فلم دیکھنا

جلد ہفتم
345
0

 

ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ کا دِینی مقاصد کے لئے استعمال

س… جنابِ عالی! ریڈیو، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وہ آلات ہیں جو گانے بجانے اور تصاویر کی نمائش کے لئے ہی بنائے گئے ہیں، اور انہی فاسد مقاصد کے لئے مستقل استعمال بھی ہوتے ہیں (جیسا کہ مشاہدہ ہے)، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مذہبی پروگرام کے نام سے مختصر اوقات کے لئے تلاوتِ کلامِ پاک، تفسیر، حدیث، اَذان، درس وغیرہ بھی پیش کئے جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ: ۱-کیا ان آلات کا مروّجہ استعمال جائز ہے؟ ۲-کیا اس طرح قرآن، حدیث اور دِینی شعائر کا تقدس مجروح نہیں ہوتا؟

س… کیا ایک اسلامی ملک میں “مذہبی پروگرام” اور دُوسرے پروگراموں یا “مذہبی اُمور” اور دیگر اُمور کی تفریق، اسلام کے اس تصوّرِ حیات کی نفی نہیں جس کے سارے پروگرام اور سارے اُمور مذہبی اور دِینی ہیں اور انسانی زندگی کا کوئی شعبہ یا کام دِین سے باہر نہیں؟

ج… جو آلات لہو و لعب کے لئے موضوع ہیں، انہیں دِینی مقاصد کے لئے استعمال کرنا دِین کی بے حرمتی ہے، اس لئے بعض اکابر تو ریڈیو پر تلاوت سے بھی منع فرماتے ہیں، لیکن میں نے توریڈیو کے بارے میں ایسی شدّت نہیں دِکھائی۔ میں جائز چیزوں کے لئے اس کے استعمال کو جائز سمجھتا ہوں۔ لیکن ٹی وی اور اس کی ذُرّیت کو مطلقاً حرام سمجھتا ہوں۔

“فجر اسلام” نامی فلم دیکھنا کیسا ہے؟

س… چند سال پہلے پاکستان میں ایک فلم آئی تھی “فجر اسلام” جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے مسلمانوں کی گمراہی اور جہالت کا دور دِکھایا گیا تھا، اور یہ فلم ایک مسلمان ملک ہی نے بنائی تھی، جس میں مختلف اشارات کے ذریعے کئی مقدس ہستیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، اور جس نے پاکستان میں ریکارڈ توڑ بزنس کیا۔ کیا ایسی فلم ایک مسلمان ملک کو بنانا اور ایک مسلمان کو دیکھنا جائز ہے؟ جبکہ ایک غیرمسلم ملک ایسی فلم بناتا ہے تو پوری اسلامی دُنیا اس کی مذمت کرتی ہے اور جب ہم مسلمان ہوتے ہوئے ایسی حرکت کرتے ہیں تو یہ چیز ہمیں کہاں تک زیب دیتی ہے؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ ایک امریکی فلم “Message” کے بارے میں آپ کے کالم میں پڑھا تھا، اس لئے میں مندرجہ بالا فلم “فجر اسلام” کے بارے میں پوچھنے کی جرأت کر رہا ہوں اور ہوسکتا ہے ان دونوں فلموں میں کوئی بنیادی فرق ہو، جسے میں سمجھنے سے قاصر رہا ہوں، تو براہِ مہربانی اس کی وضاحت ضرور کردیجئے تاکہ میری اصلاح ہوسکے۔

ج… “فجر اسلام” فلم پر علمائے کرام نے شدید احتجاج کی اور اس کو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سازش قرار دیا، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ آج اسلام، اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ مظلوم ہے۔ حق تعالیٰ حکمرانوں کو دِین کا فہم دے، آمین!

ٹی وی پر حج فلم دیکھنا بھی جائز نہیں

س… پچھلے دنوں ٹی وی پر “حج کی فلم” دِکھائی گئی، جس کو زیادہ تر لوگوں نے دیکھا، اسلام میں براہِ راست فلم کی کیا حیثیت ہے؟ ایک شخص کہتا ہے کہ ویڈیو فلم ہر طرح کی جائز ہے، کیونکہ یہ سائنس کی ایجاد ہے اور ترقی کی نشانی ہے، لہٰذا اس کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس میں عورتیں نہ ہوں۔ کیا اس کا یہ خیال صحیح ہے؟

ج… جو شخص ٹی وی اور ویڈیو فلم کو جائز کہتا ہے، وہ تو بالکل غلط کہتا ہے، شریعت میں تصویر مطلقاً حرام ہے، خواہ دقیانوسی زمانے کے لوگوں نے ہاتھ سے بنائی ہو، یا جدید سائنسی ترقی نے اسے ایجاد کیا ہو، جہاں تک “حج فلم” کا تعلق ہے، اس کے بنانے والے بھی گناہگار ہیں اور دیکھنے والے بھی، دونوں کو عذاب اور لعنت کا پورا پورا حصہ ملے گا، دُنیا میں تو مل رہا ہے، آخرت کا انتظار کیجئے․․․!

