متفرق مسائل ۳

جلد نهم
128
0

پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت

س… آج کل جو لوگ گولی مارکر قتل کردئیے جاتے ہیں ان کی میّت کا اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ جسم پر کتنی گولیاں ماری گئیں؟ کہاں کہاں ماری گئیں؟ پوسٹ مارٹم کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ میّت کو مادرزاد برہنہ کرکے میز پر ڈال دیتے ہیں، پھر ڈاکٹر آکر اس کا معائنہ کرتا ہے، عورت، مرد دونوں کا پوسٹ مارٹم اسی طرح ہوتا ہے۔ کیا شریعت میں یہ پوسٹ مارٹم جائز ہے؟ جبکہ میّت کے وارث منع کرتے ہیں کہ ہم پوسٹ مارٹم نہیں کرائیں گے، ایک تو ظلم کہ فائرنگ کرکے قتل کیا اور پھر ظلم قتل کے بعد پوسٹ مارٹم کے ذریعے کیا جاتا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

ج… پوسٹ مارٹم کا جو طریقہ آپ نے ذکر کیا ہے یہ صریح طور پر ظلم ہے اور اس کو فحاشی میں شمار کیا جاسکتا ہے، اور جب ایک آدمی مرگیا اور اس کے قاتل کا بھی پتا نہیں تو اس کی لاش کی بے حرمتی کرنے کا کیا فائدہ؟ لاش وارثوں کے حوالے کردی جائے، اور اگر لاش لاوارث ہو تو اس کی تدفین کردی جائے۔ بہرحال برہنہ پوسٹ مارٹم حد سے زیادہ تکلیف دہ ہے، خصوصاً جبکہ مردوں اور عورتوں کا ایک طرح پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، یہ چند درچند قباحتوں کا مجموعہ ہے، گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس کو از رُوئے قانون بند کردے۔

جھوٹے حلف نامے کا کفارہ

س… ایک مدّت سے ذہنی کشمکش میں گرفتار ہوں، آپ سے رہنمائی کا طالب ہوں، قرآن و حدیث کی روشنی میں مجھے میرے مسئلے کا حل بتائیں۔

          میرا شمار ایک ماہر ڈاکٹر میں ہوتا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک میں دین سے نابلد تھا، تین سال قبل میں ایف آر سی ایس کرنے لندن گیا، وہاں انڈیا سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت سے سامنا ہوگیا، اس کے بعد سے میری دُنیا بدل گئی۔ حرام، حلال کا ادراک ہوا، آپ کا کالم بڑی باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ پچھلے دنوں حرام کی کمائی کے متعلق آپ کا جواب پڑھا کہ کس طرح گھرانے کا سربراہ اپنے پورے گھر کو حرام کی کمائی کھلا رہا ہے، اور آپ نے جس طرح دُور اندیشی سے اس کی بیوی کو حل بتایا کہ کسی غیرمسلم سے قرض لے کر گھر چلاوٴ۔ میں اسی دن سے سخت مضطرب ہوں، میری کہانی یہ ہے کہ بظاہر اچھے نمبر ہونے کے باوجود جب کراچی میں میڈیکل میں داخلہ نہیں ملا تو میں نے جعلی ڈومیسائل بناکر پنجاب میں ڈاکٹری میں داخلہ لے لیا اور وہاں ہی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اب ذہن میں یہ کشمکش ہے کہ چونکہ میں نے ڈومیسائل بنواتے وقت حلف نامہ داخل کیا کہ میں لاہور میں پیدا ہوا ہوں جو کہ جھوٹا حلف نامہ تھا۔ اس کے بعد مستقل رہائش یعنی پی آر سی بھی میں نے داخل کیا، اس کے لئے بھی جھوٹا حلف نامہ داخل کیا، تیسری غلطی یہ کی کہ جب ڈاکٹری کا فارم بھرا تو اس میں بھی جھوٹے حلف نامے داخل کئے، جھوٹے لاہور کے ایڈریس لکھے۔ اب آپ مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں آگاہ فرمائیں کہ ڈگری حاصل کرنے کے لئے میں نے حلال اور حرام میں تمیز نہیں کی، جھوٹے حلف نامے داخل کئے، جھوٹ پر مبنی سرٹیفکیٹ (ڈومیسائل اور پی آر سی) جمع کرائے، اگر میں یہ سب کچھ نہ جمع کراتا تو آج ڈاکٹر نہ ہوتا، نہ ہی داخلہ ملتا، اب یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو مجھے ڈگری عطا ہوئی ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس ڈگری کی وجہ سے جو آمدنی ہو رہی ہے اس کی حیثیت کیا ہے؟ آیا حرام کمائی میں شمار ہوگا یا حلال کمائی کہلائے گی؟ آپ مجھے آگاہ کریں کہ آیا میری کمائی جو ڈاکٹری کے پیشے سے ہوئی ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟ اگر حلال نہیں تو میں کچھ اور کام کرکے اپنے اہل و عیال کو حلال کمائی کھلاسکوں۔

ج… آپ نے جھوٹے حلف نامے داخل کئے ان کا آپ پر وبال ہوا، جن سے توبہ لازم ہے، جھوٹی قسم کھانا شدید ترین گناہ ہے، اس کے لئے آپ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر توبہ کریں۔ جہاں تک آپ کی ڈاکٹری کا تعلق ہے، اگر آپ نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کیا ہے اور اس میں کوئی گھپلا نہیں کیا اور آپ میں صحیح طور ڈاکٹر کی استعداد موجود ہے تو آپ کا یہ ڈاکٹری کا پیشہ جائز ہے۔

مسجد سے قرآن گھر لے جانے کا حکم

س… ہماری مسجد میں ۷۰۰ قرآن ہیں، پڑھنے والے یومیہ صرف ۱۳ آدمی ہوتے ہیں، رمضان میں لوگ نئے قرآن لاکر رکھ دیتے ہیں، الماری میں جگہ نہیں ہوتی، لہٰذا پچھلے سال کے قرآن بوری میں ڈال دیتے ہیں تاکہ سمندر میں ڈال دیا جائے۔ ہر مسجد میں کم و بیش یہی حال ہے۔ قرآن ضرورت سے زائد ہیں جن کو بوری میں ڈالنے کے بجائے اگر لوگوں کے گھروں میں تقسیم کردئیے جائیں تو لوگ منع کرتے ہیں کہ مسجد کا مال آپ گھروں میں کیوں تقسیم کرتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسجد سے قرآن اُٹھاکر لوگوں میں تقسیم کرسکتے ہیں تاکہ بوری میں ڈالنے اور ضائع ہوجانے سے بچ جائیں جبکہ یہ قرآن مکمل محفوظ ہوتے ہیں۔

ج… جو قرآن مجید مسجد کی ضرورت سے زائد ہیں، باہر چھوٹے دیہات میں بھجوا دئیے جائیں جہاں قرآن مجید کی کمی ہوتی ہے۔

