کھیل کود

جلد ہفتم
328
0

 

کھیل کا شرعی حکم

س… پچھلے دنوں بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی، جس میں سیّد مجتبیٰ کرمانی بھارت کے وکٹ کیپر ہیں، اور وہ مسلمان ہیں، اور وہ مسلمانوں کے خلاف ہی کھیل رہے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کس لحاظ سے؟

ج… ایسا کھیل تماشا اور لہو و لعب کہ جس سے نماز تک فوت ہوجاتی ہو، خود حرام ہے، خواہ مسلمان کے خلاف کھیلے یا کافر کے خلاف․․․!

تاش کی شرط کے پھل وغیرہ کا شرعی حکم

س… تاش پر پیسے لگاکر لوگ جوا کھیلتے ہیں، جو کہ حرام ہے، اسلام میں کسی بھی معاملے میں شرط حرام ہے، مسئلہ یہ ہے کہ تاش پر پیسوں کی بجائے پھل فروٹ وغیرہ لگاکر کھیلا جائے تو کیا وہ پھل و فروٹ بھی حرام ہے؟ نیز حرام کھانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ بھی لکھ دیں تو آپ کی بڑی نوازش ہوگی، کیونکہ میں جس جگہ رہتا ہوں وہاں پر یہ عمل کثرت سے ہوتے ہیں، کیا ایسے پھل سے روزہ اِفطار کرنا جائز ہے؟

ج… جس طرح تاش پر روپے پیسے کی شرط باندھنا حرام اور جوا ہے، اسی طرح پھل فروٹ یا کسی دُوسری چیز کی شرط بھی حرام ہے اور جوا ہے، اور ایسے پھل فروٹ سے روزہ کھولنا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص دن بھر روزہ رکھے اور شام کو کتے یا خنزیر کے گوشت سے روزہ کھولے، کیونکہ جس طرح کتے اور خنزیر کا گوشت نجس اور حرام ہے، اسی طرح جوا اور سود بھی نجس اور حرام ہے۔

کیرم بورڈ اور تاش کھیلنا

س… کیرم بورڈ، لڈو اور تاش بغیر شرط کے ساتھ کھیلنا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ: “ہم وقت پاس کرنے کے لئے یہ کھیلتے ہیں” اور جو آدمی ہار جاتا ہے تو وہ ان کو بوتل یا چائے پلاتا ہے۔ یہ اسلام کی رُو سے جائز ہے یا نہیں؟

ج… تاش اور اس قسم کے دُوسرے کھیل خواہ شرط باندھے بغیر ہوں، اِمام ابوحنیفہ کے نزدیک ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہیں، اور ہارنے والے سے بوتل یا چائے پینا حرام ہے۔

گھٹنوں سے اُوپر کا حصہ ننگا ہونے کے ساتھ کھیلنا

س… ہمارے بچوں کو کھیلوں کے دوران وردی پہننا لازمی ہوتا ہے، اب بعض جوان بھی ہوتے ہیں، ان کے لئے وردی پہننے کا کیا حکم ہے کہ ان کے ستر ننگے ہوتے ہیں؟

ج… ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ ستر میں داخل ہے، اور ستر کا کھولنا حرام ہے، اوّل تو کھیل ہی کوئی فرض و واجب یا سنت و مستحب نہیں کہ اس کے لئے حرامِ شرعی کا ارتکاب کیا جائے، اور اگر کھیلنا ہی ہو تو وردی ایسی تجویز کی جائے جس سے ستر ڈھک جائے، بہرحال ستر کا کھولنا حرام اور ناجائز ہے۔