“اسلامی فلم” دیکھنا

س… ہم اہالیانِ پوسٹل کالونی سائٹ کراچی ایک اہم مسئلہ اسلامی رُو سے حل کرانا چاہتے ہیں، عرض یہ ہے کہ انگریزی زبان میں اسلامی موضوعات پر فلمائی گئی ایک فلم کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ اس فلم میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت امیر حمزہ، حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُونٹنی کی آواز بھی مختصر طور پر سنائی گئی ہے، مسئلہ یہ درپیش ہے کہ آیا ایک اسلامی فلم کی حیثیت سے یہ فلم دیکھنا جائز ہے یا ہم اس فلم کو دیکھ کر کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں؟

ج… یہ فلم “اسلامی فلم” نہیں، بلکہ اسلام اور اکابرِ اسلام کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے، اس کا دیکھنا گناہِ کبیرہ ہے۔

ٹی وی پر بھی فلم دیکھنا جائز نہیں

س… ہم یہاں قطر میں کام کرتے ہیں اور جب کام سے فارغ ہوتے ہیں تو پھر اپنے گھر میں ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں، جس کو ہم سب دوست مل بیٹھ کر دیکھتے ہیں، ہمارے دوستوں میں کافی لوگ ایسے ہیں کہ وہ حاجی ہیں، اور بعض نے دو دو بار حج کیا ہے، اور بعض لوگ اِمامِ مسجد ہیں، یہ سب حضرات شام کو پانچ بجے ٹی وی کے پاس بیٹھتے ہیں اور رات کو ۱۲ بجے تک ٹی وی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور دِلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پر تقریباً سب پروگرام عربی اور انگریزی میں ہوتے ہیں اور ان حضرات میں سے کوئی بھی اس کی زبان کو نہیں جانتا۔ ظاہر ہے ان سے ان کی مراد پروگرام سمجھنا نہیں بلکہ ان کی اداکاراوٴں کو دیکھنا ہے، جو کہ ایک گناہ ہے۔ ہمارے جو دوست سینما کو جاتے ہیں تو یہ حاجی صاحبان اور مولوی صاحبان ان کو فلم پر جانے سے منع کرتے ہیں، اور ان کو کہتے ہیں کہ: “فلم دیکھنا گناہ ہے” اور جب کوئی فلم ٹی وی پر چل رہی ہو تو یہ لوگ سب سے پہلے ٹی وی پر فلم دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ ہم کو یہ بتادیں کہ کیا ٹی وی دیکھنا، ان جیسے پرہیزگاروں کے لئے دُرست ہے؟ کیا ٹی وی اور فلم میں کوئی فرق ہے؟ اور کیا ان کے دعوے کے مطابق فلم دیکھنا گناہ ہے اور ٹی وی میں وہی فلم دیکھنا گناہ نہیں ہے؟ ان سوالات کا جواب دے کر مشکور ہونے کا موقع دیں، والسلام۔

ج… فلم ٹی وی پر دیکھنا بھی جائز نہیں، نہ اس میں اور سینما کی فلم میں کوئی بنیادی نوعیت کا فرق ہے، دونوں کے درمیان فرق کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص گندے بازار میں جاکر بدکاری کرے، اور دُوسرا کسی فاحشہ کو اپنے گھر میں بلاکر بدکاری کرے، اس لئے تمام مسلمانوں کو اس گندگی سے پرہیز کرنا چاہئے۔

حیاتِ نبوی پر فلم- ایک یہودی سازش

س… میرے ایک محترم دوست نے کسی عزیز کے گھر ٹیلی ویژن پر وی سی آر کے ذریعے امریکہ کی بنی ہوئی ایک فلم “Message” جس کا اُردو معنی “پیغام” ہے، دیکھی، اور اس فلم کی تعریف دفتر آکر کرنے لگے، دراصل وہ فلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے متعلق تھی اور ہجرت کے بعد کے واقعات قلم بند کئے گئے تھے۔ اس میں یہ دِکھایا کہ اشاعتِ اسلام میں کتنی دُشواریاں پیش آئیں، مسجدِ قبا کی تعمیر، حضرت بلال حبشی کو اَذان دیتے ہوئے دِکھایا، حضرت حمزہ کا کردار بھی ایک عیسائی اداکار نے ادا کیا، سب سے بُری بات یہ ہے کہ اس فلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تک دِکھایا، یعنی یہ مسجدِ قبا کی تعمیر ہو رہی ہے اور وہ سایہ اِینٹ اُٹھا اُٹھاکر دے رہا ہے۔ غرض یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس فلم میں نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصوّر ہے۔ میرے محترم دوست اس کو ایک تبلیغی فلم کہہ رہے تھے، کہنے لگے کہ اس میں مسلمانوں پر ظلم و ستم دِکھایا گیا ہے اور بڑے اچھے مناظر فلمائے گئے۔ غرض اس کی تعریف کی۔ لیکن میں نے جب سنا تو دُکھ ہوا، میں نے فوراً کہا کہ ایسی فلم مسلمانوں کو ہرگز نہیں دیکھنی چاہئے، بلکہ ایسی فلموں کا بائیکاٹ کریں، مسلمانوں کا ایمان کتنا کمزور ہوگیا ہے، اتنی بڑی بڑی ہستیوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار زانی اور شرابی عیسائی اداکاروں نے ادا کئے اور نہ جانے کس ناپاک سایہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ سے تشبیہ دی، کتنے افسوس کی بات ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ کیا ایسی فلم کو دیکھا جاسکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے ان کو توبہ اِستغفار کرنی چاہئے، خدارا! اس کا جواب ضرور ضرور اخبار کی معرفت دیں اور دیکھنے والوں کو اس کی کیا سزا ملنی چاہئے؟

ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو فلمانا، اسلام اور مسلمانوں کا بدترین مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ علمائے اُمت اس پر شدید احتجاج کرچکے ہیں اور حساس مسلمان اس کو اسلام کے خلاف ایک یہودی سازش تصوّر کرتے ہیں، ایسی فلم کا دیکھنا گناہ ہے اور اس کا بائیکاٹ فرض ہے۔

ٹی وی میں عورتوں کی شکل و صورت دیکھنا

س… کیا ٹی وی میں بھی عورتوں کی شکل و صورت دیکھنا گناہ ہے؟ میں نے ایک جگہ رسالے میں پڑھا تھا کہ نامحرَم عورتوں کا دیکھنا اور اس کا عادی ہونا بہت بڑا گناہ ہے، موت کے وقت انجام اچھا نہیں ہوتا، کیا اس کا اطلاق ٹی وی پر بھی ہوتا ہے؟