گٹر کے ڈھکن کے نیچے اخبار لگانا

س… کارپوریشن گٹر کے ڈھکن سیمنٹ کے بنواکر لگاتی ہے، جبکہ سیمنٹ کے ڈھکن کے نیچے کی طرف اخبار چپکا ہوتا ہے، اور اس کو اُکھاڑنا بھی ناممکن ہوتا ہے، ان اخباروں میں اکثر اللہ کا نام اور آیات بھی ہوتی ہیں۔ کیا یہ آیات کی بے ادبی نہیں؟ ان گٹر کے ڈھکنوں کے اُوپر جوتے رکھ کر چلنا جائز ہے؟

ج… ایسے اخبار جن پر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہو گٹر کے ڈھکن کے لئے ان کا استعمال جائز نہیں۔

تاریخی روایات کی شرعی حیثیت

س… اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کی روشنی میں کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے نگاہیں آپ ہی کی طرف اٹھتی ہیں، کیونکہ آپ کے عقائد قرآن اور حدیث سے سرمو متجاوز نہیں ہیں۔ آپ کی خدمت میں موٴرخہ ۲۰/مئی ۱۹۹۴ء کا روزنامہ جنگ کا تراشا بھیج رہا ہوں، امید ہے آپ اپنے بے پناہ مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کر اس کو پڑھیں گے اور اس خاکسار کی اُلجھن کو رفع کریں گے۔ گو کہ اس تراشے میں کوئی ایسی بات نہیں جو میرے ایمان اور عقائد پر کوئی اثر ڈال رہی ہو، مگر جب بھی نگاہ اس طرح کے مضامین پر پڑتی ہے جس میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ مضمون نگار کے پاس یہ معلومات کہاں سے آئی ہیں؟ تو شدید اُلجھن پیدا ہوجاتی ہے۔

          محترم مولانا! ہم کم علم لوگ یہ خاص طور پر میں اپنے آپ کے لئے کہہ رہا ہوں، ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور معلومات جس میں اس کائنات سے لے کر، ایمان و عقائد کے جملہ مسائل موجود ہیں، کا منبع قرآن اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں۔ اگر کوئی مضمون نگار کوئی ایسی بات لکھتا ہے جو قرآن سے ثابت نہ ہو اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نہ بتائی ہو اس کی صحت تسلیم کرنے میں دل بہت لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس مضمون میں مضمون نگار نے غلط باتیں لکھی ہیں، مگر تھوڑا بہت جو قرآن کا مطالعہ کیا ہے اور احادیث اور ان کی تشریحات پڑھی ہیں اس پر یہ مضمون فٹ نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ اُلجھن اور غلط فہمی محض میری جہالت کی وجہ سے ہو، اس لئے معاملہ آپ کی طرف لوٹاتا ہوں۔ براہِ مہربانی وضاحت کیجئے کہ مضمون نگار نے جو کچھ اس مضمون میں لکھا ہے اس کا مأخذ اور منبع کیا ہے اور اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو اس کی صحت کی سند کیا ہے؟ اور غلط ہیں تو براہ مہربانی بے لاگ تبصرہ فرمادیجئے، شکریہ۔

ج… آپ کی فرمائش پر میں نے منسلکہ مضمون کو پڑھا، اس پر کچھ روایات ہیں اور کچھ مضمون نگار کے اخذ کردہ نتائج اور قیاسات ہیں۔ تاریخی روایات بعض صحابہ و تابعین سے مروی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں، بہرحال مضمون نگار نے جو اقوال نقل کئے ہیں وہ تفسیر ابن جریر اور کتبِ تفسیر میں موجود ہیں۔ ان روایات و اقوال کی حیثیت محض ایک تاریخی واقعہ کی ہے، جس کا عقیدہ و عمل سے کوئی تعلق نہیں، اور تاریخی روایات پر صحتِ سند کا بھی زیادہ اونچا معیار برقرار نہیں رہتا، لہٰذا ان کو بس اسی حیثیت سے نقل کیا جائے، نہ صحتِ سند کی ضمانت دی جاسکتی ہے – الا ماشاء الله- نہ ان کے تسلیم کرنے پر کسی کو مجبور کیا جاسکتا ہے، اور نہ ان پر کسی عقیدے یا عمل کی بنیاد ہی رکھی جاسکتی ہے۔ یہ اصول نہ صرف زیر بحث روایات ہی سے متعلق ہے، بلکہ تمام تاریخی روایات سے متعلق ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے۔ قرآن و حدیث تمام علوم کا سرچشمہ ہے، لیکن قرآن تاریخ کی کتاب نہیں جس میں تاریخی واقعات کو مفصل و مرتب شکل میں بیان کرنے کا التزام کیا گیا ہو، اسی طرح احادیثِ شریفہ کو سمجھنا چاہئے، اگر کوئی واقعہ قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے یا حدیثِ صحیح میں وارد ہوا ہے تو اس کا ماننا ضروری ہے، ورنہ تردّد و قبول دونوں کی گنجائش ہے۔

          مضمون نگار نے “اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ” کی جو تشریح کی ہے اس میں حدود سے تجاوز ہے، حالانکہ اس کے مضمون کا مرکزِ ماخذ تفسیر بغوی ہے، اور اس پر اس جملہ کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔ اسی طرح مصنف کے بعض قیاسات بھی محل نظر ہیں، جن کی تفصیل کی نہ فرصت ہے، نہ ضرورت ہے!

غیرمسلموں کا مساجد میں سیر و معائنہ کے لئے داخلہ

س… مسئلہ کچھ یوں ہے کہ آج کل ملک میں ممالکِ غیر سے حکومتی وفود آتے رہتے ہیں، جن میں غیرمسلم بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو حکومتی اربابِ حل و عقد و صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی رضامندی سے مساجد کی سیر کروائی جاتی ہے، خاص طور پر “فیصل مسجد” اسلام آباد۔ ان وفود میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں، تو ایسی صورتِ حال میں ان عورتوں اور غیرمسلموں کا مساجد میں داخل ہونا کیا جائز ہے؟

ج… چند مسائل لائقِ توجہ ہیں:

          ا:… مساجد عبادت گاہیں ہیں، تفریح گاہیں نہیں، ان کو تفریح کی جگہ بنالینا نہایت بُری بات ہے۔

          ۲:… غیرمسلم کا مسجد میں جانا تو جائز ہے، لیکن یہ آنے والے اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھوں نے غیرستر کا لباس پہنا ہوا ہوتا ہے، ان کے گھٹنے ننگے ہوتے ہیں، عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں، اور ان میں سے بہت ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں نے غسلِ جنابت بھی نہ کیا ہو، ایسی حالت میں ان کا مساجد میں آنا حرام اور مسلمانوں کے لئے قابلِ نفرین ہے۔

          ۳:… بہت سی عورتیں ایسی ہیں کہ وہ ناپاک حالت میں ہونے کی وجہ سے مساجد میں جانے کی اہل نہیں ہوتیں۔ حیض و نفاس کی حالت میں ہیں یا زچگی کی حالت میں ہیں یا جنابت کی حالت میں ہیں، اور وہ تو چونکہ جاہل ہیں، ان کو مسئلہ معلوم نہیں، نہ ان کے دِل میں اللہ کے گھروں کا احترام ہے، اس لئے بے تکلف وہ بھی آتی جاتی ہیں، ایسی عورتوں کا آنا اور ان کو آنے کی اجازت دینا موجبِ لعنت ہے۔

