپنی بحث کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی سے کیا ہے:

          “صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان غم علیکم فاقدروا لہ۔”               (رواہ الستة الا الترمذی)

          ترجمہ:… “چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر اِفطار (عید) کرو، اگر مطلع غبار آلود ہو تو اس کا اندازہ کرلو۔”

          موصوف کا خیال ہے کہ “یہاں اگر “رُوٴیت” کے معنی کی وضاحت ہوجائے تو مسئلہ بڑی حد تک صاف ہوسکتا ہے۔” چنانچہ وہ المنجد، اقرب الموارد، البستان، القاموس، لسان العرب، منتہی الارب اور مفرداتِ راغب وغیرہ کے حوالوں سے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ:

          “اس میں شک نہیں کہ رُوٴیت کے حقیقی معنی چشمِ سر ہی سے دیکھنے کے ہیں، لیکن دُوسرے مجازی معنوں میں بھی اس کا استعمال کثرت سے ہوا ہے ․․․․․ اس لئے گویا رُوٴیت کے معنی ہیں “علم ہوجانا”، چنانچہ کوئی تیس چالیس جگہ قرآن میں بھی لفظِ رُوٴیت کا استعمال حقیقی معنی کے علاوہ مجازی معنوں میں ہوا ہے۔”

          اس لئے فاضل موٴلف کے نزدیک “رُوٴیتِ ہلال کو چشمِ سر کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ معلوم نہیں ہوتی” بلکہ ان کی رائے میں: “فنِ فلکیات پر اعتماد کرکے بھی وہ اپنا ایمان بالکل محفوظ کرسکتے ہیں۔”

          یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر رُوٴیتِ ہلال کو چشمِ سر کے ساتھ مخصوص کردینا موصوف کے نزدیک “غیرمعقول” ہے، تو کیا یہ طرزِ فکر معقول کہلائے گا کہ ایک شخص لغت کی کتابیں کھول کر بیٹھ جائے اور یہ دعویٰ کرے کہ چونکہ فلاں لفظ حقیقی معنی کے علاوہ متعدّد مجازی معنوں کے لئے بھی آتا ہے اس لئے عرفاً و شرعاً اس کے جو حقیقی معنی مراد لئے جاتے ہیں وہ صحیح نہیں بلکہ “غیرمعقول” ہیں، مثلاً: “ضرب” کا لفظ لغت کے مطابق کوئی پچاس ساٹھ معنوں کے لئے آتا ہے، اس لئے “ضرب زید عمروا” کے جملے سے عرفِ عام میں جو معنی لئے جاتے ہیں (یعنی زید نے عمرو کو مارا) وہ غیرمعقول اور غلط ہیں۔ کیا اسے صحت مندانہ استدلال کہا جاسکتا ہے؟ اور کیا یہ اندازِ فکر اور طرزِ استدلال اہم ترین مسائل کے صحیح حل کی طرف راہ نمائی کرسکتا ہے؟ اس بات سے کس کو انکار ہے کہ رُوٴیت کا لفظ حقیقی معنی کے علاوہ مختلف قرائن کی مدد سے، دُوسرے مجازی معنوں میں بھی کبھی بولا جاتا ہے، مگر رُوٴیتِ ہلال کی احادیث میں یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے؟ اس کے لئے لغت کی کتابوں کا بوجھ لادنے کے بجائے سب سے پہلے تو اس سلسلے کی تمام احادیث کو سامنے رکھ کر یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کس سیاق میں؟ کس معنی کے لئے استعمال فرمایا ہے؟ پھر یہ دیکھنا تھا کہ صحابہ، تابعین اور ائمہٴ مجتہدین نے اس سے کون سے معنی سمجھے ہیں؟ اُمتِ اسلامیہ نے قرناً بعد قرنٍ اس سے کیا مراد لی ہے؟ اور عرفِ عام میں “چاند دیکھنے” کے کیا معنی سمجھے جاتے ہیں؟

          لغت سے استفادہ کوئی شجرہٴ ممنوعہ نہیں، بلکہ بڑی اچھی بات ہے، کسی زبان کی مشکلات میں لغت ہی سے مدد لی جاتی ہے، اور کسی غیرمعروف لفظ کی تحقیق کے لئے ہر شخص کو ہر وقت ڈکشنری کھولنے کا حق حاصل ہے، لیکن جو الفاظ ہر عام و خاص کی زبان پر ہوں، ان کے معنی عامی سے عامی شخص بھی جانتا ہو، اور روزمرّہ کی بول چال میں لوگ سینکڑوں بار انہیں استعمال کرتے ہوں، ان کے لئے ڈکشنری کے حوالے تلاش کرنا کوئی مفید کام نہیں بلکہ شاید اہلِ عقل کے نزدیک اسے بے معنی مشغلہ، بے سود کاوش اور ایک لغو حرکت کا نام دیا جائے، اور اگر کوئی دانشمند لغت بینی کے شوق میں لغت کے مجازی معنوں کی منطق سے شرعی اور عرفی معنوں کو غیرمعقول قرار دینے لگے تو ایسے شخص کے لئے بھی ڈکشنری میں جو لفظ وضع کیا گیا ہے اس سے بھی سب واقف ہیں۔

          تاہم اگر رُوٴیت جیسے معروف اور بدیہی لفظ کے لئے “کتاب کھولنے” کی ضرورت و افادیت کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے کہ رُوٴیت کا “ست” نکالتے وقت فاضل موٴلف نے لغت سے بھی صحیح استفادہ نہیں کیا، نہ ان قواعد کو ملحوظ رکھنا ضروری سمجھا جو ائمہٴ لغت نے “رُوٴیت” کے مواقعِ استعمال کے سلسلے میں ذکر کئے ہیں۔ کیونکہ موصوف نے لغت کی مدد سے رُوٴیت کا ست یہ نکالا ہے کہ: “گویا رُوٴیت کے معنی ہیں علم ہوجانا۔” گویا اہلِ لغت نے اس کے معانی اور ان کے مواقعِ استعمال کے تفصیلی بیان کی جو سردردی مول لی ہے وہ سب فضلہ ہے۔ خلاصہ، مغز اور “ست” صرف اتنا برآمد ہوا ہے کہ: “رُوٴیت کے معنی ہیں علم ہوجانا” جبکہ وہ ان ہی کتابوں میں موجود ہیں جن کا حوالہ موصوف نے دیا ہے، مثلاً: لفظِ “رُوٴیت” مفعولِ واحد کی طرف متعدی ہو تو وہاں عینی رُوٴیت یعنی سر کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہوتا ہے، اور جب دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو تو اس کے معنی ہوں گے جاننا، معلوم کرنا۔ چنانچہ صحاحِ جوہری، تاج العروس اور لسان العرب میں ہے:

          “الروٴیة بالعین تتعدی الی مفعول واحد وبمعنی العلم تتعدی الٰی مفعولین۔”

(الصحاح للجوھری ج:۶ ص:۲۳۴۸، تاج العروس للزبیدی ج:۱۰ ص:۱۳۹، لسان العرب لابن منظور الأفریقی مادّة: رای)

          ترجمہ:… “اگر رُوٴیت سے مراد رُوٴیت بالعین ہو تو رُوٴیت ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے، اور اگر رُوٴیت بمعنی علم کے ہو تو وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا۔”

          اسی طرح منتہی الارب میں ہے:

          “رُوٴیت: دیدن بچشم، وایں متعدی بیک مفعول است، ودانستن، وایں متعدی بدو مفعول۔”

           (منتہی الارب ص:۶۲۴، عبدالرحیم بن عبدالکریم صفی پوری)

          صراح میں ہے:

          “رای روٴیة: دیدن بچشم متعد الیٰ مفعول و دانستن متعد الیٰ مفعولین۔”             (الصراح من الصحاح ص:۵۵۹)

 

          یا یہ کہ رُوٴیت کا متعلق کوئی محسوس اور مشاہد چیز ہو تو وہاں حسی رُوٴیت مراد ہوگی، یعنی بچشمِ سر دیکھنا، اور جب اس کا متعلق کوئی سامنے کی چیز نہ ہو تو وہاں وہمی، خیالی یا عقلی رُوٴیت مراد ہوگی، چنانچہ امام راغب اصفہانی کی “المفردات فی غریب القراٰن” میں ہے:

          “ذٰلک الضرب بحسب قوی النفس الاولی بالحاسة وما یجری مجراھا ․․․․ الخ۔”

 

          عجیب اتفاق ہے کہ یہ عبارت فاضل موٴلف نے بھی نقل کی ہے، مگر شاید عجلت میں اسے سمجھنے یا اس تفصیل کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

          یا یہ کہ “رای” کے مادّہ سے مصدر جب “روٴیة” آئے تو اس کے معنی ہوں گے: “آنکھوں سے دیکھنا”، اور اگر “رای” آئے تو اس کے معنی ہوں گے: “دِل سے دیکھنا اور جاننا”۔ اور اگر “روٴیا” آئے تو عموماً اس کے معنی ہوں گے: “خواب میں دیکھنا” اور کبھی “بیداری کی آنکھوں سے دیکھنا” چنانچہ اساس البلاغہ میں ہے:

          “رای رایتہ یعنی روٴیة، ورایتہ فی المنام روٴیا، ورایتہ رای العین، فارایتہ ارائة ورایت الھلال، فترائینا الھلال ․․․․ ومن المجاز فلان یری الفلان رایا۔”

 (اساس البلاغہ ص:۳۱۱، لجار الله ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشری)

          ترجمہ:… “رای، رایتہ کے معنی دیکھنے کے آتے ہیں جیسے (ورئیتہ فی المنام روٴیا) میں نے اس کو نیند میں دیکھا، اور (رایتہ رای العین) میں نے اس کو آنکھ سے دیکھا، اور (فارایتہ ارائة) میں نے اس کو دِکھلایا دِکھلانا، (ورایت الھلال) اور میں نے چاند کو دیکھا، (فتراینا الھلال) ہم نے دُوسرے کو چاند دِکھلایا۔ اور مجازاً کہا جاتا ہے کہ: فلاں نے فلاں کو خواب میں دیکھا۔”

          ممکن ہے مواقعِ استعمال کے یہ قواعد کلیہ نہ ہوں، لیکن عربیت کا صحیح ذوق شاہد ہے کہ یہ اکثر و بیشتر صحیح ہیں۔ یوں بھی فنی قواعد عموماً کلی نہیں، اکثری ہی ہوتے ہیں۔ ان تینوں قواعد کے مطابق “رُوٴیتِ ہلال” کے معنی سر کی آنکھوں سے چاند دیکھنا بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جن ائمہٴ لغت نے حقیقی اور مجازی معنوں کو الگ الگ ذکر کرنے کا التزام کیا ہے انہوں نے رُوٴیتِ ہلال کو حقیقی معنی یعنی چشمِ سر سے دیکھنے کے تحت درج کیا ہے۔

          اسی طرح جن حضرات نے “فروقِ الفاظ” کا اہتمام کیا ہے انہوں نے تصریح کی ہے کہ “رُوٴیتِ ہلال” اور “تبصر” کے معنی ہیں چاند دیکھنے کے لئے اُفقِ ہلال کی طرف نظر اُٹھاکر دیکھنا، جیسا کہ فقہ اللغہ میں ہے:

          “فان نظر الٰی أفق الھلال للیلة لیراہ قیل مبصر۔”

 (فقہ اللغة ص:۱۰۴، للامام ابومنصور عبدالملک بن محمد الثعالبی)

          ترجمہ:… “اگر کوئی آدمی رات کو اُفقِ ہلال کی طرف چاند دیکھنے کے لئے نظر اُٹھاکر دیکھے تو بھی کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی چاند کو دیکھنے والا ہے۔”