ج… ٹی وی دیکھنا جائز نہیں، اس پر نامحرَم عورتوں کا دیکھنا گناہ در گناہ ہے۔

ٹی وی اور ویڈیو پر اچھی تقریریں سننا

س… ہم کو اس قدر شوق ہوا کہ ہم جہاں بھی کوئی اچھا بیان ہوتا ہے وہاں پہنچ جاتے ہیں، اور یہاں تک ویڈیو کیسٹ پر بھی کسی عالم کا بیان اچھا ہوتا ہے تو بیٹھ کر سنتے ہیں اور خاص کر جمعہ کو ٹی وی پر جو پروگرام آتا ہے، اس کو بھی سنتے ہیں، لیکن ہم کو کسی نے کہا کہ یہ جائز نہیں، لہٰذا میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ بتائیں یہ جائز ہے یا ناجائز؟

ج… ہماری شریعت میں جاندار کی تصویر حرام ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے، ٹیلی ویژن اور ویڈیو فلموں میں تصویر ہوتی ہے، جس چیز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حرام اور ملعون فرما رہے ہوں، اس کے جواز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان چیزوں کو اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ خیال بالکل لغو ہے۔ اگر کوئی اُمّ الخبائث (شراب) کے بارے میں کہے کہ اس کو نیک مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تو قطعاً لغو بات ہوگی۔ ہمارے دور میں ٹی وی اور ویڈیو “اُمّ الخبائث” کا درجہ رکھتے ہیں اور یہ سیکڑوں خبائث کا سرچشمہ ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بنی ہوئی فلم دیکھنا

س… وی سی آر نے پہلے گندگی پھیلائی ہوئی ہے، اب معلوم ہوا ہے کہ وی سی آر پر ملتان اور ساہیوال میں وہی فلم دِکھائی جارہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر بنی ہے، اور اس فلم پر دُنیائے اسلام نے غم و غصّے کا اظہار کیا تھا اور اسلامی حکومتوں نے مذمت بھی کی تھی۔ کیا حکومت اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم اُٹھائے گی اور اس شیطانی عمل کو روکنے کے لئے عوام الناس کا فرض نہیں ہے؟ جو لوگ یہ فلم چلانے، دیکھنے یا دِکھانے کے مجرم ہیں، ان کے لئے شریعتِ محمدی کا کیا حکم ہے؟ میں نے اس سلسلے میں پورے وثوق اور معتبر شہادتوں سے معلوم کرلیا ہے کہ یہ فلم دِکھائی جارہی ہے، مزید تصدیق کے لئے میں اپنے آپ میں جرأت نہیں پاتا کہ یہ ناپاک فلم دیکھوں۔

ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدّسہ کو فلم کا موضوع بنانا، نہایت دِل آزار توہین ہے، دُشمنانِ اسلام نے بارہا اس کی کوشش کی، لیکن غیور مسلمانوں نے سراپا احتجاج بن کر ان کی سازش کو ہمیشہ ناکام بنایا۔ اگر آپ کی اطلاعات صحیح ہیں تو یہ نہایت افسوس ناک حرکت ہے، حکومت کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور اس کے مرتکب افراد کو توہینِ رسالت کے جرم پر سخت سزا دینی چاہئے۔ اگر حکومت اس طرف توجہ نہ کرے تو مسلمانوں کو آگے بڑھ کر خود اس کا سدِ باب کرنا چاہئے۔

ٹیلی ویژن دیکھنا کیسا ہے؟ جبکہ اس پر دِینی پروگرام بھی آتے ہیں

س… ٹیلی ویژن دیکھنا کیسا ہے؟ جبکہ اس پر دِینی غور و فکر اور تفسیر وغیرہ بھی بیان کی جاتی ہے۔ رہا تصویر کا مسئلہ تو بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ یہ پرچھائیں ہے، عکس ہے، کوئی کہتا ہے کہ تصویر ساکن یعنی فوٹو کی ممانعت ہے، اور یہ چلتی پھرتی ہے۔ وضاحت فرماویں۔

ج…ٹیلی ویژن کا مدار تصویر ہے، اور تصویر کا ملعون ہونا ہر مسلمان کو معلوم ہے، اور کسی ملعون چیز کو کسی نیک کام کا ذریعہ بنانا بھی دُرست نہیں۔ مثلاً: شراب سے وضو کرکے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے، تمام اہلِ علم اس پر متفق ہیں کہ عکسی تصویریں جو کیمرے سے لی جاتی ہیں، ان کا حکم تصویر ہی کا ہے، خواہ وہ متحرک ہو یا ساکن۔

فلم دیکھنے کے لئے رقم دینا

س… ہمارے محلے کے چند لڑکے فلم کے لئے پیسے جمع کرتے ہیں اور ہم نے ان کو پہلے ۲۵ روپے دئیے تھے، اور ہم نے فلم نہیں دیکھی تھی، اب آپ سے یہ گزارش ہے کہ فلم کے لئے پیسے دینا بھی گناہ ہے، اور فلم دیکھنا بھی گناہ ہے، ان کو آخرت میں کیا سزا دی جائے گی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کی کیا سزا ہے؟ اور کیا گناہ ہے؟