          ۴:… بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ اپنے ساتھ کھیل کود کا سامان لئے پھرتے ہیں، کیمرے ان کے گلے میں حمائل ہیں اور کھانے پینے سے ان کو کوئی پرہیز نہیں، چھوٹے بچے کھیل کود میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ الغرض! مسجد کو بہت سی بے حرمتیوں کا نشانہ بنالیا جاتا ہے، اس لئے ان کا آنا صحیح نہیں۔

          ۵:… حکومت اگر غیرمسلموں کو اجازت دیتی ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کے دِلوں میں اسلام کی عظمت قائم ہو، لیکن حکومت کو چاہئے کہ اس کے داخلے کے لئے خاص شرائط مقرّر کرے۔

کیا یونین کے غلط حلف کو توڑنا جائز ہے؟

س… ہمارے ادارے کے لیبر یونین کے دو رہنماوٴں نے گزشتہ چند ماہ قبل ہمارے چند ساتھیوں سے فرداً فرداً وفاداری کا حلف قرآن پاک پر ہاتھ رکھواکر اُٹھوایا، لیکن اب مذکورہ یونین اور اس کے متعلقہ دونوں رہنما حلف اُٹھانے والوں کے حقوق و اختیارات کو سلب کر رہے ہیں، ادارے کے مزدوروں کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ذاتی مفادات حاصل کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اگر کوئی مزدور ان کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے تو اسے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس صورتِ حال میں ہمارا مذکورہ یونین و متعلقہ دونوں رہنماوٴں کے ساتھ چلنا مشکل ہے۔

حلف کا متن

          “میں فلاں بن فلاں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں یونین کا وفادار رہوں گا، اگر میں غداری کروں گا تو مجھ پر خدا کی مار پڑے گی، اگر میں اس حلف کو توڑنے اور کفارہ ادا کرنے کی غرض سے مولوی یا عالم سے رُجوع کروں گا تو بھی مجھ پر خدا کی مار پڑے گی۔”

          اس حلفِ وفاداری کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس حلف کو توڑا جاسکتا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

ج… کسی فرد یا ادارے یا تنظیم کے ساتھ وفاداری کا ایسا عہد کرنا کہ خواہ وہ جائز کام کرے یا ناجائز، ہر حال میں اس کا وفادار رہے گا، یہ شرعاً جائز نہیں۔ ہاں! یہ عہد کرنا صحیح ہے کہ اچھے اور نیک کام میں وفاداری کروں گا، غلط اور بُرے کام میں وفاداری نہیں کروں گا۔

          آپ نے “حلف نامہ” کا جو “متن” نقل کیا ہے، یہ غیرمشروط وفاداری کا ہے، اور یہ شرعاً ناجائز ہے، خصوصاً اس میں جو کہا گیا ہے کہ: “کسی مولوی سے بھی رُجوع کروں تو مجھ پر خدا کی مار پڑے” کے الفاظ بھی ناجائز ہیں۔

          ۲:… اگر آدمی غلط اور ناجائز قسم کھالے تو اس کا توڑ دینا واجب ہے اور ایسی قسم کھانے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور توبہ کرے۔

          ۳:… اس حلف کو توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ اس ناجائز حلف کو توڑ کر قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے، اور قسم توڑنے کا کفارہ قرآنِ کریم میں یہ بیان فرمایا کہ دس محتاجوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے (اور اگر کھانا کھلانے کی بجائے ہر محتاج کو صدقہٴ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی نقد قیمت دیدے تب بھی صحیح ہے)، یا دس محتاجوں کو لباس پہنائے (ہر محتاج کو اتنا لباس دینا کافی ہے جس میں نماز جائز ہو، یعنی ایک لنگی جس سے ناف سے گھٹنوں تک ستر چھپ جائے)، اور یہ نہ کرسکتا ہو تو تین دن کے روزے رکھے۔

کنٹیکٹ لینسز کی صورت میں وضو کے مسائل

س… آج کل نظر کی عینک کے بجائے “کنٹیکٹ لینسز” کا استعمال بہت عام ہو رہا ہے، کنٹیکٹ لینسز آنکھ کے اندر (گول کالے والے حصے کے اُوپر) لگایا جاتا ہے۔ یہ پلاسٹک کی گول شکل میں ہے اور آنکھ کے اس حصے کو ڈھانپ لیتا ہے اور پھر اس کو لگانے کے بعد نظر کی عینک کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ ٹرانس پیرنٹ یعنی شفاف بھی ہوتا ہے، اور مختلف رنگوں میں بھی دستیاب ہے۔ پوچھنا یہ ہے مولانا صاحب! کہ کیا لینسز کی آنکھ میں موجودگی کے دوران اگر نماز کے لئے وضو کیا جائے تو کیا وہ دُرست ہوگا؟ (لینسز پہننے کے بعد منہ دھویا جاسکتا ہے اگر آنکھ کے اندر پانی بھی چلا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا، یہ بات ڈاکٹرز کہتے ہیں)۔ براہ مہربانی آپ اسلامی نقطہٴ نظر اور وضو کے قواعد و ضوابط کے مطابق بتائیں کہ آیا وضو دُرست ہوجاتا ہے یا نہیں؟ دُوسری بات یہ ہے کہ روزے میں اس کے لگانے سے کوئی قباحت تو نہیں؟ روزے کے ٹوٹنے یا مکروہ ہونے کا کوئی ہلکا سا بھی احتمال تو نہیں؟

ج… اس سے وضو اور غسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اور روزے پر بھی کوئی کراہت لازم نہیں آتی۔

شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ ہوگیا

س… میری عمر ۳۰ سال ہے، میرے والد پی آئی اے میں ڈرائیور تھے جو کہ اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، میرا ایک بھائی جو کہ ابھی زیرِ تعلیم ہے، میری والدہ دِل کی مریضہ ہیں۔ میری شادی والدین کی رضامندی سے میری پھوپھی کے بیٹے سے انڈیا میں ہوئی ہے، میرے شوہر کا نام سعید شیخ ہے، جس سے میرے دو لڑکے ہیں، لڑکے کی عمر ۱۳ سال اور چھوٹے کی عمر ۱۱ سال۔ میرے شوہر نے اب ہندو مذہب اپنالیا ہے اور انڈیا کی تحریک شوشنا جو کہ ہندو تحریک ہے اس میں شامل ہوگیا ہے، شراب پیتا، جوا کھیلتا اور عورتوں کو گھر میں لاتا، قرآن کو پھاڑ کر زمین پر ڈال کر شراب ڈال کر اطراف ناچ ناچ کر یہ کہتا ہے کہ: “دیکھو تمہارا اللہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا”، اور یہ کہ: “جب میں مرجاوٴں گا تو مجھ کو جلانا”۔ مولانا صاحب! یہ مجھے ناجائز کاموں کے لئے کہتا ہے اور اپنے ہندو دوستوں کو گھر میں لاکر مجھ سے کہتا ہے کہ میں ان سے غلط تعلقات قائم کروں، جب یہ سب ماننے سے میں انکار کرتی ہوں تو مجھے بہت مارتا ہے اور سگریٹ سے جلاتا ہے۔ ان سب باتوں کی خبر میرے والدین کو ہوئی تو میری والدہ انڈیا آکر مجھے اور بچوں کو پاکستان لے آئیں، مجھے پاکستان آئے ہوئے ۲ سال ۷ مہینے ہوگئے ہیں۔ میرا میرے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہے، نہ وہ مجھے کوئی خرچ، نہ خط، کچھ بھی نہیں بھیجتا ہے۔ میں گھر کے قریب ایک فیکٹری میں کام کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرتی ہوں۔ مولانا صاحب! قرآن و سنت کی روشنی میں میرا ایسے شخص کے ساتھ نکاح ہے یا ختم ہوگیا ہے؟ (میرے شوہر نے گھر میں مندر بنالیا ہے اور بدھ کو پوجا صبح شام کرتے ہیں، اور مجھے نماز روزے کسی بھی چیز کی اجازت نہیں ہے)۔

ج… جو واقعات سوال میں لکھے ہیں، اگر صحیح ہیں تو شوہر کے مرتد ہوجانے کے بعد نکاح فسخ ہوچکا ہے، اور چونکہ اس عرصے میں عدّت ختم ہوچکی ہے اس لئے آپ اگر چاہیں تو دُوسری جگہ شادی کرسکتی ہیں، پہلے شوہر کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رہا۔

چار شادیوں پر پابندی اور مساوات کا مطالبہ

س… گزشتہ دنوں کراچی میں عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے تقاریب منعقد ہوئیں، جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ: “ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی عائد کی جائے اور عورتوں کو مردوں کے مساوی وراثت کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ اسی طرح شادی اور طلاق میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔”

          ۱:… اسلامی نقطہٴ نگاہ سے ان مطالبات کی کیا اہمیت ہے؟

          ۲:… ایسے مطالبے کرنے والے شرعی نقطہٴ نگاہ سے کیا اب تک دائرہٴ اسلام میں داخل ہیں؟

          ۳:… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَحکامات کا مذاق اُڑانے والوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَحکامات کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کی اسلام میں کیا سزا ہے؟

ج… ان بے چاری خواتین نے جن کے مطالبات آپ نے نقل کئے ہیں، یہ دعویٰ کب کیا ہے کہ وہ اسلام کی ترجمانی کر رہی ہیں، تاکہ آپ یہ سوال کریں کہ وہ دائرہٴ اسلام میں رہیں یا نہیں؟ رہا یہ کہ اسلامی نقطہٴ نظر سے ان مطالبات کی کیا اہمیت ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر مسلمان کو معلوم ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مرد کو بشرطِ عدل چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے، عورت کو چار شوہر کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ نے تو کجا؟ کسی ادنیٰ عقل و فہم کے شخص نے بھی نہیں دی۔ اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے وراثت اور شہادت میں عورت کا حصہ مرد سے نصف رکھا ہے، اور طلاق کا اختیار مرد کو دیا ہے، جبکہ عورت کو طلاق مانگنے کا اختیار دیا ہے، طلاق دینے کا نہیں۔ اب فرمانِ الٰہی سے بڑھ کر اسلامی نقطہٴ نظر کی وضاحت کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسلم معاشرے میں بڑی بھاری اکثریت ایسی باعفت، سلیقہ مند اور اطاعت شعار خواتین کی رہی ہے جنھوں نے اپنے گھروں کو جنت کا نمونہ بنا رکھا ہے، واقعتا حورانِ بہشتی کو بھی ان کی جنت پر رشک آتا ہے، اور یہ پاکباز خواتین اپنے گھر کی جنت کی حکمران ہیں، اور اپنی اولاد اور شوہروں کے دِلوں پر حکومت کر رہی ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض گھروں میں مرد بڑے ظالم ہوتے ہیں اور ان کی خواتین ان سے بڑھ کر بے سلیقہ اور آدابِ زندگی سے ناآشنا۔ ایسے گھروں میں میاں بیوی کی “جنگِ اَنا” ہمیشہ برپا رہتی ہے اور اس کے شور شرابے سے ان کے آس پڑوس کے ہمسایوں کی زندگی بھی اجیرن ہوجاتی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ “عورتوں کے عالمی دن” کے موقع پر جن بیگمات نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی ہے، ان کا تعلق بھی خواتین کے اسی طبقے سے ہے جن کا گھر جہنم کا نمونہ پیش کر رہا ہے، اور اس کے جگر شگاف شعلے اخبارات کی سطح تک بلند ہو رہے ہیں، اور وہ غالباً اپنے ظالم شوہروں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں، اور چونکہ یہ انسانی فطرت کی کمزوری ہے کہ وہ دُوسروں کو بھی اپنے جیسا سمجھتا کرتا ہے اس لئے اپنے گھروں کو جہنم کی آگ میں جلتے ہوئے دیکھ کر یہ بیگمات سمجھتی ہوں گی کہ جس طرح وہ خود مظلوم و مقہور ہیں، اور اپنے ظالم شوہروں کے ظلم سے تنگ آچکی ہیں، کچھ یہی کیفیت مسلمانوں کے دُوسرے گھروں میں بھی ہوگی، اس لئے وہ بزعمِ خود تمام مسلم خواتین کی طرف سے مطالبات پیش کر رہی ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی “آپ بیتی” ہے، “جگ بیتی” نہیں۔ سو ایسی خواتین واقعی لائقِ رحم ہیں، ہر نیک دِل انسان کو ان سے ہمدردی ہونی چاہئے، اور حکومت سے مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ ان مظلوم بیگمات کو ان کے درندہ صفت شوہروں کے چنگل سے فوراً نجات دِلائے۔

          میں ایسے مطالبے کرنے والی خواتین کو مشورہ دُوں گا کہ وہ اپنی برادری کی خواتین میں یہ تحریک چلائیں کہ جس شخص کی ایک بیوی موجود ہو اس کے حبالہ عقد میں آنے کو کسی قیمت پر بھی منظور نہ کیا کریں، ظاہر ہے کہ اس صورت میں مردوں کی ایک سے زیادہ شادی پر خودبخود پابندی لگ جائے گی اور ان محترم بیگمات کو حکومت سے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