          فاضل موٴلف کے علم و تفقہ کے پیشِ نظر ان کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ یہ تمام اُمور ان کی نظر سے نہیں گزرے ہوں گے، یا یہ کہ وہ ائمہٴ لغت کی صحیح مراد سمجھنے سے قاصر رہے ہوں گے، مگر حیرت ہے کہ موصوف ان تمام چیزوں سے آنکھیں بند کرکے اس ادھوری بات کو لے اُڑے کہ “رُوٴیت کا لفظ چونکہ متعدّد معانی کے لئے آتا ہے، لہٰذا رُوٴیتِ ہلال کو چشمِ سر سے مخصوص کردینا غیرمعقول ہے”۔ جو حضرات کسی موضوع پر تحقیق کے لئے قلم اُٹھائیں اور اتنے بڑے پندار کے ساتھ کہ “ہم کسی رائے کو، خواہ وہ اپنی ہو یا قدمائے اہلِ علم کی، حرفِ آخر نہیں سمجھتے” ان کی طرف سے کم نظری، تساہل پسندی یا پھر مطلب پرستی کا یہ مظاہرہ بڑا ہی افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے، جب “رُوٴیت” جیسے بدیہی اور “چشم دید” اُمور میں ہمارے نئے محققین کا یہ حال ہو تو عملی، نظری اور پیچیدہ مباحث میں ان سے دقیقہ رسی، بالغ نظری اور اصابتِ رائے کی توقع ہی عبث ہے۔

          یہ تو خیر ائمہٴ لغت کی تصریحات تھیں، دِلچسپ بات یہ ہے کہ خود ماہرینِ فلکیات، جن کے قول پر اعتماد کرنا فاضل موٴلف کے نزدیک حفاظتِ ایمان کا ذریعہ ہے، ان کے یہاں بھی رُوٴیتِ ہلال کے معنی سر کی آنکھوں سے دیکھنا ہی آتے ہیں، مزید یہ کہ ان کے یہاں اس رُوٴیت کے دو درجے ہیں، ۱:-طبعی، ۲:-ارادی۔ اگر ہلال، اُفق سے اتنی بلندی پر ہو کہ وہ بلاتکلف دیکھا جاسکے اسے وہ “طبعی رُوٴیت” قرار دیتے ہیں، اور اگر اتنی بلندی پر نہ ہو بلکہ اتنا نیچے اور باریک ہو کہ اعلیٰ قسم کی دُوربینوں کے بغیر اس کا دیکھنا ممکن نہ ہو اسے “رُوٴیتِ ارادی” کا نام دیا جاتا ہے، فلکیات کی تصریح کے مطابق قابلِ اعتبار طبعی رُوٴیت ہے نہ کہ ارادی، مجلہ اسلامیہ بہاول پور میں ہے:

          “مراد از رُوٴیت طبعی است، نہ ارادہ کہ بتوسط منظار ہائے جیدہ بہ بیند، چہ دریں حالت ہلال قبل ازانکہ بحد رُوٴیت رسیدہ باشد، دیدہ مے شود۔” (زیچ بہادر خانی باب ہفتم در رُوٴیتِ ہلال ص:۵۵۶، طبع بنارس ۱۸۵۸ء بحوالہ سہ ماہی مجلہ جامعہ اسلامیہ بہاول پوری، اپریل ۱۹۶۸ء ص:۵۱، مقالہ مولانا عبدالرشید نعمانی، و ماہنامہ “معارف” اعظم گڑھ مارچ ۱۹۶۳ء ص:۱۸۸)

          ترجمہ:… “رُوٴیتِ ہلال سے مراد طبعی رُوٴیت ہے نہ کہ رُوٴیتِ ارادی کہ اعلیٰ قسم کی دُوربینوں کے ذریعہ ہلال کو دیکھا جائے کیونکہ اس حالت میں تو ہلال کو اس کے حدِ رُوٴیت پر پہنچنے سے قبل بھی دیکھا جاسکتا ہے۔”

          اور حضراتِ فقہائے کرام جو شریعتِ اسلامیہ کے حقیقی ترجمان ہیں، وہ بھی اسی پر متفق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: “صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ” میں رُوٴیتِ حسی یعنی سر کی آنکھوں سے دیکھنا ہی مراد ہے، “بدایة المجتہد” میں ہے:

          “فان النبی صلی الله علیہ وسلم قد أوجب الصوم والفطر للروٴیة، والروٴیة انما یکون بالحس، ولو لا الاجماع علی الصیام بالخبر علی الروٴیة لبعد وجوب الصوم بالخبر بظاھر ھٰذا الحدیث۔”

                    (بدایة المجھتد لابن رشد ص:۲۸۵)

          ترجمہ:… “حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم اور فطر کو رُوٴیت کے ساتھ خاص کیا ہے اور رُوٴیت صرف آنکھ ہی کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے، اور اگر روزوں کے لئے رُوٴیت پر حدیث پاک کے ساتھ ساتھ اُمت کا اجماع ثابت نہ ہوتا تو صرف خبر کے ساتھ روزوں کو واجب کرنا (اس حدیث کے ظاہر کی بنیاد پر) مشکل ہوتا۔”

          اور اسی پر تمام مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے، جیسا کہ “اَحکام القرآن” میں ہے:

          “قال أبوبکر: قول رسول الله صلی الله علیہ وسلم: “صوموا لروٴیتہ” موافق لقولہ تعالٰی: “یسئلونک عن الأھلة، قل ھی مواقیت للناس والحج” واتفق المسلمون علٰی أن معنی الاٰیة والخبر فی اعتبار روٴیة الھلال فی صوم رمضان، فدل ذٰلک علٰی أن روٴیة الھلال ھی شھود الشھر۔”

 (احکام القرآن لابی بکر الجصاص ج:۱ ص:۲۰۱ طبع ۱۳۳۵ھ)

          ترجمہ:… “ابوبکر کہتے ہیں کہ: حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ: “صوموا لروٴیتہ” یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول: “یسئلونک عن الأھلة قل ھی مواقیت للناس والحج” کے موافق ہے، اور مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیت اور حدیث رمضان کے روزوں سے رُوٴیتِ ہلال کے متعلق ہے، تو یہ قول بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رُوٴیتِ ہلال سے مراد مہینے کا موجود ہونا ہے۔”

          اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ “رُوٴیتِ ہلال” کے معنی سر کی آنکھوں سے دیکھنا، قطعی طور پر متعین ہیں، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ اور تردّد کی گنجائش نہیں، یہی معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد سے آج تک لئے جاتے رہے ہیں، یہی ائمہٴ لغت کی تصریحات سے میل کھاتے ہیں، یہی فلکیات کی اصطلاح کے مطابق ہیں، یہی معنی مزاج شناسانِ نبوّت – فقہائے کرام– نے حدیث سے سمجھے ہیں، اور چودہ صدیوں کی اُمتِ مسلمہ بھی اسی پر متفق ہے۔ مگر فاضل موٴلف کے کمال کی داد دیجئے کہ وہ ڈکشنری کی ناقص، ادھوری اور ہلکی پھونک سے آسمان و زمین کی ہر چیز کو اُڑادینا چاہتے ہیں۔ کاش! فاضل موٴلف سے یہ عرض کیا جاسکتا، طنز و تشنیع کے طور پر نہیں بلکہ محض دینی خیرخواہی، اسلامی اخوت اور اِخلاص کے طور پر، کہ آپ نے اس مقام پر جو آسان راستہ اختیار کیا ہے، یعنی لغت کھول کر کسی لفظ کے متعدّد معانی نکالو، اور پھر بلاتکلف اس لفظ کے شرعی معنی کو مشکوک کر ڈالو، یہ راستہ جتنا آسان اور مختصر ہے، اس سے کہیں زیادہ پُرخطر بھی ہے، کیونکہ یہ تحقیق و اِجتہاد کی طرف نہیں بلکہ – گستاخی معاف – سیدھا تلبیس و اِلحاد کی طرف جاتا ہے۔ اُمتِ مسلمہ میں خدا نہ کردہ اسی کی چلت ہوجائے تو ملاحدہ کی جماعت اسی غلط منطق سے صوم و صلوٰة، حج، زکوٰة اور تمام اصطلاحاتِ شرعیہ کو مسخ کرسکتی ہے، کہا جاسکتا ہے کہ “صلوٰة” کے معنی لغت میں یہ یہ آتے ہیں، لہٰذا ارکانِ مخصوصہ کے ساتھ اسے خاص کردینا غیرمعقول ہے، وقس علیٰ ہذا، اس سے ظاہر ہے کہ اس کا انجام دُنیا میں امن و اصلاح نہیں، انتشار اور فساد ہوگا، اور آخرت میں دار القرار نہیں، دار البوار ہوگا، اللہ تعالیٰ اہلیت دیں تو اِجتہاد ضرور کیجئے! مگر خدا کے لئے پہلے اِجتہاد اور اِلحاد کے درمیان اچھی طرح سے فرق کرلیجئے! تحقیق نئی ہو یا پُرانی، اس کا حق مُسلَّم! لیکن، خدارا تحقیق اور تلبیس دونوں کے حدود کو جدا جدا رکھئے۔

          رُوٴیتِ ہلال کی احادیث حضرات عمر، علی، ابنِ مسعود، عائشہ، ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، براء بن عازب، حذیفہ بن الیمان، سمرة بن جندب، ابوبکرہ، طلق بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، رافع بن خدیج وغیرہم صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی روایت سے حدیث کے مستند مجموعوں میں موجود ہیں، جنھیں اس مسئلے میں کسی صحیح نتیجے پر پہنچنے کے لئے پیشِ نظر رکھنا ضروری تھا، مگر موصوف نے اپنے خاص مقصد کا پردہ رکھنے کے لئے ان سے استفادہ کی ضرورت نہیں سمجھی، صرف ایک روایت کے جس کے آخری جملے میں قدرے اجمال پایا جاتا ہے، نقل کرکے فوراً لغت کا رُخ کرلیا۔ آئیے! چند روایات پر نظر ڈالیں اور پھر دیکھیں کہ صحابہ و تابعین اور فقہائے مجتہدین نے ان سے کیا سمجھا ہے؟ صحیحین میں ہے:

          ۱:… “عن عبدالله بن عمر (رضی الله عنھما) ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: الشھر تسع وعشرون لیلة، فلا تصوموا حتی تروہ، فان غم علیکم فأکملوا العدة ثلاثین۔”     (متفق علیہ، مشکوٰة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… “حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ اُنتیس کا بھی ہوتا ہے، مگر تم “چاند دیکھے بغیر” روزہ نہ رکھا کرو، اور اگر (اُنتیس کا) چاند اَبر یا غبار کی وجہ سے نظر نہ آئے تو تیس کی گنتی پوری کرلیا کرو۔”

          ۲:… “عن عبدالله بن عمر رضی الله عنہما ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم ذکر رمضان، فقال: لا تصوموا حتی تروا الھلال، ولا تفطروا حتی تروہ، فان غم علیکم فاقدروا لہ۔”  (متفق علیہ مشکوٰة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… “حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: (اُنتیس کا) چاند دیکھے بغیر نہ روزے رکھنا شروع کرو اور نہ چاند دیکھے بغیر روزے موقوف کرو، اور اَبر یا غبار کی وجہ سے نظر نہ آئے تو اس کے لئے (تیس دن کا) اندازہ رکھو۔”

          ۳:… “کتب عمر بن عبدالعزیز (رضی الله عنہ) الٰی أھل البصرة بلغنا عن رسول الله صلی الله علیہ وسلم ․․․․․ نحو حدیث ابن عمر عن النبی صلی الله علیہ وسلم زاد: وان أحسن ما یقدر لہ اذ رأینا ھلال شعبان لکذا وکذا فالصوم ان شاء الله لکذا وکذا الا ان یروا الھلال قبل ذٰلک۔”                     (ابوداوٴد ص:۳۱۸)