ج… جو سزا فلم دیکھنے والوں کی ہے، وہی اس کے لئے پیسے دینے والوں کی۔

ویڈیو فلم کو چھری، چاقو پر قیاس کرنا دُرست نہیں

س… اس ماہِ رمضان میں اِعتکاف کے لئے ایک خانقاہ گیا، اس خانقاہ کے جو پیر صاحب ہیں، ان کے طریقِ کار پر میں کافی عرصے سے ذکر کرتا رہا ہوں۔ اس دفعہ جب میں بیعت ہونے کے ارادے سے ان کے پاس گیا تو وہاں عجیب منظر دیکھنے میں آیا، پیر صاحب ظہر اور عصر کے درمیان ایک گھنٹے تک درسِ قرآن دیتے تھے، جس کی ویڈیو فلم بنتی تھی، جب میں نے یہ چیز دیکھی تو میں نے بیعت کا ارادہ بدل دیا۔ یہاں اپنے مقام پر واپس آکر ان کے پاس خط لکھا، جس میں ان کے پاس لکھا کہ علمائے کرام تو ویڈیو فلم کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے جواب میں تحریر فرمایا کہ: “ویڈیو فلم ہو یا کلاشنکوف یا چھری، چاقو ہو، جائز کام کے لئے ان چیزوں کا استعمال بھی جائز، اور ناجائز کاموں کے لئے ان کا استعمال بھی ناجائز۔” اب آپ فرمائیں کہ علمائے دِین اور مفتیان صاحبان اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ کیا دِین کی تبلیغ کے لئے ویڈیو فلم کا استعمال جائز ہے؟ اور اگر نہیں تو تحریر فرمائیں تاکہ میرے پاس اس کے بارے میں کوئی مثبت جواب ہو، ان کا جواب بھی آپ کے پاس بھیج رہا ہوں۔

ج… ویڈیو فلم پر تصویریں لی جاتی ہیں اور تصویر جاندار کی حرام ہے، اور شریعتِ اسلام میں حرام کام کی اجازت نہیں۔ اس لئے اس کو چھری، چاقو پر قیاس کرنا غلط ہے، اور ان پیر صاحب کا اِجتہاد ناروا ہے۔ آپ نے اچھا کیا کہ ایسے برخود غلط آدمی سے بیعت نہیں کی۔

بیوی کو ٹی وی دیکھنے کی اجازت دینا

س… ایک شخص کے باپ کے گھر ٹیلی ویژن ہے، گھر کے سارے افراد ہر پروگرام دیکھتے ہیں، لیکن وہ شخص اس سے نفرت کرتا ہے، اس کی بیوی ٹیلی ویژن دیکھنے کی اس سے اجازت چاہتی ہے، مگر وہ شخص اس کو پسند نہیں کرتا، ٹیلی ویژن پروگرام دیکھنا کیسا ہے؟

ج… ٹیلی ویژن جس میں کہ فحش تصاویر کی نمائش ہوتی ہے، اور انسان کے لئے ایک اعتبار سے اس میں دعوتِ گناہ ہے، اس کا دیکھنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ جس طرح غیرمحرَم عورتوں کو دیکھنا جائز نہیں، اسی طرح مردوں کی تصاویر بھی دیکھنا جائز نہیں، لہٰذا جناب کو اپنی بیوی کو ٹیلی ویژن دیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔

ویڈیو کیسٹ بیچنے والے کی کمائی ناجائز ہے، نیز یہ دیکھنے والوں کے گناہ میں بھی شریک ہے

س… میری دُکان سے جو لوگ فلمیں (جو بعض اوقات بے ہودہ بھی ہوتی ہیں) لے کر جاتے ہیں، کیا ان کے ساتھ مجھے بھی گناہ ہوگا؟

ج… جی ہاں! آپ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں، مزید برآں یہ کہ یہ آمدنی بھی پاک نہیں۔

س… کہا جاتا ہے کہ فلمیں دیکھنے سے معاشرہ بگڑتا ہے، لڑکیاں بے پردہ ہوجاتی ہیں، اور چھوٹے چھوٹے بچے گلیوں میں قرآنی آیات کے بجائے نت نئے مقبول گانے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور میں اتفاق کرتا ہوں کہ ایسا ہوتا ہے، لیکن کیا اس کا گناہ میرے سر یا میرے جیسے دُوسرے لوگ جنھوں نے ویڈیو کی دُکانیں کراچی میں بلکہ ملک کے چپے چپے میں کھولی ہوئی ہیں، ان کے بھی سر ہوگا؟ بہرحال ہم تو روزی کی خاطر یہ سب کچھ کرتے ہیں اور ہمارا مقصد روزی ہوتا ہے، کسی کو بگاڑنا نہیں۔

ج… یہ تو اُوپر لکھ چکا ہوں کہ آپ اور آپ کی طرح کا کاروبار کرنے والے اس گناہ میں اور اس گناہ سے پیدا ہونے والے دُوسرے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں۔ رہا یہ کہ آپ کا مقصد روٹی کمانا ہے، معاشرے میں گندگی پھیلانا نہیں، اس کا جواب بھی اُوپر لکھ چکا ہوں کہ ایسی روزی کمانا ہی حلال نہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو اور گندگی پھیلے۔

ٹیلی ویژن میں کام کرنے والے سب گناہگار ہیں

س… ٹیلی ویژن میں عام طور سے گانے اور میوزک کے پروگرام دِکھائے جاتے ہیں، اکثر مخلوط گانے اور پروگرام ہوتے ہیں، اور اس گناہ کے فعل میں ٹیلی ویژن کے اربابِ اختیار بھی شامل ہوتے ہیں، اس گناہ کا کفارہ ممکن ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کیا؟

ج… ناچ اور گانا حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، ٹیلی ویژن دیکھنا بھی گناہ ہے۔ ناچنے والی، ٹیلی ویژن چلانے والے اور ٹیلی ویژن دیکھنے والے سبھی گناہگار ہیں، اللہ تعالیٰ نیک ہدایت فرمائیں۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے محکموں میں کام کرنا

س… جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جن کا وجود ہی اسلامی نقطئہ نگاہ سے جائز نہیں، مثلاً: ٹیلی ویژن، ریڈیو وغیرہ، جن سے رقص و موسیقی اور اسی قسم کی دُوسری چیزیں نشر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے میرے اور بہت سے مسلمانوں کے دِل میں یہ مسئلہ ہوگا کہ ان محکموں سے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کی روزی وابستہ ہے، ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے فرض کو بہت ہی خوش اُسلوبی اور دیانت داری سے انجام دیتے ہیں، تو کیا ان لوگوں کی روزی جو ان اداروں سے منسلک ہیں، جائز ہے؟ اور اگر جائز نہیں تو کیا وہ لوگ گناہگار ہیں؟ کیونکہ وہ لوگ اس پیسے سے اپنے معصوم بچوں کی پروَرِش کرتے ہیں، جن کو ابھی اچھے اور بُرے کی تمیز نہیں، تو کیا وہ بھی اس گناہ میں شریک ہیں یا پھر ان کے والدین پر ہی تمام گناہ ہوگا؟

ج… رقص و موسیقی کے گناہ ہونے اور اس کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کے ناپاک ہونے میں کیا شبہ ہے․․․؟ باقی وہ معصوم بچے جب تک نابالغ ہیں، گناہ میں شریک نہیں، بلکہ حرام آمدنی سے پروَرِش کا وبال ان کے والدین پر ہے۔

وی سی آر دیکھنے کی کیا سزا ہے؟

س… ہمارے معاشرے میں وی سی آر کی لعنت پھیل گئی ہے، جس سے ہماری نئی نسل فلمیں دیکھ کر بُری طرح متأثر ہوئی ہے، اس لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیجئے کہ اس کی سزا کیا ہے؟

ج… اس کی سزا دُنیا میں تو مل رہی ہے کہ نئی نسل نے اپنی اور دُوسروں کی زندگی اَجیرن کر رکھی ہے، آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے․․․!

ٹی وی اور ویڈیو فلم

س… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرعِ متین و علمائے دِین اس بارے میں کہ ٹی وی اور ویڈیو کیسٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا یہ تصویر کی حیثیت سے ممنوع ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں مندرجہ ذیل اپنی گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

          ۱:… اگر ٹی وی براہِ راست ریز (شعاعوں) کے ذریعہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ اسی آن میں ہمیں دِکھارہی ہو، جیسے کبھی کبھی حج پروگرام نشر ہوتے ہیں، جو کچھ وہاں حجاجِ کرام کرتے ہیں وہ ہم اسی آن میں یہاں دیکھتے ہیں، کیا اس وقت ٹی وی دُوربین جیسی نہیں ہوتی؟ اور کیا کسی آلے سے اگر دُور کی آواز سننا جائز ہے تو کیا دُور کا دیکھنا جائز نہیں؟

          ۲:… فلم میں ایک خرابی یہ بتائی جاتی ہے کہ اس میں تصویر ہے، اور تصویر حرام ہے۔ مگر ویڈیو کیسٹ کی حقیقت یہ ہے کہ ویڈیو کیسٹ میں کسی طرح کی تصویر نہیں چھپتی، بلکہ اس کے ذریعے اس کے سامنے والی چیزوں کی ریز (Rays) شعاعوں کو ٹیپ کرلیا جاتا ہے، جس طرح آواز کو ٹیپ کرلیا جاتا ہے، ٹیپ ہونے کے باوجود جس طرح آواز کی کوئی صورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ غیرمرئی ہوتی ہے، اسی طرح ان ریز شعاعوں کی بھی کوئی صورت نہیں ہوتی، لہٰذا فلمی فیتوں اور ویڈیو کیسٹ میں بڑا فرق ہے، فلمی فیتوں میں تو تصویر باقاعدہ نظر آتی ہے، جس تصویر کو پردے پر بڑھاکر دِکھایا جاتا ہے مگر ویڈیو کیسٹ “مقناطیسی” ہوتے ہیں جو مذکورہ ریز کرنوں کو جذب کرلیتے ہیں، پھر ان جذب شدہ کو ٹی وی سے متعلق کیا جاتا ہے، تو ٹی وی ان ریز کو تصویر کی صورت میں بدل کر اپنے آئینے میں ظاہر کردیتی ہے، چونکہ یہ صورت متحرک اور غیرقار ہوتی ہے اسے عام آئینوں کی صورت پر قیاس کیا جاتا ہے، جب تک آئینے کے رُوبرو ہو اس میں صورت رہے گی، اور ہٹ جانے کی صورت میں ختم ہوجائے گی، یوں ہی جب تک ویڈیو کیسٹ کا رابطہ ٹی وی سے رہے گا تصویر نظر آئے گی، اور رابطہ منقطع ہوتے ہی تصویر فنا ہوجائے گی۔

          ۳:… آئینے اور ٹی وی کے ناپائیدار عکوس کو حقیقی معنوں میں تصویر، تمثال، مجسمہ، اسٹیچو وغیرہ کہنا صحیح نہیں، اس لئے کہ پائیدار ہونے سے پہلے عکس ہی ہوتا ہے، تصویر نہیں بنتا، اور جب اسے کسی طرح سے پائیدار کرلیا جائے تو وہی تصویر بن جاتا ہے، اب اگر اس کو ناظرین تصویر کہیں تو یہ مجازاً ہوگا۔

          ۴:… اور یہ کہ جب علماء نے بالاتفاق بہت چھوٹی تصویر جیسے بٹن یا انگوٹھی کے نگینے پر تصویر کے استعمال کو جائز کہا ہے، مگر یہاں تو ویڈیو میں بالکل تصویر کا وجود ہی نہیں، اور کسی طاقتور خوردبین سے بھی نظر نہیں آتا۔

          ۵:… اُوپر والی باتوں پر نظر رکھتے ہوئے میرے خیال میں ٹی وی بذاتِ خود خراب یا مذموم نہیں، ہاں! موجودہ پروگراموں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ٹی وی کو مذموم کہا جاسکتا ہے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آدمی ٹی وی نہ رکھے، بلکہ مذموم پروگرام کو نہ دیکھے، جیسے ریڈیو۔