کرکٹ کھیلنا شرعاً کیسا ہے؟

س… ہم نوجوانوں میں کرکٹ ایک وبا کی صورت میں پھیل گئی ہے، خاص کر کراچی میں، جہاں ہر کوئی اپنا وقت کرکٹ میں ضائع کرتا ہے، آج کل تو کرکٹ، ٹینس بال سے بھی خوب کھیلی جاتی ہے، ہر گلی میں لڑکے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کے بعد میچ ہوتے ہیں اور ٹورنامنٹس بھی کرائے جاتے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹس کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ کوئی بھی ایک ٹیم جو ٹورنامنٹ کراتی ہے، مختلف ٹیموں سے جو ٹورنامنٹ میں حصہ لیتی ہیں بطور انٹری فیس کچھ رقم جو مقرّر کردی جاتی ہے، وہ لیتی ہے۔ اور پھر اس طرح کافی ٹیموں سے جو رقم جمع ہوتی ہے، اس کی ٹرافی اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو دی جاتی ہے، اس طرح تمام رقم کی ٹرافی مخصوص کھلاڑیوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، اور باقی لڑکے یا ٹیم جو اس میں پیسہ لگاتے ہیں اسے کچھ نہیں ملتا۔ کھیل کے اس طریقے کو کیا کہا جائے گا؟ آیا یہ جوا ہے؟ ناجائز ہے یا جائز ہے؟

ج… کھیل کے جواز کے لئے تین شرطیں ہیں، ایک یہ کہ کھیل سے مقصود محض ورزش یا تفریح ہو، خود اس کو مستقل مقصد نہ بنالیا جائے۔ دوم یہ کہ کھیل بذاتِ خود جائز بھی ہو، اس کھیل میں کوئی ناجائز بات نہ پائی جائے۔ سوم یہ کہ اس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا نہ ہو۔ اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو اکثر و بیشتر کھیل ناجائز اور غلط نظر آئیں گے۔ ہمارے کھیل کے شوقین نوجوانوں کے لئے کھیل ایک ایسا محبوب مشغلہ بن گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں نہ انہیں دِینی فرائض کا خیال ہے، نہ تعلیم کی طرف دھیان ہے، نہ گھر کے کام کاج اور ضروری کاموں کا احساس ہے۔ اور تعجب یہ کہ گلیوں اور سڑکوں کو کھیل کا میدان بنالیا گیا ہے، اس کا بھی احساس نہیں کہ اس سے چلنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور کھیل کا ایسا ذوق پیدا کردیا گیا ہے کہ ہمارے نوجوان گویا صرف کھیلنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں، اس کے سوا زندگی کا گویا کوئی مقصد ہی نہیں، ایسے کھیل کو کون جائز کہہ سکتا ہے․․․؟

خواتین کے لئے ہاکی کھیلنے کے جواز پر فتویٰ کی حیثیت

س… پچھلے ہفتے کے “اخبارِ جہاں” میں “کتاب و سنت کی روشنی” میں ایک فتویٰ نظر سے گزرا، جس کا مقصد یہ تھا کہ موجودہ دور میں زنانہ ہاکی ٹیمیں نئے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ میں آپ سے اسی فتویٰ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا آپ بھی حافظ صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر آپ بھی عورتوں کی ہاکی ٹیموں کو جائز سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی حدیث اور فقہائے کرام کے حوالے بھی دیں۔ اگر آپ اسے ناجائز سمجھتے ہیں اور یقینا سمجھتے ہوں گے تو اَبھی تک آپ لوگوں نے اس کے بارے میں کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ کیا یہ اسلام سے ایک مذاق نہیں ہے؟

ج… “اسلامی صفحہ” میں اس پر ہم اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں، اس لئے آپ کا یہ ارشاد تو صحیح نہیں کہ: “ابھی تک اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟” ہماری رائے یہ ہے کہ دورِ جدید میں جس طرح کھیل کو رواج دے دیا گیا کہ پوری قوم کھیل کے لئے پیدا ہوئی ہے، اور اس کھیل ہی کو زندگی کا اہم ترین کارنامہ فرض کرلیا گیا ہے، کھیل کا ایسا مشغلہ تو مردوں کے لئے بھی جائز نہیں، چہ جائیکہ عورتوں کے لئے جائز ہو۔ پھر ہاکی مردانہ کھیل ہے، زنانہ نہیں۔ اس لئے خواتین کو اس میدان میں لانا صنفِ نازک کی اہانت و تذلیل بھی ہے۔ اب اگر مرد مردانگی چھوڑنے پر اور خواتین مردانگی دِکھانے پر ہی اُتر آئیں تو اس کا کیا علاج․․․؟