          ترجمہ:… “خلیفہٴ راشد عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اہلِ بصرہ کو خط لکھا کہ: ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے۔ یہاں اسی مذکورہ بالا حدیثِ ابنِ عمر کا مضمون ذکر کیا اور اتنا اضافہ کیا: اور بہترین اندازہ یہ ہے کہ ہم نے شعبان کا چاند فلاں دن دیکھا تھا، اس لئے (تیس تاریخ کے حساب سے) روزہ اِن شاء اللہ فلاں دن ہوگا، ہاں! چاند اس سے پہلے (اُنتیس کو) نظر آجائے تو دُوسری بات ہے۔”

          ۴:… “حدثنا حسین بن الحارث الجدلی ․․․․․ ان أمیر مکة خطب ثم قال: عھد الینا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان ننسک الروٴیة فان لم نرہ وشھد شاھدا عدل نسکنا بشھادتھا ․․․․․ ان فیکم من ھو أعلم بالله ورسولہ منّی، وشھد ھٰذا من رسول الله صلی الله علیہ وسلم واوما بیدہ الٰی رجل قال الحسین: فقلت لشیخ الٰی جنبی: من ھٰذا الذی اوما الیہ الأمیر؟ قال: ھٰذا عبدالله بن عمر وصدق کان أعلم بالله منہ، فقال: بذٰلک أمرنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم۔”

                              (ابوداوٴد ج:۱ ص:۳۱۹)

          ترجمہ:… “حسین بن حارث جدلی فرماتے ہیں: امیرِ مکہ نے خطبہ دیا، پھر فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تاکیداً یہ حکم دیا تھا کہ ہم عید، بقرعید صرف چاند دیکھ کر کیا کریں، اور اگر (اَبر یا غبار کی وجہ سے) ہم نہ دیکھ سکیں (یعنی رُوٴیتِ عامہ نہ ہو) مگر دو معتبر اور عادل گواہ رُوٴیت کی شہادت دیں، تو ہم ان کی شہادت پر عید، بقرعید کرلیا کریں، اور ایک صاحب جو حاضرِ مجلس تھے، ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ کی اس مجلس میں یہ صاحب موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اَحکام مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکمِ الٰہی میں نے ذکر کیا ہے یہ اس کے گواہ ہیں۔ حارث کہتے ہیں: میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ: یہ کون صاحب ہیں جن کی طرف امیر صاحب نے اشارہ کیا؟ کہا کہ: یہ عبداللہ بن عمر ہیں، اور امیر صاحب نے صحیح کہا تھا، یہ واقعی خدا و رسول کے اَحکام کے بڑے عالم تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کا حکم فرمایا ہے۔”

          ۵:… “عن ابن عمر رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: جعل الله الأھلة مواقیت للناس، فصوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان غم علیکم فعدوا ثلاثین یوما۔” (رواہ الطبرانی کما فی تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۳۲۵، دار احیاء الکتب العربیة مصر، وأخرجہ الحاکم فی المستدرک بمعناہ وقال: صحیح الاسناد، وأقرہ علیہ الذھبی)

          ترجمہ:… “حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہلالوں (نئے چاند) کو لوگوں کے لئے اوقات کی تعیین کا ذریعہ بنایا ہے، پس چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر اِفطار کرو، اور اگر مطلع اَبر آلود ہو تو تیس دن شمار کرلو۔”

          ۶:… “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان حال بینکم وبین منظرہ سحاب أو قترة فعدوا ثلاثین۔” (احکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۲۰۱)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی اِفطار کرو، اور اگر تمہارے اور اس کے نظر آنے کے درمیان اَبر یا سیاہی حائل ہوجائے تو تیس دن شمار کرلو۔”

          ۷:… “عن ابن عباس رضی الله عنہما ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: صوموا رمضان لروٴیتہ فان حال بینکم غمامة أو ضبابة فأکملوا عدة شھر شعبان ثلاثین ولا تستقبلوا رمضان بصوم یوم من شعبان۔”                    (احکام القرآن ج:۱ ص:۲۰۲)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کا روزہ چاند دیکھ کر رکھا کرو، پھر اگر تمہارے درمیان اَبر یا دُھند حائل ہوجائے تو ماہ شعبان کی گنتی تیس دن پوری کرلو، اور رمضان کے استقبال میں شعبان ہی کے دن کا روزہ شروع نہ کردیا کرو۔”

          ۸:… “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا تصوموا قبل رمضان، صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ، فان حالت دونہ غیابة فأکملوا ثلاثین یوما۔” (ترمذی ج:۱ ص:۸۷)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان سے پہلے ہی روزہ شروع نہ کردیا کرو، بلکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر روزہ اِفطار کرو، اور اگر اس کے دیکھنے میں اَبر حائل ہوجائے تو تیس دن پورے کرلیا کرو۔”

          ۹:… “عن أبی البختری قال: خرجنا للعمرة فلما نزلنا ببطن نخلة ترآئینا الھلال فقال بعض القوم: ھو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: ھو ابن لیلتین، فلقینا ابن عباس (رضی الله عنھما) فقلنا: انا رآئینا الھلال فقال بعض القوم: ھو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: ھو ابن لیلتین۔ فقال: أی لیلة رأیتموہ؟ قلنا: لیلة کذا وکذا، فقال: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدہ للروٴیة فھو للیلة رأیتموہ۔ وفی روایة عنہ: قال: أھللنا رمضان ونحن بذات عرق فأرسلنا رجلًا الی ابن عباس یسألہ، فقال ابن عباس (رضی الله عنہما): قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ان الله تعالٰی قد امدہ لروٴیتہ فان اغمی علیکم فأکملوا العدة۔”

           (مسلم ج:۱ ص:۳۴۸، مشکوٰة ص:۱۷۴، ۱۷۵)

          ترجمہ:… “ابوالبختری کہتے ہیں کہ: ہم عمرہ کے لئے نکلے، بطنِ نخلہ پہنچے تو چاند دیکھنے لگے، کسی نے کہا: تیسری رات کا ہے، اور کسی نے کہا: دُوسری رات کا ہے، بعد ازاں جب ہماری ملاقات ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ: ہم نے چاند دیکھا تھا، مگر بعض کی رائے تھی کہ دُوسری رات کا ہے اور بعض کا خیال تھا کہ تیسری رات کا ہے۔ فرمایا: تم نے کس رات دیکھا؟ ہم نے عرض کیا: فلاں رات! فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی مدّت کا مدار رُوٴیت پر رکھا ہے، لہٰذا یہ چاند اسی رات کا تھا جس رات تم نے دیکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہم نے رمضان کا چاند ذاتِ عرق میں دیکھا (اور ہمارے درمیان اختلافِ رائے ہوا کہ کس تاریخ کا ہے؟) چنانچہ ہم نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی اس کی تحقیق کے لئے بھیجا، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مدار رُوٴیت پر رکھا ہے، پس اگر نظر نہ آسکے تو گنتی پوری کرلی جائے۔”

          ۱۰:… عن أبی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان غم علیکم فأکملوا العدة ثلاثین۔”

                              (متفق علیہ، مشکوٰة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… “حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر اِفطار کرو، پھر اگر وہ اَبر و غبار کی وجہ سے نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔”

          ۱۱:… “عن ابن عمر رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: انا أُمّة أُمّیّة لا نکتب ولا نحسب، الشھر ھٰکذا وھٰکذا وعقد الابھام فی الثالثة۔ ثم قال: الشھر ھٰکذا وھٰکذا وھٰکذا یعنی تمام الثلاثین یعنی مرة تسعًا وعشرین ومرة ثلاثین۔”

                              (متفق علیہ، مشکوٰة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم تو اُمتِ اُمیہ ہیں، ہمیں اوقات کی تعیین کے لئے حساب کتاب کی ضرورت نہیں، بس (اتنا جان لو کہ) مہینہ کبھی اتنا، اتنا ہوتا ہے، دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا، اور تیسری مرتبہ ایک اُنگلی بند فرمائی (یعنی اُنتیس کا)، اور کبھی اتنا، اتنا، اتنا ہوتا ہے، یعنی پورے تیس کا، کبھی اُنتیس کا اور کبھی تیس کا۔”

          ۱۲:… “عن جابر بن عبدالله رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: اذا رأیتم الھلال فصوموا واذا رأیتموہ فأفطروا فان غم علیکم فعدوا ثلاثین یوما۔” (الفتح الربانی تبویب مسندِ احمد ج:۹ ص:۲۴۸)

          ترجمہ:… “حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھ لو تب اِفطار کرو، پھر اگر مطلع اَبر آلود ہو تو تیس دن گن لو۔”

          ۱۳:… “عن قیس بن طلق عن أبیہ رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ان الله عزّ وجلّ جعل ھٰذہ الأھلة مواقیت للناس، صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان غم علیکم فاتموا العدة۔”

                              (الفتح الربانی ج:۹ ص:۲۴۷)

          ترجمہ:… “طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ہلالوں (نئے چاند) کو لوگوں کے لئے تعیینِ اوقات کا ذریعہ بنایا ہے، پس چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو، اور چاند دیکھ کر اِفطار کیا کرو، پھر اگر مطلع اَبر آلود ہونے کی بنا پر وہ نظر نہ آئے تو (تیس دن کی) گنتی پوری کرلو۔”

          ۱۴:… “عن عائشة رضی الله عنہا تقول: کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یتحفظ من شعبان ما لا یتحفظ من غیرہ ثم یصوم لروٴیة رمضان، فان غم علیہ عد ثلاثین یوما ثم صام۔”                   (ابوداوٴد ص:۳۱۸)

          ترجمہ:… “اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جتنا شعبان کے چاند کا اہتمام فرماتے تھے اتنا کسی دُوسرے ماہ کا نہیں فرماتے تھے، پھر چاند دیکھ کر رمضان کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن مطلع غبار آلود ہونے (اور کہیں سے رُوٴیت کی اطلاع نہ ملنے) کی صورت میں (شعبان کے) تیس دن پورے کیا کرتے تھے۔”

          ۱۵:… “عن أبی ھریرة رضی الله عنہ قال: قال النبی صلی الله علیہ وسلم: لا تقدموا الشھر بیوم ولا بیومین الا أن یوافق ذٰلک صوما کان یصوم أحدکم۔ صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ فان غم علیکم فعدوا ثلاثین ثم أفطروا۔” (رواہ الترمذی وقال حدیث أبی ھریرة حسن صحیح والعمل علٰی ھٰذا عند أھل العلم۔ ترمذی ج:۱ ص:۱۴۷)

          ترجمہ:… “حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینے کی آمد سے ایک دو دن پہلے ہی روزہ شروع نہ کردیا کرو، البتہ اس دن کا روزہ رکھنے کی کسی کو عادت ہو تو دُوسری بات ہے، بلکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر اِفطار کرو، اور اگر مطلع غبار آلود ہونے کی وجہ سے وہ نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرکے پھر اِفطار کرو۔”

          ۱۶:… “عن حذیفة رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا تقدموا الشھر حتی تروا الھلال أو تکملوا العدة، ثم صوموا حتی تروا الھلال أو تکملوا العدة۔”                (ابوداوٴد ص:۳۱۸)

          ترجمہ:… “حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینے کی آمد سے پہلے ہی روزہ شروع نہ کردیا کرو جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی پوری نہ کرلو، پھر برابر روزے رکھتے رہو، جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی پوری نہ کرلو۔”