          رہا طلاق کا اختیار تو اس کا حل پہلے سے موجود ہے کہ جب بھی میاں بیوی کے درمیان اَن بن ہو فوراً خلع کا مطالبہ کردیا جائے، ظالم شوہر خلع نہ دے تو عدالت خلع دِلوادے گی، بہرحال اس کے لئے حکومت سے مطالبے کی ضرورت نہیں۔ رہا مرد و عورت کی برابری کا مسئلہ! تو آج کل امریکہ بہادر اس مساوات کا سب سے بڑا علمبردار بھی ہے اور ساری دُنیا کا اکیلا چودھری بھی، یہ مطالبہ کرنے والی خواتین امریکی ایوانِ صدر کا گھیراوٴ کریں اور مطالبہ کریں کہ جب سے امریکہ مہذب دُنیا کی برادری میں شامل ہوا ہے آج تک اس نے ایک خاتونِ خانہ کو بھی امریکی صدارت کا منصب مرحمت نہیں فرمایا، لہٰذا فی الفور امریکہ کے صدر کلنٹن صدارت کے منصب سے اپنی اہلیہ محترمہ کے حق میں دستبردار ہوجائیں، اسی طرح امریکی حکومت کے وزراء اور ارکانِ دولت بھی اپنی اپنی بیگمات کے حق میں دستبردار ہوکر گھروں میں جابیٹھیں، پھر یہ خواتین فوراً یہ قانون وضع کریں کہ جتنا عرصہ مردوں نے امریکہ پر راج کیا ہے اتنے عرصے کے لئے خواتین حکومت کریں گی، اور اتنے عرصہ تک کسی مرد کو امریکی حکومت کے کسی منصب پر نہیں لیا جائے گا، تاکہ مرد و زن کی مساوات کی ابتدا امریکہ بہادر سے ہو۔ اگر ان معزّز خواتین نے اس معرکے کو سر کرلیا تو دُنیا میں عورت اور مرد کی برابری کی ایسی ہوا چلے گی کہ ان خواتین کو اخبارات کے اوراق سیاہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اللہ تعالیٰ ان خواتین کے حالِ زار پر رحم فرمائیں۔

مذہب سے باغی ذہن والے کا خواب اور اس کی تعبیر

س… ایک بچی نے اپنا ایک طویل اور عجیب و غریب خواب ذکر کیا تھا، جس میں طبیعت کی جذباتیت کی بنا پر تشکیک، اِلحاد اور اعمالِ صالحہ سے بے رغبتی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک خواب بیان کیا، جس میں عالمِ برزخ میں رُوحوں کی آپس میں ملاقات، ملائکہ سے گفتگو اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی تجلیات کے نورانی پَردوں میں زیارت اور اللہ رَبّ رحیم کی مہربان ذات سے شرفِ ہم کلامی کا حسین و جمیل منظر پیش کیا گیا تھا، اس پر چند حروف رقم کرتا ہوں تاکہ خواب کی دُنیا کا کچھ خاکہ بھی سامنے آجائے اور مذکورہ خواب کے کچھ تعبیری پہلووٴں کا تذکرہ بھی ہوجائے۔

ج… بیٹی! میرے پاس اتنے لمبے خط پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی، مگر تمہارا خط اس کے باوجود اوّل سے آخر تک پورا پڑھا۔ پہلے یہ سمجھ لو کہ خواب میں آدمی کے خیالات جو اس کے تحت الشعور اور لاشعور میں دبے ہوئے ہوتے ہیں، مختلف صورتوں میں متشکل ہوجاتے ہیں، اس لئے یہ پتہ چلانا کہ خواب کے کون سے اجزاء اصل واقعہ ہیں اور کون سے ذہنی خیالات کی پیداوار، بڑا مشکل ہوتا ہے۔

          دُوسری بات یہ ملحوظ رکھنی چاہئے کہ خواب کے جو اجزاء آدمی کے ذہنی خیالات سے ماورا ہوں، وہ بھی تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں، ان کے ظاہری مفہوم مراد نہیں ہوتے۔

          تیسری بات یہ یاد رہنی چاہئے کہ ما بعد الموت (قبر اور حشر) کے حالات اس دُنیا میں کامل و مکمل ظاہر نہیں ہوسکتے، نہ بیداری میں اور نہ خواب میں، اس لئے کہ ہماری اس زندگی کا پیمانہ ان کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا، اس لئے خواب میں ما بعد الموت کے جو مناظر دِکھائے جاتے ہیں، وہ ایک ہلکی سی جھلک ہوتی ہے۔

          ان تین باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اپنے خواب پر غور کیجئے، آپ کا ذہن مذہب سے باغی اور خدا کا منکر تھا، موت کے بعد کی زندگی کا قائل نہیں تھا، اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے آپ کو خواب میں اس زندگی کے بارے میں (آپ کی قوّتِ برداشت کی رعایت رکھتے ہوئے) چند ہلکے پھلکے مناظر دِکھائے، نانی اماں نے جس پوسٹ آفس کی بات کی تھی، اس سے مراد دُعا و اِستغفار اور ایصالِ ثواب ہے، جو زندوں کی طرف سے مرحومین کو کیا جاتا ہے، اور اَرواح کا آپس میں خوش گپیوں میں مشغول دیکھنا، اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ مسلمان اَرواح کی وہاں ملاقات ہوتی ہے، اور فرشتوں کے ساتھ آپ کی گفتگو اور آپ کو رَبّ العالمین سے ملاقات کے لئے جانا اس طرف اشارہ تھا کہ اہلِ ایمان کے ساتھ بہت رحمت و شفقت کا معاملہ کیا جاتا ہے، اور نماز، روزہ اور تلاوت کے بارے میں سوالات اس بات پر تنبیہ تھی کہ وہاں یہی چیزیں کام آتی ہیں جن کو یہاں ہم لوگ “شغلِ بے کاری” سمجھا کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جانا کہ “کیسی ہو تم؟” اس پر آپ کے ان الفاظ سے مجھے تو وجد آگیا کہ “میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ اس آواز میں کتنی نرمی اور محبت ہوتی ہے، آہ! وہ میٹھی مہربان اور شفقت بھری آواز”۔ واقعی حق تعالیٰ شانہ کے کلام کی شیرینی اور مٹھاس اور اس کی لذّت اور سحر آفرینی کی کیفیت سے الفاظ کا ناطقہ بند ہے، یہ آپ کو ذرا سی جھلک دِکھائی گئی کہ کلامِ الٰہی میں کیا لذّت، تأثیر ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں کا کیا عالم ہوگا جن کو حق تعالیٰ شانہ اپنی ہم کلامی کا شرف عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے لطف سے، محض اپنے فضل سے اپنی ذاتِ عالی کے طفیل ہمیں بھی یہ دولتِ کبریٰ نصیب فرمائیں۔