          ۶:… یہ بات زیرِ غور ہے کہ اگر پاکستان کا مقدر اچھا بن جائے اور یہاں مکمل اسلامی حکومت قائم ہوجائے تو کیا ٹی وی اور ٹی وی اسٹیشن ختم کئے جائیں گے؟

          ۷:… یہ کہ یہاں پر ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ مفتی محمود کبھی کبھی ٹی وی پر اپنی تقریر سناتے تھے، کیا ان کا عمل یہ نہیں بتا رہا ہے کہ وہ فی ذاتہ ٹی وی کو مذموم نہ سمجھتے تھے؟

          ۸:… یہ کہ علمائے حجاز و مصر کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

          ۹:… ہم سے سائنس کے طلباء کہہ رہے ہیں کہ جو ہم میں سے ٹی وی دیکھ رہا ہے، وہ علمی سائنس میں ہم سے آگے ہے، کیونکہ ٹی وی میں جدید پروگرام دیکھتے ہیں، کیا ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں؟

          اور آخر میں یہ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری یہ ساری بحث ٹی وی کو خواہ مخواہ جائز رکھنے کے لئے نہیں، بلکہ اس جدید مسئلے کے سارے پہلو آپ کے سامنے رکھنا مقصود ہے، غلطی ہو تو معاف فرمائیں۔

ج… جو نکات آپ نے پیش فرمائے ہیں، اکثر و بیشتر پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، ٹی وی اور ویڈیو فلم کا کیمرہ جو تصویریں لیتا ہے وہ اگرچہ غیرمرئی ہیں، لیکن تصویر بہرحال محفوظ ہے، اور اس کو ٹی وی پر دیکھا اور دِکھایا جاتا ہے، اس کو تصویر کے حکم سے خارج نہیں کیا جاسکتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہاتھ سے تصویر بنانے کے فرسودہ نظام کی بجائے سائنسی ترقی میں تصویرسازی کا ایک دقیق طریقہ ایجاد کرلیا گیا ہے، لیکن جب شارع نے تصویر کو حرام قرار دیا ہے تو تصویرسازی کا طریقہ خواہ کیسا ہی ایجاد کرلیا جائے تصویر تو حرام ہی رہے گی۔ اور میرے ناقص خیال میں ہاتھ سے تصویرسازی میں وہ قباحتیں نہیں تھیں جو ویڈیو فلم اور ٹی وی نے پیدا کردی ہیں۔ ٹی وی اور ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ گھر گھر سینما گھر بن گئے ہیں۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شارع ہاتھ کی تصویروں کو تو حرام قرار دے، اس کے بنانے والوں کو ملعون اور “أشدُّ عذابًا یوم القیامة” بتائے اور فواحش و بے حیائی کے اس طوفان کو جسے عرفِ عام میں “ٹی وی” کہا جاتا ہے، حلال اور جائز قرار دے․․․؟

          رہا یہ کہ اس میں کچھ فوائد بھی ہیں، تو کیا خمر اور خنزیر، سود اور جوئے میں فوائد نہیں؟ لیکن قرآنِ کریم نے ان تمام فوائد پر یہ کہہ کر لکیر پھیر دی ہے: “وَاِثْمُھُمَا أَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا”۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویڈیو فلم اور ٹی وی سے تبلیغِ اسلام کا کام لیا جاتا ہے، ہمارے یہاں ٹی وی پر دِینی پروگرام بھی آتے ہیں، لیکن کیا میں بڑے ادب سے پوچھ سکتا ہوں کہ ان دِینی پروگراموں کو دیکھ کر کتنے غیرمسلم دائرہٴ اسلام میں داخل ہوگئے؟ کتنے بے نمازیوں نے نماز شروع کردی؟ کتنے گناہگاروں نے گناہوں سے توبہ کرلی؟ لہٰذا یہ محض دھوکا ہے۔ فواحش کا یہ آلہ جو سرتاسر نجس العین ہے اور ملعون ہے، اور جس کے بنانے والے دُنیا و آخرت میں ملعون ہیں، وہ تبلیغِ اسلام میں کیا کام دے گا؟ بلکہ ٹی وی کے یہ دِینی پروگرام گمراہی پھیلانے کا ایک مستقل ذریعہ ہیں، شیعہ، مرزائی، ملحد، کمیونسٹ اور ناپختہ علم لوگ ان دِینی پروگراموں کے لئے ٹی وی پر جاتے ہیں اور اناپ شناپ جو ان کے منہ میں آتا ہے کہتے ہیں، کوئی ان پر پابندی لگانے والا نہیں، اور کوئی صحیح و غلط کے درمیان تمیز کرنے والا نہیں، اب فرمایا جائے کہ یہ اسلام کی تبلیغ و اِشاعت ہو رہی ہے یا اسلام کے حسین چہرے کو مسخ کیا جارہا ہے․․․؟

          رہا یہ سوال کہ فلاں یہ کہتے ہیں اور یہ کرتے ہیں، یہ ہمارے لئے جواز کی دلیل نہیں۔

فلم اور تبلیغِ دِین

س… جمعرات ۲۹/ اکتوبر ۱۹۸۱ء کی اشاعت میں جناب کوثر نیازی صاحب نے لکھا ہے کہ: “فلم اور ٹی وی کے ذریعے اسلام کی اشاعت ہونی چاہئے، اور فلم اور ٹی وی ایسا زبردست میڈیا ہے کہ ہر گھر میں موجود ہے، اور اس کا ہر چھوٹے بڑے کو چسکا ہے۔” آگے کوثر صاحب لکھتے ہیں کہ: “اب وہ زمانہ نہیں کہ فلم کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں بحثیں کی جائیں، ہم پسند کریں یا ناپسند، دُنیا بھر میں اسے بطور تفریح اپنالیا گیا ہے” تو کیا واقعی ان ذرائع کو اِسلام کی عظمت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: “جب حلال و حرام کے اجارہ دار حلقے خود اس عصری رُجحان کے سامنے بے بس ہوں تو کیا مناسب نہ ہوگا کہ مسلمان ملک انتہاپسندی کے سنگھاسن سے نیچے اُتر کر صنعتِ فلم سازی کے لئے اصلاحی اور انقلابی اندازِ فکر اختیار کریں؟”