          ۱۷:… “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا تقدموا الشھر بصیام یوم ولا یومین الا أن یکون شیء یصومہ أحدکم، ولا تصوموا حتی تروہ ثم صوموا حتی تروہ، فان حال دونہ غمامة فأتموا العدة ثلاثین ثم أفطروا، والشھر تسع وعشرون۔”                         (ابوداوٴد ص:۳۱۸)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان سے ایک دو دن پہلے ہی روزہ شروع نہ کردیا کرو، اِلَّا یہ کہ اس دن روزہ رکھنے کی کسی کی عادت ہو (مثلاً: دوشنبہ یا پنجشنبہ کا دن ہو)، بہرحال چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو، پھر چاند نظر آنے تک برابر روزے رکھتے رہو، اور اگر اس کے ورے بادل حائل ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرلو، تب اِفطار کرو، ویسے مہینے اُنتیس کا بھی ہوتا ہے۔”

          ۱۸:… “عن عبدالرحمٰن بن زید بن الخطاب یقول: انا صحبنا أصحاب النبی صلی الله علیہ وسلم وتعلمنا منھم وانھم حدثونا أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ، فان أغمی علیکم فعدوا ثلاثین، فان شھد ذوا عدل، فصوموا وأفطروا وأنسکوا۔”    (سننِ دارقطنی ج:۲ ص:۱۶۸)

          ترجمہ:… “حضرت عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں: ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت میں رہے ہیں، اور ان ہی سے علم سیکھا ہے، انہوں نے ہمیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر اِفطار کرو، اور اگر اَبر و غبار کی وجہ سے نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کرلو، لیکن اگر اس حالت میں دو معتبر اور عادل شخص رُوٴیت کی شہادت دیں، تب بھی روزہ، عید اور قربانی کرو۔”

          ان تمام احادیث کا مضمون مشترک ہے، مگر ہر حدیث کسی نئے افادے پر مشتمل ہے، اس لئے سب کا سامنے رکھنا ضروری ہے، ان احادیث سے حسبِ ذیل اُمور اوّل نظر میں واضح طور پر مستفاد ہوتے ہیں:

          ۱:… اسلامی اَحکام میں قمری مہینوں اور سالوں کا اعتبار ہوگا۔

          ۲:… قمری مہینہ کبھی اُنتیس کا ہوتا ہے، کبھی تیس کا۔

          ۳:… رُوٴیتِ ہلال میں سر کی آنکھوں سے چاند دیکھنے کا مفہوم قطعی طور پر متعین ہے، ان احادیث میں کسی دُوسرے معنی کے احتمال کی گنجائش نہیں، چنانچہ “بدایة المجتھد” لابن رشد القرطبی میں ہے:

          “فان العلماء أجمعوا أن الشھر العربی یکون تسعًا وعشرین، ویکون ثلاثین، وعلی أن الاعتبار فی تحدید شھر رمضان انما ھو الروٴیة، لقولہ علیہ الصلٰوة والسلام: “صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ” وعنی بالروٴیة أول ظھور القمر بعد السوٴال۔”

           (بدایة المجتھد لابن الرشد القرطبی ج:۱ ص:۲۰)

          ترجمہ:… “علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عربی مہینہ اُنتیس کا بھی ہوتا ہے اور تیس کا بھی، اور اس پر بھی اجماع ہے کہ رمضان کے مہینے کی تحدید صرف رُوٴیت سے ہوتی ہے اس لئے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “چاند کو دیکھ کر تم روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ اِفطار کرو” اور (سائل کے) سوال پر رُوٴیت سے چاند کا اوّل ظہور ہی مراد ہے۔”

          ۴:… قمری مہینوں کی تبدیلی کا مدار چاند نظر آنے یا تیس دن پورے ہونے پر ہے، اگر اُنتیس کا چاند نظر آجائے تو نیا مہینہ شروع ہوجائے گا، ورنہ سابقہ ماہ کے تیس دن شمار کرنا لازم ہوگا۔

          اَحکام القرآن، ابوبکر جصاص رازی میں ہے:

          “وقولہ صلی الله علیہ وسلم: “صوموا لروٴیتہ وأفطروا لروٴیتہ، فان غم علیکم فأکملوا العدة ثلاثین” ھو أصل فی اعتبار الشھر ثلاثین، الا أن یری قبل ذٰلک الھلال، فان کان شھر غم علینا ھلالہ فعلینا أن نعدہ ثلاثین، ھٰذا فی سائر الشھور التی تتعلق بھا الأحکام، وانما یصیر الی أقل من ثلاثین بروٴیة الھلال۔”

                                       (ج:۱ ص:۲۰۲)

          ترجمہ:… “حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ: “چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر اِفطار کرو، اور اگر (بادلوں کی وجہ سے) چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی مکمل کیا کرو۔” یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، اِلَّا یہ کہ اس سے پہلے چاند نظر آجائے۔ اگر کوئی مہینہ ایسا ہے کہ اس میں بادلوں کی وجہ سے چاند نہ نظر آئے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کو تیس کا شمار کریں، اور یہ اُصول ان تمام مہینوں کے بارے میں ہے جن کے ساتھ اَحکام متعلق ہوتے ہیں اور مہینے کے تیس سے کم ہونے کا اعتبار صرف چاند دیکھنے پر ہوگا۔”

          ۵:… اگر اُفق پر اَبر، غبار، سیاہی یا اور کوئی چیز مانعِ رُوٴیت نہ ہو تو اُنتیس کے چاند کا ثبوت “رُوٴیتِ عامہ” سے ہوگا، جب پورے علاقے یا ملک کے لوگ چاند دیکھنے میں کوشاں ہوں، اور اس کے باوجود عام رُوٴیت نہ ہوسکے، تو علاقے اور ملک کے صرف دو چار افراد کے دعوے سے “رُوٴیت” کا ثبوت نہیں ہوگا۔ چنانچہ ان احادیثِ طیبہ میں انفرادی شہادت قبول کرنے کا حکم مطلع اَبر آلود ہونے کی صورت میں دیا گیا ہے، اور مطلع صاف ہونے کی صورت میں انفرادی شہادت کی بجائے: “اذا رأیتم” (جب تم دیکھ لو) فرماکر “رُوٴیتِ عامہ” پر ثبوتِ ہلال کا مدار رکھا گیا ہے، اور عقلاً بھی یہ بات بدیہی ہے کہ جب مطلع صاف ہو، سب لوگ سراپا اشتیاق بن کر اُفق پر ٹکٹکی باندھے ہوئے ہوں، اور کوئی چیز مانعِ رُوٴیت نہ ہو، اس کے باوجود رُوٴیتِ عامہ نہ ہوسکے، تو ایسی صورت میں ایک دو افراد کا یہ دعویٰ کہ: “ہم نے چاند دیکھا ہے” پوری قوم کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے مترادف ہے، ظاہر ہے کہ پوری قوم کو اندھا یا ضعیف البصر قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، بلکہ اس کی بجائے اس انفرادی بیان ہی کو غلط ماننا ہوگا، بالخصوص جبکہ بلند و بالا چوٹیوں پر دُوربینوں کی مدد سے بھی چاند نظر نہ آئے تو ان لوگوں کی غلطی یا غلط بیانی اور بھی واضح ہوجائے گی۔

          اَحکام القرآن، ابوبکر جصاص رازی میں ہے:

          “قال أبوبکر: انما اعتبر أصحابنا اذا لم یکن بالسماء علة شھادة الجمع الکثیر الذین یقع العلم بخبرھم، لأن ذٰلک فرض قد عمت الحاجة الیہ، والناس مأمورون بطلب الھلال فغیر جائز أن یطلبہ الجمع الکثیر ولا علة بالسماء مع توافی ھمھم وحرصھم علٰی روٴیتہ ثم یراہ النفر الیسیر منھم دون کافتھم، علمنا أنھم غالطون غیر مصیبین، فاما أن یکونوا راوٴا خیالا فظنوہ ھلالا، أو تعمدوا الکذب، وجواز ذٰلک غیر ممتنع، وھٰذا أصل صحیح تقضی العقول بصحتہ، وعلیہ مبنٰی أمر الشریعة۔ والخطاء فیہ یعظم ضررہ ویتوصل الملحدون الٰی ادخال الشبھة علی الاغمار والحشو وعلٰی من لم یتیقن ما ذکرنا من الأصل۔”            (اَحکام القرآن ج:۱ ص:۲۰۲، طبع ۱۳۳۵ھ)

          ترجمہ:… “امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں: جب آسمان پر کوئی بادل وغیرہ نہ ہو تو ہلالِ رمضان کی رُوٴیت کے لئے ایک ایسی کثیر جماعت کی شہادت ضروری ہے جس کی خبر سے یہ یقین حاصل ہوجائے کہ انہوں نے چاند یکھا ہے، اس لئے کہ روزوں کی فرضیت کی وجہ سے چاند کا دیکھنا فرض ہے اور تمام لوگوں کی ضرورت اس سے متعلق ہے اور لوگ چاند دیکھنے کے لئے مأمور ہیں، پس یہ ممکن نہیں کہ سب لوگ اپنی بھرپور کوشش، ہمت اور رُوٴیت کی حرص کے باوجود چاند نہ دیکھ سکیں، لیکن ان میں سے ایک قلیل جماعت کو چاند نظر آجائے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ تھوڑی سی جماعت غلطی پر ہے، بہت ممکن ہے کہ اس جماعتِ قلیل نے کوئی خیالی چیز دیکھی ہو اور اس کو انہوں نے چاند خیال کرلیا ہو، یا جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہوں، اور یہ اُصول اپنی جگہ ایک صحیح اُصول ہے جس کی صحت کا عقلِ سلیم بھی تقاضا کرتی ہے، اور اس پر شریعت کا اُصول وضع ہوا ہے اور اس میں غلطی کرنا بہت بڑے نقصان کا سبب ہوسکتا ہے، اور اس سے ملحدین، اسلام میں شبہات اور قطع برید پیدا کرسکتے ہیں۔”

          ۶:… مطلع غبار آلود ہو تو جیسا کہ احادیثِ بالا میں تصریح ہے، ہلالِ عید کا ثبوت کم از کم دو معتبر عادل اور دیانت دار گواہوں کی چشم دید شہادت سے ہوگا (اور دو عینی شاہدوں کی گواہی پر دو معتبر اشخاص کی گواہی جسے “شہادت علی الشہادت” کہا جاتا ہے، اسی طرح قاضی کے فیصلے پر دو عادلوں کی گواہی (شہادت علیٰ قضاء القاضی) کا حکم بھی یہی ہے، کیونکہ یہ دونوں بھی “حجتِ ملزمہ” ہیں، کما صرح بہ القوم)، صرف ایک شخص کی شہادت یا محض افواہی خبروں کا اعتبار نہ ہوگا۔ جو حضرات اختلافِ مطالع کے قائل نہیں (اور ہمارے فاضل موٴلف ان ہی کے موٴید ہیں) ان کے نزدیک مندرجہ ذیل حدیث کا محمل بھی یہی ہے:

          “عن کریب أن أمّ الفضل بنت الحارث بعثتہ الی معاویة بالشام قال: فقدمت الشام، فقضیت حاجتھا واستھل علیّ ھلال رمضان وأنا بالشام فرأینا الھلال لیلة الجمعة، ثم قدمت المدینة فی اٰخر الشھر فسألنی ابن عباس ثم ذکر الھلال، فقال: متی رأیتم الھلال؟ فقلت: رأیناہ لیلة الجمعة۔ فقال: أنت رأیتہ لیلة الجمعة؟ فقلت: راٰہ الناس وصاموا وصام معاویة۔ فقال: لٰکن رأیناہ لیلة السبت، فلا نزال نصوم حتی نکمل ثلاثین یوما أو نراہ۔ فقلت: الا تکتفی بروٴیة معاویة وصیامہ؟ قال: لا! ھٰکذا أمرنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم۔”          (ابوداوٴد ص:۳۱۹، ترمذی ج:۱ ص:۸۷)       