کبوتر بازی شرعاً کیسی ہے؟

س… میں نے کبوتر پال رکھے ہیں، آج ایک صاحب نے کہا کہ کبوتر نہیں پالنا چاہئیں، کیونکہ یہ اُجاڑ (ویران جگہ) مانگتے ہیں۔

ج… ان صاحب کی بیان کردہ وجہ تو صحیح نہیں، البتہ اگر یہ کہا جائے کہ کبوتر بازی کا مشغلہ ناجائز ہے، تو صحیح ہے۔

کراٹے کا کھیل شرعاً کیسا ہے؟

س… آج کل ایک کھیل کراٹے کا بہت مقبول ہو رہا ہے، اور اس وقت صرف کراچی میں ہزاروں نوجوان اس فن کو سیکھ رہے ہیں۔ اس کھیل کی ایک روایت ہے کہ اس کے سیکھنے والے زمین پر دو زانو بیٹھ کر اور ہاتھ زمین پر رکھ کر اپنا سر ان لوگوں کی تصویروں کے آگے جھکادیتے ہیں جو کہ اس فن کے بانیوں میں سے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کسی بھی انسان کی تصویر کے آگے سر جھکادینا شرک اور ناجائز تو نہیں ہے؟

ج… ناجائز تو ہے، یہ غیراللہ کی تعظیم کے لئے گویا سجدے کی سی شکل بنانا ہے، جو دُرست نہیں۔ باقی جہاں تک کراٹے سیکھنے کا تعلق ہے، یہ اگر کسی اچھے مقصد کے لئے ہو تو جائز ہے، بشرطیکہ اس کھیل کے دوران فرائضِ شرعیہ کو غارت نہ کیا جاتا ہو، ورنہ ناجائز ہے۔

تاش اور شطرنج کا کھیل حدیث کی روشنی میں

س… ہمارے ہاں لوگ فارغ اوقات میں تاش اور شطرنج کھیلتے ہیں اور خاص طور پر جمعة المبارک کے روز کیونکہ چھٹی ہوتی ہے، کھیلتے ہیں۔ اگر ہم ان کو منع کریں کہ اسلام میں تاش اور شطرنج کھیلنا منع ہے یا حرام ہے، تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جائز ہے، حرام نہیں ہے، اگر حرام ہے تو ہمیں کسی حدیث کی معتبر کتاب میں لکھا دِکھاوٴ۔

ج… حدیث میں ہے:

          “عن أبی موسی الأشعری رضی الله عنہ أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: من لعب بالنرد فقد عصی الله ورسولہ۔”       (ابوداوٴد ج:۲ ص:۳۱۹)

          ترجمہ:… “حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس نے “نردشیر” کھیلا، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔”

          ایک اور حدیث میں ہے:

          “عن سلیمان بن بریدة عن أبیہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: ومن لعب بالنردشیر فکأنما غمس یدہ فی لحم خنزیر ودمہ۔”    (ابوداوٴد ج:۲ ص:۳۱۹)

          ترجمہ:… “حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نردشیر کھیلا، اس نے گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون سے رنگے۔”

          اِمام ابوحنیفہ،، اِمام مالک اور اِمام احمد اس پر متفق ہیں کہ تاش اور شطرنج کا بھی یہی حکم ہے۔ نردشیر سے کھیلنا کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، اسی سے تاش اور شطرنج کا اندازہ لگالیجئے․․․! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت فرمائے۔

تاش کھیلنا شرعاً کیسا ہے؟

س… میں نے سنا ہے کہ تاش کھیلنا ایسا ہے جیسے ماں بہن کے ساتھ زنا کرنا۔ آپ اس مسئلے کی برائے مہربانی وضاحت کریں تاکہ جو مسلمان اس کھیل میں پھنسے ہوئے ہیں، وہ اس کھیل کو چھوڑ دیں۔

ج… یہ حدیث تو یاد نہیں کہ کبھی نظر سے گزری ہو، البتہ بعض اور احادیث بڑی سخت اس سلسلے میں وارِد ہیں، ایک حدیث میں ہے:

          “ملعون من لعب بالشطرنج، والناظر الیھا کآکل لحم الخنزیر۔”  (کنز العمال حدیث:۴۰۶۳۶)