ج… آپ کے سوال میں چند باتیں قابلِ غور ہیں:

          اوّل:… جناب کوثر صاحب نے حلال و حرام کے “اجارہ دار حلقوں” کے لفظ سے جو طنز کیا ہے، اگر ان کی مراد علمائے کرام سے ہے تو قابلِ افسوس جہلِ مرکب ہے، اس لئے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ و رسول کا کام ہے، علمائے کرام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ و رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو محض اپنی خواہشِ نفس یا لوگوں کی غلط خواہشات کی وجہ سے حلال کہنے سے معذور ہیں۔ اگر کوثر صاحب اسی کو “اجارہ داری” سے تعبیر کرتے ہیں کہ حضراتِ علمائے کرام، کفر و نفاق کو اسلام کیوں نہیں کہتے؟ حرام کو حلال کیوں نہیں کردیتے؟ منکرات و خواہشات کو نیکی و پارسائی کیوں نہیں بتاتے؟ اور ہر وہ ادائے کج جو معاشرے میں رواج پذیر ہوجائے، اس کو عین صراطِ مستقیم کیوں نہیں کہتے․․․؟ تو میں جناب کوثر صاحب سے عرض کروں گا کہ یہ اجارہ داری بہت مبارک ہے، اور اُمید ہے کہ قیامت کے دن ان کے ان الفاظ کو شہادت کے طور پر بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا جاسکے۔ اور ان سے بھی توقع رکھوں گا کہ وہ اَحکم الحاکمین کی عدالت میں یہ گواہی ضرور دیں (اگر وہ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں) کہ: “یا اللہ! تیرے ان بندوں نے حلال و حرام کی اجارہ داری قائم کر رکھی تھی، آپ نے اور آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا تھا، ہم نے زمانے کے حالات کا واسطہ دے کر ان سے بار بار اپیل کی کہ اب ان چیزوں کو حلال کردیا جائے، مگر ان بندگانِ خدا نے کسی کی ایک نہ مانی، ان کی ایک ہی رَٹ رہی کہ جس چیز کو اللہ و رسول نے حرام قرار دے دیا ہے، وہ ہمیشہ کے لئے حرام رہے گی، قیامت تک کوئی شخص خدا اور رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال نہیں کرسکتا۔” جب کوثر صاحب بارگاہِ اِلٰہی میں یہ شہادت دیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ اَحکم الحاکمین کا فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے؟ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی!

          دوم:… کوثر صاحب کا یہ ارشاد کہ: “اب وہ زمانہ نہیں کہ فلاں چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں بحثیں کی جائیں” یہ قصہ پڑھ کر کم از کم میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، کیا کسی ایسے شخص سے جس کے دِل میں رائی کے دسویں حصے کے برابر بھی ایمان ہو، یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ کسی چیز کے شرعاً حلال یا حرام اور جائز یا ناجائز ہونے کی بحث ہی کو بے کار کہنے لگے․․․؟ العیاذ باللہ! اَستغفر اللہ!

          اور کوثر صاحب کی یہ دلیل بھی عجیب ہے کہ: “ہم پسند کریں یا ناپسند، دُنیا بھر میں اسے بطور تفریح اپنالیا گیا ہے” کیا جو چیز انسانیت و شرافت اور آئین و شرع کے علی الرغم، فساق و فجار کے عام حلقوں میں اپنالی جائے وہ جائز اور حلال ہوجاتی ہے؟ اور اس کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں بحث کرنا لغو اور بے کار ہوجاتا ہے؟ آج ساری دُنیا میں قانون شکنی کا رُجحان بڑھتا جارہا ہے، کوثر صاحب کو چاہئے کہ دُنیا بھر کی حکومتوں کو مشورہ دیں کہ یہ آئین و قانون کی پابندیاں لغو ہیں، ہر جگہ بس جنگل کا قانون ہونا چاہئے کہ جس کے جی میں جو آئے کرے، اور جدھر جس کا منہ اُٹھے ادھر چل نکلے، مہذب حکومتوں کو ایسا مشورہ دیا جائے، تو یقین ہے کہ مشورہ دینے والے کی جگہ دِماغی شفاخانہ ہوگی۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک پڑھا لکھا شخص، جو مسلمان کہلاتا ہے، خدا و رسول کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ: “جناب! یہ بیسویں صدی ہے، اس زمانے میں آپ کے حلال و حرام کو کوئی نہیں پوچھتا، اس لئے ہمیں اس سے معاف رکھئے۔” لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ!