          ترجمہ:… “حضرت کریب فرماتے ہیں: اُمّ الفضل بنت حارث (والدہ ابنِ عباس) نے انہیں حضرت معاویہ کے پاس شام بھیجا، میں شام گیا اور اپنے کام سے فارغ ہوا تو رمضان کا چاند مجھے شام ہی میں ہوا، چنانچہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر رمضان مبارک کے آخر میں، میں مدینہ طیبہ واپس آیا، حضرت ابنِ عباس نے مجھ سے حال احوال دریافت کئے، پھر چاند کا ذکر آیا تو دریافت فرمایا: تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا۔ فرمایا: تو نے جمعہ کی رات کو خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا اور حضرت معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔ فرمایا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات کو دیکھا ہے، اس لئے ہم تو اپنے حساب سے تیس روزے پورے کریں گے، اِلَّا یہ کہ خود اُنتیس کا چاند دیکھ لیں۔ میں نے کہا: کیا آپ حضرت معاویہ کی رُوٴیت اور روزہ رکھنے (کے فیصلے کو) کافی نہیں سمجھتے؟ فرمایا: نہیں! (کیونکہ ہمیں وہاں کی رُوٴیت کا ثبوت دو ثقہ گواہوں کی شہادت سے نہیں ملا، صرف تمہاری ایک آدمی کی اطلاع ہمارے اِفطار کے لئے حجت نہیں) ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔”

          اور جن حضرات کے نزدیک مطالع کا اختلاف معتبر ہے، وہ اس کی توجیہ یہ کریں گے کہ چونکہ ہر علاقے کا مطلع الگ ہے اس لئے ایک مطلع کی رُوٴیت دُوسرے علاقے والوں کے لئے کافی نہیں، خواہ اس کا ثبوت صحیح شہادت سے بھی ہوجائے۔

          اور مطلع غبار آلود ہونے کی صورت میں ہلالِ رمضان کے لئے، دُوسری احادیث کے مطابق صرف ایک مسلمان عادل یا مستور الحال کی خبر بھی کافی ہوگی، جیسا کہ ابوداوٴد میں ہے:

          ۱:… “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: جاء أعرابی الی النبی صلی الله علیہ وسلم فقال: انی رأیت الھلال یعنی ھلال رمضان، فقال: أتشھد أن لا الٰہ الا الله؟ قال: نعم! قال: أتشھد أن محمدًا رسول الله؟ قال: نعم! قال: یا بلال! أذّن فی الناس أن یصوموا غدًا۔”

(رواہ ابو داوٴد والترمذی والنسائی وابن ماجة والدارمی، مشکوٰة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ایک دیہاتی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے (عام رُوٴیت نہیں ہوئی تھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ کی توحید کے قائل ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا تم میری رسالت کو مانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔”

          ۲:… “وعن ابن عمر رضی الله عنھما قال: تراء الناس الھلال، فأخبرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم انی رأیتہ، فصام وأمر الناس بصیامہ۔”

 (رواہ ابوداوٴد والدارمی والروایتان فی المشکٰوة ص:۱۷۴)

          ترجمہ:… حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ چاند دیکھ رہے تھے (مگر اَبر کی وجہ سے عام لوگوں کو نظر نہیں آیا)، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے دیکھ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری خبر پر خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔”

          ۷:… ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ ہدایات پر نظر ڈالئے تو واضح ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثبوتِ ہلال کے لئے ایک قطعی اُصول اور ضابطہ مقرّر فرمایا، یعنی اُنتیس کو مطلع صاف ہونے کی صورت میں رُوٴیتِ عامہ کا اعتبار ہوگا اور مطلع کے غبار آلود ہونے کی صورت میں شہادت کا اعتبار کیا جائے گا، اور دونوں مفقود ہوں تو تیس دن پورے کئے جائیں گے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اپنا عمل اسی ضابطے پر تھا، صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی اُصول کے پابند تھے، اور اُمتِ مسلمہ کو اسی قاعدے کی پابندی کا بار بار تاکیدی حکم فرمایا۔ اور الحمدللہ! اُمتِ مسلمہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے بموجب اس کا خوب خوب التزام بھی کیا۔ لیکن کسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادنیٰ سے ادنیٰ اور ہلکے سے ہلکا اشارہ اس طرف نہیں فرمایا کہ اس اُصول کو چھوڑ کر اُمت کسی مرحلے میں، کسی دُوسرے طریقے پر بھی اعتماد کرسکتی ہے، کسی حسابی فن سے بھی اس سلسلے میں مدد لے سکتی ہے، یا روزہ و اِفطار کے اوقات متعین کرنے کے لئے کسی دُوسرے اُصول کی طرف بھی رُجوع کرسکتی ہے۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع فرمودہ اُصولِ رُوٴیت کو چھوڑ کر کسی فن پر اعتماد کرنے اور اس کے ماہرین کی طرف رُجوع کرنے سے بھی منشائے نبوّت پورا ہوسکتا تھا، جیسا کہ فاضل موٴلف اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر تھوپنا چاہتے ہیں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہمیں اس کا کوئی معمولی اشارہ تو ملنا چاہئے تھا؟ یا کم از کم صحابہ و تابعین اور ائمہٴ ہدیٰ کی طرف اس اُصولِ نبوی سے ہٹ کر کسی دُوسری راہ کو اختیار کرنے کی گنجائش کا کہیں سراغ ملتا؟

          دورِ حاضر کی کم سوادی اور ستم ظریفی کا ایک مظہر یہ بھی ہے، کہ جو چیز اپنے ذہنِ عالی میں آئے اسے کھینچ تان کر بڑوں کی طرف منسوب کرو، اور جو چیز بڑوں سے صراحتاً ثابت ہو، اس سے صاف مکر جاوٴ، اور اگر اس طرح نہ بن آتی ہے تو اسے تأویل کے خراد پر چڑھاوٴ۔ “خاندانی منصوبہ بندی” سے لے کر “سوشل ازم” تک جو بات کسی کے ذہن نے اچھی سمجھی، فٹ سے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرڈالا۔ صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات انہوں نے ایک دو بار نہیں، بیسیوں بار اپنے کانوں سے سنے ہوتے تھے، ان کی روایت میں بھی حد درجہ محتاط تھے، مگر ہمارے یہاں اپنے ذہنی وساوس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

          لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُصولِ رُوٴیت کو اپنانے اور اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہیں: “لا نکتب ولا نحسب” (ہم حساب کتاب نہیں کیا کرتے) کہہ کر اوقات کی تعیین کے باب میں حسابی تخمینوں کی حوصلہ شکنی فرمائی، کہیں دونوں ہاتھوں کے اشارے سے: “الشھر ھٰکذا وھٰکذا وھٰکذا” (مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے) کہہ کر ماہ و سال کے سلسلے میں حساب پر بالکلیہ بے اعتمادی کا اظہار فرمایا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اس مضمون کو سمجھانے کے لئے کہ مہینہ کبھی ۲۹ کا ہوتا ہے، کبھی ۳۰ کا، دونوں ہاتھوں کو چھ دفعہ اُٹھانے اور “ھٰکذا” کا لفظ چھ دفعہ دُہرانے کی بہ نسبت ۲۹، ۳۰ کا عدد مختصر بھی تھا اور واضح بھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب ان دو ہندسوں سے ناآشنا بھی نہ تھے۔

          چنانچہ صحیح مسلم کی شرح “اکمال اکمال المعلم” المعروف “شرح أُبیّ” میں ہے:

          “وفی أحادیث الاشارة ھٰذہ الارشاد الٰی تقریب الأشیاء بالتمثیل وھو الذی قصدہ صلی الله علیہ وسلم ولم یصنع ذٰلک لأجل ما وصفھم بہ من الأمیة: “لا یحسبون لا یکتبون” لأنھم لا یجھلون الثلاثین والتسع وعشرین، مع ان التعبیر عنھما باللفظ أخف من الاشارة المکررة وانما وصفھم بذٰلک سدًّا لباب الاعتداد بحساب المنجمین الذی تعتمدہ العجم فی صومھا، وفطرھا، وفصولھا۔”

                    (ج:۳ ص:۲۲۳ طبع مصر ۱۳۳۷ھ)

          ترجمہ:… “اور جن احادیث میں اشارے سے مہینے کے تیس اور اُنتیس کے ہونے کی مقدار سمجھائی گئی ہے، اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ مثالوں کے ذریعہ سے بات کو سمجھنا آسان ہوتا ہے، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے یہ بات سمجھائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (اشارے سے سمجھانے کا طریقہ) اس لئے نہیں اپنایا کہ وہ لوگ وصفِ اُمیّت سے موصوف تھے اور حساب و کتاب کرنا نہیں جانتے تھے، کیونکہ وہ لوگ تیس اور اُنتیس کے لفظ سے جاہل نہیں تھے، حالانکہ بار بار کے اشارے کی بجائے تیس اور اُنتیس کے لفظ سے تعبیر کرنا آسان تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے بات سمجھائی، اس لئے کہ منجم لوگوں کے حساب کی لوگوں میں عادت پڑچکی تھی اور اسی پر عجمی لوگ اپنے روزہ اور اِفطار کرنے، اور سالوں کی گنتی کا اعتماد کرتے تھے، اس سے ان کے حساب وغیرہ کا دروازہ بند کرنا مقصود تھا۔”

          اسی طرح کہیں: “فلا تصوموا حتی تروہ ولا تفطروا حتی تروہ” (روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اور اِفطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو) فرماکر رُوٴیت کے بغیر کسی نوع کے حسابی تخمینے پر اعتماد کرتے ہوئے روزہ و اِفطار کرنے سے اُمت کو صاف صاف منع فرمایا۔ اور کہیں چاند دیکھ کر: “دُوسری تاریخ کا ہے” کا نعرہ لگانے کو قربِ قیامت کی علامت بتلاکر، حسابی طریقوں پر اعتماد سے نفرت دِلائی، اور اسے ذہنی انحطاط اور دینی تنزل کا مظہر قرار دیا، جیسا کہ “کنز العمال” میں ہے:

          “عن ابن مسعود رضی الله عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم: من اقتراب الساعة أن یری الھلال قبلا فیقال: للیلتین، وأن تتخذ المساجد طرقا، وأن یظھر موت الفجائة۔”

 (رواہ الطبرانی فی الأوسط، کنز العمال ج:۷ ص:۱۷۶)

          ترجمہ:… “حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: من جملہ قربِ قیامت کی علامات کے یہ ہے کہ چاند کو سامنے دیکھ کر کہا جائے گا: “یہ تو دُوسری رات کا ہے”، اور مساجد کو گزرگاہ بنالیا جائے گا اور اچانک موتیں عام ہوں گی۔”

          اور کہیں بلا استثناء اہلِ نجوم کی تصدیق کو “کفر” سے تعبیر فرمایا، مگر کسی موقع پر بھی یہ تصریح نہیں فرمائی کہ اہلِ نجوم کی تقویم پر اعتبار کرتے ہوئے بھی چاند کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، چنانچہ ابوداوٴد کی شرح “المنھل العذب المورود” میں ہے:

          “وحسبک فی ابطال العمل بالحساب والتنجیم قولہ تعالٰی: “قل لا یعلم من فی السمٰوٰت والأرض الغیب اِلَّا الله”، وقولہ صلی الله علیہ وسلم: “من أتی عرافا أو کاھنا فصدقہ بما یقول، فقد کفر بما أنزل علٰی محمد صلی الله علیہ وسلم۔” (احمد والحاکم)

          ومن أحادیث المصابیح: من اقتبس علمًا من النجوم اقتبس شعبة من السحر۔”        (ج:۱۰ ص:۳۷)

          ترجمہ:… “تیرے لئے علمِ اعداد اور علمِ نجوم کے باطل ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہی قول کافی ہے کہ: “آپ فرمادیجئے آسمان اور زمین میں غیب سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔” اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ: “جو آدمی علمِ نجوم جاننے والے یا کاہن کے پاس گیا اور جو کچھ اس نے کہا اور اس نے اس کی تصدیق کی، تو اس نے کفر کیا اس دین کا جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتارا گیا ہے۔”