          ترجمہ:… “شطرنج کھیلنے والا ملعون ہے، اور جو اس کی طرف دیکھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے خنزیر کا گوشت کھانے والا۔”

          ایک حدیث میں ہے:

          “ان الله تعالٰی ینظر فی کل یوم ثلاثمائة وستّین نظرةً، لا ینظر فیھا الٰی صاحب الشاہ یعنی الشطرنج۔”

                    (الدیلمی عن واثلہ، کنز العمال حدیث:۴۰۶۵۶)

          ترجمہ:… “اللہ تعالیٰ روزانہ اپنے بندوں پر تین سو ساٹھ بار نظرِ رحمت فرماتے ہیں، مگر تاش اور شطرنج کھیلنے والوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔”

          ایک اور حدیث میں ہے:

          “اذا مررتم بھٰوٴلاء الذین یلعبون بھٰذہ الأزلام والشطرنج والنرد وما کان من ھٰذہ فلا تسلّموا علیھم وان سلّموا علیکم فلا تردّوا علیھم۔”

           (الدیلمی عن ابی ہریرة، کنز العمال حدیث:۴۰۶۴۴)

          ترجمہ:… “جب تم ان شطرنج اور نرد کھیلنے والوں پر گزرو تو ان کو سلام نہ کرو، اور اگر وہ تمہیں سلام کریں تو ان کو جواب نہ دو۔”

          کفایة المفتی میں ہے کہ:

          “تاش، چوسر، شطرنج، لہو و لعب کے طور پر کھیلنا مکروہِ تحریمی ہے اور عام طور پر کھیلنے والوں کی غرض یہی ہوتی ہے، نیز ان کھیلوں میں مشغولی اکثر طور پر فرائض و واجبات کی تفویت (فوت کردینے) کا سبب بن جاتی ہے، اس صورت میں اس کی کراہت حدِ حرمت تک پہنچ جاتی ہے۔”

ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم اور یوگا سیکھنا

س… آج کل مختلف سائنسی علوم، مثلاً: ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم، یوگا وغیرہ سکھائے جاتے ہیں، ان کے اکثر کام جادو سے ہونے والے کام کے مشابہ ہوتے ہیں، حالانکہ یہ جادو نہیں ہیں، کیا ان علوم کا سیکھنا مسلمان کے لئے جائز ہے؟

ج… ان علوم میں مشغول ہونا جائز نہیں۔

کیا اسلام نے لڑکیوں کو کھیل کھیلنے کی اجازت دی ہے؟

س… کیا اسلام لڑکیوں کو کھیل کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟

ج… جو کھیل لڑکیوں کے لئے مناسب ہو اور اس میں بے پردگی کا احتمال نہ ہو، اس کی اجازت ہے، ورنہ نہیں۔ اس لئے آپ کو وضاحت کرنی چاہئے کہ آپ کیسے کھیل کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ آج کل بہت سے کھیل بے خدا تہذیبوں اور بے غیرت قوموں نے ایسے بھی رواج کر رکھے ہیں جو نہ صرف اسلامی حدود سے متجاوز ہیں، بلکہ انسانی وقار اور نسوانی حیاء کے بھی خلاف ہیں۔

معما جات اور اِنعامی مقابلوں میں شرکت

س… موجودہ دور کے معما جات اور اِنعامی مقابلوں میں اگر کوئی شخص مقرّرہ فیس ادا کئے بغیر شریک ہو اور قرعہ اندازی میں اس کا نام نکل آئے تو اس صورت میں وہ اِنعامی رقم لے سکتا ہے یا نہیں؟

ج… معما جات اور اِنعامی مقابلوں میں اگر حل کرنے والوں کو فیس ادا کرنی پڑتی ہے، تب تو یہ جوا ہے، جو حرام ہے، اور فیس ادا نہیں کی جاتی مگر یہ معمے لغو اور لایعنی قسم کے ہیں تو ان میں شرکت مکروہ ہے، اور اگر وہ دِینی معلومات پر مشتمل ہوں تو ان میں شرکت مستحسن ہے۔