          سوم:… فلم اور تصویر کو خدا و رسول نے حرام قرار دیا ہے اور ان کے بنانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ کوثر صاحب کا یہ مشورہ کہ اس حرام اور ملعون چیز کو عظمتِ اسلام کے لئے استعمال کرنا چاہئے، اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص یہ مشورہ دے کہ چونکہ اس زمانے میں سود سے چھٹکارا ممکن نہیں، اس لئے اس کے حلال یا حرام ہونے کی بحث تو بے کار ہے، ہونا یہ چاہئے کہ تمام اسلامی ممالک سود کی نجاست سے مسجدیں تعمیر کیا کریں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر وہ کونسا اسلام ہوگا جس کی عظمت ایک حرام اور ملعون چیز کے ذریعہ دوبالا کی جائے گی؟ جب حلال و حرام کی بحثوں کو ہی بالائے طاق رکھ دیا جائے تو اسلام باقی ہی کہاں رہا، جس کی تبلیغ و اشاعت اور عظمت و سربلندی مطلوب ہے․․․؟ کوثر صاحب شاید یہ نہیں جانتے کہ اسلام اپنی اشاعت و سربلندی کے لئے ان شیطانی آلات کا منّت کش نہیں ہے، اور ان شیطانی آلات سے جو چیز فروغ پائے گی وہ اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا اسلام نہیں ہوگا، بلکہ کوثر صاحب اور ان کے ہم نواوٴں کا خودساختہ اسلام ہوگا، جس میں نہ کفر و ایمان کا امتیاز ہو، نہ حلال و حرام کی تمیز ہو، نہ جائز و ناجائز کا سوال ہو، نہ مرد و زَن کے حدود ہوں، نہ نیکی و بدی کا تصوّر ہو، نہ اِخلاص و نفاق کے درمیان کوئی خطِ امتیاز ہو، ایسے نام نہاد اسلام میں سب کچھ ہوگا، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام نہیں ہوگا۔

          چہارم:… کوثر صاحب اسلامی ممالک کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ انتہاپسندی کے سنگھاسن سے نیچے اُتر کر فلم سازی کی صنعت میں اصلاحی و انقلابی تبدیلیاں کریں۔

          جہاں تک فلم میں اصلاحی و انقلابی تبدیلیوں کا تعلق ہے، میں بتا چکا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں تصویر نجس العین اور ملعون ہے، اور اِمام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور موٴرِّخِ اسلام علامہ سیّد سلیمان ندوی ایسی نابغہ شخصیتوں کو بھی جو کسی زمانے میں بڑے شدّ و مدّ سے تصویر کے جواز کے قائل تھے، یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ موجودہ دور کی عکسی تصویر بھی فرمودہ نبوی کے مطابق حرام اور ملعون ہے۔ پس جو چیز بذاتِ خود نجس ہو، اس کو کس طرح پاک کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ اس کی ماہیت بدستور باقی ہو۔ کیا پیشاب کو کسی لیبارٹری میں صاف کرلیا جائے تو وہ پاک ہوجائے گا؟

          فلموں میں کیسی بھی تبدیلیاں کرلی جائیں، ان کی ماہیت نہیں بدل سکتی، ہاں! آپ یہ کرسکتے ہیں کہ اس کے فحش اجزا کو حذف کردیں، اس میں سے نسوانی کردار چھانٹ دیں، اس کے باوجود فلم، فلم ہی رہے گی، اس کی ماہیت ہی سرے سے حرام اور ملعون ہے، تو کوئی سا اصلاحی و انقلابی اقدام بھی اس کو حرمت و ملعونیت سے نہیں بچاسکتا، ہاں! اس کا ایک نقصان ضرور ہوگا کہ اب تو عام سے عام مسلمان بھی فلم کو گناہ سمجھتا ہے، کوثر صاحب کے فتویٰ کے بعد بہت سے ناواقف لوگ اس کو گناہ بھی نہیں سمجھیں گے، یوں فسق سے کفر کی حد تک پہنچ جائیں گے۔

          اور اگر کوثر صاحب کا مقصد یہ ہے کہ حج و غزوات وغیرہ اسلامی شعائر کو فلمایا جائے، تو یہ اس سے بھی بدترین چیز ہے، اس لئے کہ اسلامی شعائر کو تفریح اور لہو و لعب کا موضوع بنانا شعائر اللہ کی بے حرمتی اور توہین ہے، اگرچہ ایسا کرنے والوں کا یہ مقصد نہ ہو، اور اگرچہ وہ اس دقیقے کو سمجھنے کی بھی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔

          اور اس سے بھی بدتر یہ کہ ایسی فلموں کو ناواقف لوگ کارِ ثواب سمجھا کریں گے (جیسا کہ فلمِ حج کو بہت سے لوگ بڑی عقیدت سے ثواب اور عبادت سمجھ کر دیکھتے ہیں)، اس کا سنگین جرم ہونا بالکل واضح ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کا کام اور خدا تعالیٰ کے غضب و لعنت کا موجب قرار دیا تھا، یہ لوگ ٹھیک اس چیز کو عبادت اور رضائے الٰہی کا موجب سمجھتے ہیں، یہ خدا و رسول کا صریح مقابلہ ہے، اور خدا تعالیٰ کی شریعت کے متوازی ایک نئی شریعت تصنیف کرنا کس قدر سنگین جرم ہے؟ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ فلمی صنعت میں کوئی ایسا اصلاحی و انقلابی اقدام ممکن نہیں جو اس صنعت کو خدا کی لعنت سے نکال سکے۔

          جہاں تک انتہاپسندی کے سنگھاسن سے نیچے اُترنے کے مشورے کا تعلق ہے، میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ حلال و حرام کا اختیار اُمت کے کسی فرد کو نہیں دیا گیا، اور خدا کے حرام کئے ہوئے فعل کو حرام کہنا انتہاپسندی نہیں، بلکہ عین ایمان ہے، اگر اس کو “سنگھاسن” کے لفظ سے تعبیر کرنا صحیح ہے، تو یہ ایمان کا سنگھاسن ہے، اور ایمان کے سنگھاسن سے نیچے اُترنے کا مشورہ کوئی مسلمان نہیں دے سکتا۔ اور جو شخص نیچے اُترنے کا ارادہ کرے، وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ کوثر صاحب کو اگر اسلام و ایمان مطلوب ہے، تو میں ان کو مخلصانہ مشورہ دُوں گا کہ وہ خود مغرب پرستی کے سنگھاسن سے نیچے اُتر کر اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں اور اپنے کفریہ کلمات سے توبہ کریں۔

Facebook Comments

Comments are closed.