          اور مصابیح کی احادیث میں ہے کہ: جس نے علومِ نجوم سے کچھ سیکھا، اس نے جادُو کے ایک حصے کو حاصل کیا۔”

          ادھر قرآنِ حکیم نے شرعی اُصولِ اوقات کو چھوڑ کر کسی خودساختہ اصطلاح سے ماہ و سال کی اَدل بدل کو، جو جاہلیتِ اُوْلیٰ کا شعار تھا: “زیادة فی الکفر” اور زینہٴ گمراہی قرار دیا۔                                                            (التوبہ:۲)

          ان تمام اُمور کو سامنے رکھ کر ہر شخص جس کی چشمِ انصاف بند نہ ہوگئی ہو، آسانی سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ ثبوتِ ہلال کے شرعی اُصول اور نبوی ضابطے کو چھوڑ کر صرف جنتری کے بھروسے پر روزہ اِفطار کرنا مزاجِ نبوّت سے کہاں تک میل کھاتا ہے؟ منشائے نبوّت کو کہاں تک پورا کرتا ہے؟ اور فاضل موٴلف کے بقول اسے “رُوٴیت کی ترقی یافتہ تعبیر” کہنا اور اس بدعت کو “حفاظتِ ایمان” کا ذریعہ بتلاکر اس کا پرچار کرنا کہاں تک بجا ہے․․․؟

          علامہ ابنِ عربی شرحِ ترمذی میں اُصولِ رُوٴیت کو چھوڑنے اور حسابی طریقوں سے رُوٴیت کو ثابت کرنے کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          “اوہ یا ابن شریح، أین مسألتک الشریحیة؟ وأین صوارمک السریحیة؟ تسلک ھٰذا المضیق فی غیر الطریق، وتخرج الی الجھل عن العلم والتحقیق، ما لمحمد والنجوم؟ ․․․․ وکأنک لم تقرأ قولہ: “أما نحن أُمّة أُمّیة لا نحسب ولا نکتب، الشھر ھٰکذا وھٰکذا وھٰکذا” وأشار بیدیہ الکریمتین ثلاث اشارات وخنس بأبھامہ فی الثالثة، فاذا کان یتبرأ من الحساب الأقل بالعقد المصطلح علیہ مبینا بالیدین تنبیھا علی التبری عن أکثر منہ فما ظنک بمن یدعی علیہ بعد ذٰلک أن یحیل علٰی حساب النیرین، وینزلھما علٰی درجات فی أفلاک غائبا ویقرنھما باجتماع واستقبال حتی یعلم بذٰلک استھلال۔”              (ج:۳ ص:۲۰۸)

          ترجمہ:… “اے ابنِ شریح! کہاں ہے تیرا مسئلہ شرعیہ؟ تو کشادہ راستہ چھوڑ کر ان تنگ راستوں پر جاتا ہے اور تو علم اور تحقیق سے نکل کر جہالت کی طرف جاتا ہے ․․․․․ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور نجوم کی آپس میں کیا نسبت ہے؟ گویا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں پڑھا کہ: “ہم اُمی اُمت ہیں، ہم حساب و کتاب کو نہیں جانتے، مہینہ اتنے، اتنے، اتنے کا ہوتا ہے” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک سے تین بار اشارہ کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنے انگوٹھے کو بند کرلیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصطلاحی گنتی اور حساب کا مختصر طریقہ چھوڑ کر ہاتھوں کے اشارے سے یہ بات بیان فرمادی تو اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ اس سے زیادہ کو چھوڑ دیا جائے۔ آپ کا کیا گمان ہے اس آدمی کے بارے میں جو اس کے بعد بھی دعویٰ کرتا ہے کہ یہ چیز علمِ نجوم کے حوالے کی جائے اور وہ ان دونوں کو آسمان کے پوشیدہ درجات پر لاتا ہے اور ان دونوں کو جوڑتا ہے اجتماع اور استقبال کے ساتھ تاکہ اس طریقے سے چاند کو جان سکے۔”

          ان احادیث میں صحابہ و تابعین (رضی اللہ عنہم اجمعین) کے طرزِ عمل کی وضاحت بھی موجود ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ “اُصولِ رُوٴیت” پر سختی سے کاربند تھے، اور وہ بار بار خطبوں میں، خطوط میں اور نجی مجلسوں میں: “عھد الینا رسول الله صلی الله علیہ وسلم”، “ھٰکذا أمرنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم” کہہ کر اُمت کو اسی اُصول پر کاربند رہنے کی تلقین فرماتے تھے۔ چنانچہ پورا ذخیرہٴ حدیث و سیر، چھان جائیے، مگر آپ کو کسی صحابی کے بارے میں یہ نہیں ملے گا کہ انہوں نے اُصولِ رُوٴیت کو چھوڑ کر کسی حسابی تخمینے پر اعتماد کرنے کا فتویٰ دیا ہو، یہی وجہ ہے کہ باتفاقِ اُمت، شریعتِ اسلامیہ نے ثبوتِ ہلال کے باب میں اہلِ حساب و فلکیات کی رائے کا اعتبار نہیں کیا، بلکہ ان کی تحقیق کو سرے سے کالعدم اور لغو قرار دیا ہے۔ مثلاً: ماہرینِ فلکیات کی رائے ہو کہ فلاں تاریخ کو چاند ہوگا، لیکن رُوٴیتِ شرعیہ نہ ہوسکے تو باجماعِ اُمت اس رُوٴیت پر اَحکامِ ہلال جاری نہیں ہوں گے اور ماہرینِ فلکیات کی رائے لغو ہوگی۔

          چنانچہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی ”فتح الباری” ج:۴ ص:۹۸، “عمدة القاری” للعینی ج:۵ ص:۱۸۲، ج:۵ ص:۱۹۹، “زرقانی علی الموٴطا” ج:۲ ص:۱۵۴، ردالمحتار لابن عابدین الشامی ج:۲ ص:۱۰۰، أحکام القراٰن للجصاص وغیرہ وغیرہ حضرات اکابر کا موقف بھی یہی ہے، یہاں سب کا نام دینا بھی ممکن نہیں، چہ جائیکہ ان کی تصریحات نقل کی جائیں، البتہ امام جصاص رازی کی تصریح تو سن ہی لیجئے! فرماتے ہیں:

          “فالقائل باعتبار منازل القمر وحساب المنجمین خارج عن حکم الشریعة ولیس ھٰذا القول مما یسوغ الاجتہاد فیہ، لدلالتہ الکتاب ونص السنة واجماع الفقھاء بخلافہ۔”                    (ج:۱ ص:۲۰۲)

          ترجمہ:… “منازلِ قمر اور فلکیات کے حساب پر اعتماد کرنا حکمِ شریعت سے خارج ہے، اور یہ ایسی چیز نہیں جس میں اجتہاد کی گنجائش ہو، کیونکہ کتاب اللہ، سنتِ نبویہ اور اجماعِ فقہاء کے دلائل اس کے خلاف ہیں۔”

          رہا یہ سوال کہ شریعت نے اَحکامِ ہلال کا مدار رُوٴیت پر کیوں رکھا؟ فلکیاتی تحقیقات پر کیوں نہیں رکھا؟ ہمارے نزدیک یہ سوال ہی بے محل ہے، بحیثیت مسلمان ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اچھی طرح یہ تحقیق کریں کہ فلاں باب میں شارع نے کیا حکم دیا ہے؟ یہ معلوم ہوجانے کے بعد ہمیں شارع سے یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ: “یہ حکم آپ نے کیوں دیا ہے؟” کیونکہ ہمارے مسلمان ہونے کا پہلا نتیجہ اس بات کا قطعی یقین ہے کہ شارع کی طرف سے جو حکم بھی دیا جاتا ہے، اس سے خود شارع کی کوئی غرض وابستہ نہیں، بلکہ وہ سراسر بندوں ہی کی مصلحت کے پیشِ نظر دیا گیا ہے، کبھی اس مصلحت کا اظہار مناسب ہوتا ہے، کبھی نہیں ہوتا، لیکن وہ مصلحت بہرحال اس حکم پر مرتب ہوگی، خواہ بندوں کو اس کا علم ہو یا نہ ہو، اس لئے وہ خود کسی مصلحت کا اظہار فرمادیں تو ان کی غایت عنایت ہے، ورنہ بندے کو یہ حق کب حاصل ہے؟ کہ وہ اس بات پر اصرار کرے کہ پہلے اس حکم کی مصلحت بتلائیے تب مانوں گا، (اور آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی مصلحت بتلانے کی ہو تب بھی اس ذہنیت کے شخص کو تو کبھی نہیں بتلائی جاسکتی)۔

          بہرحال ہمیں یہ تحقیق کرنے کا حق ہے کہ شریعت نے ہلال کا مدار فلکیات پر رکھا ہے یا نہیں؟ اور اسے کسی درجے میں قابلِ اعتبار قرار دیا ہے یا بالکلیہ ناقابلِ اعتماد؟ لیکن یہ سوال ہم نہیں کرسکتے کہ شریعت نے ہلال کا مدار رُوٴیت پر کیوں رکھا اور فلکیات وغیرہ پر کیوں نہیں رکھا؟ ہوسکتا ہے کہ اس میں شارع کے پیشِ نظر بندوں کی بہت سی مصلحتیں ہوں، اور وہ صرف رُوٴیت پر مرتب ہوسکتی ہوں اور فلکیات پر نہیں۔ مثلاً: دُوسری قوموں کے ماہ و سال کا مدار تقویمی حسابوں پر تھا، شارع نے اس اُمت کی انفرادیت کو محفوظ رکھنے کے لئے جس طرح اور بہت سی چیزوں میں ان کی مشابہت سے اُمت کو بچانا چاہا، اسی طرح ان کی تقویمی مشابہت سے بھی اُمت کو محفوظ رکھنا چاہا، اس لئے ان کو ایک مستقل نظامِ تقویم دیا۔

          علامہ اُبیّ رحمہ اللہ کی شرح مسلم میں ہے:

          “سدا لباب الاعتداد بحساب المنجمین الذی تعتمدہ العجم فی صومھا وفطرھا وفصولھا۔”

           (اکمال اکمال المعلم شرح مسلم للأُبیّ ص:۲۲۷)

          ترجمہ:… “عجم کے لوگ اپنے روزہ اور اِفطار اور سالوں کی گنتی میں منجم لوگوں کے حساب پر جو اعتماد کرتے تھے اور عادت بنائے ہوئے تھے اس عادت کو ختم کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا۔”

          یا ہوسکتا ہے، کہ چونکہ دُوسرے حسابی طریقوں سے ماہ و سال کی تعیین فطری اور تحقیقی نہیں تھی بلکہ اختراعی اور تقریبی تھی، چنانچہ انہیں اس کمی بیشی کو برابر کرنے کے لئے “لیپ” کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی، اس کے برعکس اسلام دینِ فطرت تھا، اس نے چاہا کہ اُمتِ اسلامیہ کے ماہ و سال کی تعیین کے لئے “رُوٴیت” اور مشاہدہ کا فطری طریقہ مقرّر کیا جائے، کیونکہ یہ اختراعی اور تقریبی طریقے اس کی فطرت سے میل نہیں کھاتے تھے۔ یا ممکن ہے کہ اس اَمر کی رعایت رکھی گئی ہو کہ چونکہ اسلام کے پورے نظام کی بنیاد تکلف اور تعمق پر نہیں بلکہ سادگی اور سہولت پر رکھی گئی ہے اس لئے “اسلام کے نظامِ تقویم” کو بھی مشاہدہ اور رُوٴیت جیسے آسان اور سادہ اُصول پر مبنی کیا گیا تاکہ اس نظام کے “جز و کل” میں مناسبت رہے، اور اس باب میں اُمت تکلف اور مشقت میں مبتلا نہ ہوجائے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ اس حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