          حق تعالیٰ شانہ کے دیدار کی جو کیفیت آپ نے قلمبند کی ہے، وہ محض ایک ہلکی پھلکی سی تمثیل ہے، ورنہ ساری دُنیا کی ماوٴں کی ممتا بھی یکجا کرلی جائے اور پوری کائنات کا حسن و جمال بھی کسی ایک چیز میں مرتکز ہوجائے تو وہ اس پاک ذات کی ادنیٰ مخلوق ہوگی، مخلوق کو خالق سے کیا نسبت؟ اور اس بے مثال ذاتِ عالی کی کیا مثال؟ بہرحال یہ سارے مناظر آپ کے ذہنی پیمانے کے مطابق تھے اور آپ کی “انکارِ خدا کی آگ” پر نشتر لگانا تھا کہ کیا یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کا انکار کروگی؟ اب میں آپ سے یہ عرض کروں گا کہ آپ کا یہ خواب مبارک ہے اور اس میں آپ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنی زندگی کی لائن تبدیل کریں اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ جوان ہونے کے بعد آپ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جو جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، عبادات میں سستی ہوئی ہے، اس سے توبہ کریں اور ان تمام چیزوں کی تلافی کریں۔ ہاں! یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خوابوں سے نہ کوئی ولی بنتا ہے اور نہ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لئے خواب کو کوئی اہمیت نہ دی جائے بلکہ بیداری کے اعمال، اخلاق، عقائد کو دُرست کرنے اور اللہ و رسول کے مطابق بنانے پر پوری توجہ اور ہمت لگانی چاہئے۔ میری معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ ما بعد الموت کے یہ تمام مناظر جو آپ کو دِکھائے گئے ہیں ان کی حقیقت اتنی ہی نہیں جو آپ کو دِکھائی گئی، وہاں کے جتنے حالات سمجھ میں آسکتے ہیں وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماچکے ہیں، اس سے زیادہ وہاں کے حالات سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک کہ وہاں جاکر ان کا مشاہدہ نہ ہوجائے۔ بہرحال آپ کا فرض ہے کہ اب آپ زندگی کی لائن کو بدلیں تاکہ جب آپ یہاں سے جائیں تو آپ کا شمار “موٴمنات قانتات” میں ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی شیخ متبعِ سنت سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں اور ان کی ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں، واللہ الموفق!

کیا میں زندگی میں وصیت کرسکتا ہوں؟

س… میرا ارادہ ہے کہ میں سنت کے مطابق اپنی زندگی میں وصیت کروں، میری صرف ایک لڑکی ہے، دُوسری کوئی اولاد نہیں، اور ہم چار بھائی ہیں اور پانچ بہنیں ہیں، جو سب شادی شدہ ہیں، ہم چاروں بھائیوں کی کمائی جدا جدا ہے، اور والد مرحوم کی میراث صرف برساتی زمین ہے جو اَب تک تقسیم نہیں ہوئی، باقی ہر کسی نے اپنی کمائی سے دُکان، مکان خرید کیا ہے، جو ہر ایک کے اپنے اپنے نام پر ہے، اور میری اپنی کمائی سے دو دُکان اور رہائشی مکان ہیں، ایک میں، میں خود رہتا ہوں اور دُوسرے مکان کو کرایہ پر دے رکھا ہے، اور ایک آٹے کی چکی ہے جس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہے۔ اب میرا خیال ہے کہ میں ایک دُکان لڑکی اور اپنی زوجہ کے نام کروں اور دُوسری دُکان اور چکی اور مکان جو کرایہ پر ہے ان کے بارے میں خدا کے نام پر وصیت کروں یعنی کسی مسجد یا دینی مدرسہ میں ان کی قیمت فروخت کرکے دے دی جائے، اور بقایا زمین کا میرا حصہ وہ بھائیوں اور بہنوں کو ملے، اور کیونکہ میرا کوئی لڑکا وغیرہ نہیں ہے جو بعد میں میرے لئے دُعا و فاتحہ کرے اس لئے اب میرے دِل میں فکر رہتا ہے کہ میں اپنی تمام جائیداد کی وصیت کرکے دُنیا سے جاوٴں اور تمام جائیداد کو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کردُوں جو صدقہٴ جاریہ بن جائے، اور میں نے ایک عالمِ دین سے مسئلہ وصیت کا دریافت کیا، اس نے کہا: آپ زندگی میں اپنی جائیداد فروخت کرکے کسی دینی مدرسہ میں لگادیں کیونکہ آج کل بھائی لوگ وصیت کو پورا نہیں کرتے، اس لئے آپ اپنی زندگی میں یہ کام کرلیں۔ لیکن مولانا صاحب! آج کل حالات اجازت نہیں دیتے ہیں کیونکہ میری دس سال کی کمائی ہوئی چیزیں ہیں اور کوئی دُوسرا ذریعہ نہیں ہے کہ میں اپنی زندگی بسر کروں اور مزدوری نہیں کرسکتا ہوں، زمین وغیرہ برساتی ہے اس پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، اگر میں ان کو اپنی زندگی میں فروخت کرکے صدقہ کروں تو ڈَر ہے محتاج ہونے کا، اور اب میری عمر چالیس بیالیس ہے، آپ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں، کیا کروں؟ اور باقی میرے بھائی وغیرہ سب الحمدللہ اچھی حالت میں ہیں، محتاج نہیں، صاحبِ دولت ہیں، اگر میں کسی اور کو اپنا وکیل مقرّر کروں کہ آپ میرے مرنے کے بعد یہ فروخت کرکے دینی کام میں لگادیں یا کسی عالمِ دین کو وکیل بنادُوں تو کیسا ہے؟ کیونکہ وارثوں پر بھروسہ نہیں ہے، وہ اپنی لالچ میں وصیت کو پورا نہ کریں گے، اس لئے آپ میری جائیداد تقسیم کرکے اور وصیت کے بارے میں بتاکر شکریہ کا موقع دیں۔ میرے وارث یہ ہیں: چار بھائی، پانچ بہنیں، ایک لڑکی، بیوی اور میری والدہ صاحبہ۔

ج… آپ کے خط کے جواب میں چند ضروری مسائل ذکر کرتا ہوں:

          ۱:… آپ اپنی صحت کے زمانے میں کوئی دُکان یا مکان بیوی کو یا لڑکی کو ہبہ کردیں تو شرعاً جائز ہے، مکان یا دُکان ان کے نام کرکے ان کے حوالہ کردیں۔

          ۲:… یہ وصیت کرنا جائز ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا اتنا مال مساجد و مدارس میں دے دیا جائے۔

          ۳:… وصیت صرف ایک تہائی مال میں جائز ہے، اس سے زیادہ کی وصیت وارثوں کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں، اگر کسی نے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی تو تہائی مال میں تو وصیت نافذ ہوگی، اس سے زیادہ میں وارثوں کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوگی۔

          ۴:… اگر کسی کو اندیشہ ہو کہ وارث اس کی وصیت کو پورا نہیں کریں گے تو اس کو چاہئے کہ دو ایسے آدمیوں کو جو متقی اور پرہیزگار بھی ہوں اور مسائل کو سمجھتے ہوں، اس وصیت کو پورا کرنے کا ذمہ دار بنادے، اور وصیت لکھواکر اس پر گواہ مقرّر کردے اور گواہوں کے سامنے یہ وصیت ان کے سپرد کردے۔

          ۵:… وفات کے وقت آپ جتنی جائیداد کے مالک ہوں گے اس میں سے ایک تہائی میں وصیت نافذ ہوگی، اور باقی دو تہائی میں درج ذیل حصے ہوں گے:

۱:… بیوی کا آٹھواں حصہ۔ ۲:…والدہ کا چھٹا حصہ۔ ۳:-بیٹی کا نصف۔ ۴:…باقی بھائی بہنوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بھائی کا حصہ بہن سے دُگنا ہو۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر کام کرنے کا حکم

س… میں کمپیوٹر کے شعبے سے منسلک ہوں اور میری ذمہ داری انٹرنیٹ کے ساتھ ہے، اس میں ہر قسم کے پروگرام ہوتے ہیں۔ کیا شرعی حیثیت سے اس کام کو کرنے کی اجازت ہے؟

ج… کمپیوٹر جدید دور کی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں مفید اور مضر دونوں کام لئے جاسکتے ہیں، اس لئے اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ اس میں کوشش کی جاتی ہے کہ جو اس کے بُرے پہلو اور غلط اثرات ہیں اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جائے۔ اس شعبہ سے منسلک ہونا اور کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس شعبہ خاص انٹرنیٹ میں زیادہ سے زیادہ اسلام سے متعلق کام کیا جائے اور اس کو کافروں کے لئے آزاد نہ چھوڑا جائے۔

عیسائی عورت سے نکاح کا شرعی حکم

س… کوئی مسلمان اپنی مسلمان بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دُوسرے غیرمسلم ملک میں صرف ملازمت کی خاطر عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے کہ نہیں؟ اور ایسا کرنے کی شکل میں اس کا پہلا نکاح کیسا ہوگا؟ باقی رہے گا؟ وہ عیسائی (عورت) اس کے لئے حلال ہوگی؟ اور اس مسلمان شخص کا ایمان باقی رہے گا؟ اور اس کی کمائی، دولت مسجد میں لگانا کیسا ہوگا؟

ج… پہلے سے مسلمان بیوی کا نکاح میں ہونا تو عیسائی عورت کے ساتھ نکاح کرنے سے مانع نہیں، البتہ چند دیگر وجوہ کی بنا پر ایسی شادی ناجائز ہے۔

          اوّلاً:… اہلِ کتاب کی جن عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے ان سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو دارالاسلام کے شہری ہوں، جن کو “ذمی” کہا جاتا ہے، دارالکفر کے باشندے مراد نہیں۔ لہٰذا اسلامی مملکت کی ذمی عورتوں سے، جبکہ وہ اہلِ کتاب دارالحرب میں رہتے ہیں ان کی عورتوں سے نکاح مکروہِ تحریمی ہے (اور مکروہِ تحریمی، حرام کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے ناجائز کہلاتا ہے) لہٰذا یہ نکاح منعقد تو ہوجائے گا مگر مکروہِ تحریمی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا اور ایسا کرنے والا گناہگار ہوگا۔

          ثانیاً:… اہلِ کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ واقعتا اہلِ کتاب ہوں بھی، محض نام کے عیسائی، یہودی نہ ہوں۔ آج کل کے بہت سے یہود و نصاریٰ صرف نام کے یہودی، عیسائی ہیں، ورنہ واقع کے اعتبار سے وہ قطعاً ملحد ہوتے ہیں، وہ نہ کسی کتاب کے قائل ہیں، نہ کسی نبی کے، نہ دین و مذہب کے، اگر ایسی عیسائی عورت ہو جو صرف قومی طور پر “عیسائی” کہلاتی ہے، واقعتا ملحد اور لادین ہو، اس کے ساتھ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا اور ایسا جوڑا شرعی نقطہٴ نظر کے لحاظ سے بدکاری و زناکاری کا مرتکب شمار ہوگا۔

          ثالثاً:… کسی مسلمان نے اہلِ کتاب کی عورت سے شادی کی ہو تو شرعی قانون کے لحاظ سے اولاد مسلمان شمار ہوگی، لیکن دیارِ غیر میں عیسائی عورتوں سے جو شادیاں رچائی جاتی ہیں ان سے پیدا ہونے والی اولاد اپنی ماں کا مذہب اختیار کرلیتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے یہ جوڑا طے کرلیتا ہے کہ آدھی اولاد شوہر کی ہوگی اور آدھی بیوی کے مذہب پر ہوگی، اگر ایسی شرط لگائی جائے تو ایسی شادی کرنے والا مسلمان یہ شرط لگاتے ہی مرتد ہوجائے گا کیونکہ اس نے اپنی اولاد کے کافر ہونے کو گوارا کرلیا اور اس پر رضامندی دے دی، اور کسی کے کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے، لہٰذا ایسی شرط لگاتے ہی یہ شخص ایمان سے خارج ہوکر مرتد ہوجائے گا اور اس کی پہلی بیوی نکاح سے خارج ہوجائے گی۔

          رابعاً:… ہمارے بھولے بھالے نوجوان امریکہ وغیرہ کی شہریت حاصل کرنے اور روٹی کمانے کا ذریعہ پیدا کرنے کی خاطر عیسائی عورتوں کے چکر میں تو پڑجاتے ہیں لیکن ان ممالک کے قانون کے مطابق چونکہ طلاق کا حق مرد کے بجائے عورت کو حاصل ہے لہٰذا ایسی عورتیں جن کے جال میں ہمارے بھولے بھالے نوجوان پھنسے تھے ان کو طلاق دے کر گھربار پر بھی اور اولاد پر بھی قبضہ کرلیتی ہیں اور یہ شوہر صاحب “خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَة” کا مصداق دونوں جہان میں راندہٴ درگاہ ہوجاتا ہے، چونکہ فقہ کا قاعدہ ہے: “المعروف کالمشروط” یعنی جس چیز کا عام رواج اور عرف ہو اس کو ایسا سمجھنا چاہئے کہ گویا عقد کے وقت اس کی شرط رکھی گئی تھی، لہٰذا ان ممالک کے عرف کے مطابق گویا یہ شخص اس شرط پر نکاح کر رہا ہے کہ عورت جب چاہے اس کو طلاق دے کر بچوں پر قبضہ کرلے۔

          ان وجوہات کی بنا پر غیرممالک میں مسلمان نوجوانوں کا عیسائی عورتوں سے شادی کرنا ناجائز ہے اور دُوسری وجہ کی بنا پر نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اور تیسری وجہ چونکہ موجبِ کفر ہے اس لئے اس صورت میں اس کا پہلی بیوی سے نکاح فسخ ہوجائے گا، اور چوتھی وجہ میں بھی اندیشہٴ کفر ہے، البتہ اگر کوئی کفریہ شرط نہیں رکھی گئی تھی اور نہ معروف تھی تو پہلی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی، مگر یہ شخص عیسائی عورت سے نکاح کرنے کی بنا پر گناہگار ہوگا، ھٰذا ما عندی والله أعلم بالصواب!