کھیل کے لئے کونسا لباس ہو؟

س… بہت سے کھیل ایسے ہوتے ہیں جو کہ مرد شرٹ نیکر پہن کر کھیلتے ہیں، اس کے علاوہ جب کشتی کھیلتے ہیں تو صرف نیکر پہنا ہوتا ہے اور باقی سارا جسم برہنہ ہوتا ہے، اسی طرح آج کل سب لڑکے بھی تنگ پتلون اور شرٹ پہنتے ہیں جن کے گریبان اکثر کھلے ہوتے ہیں، کیا اس طرح کے کپڑے پہننا مردوں کے لئے اسلام میں جائز ہے؟

ج… ناف سے گھٹنے تک کا حصہٴ بدن ستر ہے، اسے لوگوں کے سامنے کھولنا جائز نہیں، اور ایسا تنگ لباس بھی پہننا جائز نہیں جس سے اندرونی اعضاء کی بناوٹ نمایاں ہو۔

ویڈیو گیم کا شرعی حکم

س… ویڈیو گیمز جو کہ مغربی ممالک کے بعد اب ہمارے ملک میں رواج پذیر ہیں، اس کے شائقین ہمارے یہاں ایک دو روپے دے کر اپنے شوق کی تکمیل کرتے ہیں، جبکہ اس میں کسی قسم کی کوئی شرط، نہ کسی قسم کے اِنعام کا لالچ دیا جاتا ہے، بلکہ یہ گیم دیگر اُمور کے علاوہ نشانہ بازی وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

ج… ویڈیو گیم اور دیکھنے والوں کے مشاہدے سے جہاں تک پتا چلا اور حقیقت معلوم ہوئی، یہ کھیل چند وجوہات سے شرعاً جائز نہیں۔

          اوّل:… اس کھیل میں دِینی اور جسمانی کوئی فائدہ مقصود نہیں ہوتا، اور جو کھیل ان دونوں فائدوں سے خالی ہو، وہ جائز نہیں۔

          دوم:… اس میں وقت اور روپیہ ضائع ہوتا ہے، اور ذکر اللہ سے غافل کرنے والا ہے۔

          سوم:… سب سے شدید ضرر یہ کہ اس کھیل کی عادت پڑنے پر چھوڑنا دُشوار ہوتا ہے۔

          چہارم:… بعض گیم تصویر اور فوٹو پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

          پنجم:… اس کھیل سے بچوں کو اگرچہ دِلی فرحت اور لذّت حاصل ہوتی ہے، لیکن ناجائز چیزوں سے لذّت حاصل کرنا بھی حرام ہے، بلکہ بعض فقہاء نے کفر تک لکھا ہے۔

          علاوہ ازیں اس سے بچوں کا ذہن خراب ہوتا ہے اور اس سے بامقصد تعلیم میں خلل واقع ہوتا ہے، پھر بچوں کو پڑھائی اور دُوسرے فائدے والے کاموں میں دِلچسپی نہیں رہتی، وغیرہ۔ ان مذکورہ وجوہات کی بنا پر یہ کھیل، باری تعالیٰ کے ارشاد کا مصداق ہے: “بعض لوگ اپنی جہالت سے کھیل تماشے اختیار کرتے ہیں اور اس میں پیسہ خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکادیں اور دِین کی باتوں کو کھیل تماشا بناتے ہیں، انہی لوگوں کے لئے اہانت والا عذاب ہے۔”

(سورہٴ لقمان آیت نمبر:۶)

          حضرت حسن “لہو الحدیث” کے متعلق فرماتے ہیں کہ: آیاتِ مذکورہ میں لہو الحدیث سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول لہو و لعب، فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، واہیات مشغلے اور گانا بجانا وغیرہ۔ واضح رہے کہ مذکورہ آیات کی شانِ نزول اگرچہ خاص ہے، مگر عمومِ الفاظ کی وجہ سے حکم عام رہے گا، یعنی جو کھیل فضول اور وقت و پیسہ ضائع کرنے والا ہے، وہی آیاتِ مذکورہ کی وعید میں داخل ہے۔ چونکہ ویڈیو گیم میں یہ ساری قباحتیں موجود ہیں، اس لئے یہ گیم ناجائز ہے، اس میں وقت اور پیسہ لگانا ناجائز ہے اور اس کو ترک کردینا لازم ہے۔

Facebook Comments

Comments are closed.