          “أقول: لما کان أوقات الصوم مضبوطًا بالشھر القمری باعتبار روٴیة الھلال وھو تارةً ثلاثون یومًا وتارةً تسعة وعشرون وجب فی صورة الاشتباہ أن یرجع الٰی ھٰذا الأصل، وأیضًا مبنی الشرائع علی الأمور الظاھرة، عند الأمّیّین دون التعمق والحسابات النجومیة بل الشریعة واردة باخمال ذکرھا وھو قولہ صلی الله علیہ وسلم: انا أُمّة أُمّیّة لا نکتب ولا نحسب۔”

 (حجة الله البالغة للشیخ المحدث الدھلوی ج:۲ ص:۵۱)

          ترجمہ:… “میں کہتا ہوں کہ: جب روزوں کے اوقات کا انضباط قمری مہینوں پر رُوٴیتِ ہلال کے اعتبار سے ہے، اور یہ مہینہ کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی اُنتیس دن کا، تو اشتباہ کی صورت میں اسی اُصول کی طرف لوٹنا واجب ہے، اور نیز اُمیّین کے نزدیک شریعت کی بنیاد اُمورِ ظاہرہ پر ہوتی ہے نہ کہ گہرائی اور علمِ نجوم کے حساب پر، بلکہ شریعت تو اس کے ذکر سے بھی اعراض کرنے کا حکم دیتی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ہم اُمی اُمت ہیں، ہم حساب و کتاب کو نہیں جانتے۔”

          یا ممکن ہے کہ اس چیز کا لحاظ رکھا گیا، کہ نظامِ تقویم بہرحال اوقات کی تعیین کا ایک ذریعہ ہے اور جو قوم ذرائع میں منہمک ہوکر رہ جائے اکثر و بیشتر مقاصد اس کی نظر سے اوجھل ہوجاتے ہیں، اور فطری طور پر ان کی صلاحیتیں ذرائع ہی میں کھپ کر ضائع ہوجاتی ہیں، اس لئے چاہا گیا کہ اُمتِ مسلمہ کو نظامِ تقویم ایسا دیا جائے جس میں منہمک ہوکر مقصدی صلاحیتیں کھو بیٹھنے کا ذرا بھی اندیشہ نہ ہو، بس آنکھ کھولی، چاند دیکھ لیا، تقویم دُرست ہوگئی، اور سب اپنے اپنے کام میں لگ گئے، نہ ضرب کی ضرورت، نہ تقسیم کی، نہ محکمہٴ موسمیات قائم کرنے کی ضرورت، نہ اس پر ریسرچ کی۔

          یا ممکن ہے یہ اَمر پیشِ نظر ہو کہ اس اُمت میں امیر بھی ہوں گے، غریب بھی، عالم بھی، جاہل بھی، مرد بھی اور عورتیں بھی، اور بیشتر عبادات و معاملات کا مدار نظامِ تقویم پر ہے، اس لئے چاہا گیا کہ جس طرح نظامِ تقویم سے متعلقہ اَحکام کے مکلف اُمت کے سبھی طبقات ہیں، اسی طرح ان کو نظامِ تقویم ایسا دیا جائے جس پر ہر شخص اپنے مشاہدے کی روشنی میں پورے شرحِ صدر کے ساتھ یقین کرسکے۔

          یا ممکن ہے کہ شارع کو جو یقین ہلال کے باب میں مطلوب ہے وہ رُوٴیت اور مشاہدے پر ہی مرتب ہوسکتا ہو، اس کی نظر میں حسابی جنتری اس یقین کے پیدا کرنے میں ناکافی ہو۔ یا ہوسکتا ہے کہ شارع نے اس اَمر کو پسند نہ فرمایا ہو کہ روزہ و اِفطار تو سب کریں، مگر ان کے اوقات کی تعیین ایک خاص گروہ کے رحم و کرم پر ہو، اس لئے نظامِ تقویم ایسا مقرّر فرمایا کہ ایک عامی بھی اپنے وقت کی تعیین ٹھیک اسی طرح کرسکتا ہے جس طرح ایک ماہرِ فلکیات۔ اور ایک بدوی بھی اسی طرح اپنے اوقات کا حساب لگاسکتا ہے، جس طرح ایک شہری۔ بلکہ بعید نہیں کہ ماہرِ فلکیات یا عالم کی نظر کمزور ہو، اور ایک عامی بدوی کی نظر تیز، اس صورت میں خود ماہرِ فلکیات یا عالم کو مسکین اَن پڑھ کی طرف رُجوع کرنا پڑے۔

          الغرض! شارع کے پیشِ نظر بیسیوں حکمتیں ہوسکتی ہیں، اس لئے ہمارا کام یہ نہیں کہ چوں و چرا کا سوال اُٹھائیں اور شارع سے بحث و تکرار میں مشغول ہوکر فرصت اور وقت کے ساتھ دین و ایمان بھی ضائع کریں، ہمارا کام تو یہ ہے کہ شارع کی حکمت و شفقت پر ایک دفعہ ایمان لے آئیں، پھر اس کی جانب سے جو حکم دیا جائے اسے اپنے حق میں سراسر خیر و برکت کا موجب اور عین حکمت و مصلحت کا مظہر سمجھ کر اس پر فوراً عمل پیرا ہوجائیں:

زباں تازہ کردن باقرارِ تو

نیگیختن علت از کارِ تو

 

          آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ راقم الحروف کا وہ تبصرہ جو موصوف جعفر شاہ پھلواری کی اس کتاب پر “ماہنامہ” بینات شعبان ۱۳۸۸ھ کے “نقد و نظر” میں شائع ہوا تھا درج کردیا جائے۔

          “رُوٴیتِ ہلال”:… مولانا محمد جعفر شاہ پھلواری ہمارے ملک کے مشہور صاحبِ قلم اور ادارہٴ ثقافتِ اسلامیہ کے رفیق ہیں، زیرِ نظر کتابچے میں انہوں نے “رُوٴیتِ ہلال اور فلکیات” کے موضوع پر گفتگو کی ہے۔ کتابچے کے مندرجات پر نظر کرنے سے پہلے اس کی “شانِ نزول” کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ موصوف کا تعلق یہاں کے “حشویہ فرقہ” سے ہے، جس کا نعرہ موصوف کے الفاظ میں یہ ہے:

          “حضرات! ہمارے خیال میں ہم پاکستانیوں کی اس وقت کوئی معین شریعت نہیں ہے، پچھلے ادوار کی شریعتوں پر چل رہے ہیں ․․․․․ جب ہم ان “خام مواد” سے استفادہ کرتے ہوئے ایک بات متعین کرلیں گے اور حکومت اسے نافذ کردے گی تو ہمارے لئے وہی شریعت ہوگی اور پھر وہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوگی، ضرورت کے وقت مجالسِ قانون ساز یا کوئی اور مقرّر کردہ کمیٹی اس میں بھی ترمیم کرسکتی ہے۔” (۱)

          ان حضرات کے نزدیک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام میں “دین” اور “شریعت” دو الگ الگ چیزوں کے جدا جدا نام ہیں، چنانچہ:

          “دین تو وہ رُوح اور اِسپرٹ ہے جو تبدیل نہیں ہوسکتی اور شریعت اسی رُوح کی تشکیل کا نام ہے، مقصد اِسپرٹ کو باقی رکھنا ہے اور شکل بدلنے سے اِسپرٹ نہیں بدل جاتی۔”

                              (حوالہ مذکورہ ص:۸۴۳)

          قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی نے عبادات و معاملات میں حلال و حرام، جائز و ناجائز، فرض و واجب، سنت و مستحب اور صحیح و فاسد کے جو اَحکام نافذ فرمائے ہیں، عام مسلمانوں کے نزدیک وہ واجب التسلیم ہیں، مگر “حشویہ” کا خیال ہے کہ یہ صرف اسی دور کی شریعت تھی جس میں دین کی رُوح اور اِسپرٹ کو اس دور کے تقاضوں کے مطابق ملحوظ رکھا گیا تھا، اور ہمیں اسی رُوح اور اِسپرٹ کو باقی رکھتے ہوئے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اسے بدل کر اس کی جگہ “نئی شریعت” وضع کرنی ہے اور وقتی تقاضوں کے مطابق شریعتِ محمدیہ میں قطع و برید، کانٹ چھانٹ، ترمیم و تنسیخ اور ردّ و بدل کا نام “اجتہاد” ہے، موصوف کے لفظوں میں:

          “ناقابلِ ترمیم صرف دین (بمعنی رُوح، اِسپرٹ) ہے، اور شریعت ہر دور میں ترمیم قبول کرسکتی ہے، اور یہیں “اجتہاد” کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترمیم کا یہ مطلب نہیں کہ شروع سے آخر تک سب کچھ بدل دیا جائے بلکہ (الف) ان شریعتوں میں جو چیز اپنے عصری تقاضوں کے مطابق ہوگی وہ باقی رکھی جائے گی۔ (ب) جس کی ضرورت نہیں اسے ترک کردیا جائے گا۔ (ج) جس جدید شے کی ضرورت ہوگی اس کا اضافہ کردیا جائے گا، اور اس وقت صرف عالمی مصالحِ اُمت کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔”                  (حوالہ مذکورہ ص:۸۴۴)

          مطلب یہ کہ شریعتِ خداوندی کے اَحکام “پختہ عقل” مسلمانوں کے لئے “خام مواد” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (شریعت کے لئے “خام مواد” کی اصطلاح موصوف نے اس مقالے میں کئی جگہ استعمال کی ہے – ناقل) ان کا برتاوٴ شریعت کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ایک اجنبی تہذیب کے رسوم و قانون کے ساتھ ہوتا ہے، وہ جتنی شریعت کو مفید مطلب پائیں گے باقی رکھیں گے، اور جتنی کو چاہیں ترک کردیں گے، اور جتنا چاہیں اس میں اضافہ کرلیں گے، عبادات میں بھی اور معاملات میں بھی۔

          اب صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ “عالمی مصالحِ اُمت” کی تعیین کا حق کس کو حاصل ہے؟ اس کا جواب “حشویہ” کے پاس یہ ہے کہ دین میں اجتہاد پر کسی گروہ کی اجارہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا حق ہے، جو وہ اپنے منتخب نمائندوں (مرکزی حکومت اور پارلیمنٹ کے ارکان) کو تفویض کرتی ہے، ان ہی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق “وقتی تقاضوں” اور “مصالحِ اُمت” کی تشخیص کریں، اگر وہ بھولے سے دن کو “شب است ایں” کہہ بیٹھیں تو تمام قوم کا فرض ہے کہ وہ “اینک ماہ و پروین” کا اقرار کرے۔

          اس تشریح سے معلوم ہوا ہوگا کہ مولانا جعفر شاہ صاحب جس “اجتہادی حشویت” یا نئی شریعت کے داعی ہیں، وہ مسٹر پرویز کے نظریہٴ “مرکزِ ملت” اور مغربی نقالوں کے نظریہٴ “تعمیرِ اسلام” کا معجونِ مرکب ہے، جس کا مقصدِ وحید پورے اسلام پر نظرِ ثانی کرنا ہے، مگر سرِدست جو شرعی مسائل اجتہادی ترمیم کے لئے زیرِ غور ہیں، ان کی مختصر فہرست موصوف نے یہ پیش کی ہے:

          “مثلاً: انشورنس کا جوا، بینکوں کا سود، خاندانی منصوبہ بندی، انتقالِ خون کا مسئلہ، اعضائے انسانی کے دُوسرے جسم میں منتقل کرنے کا مسئلہ، ذرائعِ پیداوار کو قومیانے کا جواز، جنتری کے مطابق چاند کا اعلان، عورتوں کے پردے کی نئی حدبندی، تعدّدِ ازواج، شادی، طلاق، دعوت، ذبیحہ اور سفرِ حج جیسی “جائز” چیزوں پر پابندی کا جواز، جہیز کی اصلیت، حضانت کی مدّت، مفقود الخبر کی میعاد، یتیم پوتے کی وراثت، فوٹو، راگ گانے اور تصویرکشی کے جواز کا مسئلہ وغیرہ وغیرہ۔” (حوالہ بالا ص:۸۴۶)

          مولانا موصوف اپنے رفقاء سمیت اس خدمت پر مأمور ہیں کہ قومی راہ نماوٴں کو شریعتِ محمدیہ کے جن اُصول و فروع کو منسوخ کرکے ان کی جگہ “وقتی تقاضوں” کے مطابق نئی شریعت وضع کرنے کا الہام ہوجائے اس کے لئے رائے عامہ کو ہموار کریں اور علمی سطح پر لوگوں کو اس کا قائل کریں۔ اس سلسلے میں موصوف جن اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں، جس قسم کے دلائل فراہم کرتے ہیں، اور جس تکنیک کو استعمال کرتے ہیں، زیرِ نظر کتابچہ اس کی اچھی مثال ہے۔

          اسلامی اُصول یہ ہے کہ قمری ماہ و سال کا مدار رُوٴیتِ ہلال پر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اب تک اُمت اسی اُصول پر کاربند رہی ہے، اور روزہ، عید، اِعتکاف، زکوٰة، حج، قربانی، عدّت وغیرہ وغیرہ بہت سے اَحکام اسی اُصول سے طے کئے جاتے ہیں، اس کے برعکس مولانا موصوف کا موقف یہ ہے کہ ان چیزوں کے لئے چاند دیکھنے کے بکھیڑے اس ترقی یافتہ دور سے میل نہیں کھاتے۔ “اس کے لئے نہ رُوٴیتِ ہلال کی ضرورت، نہ علماء کمیٹی کی، نہ گواہیاں گزارنے کی، نہ ٹیلی فون پر تصدیق کرتے پھرنے کی۔” (ص:۴۱) پس یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ جنتری دیکھ کر بہت پہلے ہی سے عید وغیرہ کا اعلان کردیا کرے اور ہم آنکھیں بند کرکے اس پر آمنا و صدقنا کہا کریں۔ موصوف کے خیال میں “اس میں کسی قسم کا کوئی شرعی نقصان نہیں، بلکہ شرعی نقصان تو اختلاف کرنے میں ہے۔”                       (ص:۴۸)

          اب دیکھئے کہ اس شرعی اُصول میں ترمیم کے لئے جس سے بیسیوں اَحکامِ شرعیہ مسخ ہوجاتے ہیں، موصوف نے کیا اجتہادی اُصول وضع کئے ہیں:

          “یہ واضح رہے کہ ہم کسی رائے کو، خواہ وہ اپنی ہو یا قدمائے اہلِ علم کی، حرفِ آخر نہیں سمجھتے۔”                   (ص:۵)

          اپنا ذکر تو موصوف نے بطورِ تبرک کیا ہے، کہنا یہ ہے کہ شریعت کا کوئی مسئلہ خواہ کتنا ہی صریح اور قطعی کیوں نہ ہو، اور تمام اہلِ علم اس پر متفق ہی کیوں نہ ہوں، اس میں بھی کوئی نہ کوئی نئی اُپچ نکالی جاسکتی ہے، چنانچہ زیرِ نظر مسئلے میں علمائے اُمت متفق ہیں کہ رُوٴیتِ ہلال کے معنی ہیں سر کی آنکھوں سے چاند دیکھنا، مگر مولانا موصوف کے اجتہاد میں:

          “یہاں رُوٴیت کے معنی وہ علم ہے جو تاریخی یا فنی شواہد سے حاصل ہوتا ہے یا خواب کی طرح قلب و خیال سے ․․․․․ پس رُوٴیتِ ہلال کو صرف چشمِ سر کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں معلوم ہوتی۔”                             (ص:۱۰)

          اسی طرح تمام علمائے قانون کے نزدیک شہادت کے معنی ہیں:

          “کسی شخص کا حاضرِ عدالت ہوکر گواہی دینا۔”

          لیکن مولانا موصوف کے نزدیک یہ صحیح نہیں، بلکہ وہ “بصیرت بھی کافی ہے جو گمانِ غالب پیدا کردے۔”                                               (ص:۳۴)

          اور مسلمانوں کی شریعت اس کا اعتبار کرے نہ کرے، اور اسے مانے یا نہ مانے، مگر موصوف کے خیال میں:

          “محض گواہوں کی شرعی گواہی سے جو غلبہٴ ظن پیدا ہوسکتا ہے اس سے کہیں زیادہ موجودہ دور کے فلکیاتی علم سے حاصل ہوجاتا ہے۔”                               (ص:۳۴)

          الغرض! جب یہ اُصول ایک دفعہ طے ہوجائے کہ: “پہلوں نے قرآن و سنت اور دین و شریعت کا جو مفہوم سمجھا وہ یا تو سرے سے غلط ہے، یا ان کے دور کے لحاظ سے صحیح ہو تو ہو، کم از کم ہمارے لئے صحیح نہیں”، اس کے بعد شریعتِ الٰہیہ کے ردّ و بدل کے لئے اچھی خاصی گنجائش نکل آتی ہے، اور اس سے اسلامی قطعیات کو بڑی آسانی سے “حشوی اجتہاد” کی زد میں لایا جاسکتا ہے۔ دین کے کسی بھی مسئلے کو لے کر اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے: “قدیم مسلمانوں کے دور میں یا ان کے خیال میں ایسا ہوگا، لیکن اب ایسا نہیں ہے”۔ موصوف نے فلکیات پر اعتماد کو اسی منطق سے ثابت کرنا چاہا ہے۔                                                   (ص:۲۳)

          ۲:… اس “حشوی اجتہاد” کا دُوسرا اُصول یہ ہے کہ اُمت کے کروڑوں علماء و فقہاء کے خلاف اگر کسی کا قول کہیں مل جائے، اس کی نقل خواہ کتنی ہی شاذ و مردُود، غلط اور ناقابلِ اعتبار ہو، لیکن اسے وحیٴ آسمانی کی طرح صحیح سمجھ کر اعلان کردو کہ یہ مسئلہ پہلے ہی سے مختلف فیہ چلا آیا ہے، اور ہم فلاں قول کو اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ زیرِ نظر مسئلے میں مولانا موصوف نے مطرف بن عبداللہ، علامہ سبکی، قاضی عبدالجبار، ابنِ مقاتل اور مصنف جمع العلوم کے نام دئیے ہیں، کہ وہ اس فن پر مکمل یا “غیرمکمل” اعتماد کرتے تھے (ص:۱۱ تا ۱۳)۔حالانکہ اوّل الذکر کی طرف اس کی نسبت غلط ہے (فتح الباری ج:۴ ص:۹۴)، علامہ سبکی کا قول مردُود ہے (شامی ج:۲ ص:۱۰۰)، اور باقی بزرگوں کے بارے میں اوّل تو موصوف کو یہی معلوم نہیں کہ وہ کون تھے؟ (حد یہ ہے کہ مصنف جمع العلوم کے نام تک کا اَتاپتا نہیں) علاوہ ازیں ان کا یہ قول بحوالہ شامی، زاہدی کی “قنیہ” سے نقل کیا گیا ہے، جس کے بارے میں خود علامہ شامی کی تصریح یہ ہے کہ وہ ناقابلِ اعتبار ہے (شامی ج:۱ ص:۵۲)۔ لیجئے! چند مجاہیل کے غلط، مردُود، ناقابلِ اعتبار اور گرے پڑے اقوال “اجتہادی قلعہ” تعمیر ہوگیا، اور چودہ صدیوں کو غلط فہمی کا شکار کہنے کا جواز پیدا ہوگیا۔

          ۳:… “حشویت” کا تیسرا اُصول یہ ہے کہ موقع پڑے تو جعل و تلبیس اور بعض دفعہ صریح غلط بیانی سے بھی گریز نہ کرو۔ چنانچہ سب کو معلوم ہے امام شافعی اس مسئلے میں پوری اُمت کے ساتھ متفق ہیں، لیکن مولانا موصوف نے امام شافعی سے بھی منوالیا کہ رُوٴیتِ ہلال کے بجائے صرف جنتری دیکھ کر چاند کا پیشگی اعلان کیا جاسکتا ہے۔                                                           (ص:۲۵)

          اور موصوف کی اس تلبیس کا منشا یہ ہے کہ “یوم شک” میں روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں؟ اس کے بارے میں امام شافعی کے نہیں بلکہ بعد کے مشائخِ شافعیہ کے متعدّد اقوال ہیں جو امام نووی کی “شرح مہذب” اور حافظ ابنِ حجر کی “فتح الباری” میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان ہی میں ایک قول بعض محتاط شافعیہ کا یہ ہے کہ اگر حسابی تخمینہ اس کی تائید کرتا ہو تو جس شخص کو اس کی صحت پر اعتماد ہو اس کے لئے روزہ رکھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی کو موصوف نے، غلط فہمی یا جعل سازی کی وجہ سے، یوں مسخ کرلیا کہ امام شافعی اور تمام شافعیہ فنِ فلکیات پر اعتماد کے قائل ہیں۔                (ص:۱۲)

          ۴:… “حشویت” کا چوتھا اُصول یہ ہے کہ مختلف قسم کے مغالطوں اور خوش گپیوں کو “قیاس” کا نام دیا جائے، مولانا موصوف کو اس اُصول سے بھرپور استفادہ کی خاصی مشق ہے، مثلاً:

          ۱:… “اگر ٹیلی فون کی اطلاع پر آج شام کی دعوت قبول کی جاسکتی ہے، تو رُوٴیت کی شہادت کیوں قبول نہیں؟”

                                                 (ص:۲۸)

          ۲:… “اگر کرنسی نوٹ نقدی کے قائم مقام ہیں تو فلکیات کا فن، رُوٴیت کے قائم مقام کیوں نہیں؟”    (ص:۵)

          ۳:… “اگر ٹینک چلانا شہسواری کی تعبیر ہے، تو رُوٴیت کی تعبیر جنتری سے کیوں نہیں ہوسکتی؟”         (ص:۵)

          ۴:… “اگر میراث کی تقسیم میں حساب کتاب پر اعتماد کیا جاسکتا ہے تو چاند میں کیوں نہیں کیا جاسکتا؟”

          ۵:… “اگر مشکیزے کے بجائے پمپنگ سے وضو کے لئے پانی لیا جاسکتا ہے، تو ہوائی جہاز سے چاند کیوں نہیں دیکھا جاسکتا؟‘

          ۶:… “اگر گوشت کے معاملے میں قصائی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے تو چاند کے معاملے میں حکومت پر کیوں نہیں کیا جاتا؟”                                               (ص:۴۲)

          ان زٹلیات کو نقل کرتے ہوئے بھی قلم کو گھن آتی ہے، مگر ان حضرات کا جگر گردہ ہے کہ وہ شرعی مسائل کو ان بچکانہ پہیلیوں سے حل کرنا چاہتے ہیں، جس کے لئے نہ علم کی ضرورت، نہ عقل کی، نہ فہم کی، نہ دانش کی۔

          ادارہٴ ثقافتِ اسلامیہ سے اسلامی موضوعات پر اسی “معیار” کی کتابیں نکلتی رہیں، تو یقین کرنا چاہئے کہ وہ اپنی نیک نامی میں “ادارہٴ طلوعِ اسلام” اور “ادارہٴ تحقیقاتِ اسلامی” سے بھی آگے نکل جائے گا۔

وصلی الله تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ وأصحابہ أجمعین

Facebook Comments

Comments are closed.