قبر پر اذان دینا

س… جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاوٴں میں ایک مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے آتے ہی ہمیں ایک نئی اُلجھن میں ڈال دیا ہے، وہ یہ کہ وہ میّت کو دفنانے کے بعد تلقین کے بعد بآوازِ بلند اذان دیتے ہیں۔

ج… علامہ شامی نے حاشیہ درمختار میں دو جگہ (ج:۱ ص:۳۵۸، ج:۲) اور حاشیہ بحر میں (ج:۱ ص:۲۶۹) اس کا بدعت ہونا نقل کیا ہے۔

س… ہمارے ہاں میّت کے ہاتھ ناف پر رکھ دیتے ہیں، یہ طریقہ کس حد تک دُرست ہے یا غلط؟ ہماری رہنمائی فرمائیں، ہم بڑی اُلجھن میں ہیں۔

ج… میّت کے دونوں ہاتھ اس کے پہلووٴں میں رکھے جائیں، سینے پر یا ناف پر نہیں۔

ترکہ میں سے شادی کے اخراجات نکالنا

س… ہمارے والد کی پہلی بیوی سے دو لڑکیاں ایک لڑکا ہے، پہلی بیوی کی وفات کے بعد دُوسری بیوی سے سات لڑکیاں ایک لڑکا ہے۔ تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کی شادی باقی ہے۔ دسمبر ۱۹۹۳ء میں والد صاحب کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ والد نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے غیرشادی شدہ اولاد کی شادی ہوگی، اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔

          ۱:… وراثت کب تقسیم ہونی چاہئے؟

          ۲:… کیا وراثت میں سے غیرشادی شدہ اولاد کے اخراجات نکالے جاسکتے ہیں؟

ج…۱: تمہارے والد کے انتقال کے ساتھ ہی ہر وارث کے نام اس کا حصہ منتقل ہوگیا، تقسیم خواہ جب چاہیں کرلیں۔

ج…۲: چونکہ والدین نے باقی بہن بھائیوں کی شادیوں پر خرچ کیا ہے، اس لئے ہمارے یہاں یہی رواج ہے کہ غیرشادی شدہ بہن بھائیوں کے اخراجات نکال کر باقی تقسیم کرتے ہیں۔

          دراصل باقی بہن بھائی والدہ کی خواہش پوری کرنے پر راضی ہوں تو شادی کے اخراجات نکال کر تقسیم کیا جائے، اگر راضی نہ ہوں تو پورا ترکہ تقسیم کیا جائے، لیکن شادی کا خرچہ تمام بہن بھائیوں کو اپنے حصوں کے مطابق برداشت کرنا ہوگا۔

اُردو ترجمہ پر قرآن مجید کا ثواب

س… قرآن مجید کی تلاوت کے بجائے اگر قرآن مجید کا اُردو ترجمہ ترتیب وار پڑھا جائے تو ثواب ملے گا، کیونکہ اگر اُردو ترجمہ کو عربی میں کردیا جائے تو قرآن مجید بن جاتا ہے؟

ج… قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اس کے ہر لفظ کی تلاوت پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے، ظاہر ہے کہ اس کے ترجمے پر اَجر و ثواب نہیں، اس لئے قرآنِ کریم کی تلاوت کا ثواب تو عربی الفاظ کی تلاوت پر ہی ملے گا، ترجمے کے ذریعہ مفہوم سمجھنے کا ثواب ملے گا، قرآنِ کریم کی تلاوت کا ثواب نہیں ہوگا۔

س… بعض مولوی صاحبان سے سنا ہے کہ جو میاں بیوی اس دُنیا میں نیک اعمال کرتے ہیں تو اگلے جہان میں وہ ایک ساتھ ہوں گے۔ اب اگر موٴمن میاں بیوی میں سے میاں مرجائے اور بیوی دُوسری شادی کرلے جو کہ اس کا اسلامی حق ہے اور دُوسرا شوہر بھی نیک اور متقی ہو تو آخرت میں یہ بیوی کون سے شوہر کے نام سے پہچانی جائے گی اور کس شوہر کے ساتھ ہوگی؟ کیونکہ شوہر تو دونوں نیک اعمال والے ہیں۔

ج… اس میں اہلِ علم کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ بیوی آخری شوہر کے پاس ہوگی، کیونکہ جب اس نے دُوسرا نکاح کرلیا تو پہلے شوہر سے اس کا تعلق ختم ہوگیا۔

          بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ دونوں میں سے کس کے ساتھ رہنا پسند کرتی ہے، جس کو پسند کرے اس کے ساتھ اس کا عقد کردیا جائے گا۔

معاش کے لئے کفر اختیار کرنا

س… میرے ایک محترم دوست نے چند دن پہلے معاشی حل کے لئے قادیانیت کو قبول کیا، ان سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا جو فارم میں نے پڑھا ہے اس کی شرائط میں کہیں بھی کفریہ کلام نہیں، مثلاً زنا نہ کرنا، بدنظری نہ کرنا، رشوت نہ لینا، جھوٹ نہ بولنا، اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی علیہ السلام ماننا۔ اور اس نے صرف ضرورت پوری ہونے تک قادیانیت قبول کی ہے اور بعد میں وہ لوٹ آئے گا۔ کیا اس کے اس فعل کے بعد اسلام رہا؟ اگر نہیں تو بیوی بچوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ اگر گھر والوں کو چھوڑنے پر بھی تیار نہ ہو اور اس کی چند جوان اولاد بھی ہیں اور جو مال وہ دے تو اسے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

ج… مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے کافر و مرتد ہونے میں کسی قسم کا شبہ اور تردّد نہیں، اللہ تعالیٰ کی عدالت بھی ان کو کافر و مرتد قرار دے چکی ہے، اور عالمِ اسلام کی اعلیٰ عدالتیں بھی، اس شخص کو اگر اس مسئلے میں کوئی شبہ ہے تو وہ اہلِ علم سے تبادلہٴ خیال کرے۔

          قادیانیت کا فارم پُر کرنا، اپنے کفر و ارتداد پر دستخط کرنا ہے، جہاں تک معاشی مسئلے کا تعلق ہے، معاش کی خاطر ایمان کو فروخت نہیں کیا جاسکتا، اور ان صاحب کا یہ کہنا کہ وہ بعد میں لوٹ آئے گا، قابلِ اعتبار نہیں۔ جب ایک چیز صریح کفر ہے تو اس کو اختیار کرنا ہی ناروا ہے، اور اس کو اختیار کرتے ہی آدمی دین سے خارج ہوجاتا ہے، تو اس کے واپس لوٹنے کی کیا ضمانت؟

          اس شخص کو قادیانیت کی حقیقت اور ان کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا جائے، اگر اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ ان سے توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اس کے بیوی بچوں کا فرض ہے کہ اس شخص سے قطع تعلق کرلیں اور یہ سمجھ لیں کہ وہ مرگیا ہے۔

          چونکہ یہ شخص قادیانی فارم پُر کرچکا ہے، اس لئے اگر یہ تائب ہوجائے تو اس کو اپنے ایمان کی بھی تجدید کرنی ہوگی، اور نکاح بھی دوبارہ پڑھوانا ہوگا (جس کی تفصیل میرے رسائل “تحفہٴ قادیانیت” اور “خدائی فیصلہ” وغیرہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)۔

Facebook Comments

Comments are closed.