رضاعت یعنی بچوں کو دُودھ پلانا

چلد پنجم
66
0


رضاعت کا ثبوت

س… میری، میرے ماموں کی لڑکی کے ساتھ منگنی ہوئی ہے، میری والدہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کو دُودھ پلایا تھا، اور کسی وقت کہتی ہیں نہیں۔ میرا، میرے ماموں کی لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

ج… رضاعت کا ثبوت دو عادل مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے ہوتا ہے، پس جب آپ کی والدہ کو بھی یقین نہیں اور دُودھ پلانے کے گواہ بھی نہیں تو رضاعت ثابت نہ ہوئی، اس لئے نکاح ہوسکتا ہے، البتہ اس نکاح سے پرہیز کیا جائے تو بہتر ہے۔

عورت کے دُودھ کی حرمت کا حکم کب تک ہوتا ہے؟

س… ایک میاں بیوی جو خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے تین بچوں سے نوازا ہے، سب سے چھوٹی شیرخوار بچی جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال ہے اور ماں کا دُودھ پیتی ہے، ایک روز رات کے وقت بچی نے دُودھ نہیں پیا جس کی وجہ سے اس عورت کا دُودھ بہت چڑھ آیا، تکلیف کی وجہ سے مجبوراً اس عورت کو اپنا دُودھ خود نکالنا پڑا، اس نے اپنا دُودھ نکال کر کسی برتن میں اس غرض سے رکھا کہ بعد میں کسی صاف جگہ یہ دُودھ ڈال دیں گی یا ڈلوادیں گی، کیونکہ اس عورت نے کسی سے سن رکھا تھا کہ ویسے ہی عام جگہ یا گندی جگہ پر اس قسم کا دُودھ پھینکنا گناہ ہے، حسبِ معمول وہ صبح کی چائے کے لئے بھی رات ہی کو دُودھ منگواکر رکھ لیا کرتے تھے، یعنی اس کا شوہر چائے کے لئے دُودھ لاکر رکھ دیا کرتا تھا، صبح اس کے شوہر نے اُٹھ کر چائے بنائی اور غلطی سے چائے والا دُودھ چائے میں ڈالنے کے بجائے اپنی بیوی کا وہ نکالا ہوا دُودھ چائے میں ڈال کر چائے بنائی اور وہ چائے دونوں میاں بیوی اور بچوں نے پی لی۔ چائے پینے کے کچھ دیر بعد جب اس کی بیوی نے وہ اپنا نکالا ہوا دُودھ کسی صاف جگہ ڈلوانے کے لئے اپنے شوہر کو دینا چاہا تو دیکھا کہ اس برتن میں دُودھ نہیں۔ اس بارے میں اس نے اپنے شوہر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس برتن والا دُودھ تو میں چائے میں ڈال چکا ہوں، اور جب اس نے دیکھا تو چائے والا دُودھ ویسے کا ویسا ہی پڑا تھا۔ بیوی یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہوئی تو شوہر نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بیوی نے بتایا کہ اس برتن میں تو میں نے اپنا دُودھ رات کے وقت تمہارے سامنے نکال کر رکھا تھا جو تم نے چائے میں ڈال دیا اور وہ چائے ہم سب نے پی لی ہے۔ اب دونوں میاں بیوی سخت پریشان ہوئے تو انہوں نے ایک عالم صاحب سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا، تمام واقعات سننے کے بعد اس عالم صاحب نے بتایا کہ تم دونوں میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ چکا ہے اور اَب تم دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے کسی صورت میں بھی نہیں رہ سکتے، کیونکہ تمہاری بیوی اب تمہاری رضاعی ماں بن چکی ہے، اب یہ بیوی تم پر حرام ہے۔

          لہٰذا اب آپ اس مسئلے پر قرآن و سنت کے مطابق روشنی ڈالیں کہ کیا واقعی ان دونوں میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ گیا؟ کیا ان دونوں میاں بیوی کے مابین طلاق ہوگئی؟ کیا اب یہ عورت اپنے میاں پر حرام ہے؟ کیا رُجوع کرنے سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے؟ کیا حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے؟

ج… عورت کے دُودھ سے حرمت جب ثابت ہوتی ہے جبکہ بچے نے دو سال کی عمر کے اندر اس کا دُودھ پیا ہو، بڑی عمر کے آدمی کے لئے دُودھ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، نہ عورت رضاعی ماں بنتی ہے۔ لہٰذا ان دونوں میاں بیوی کا نکاح قائم ہے۔ اس عالم صاحب نے مسئلہ قطعاً غلط بتایا، ان دونوں کا نکاح نہیں ٹوٹا، اس لئے نہ حلالہ کی ضرورت ہے، نہ دوبارہ نکاح کرنے کی، اور نہ کسی کفارے کی، اطمینان رکھیں۔

رضاعت کے بارے میں عورت کا قول، ناقابلِ اعتبار ہے

س… میرے چچازاد دو بھائیوں کے لڑکا اور لڑکی (جو آپس میں رضاعی بہن بھائی بتائے جاتے ہیں) نے نکاح کیا، جس مولوی صاحب نے نکاح پڑھوایا، اس کو بعد میں بتایا گیا کہ معاملہ تو ایسا ہے، مولوی صاحب نے جواباً کہا کہ تین آدمیوں کی شہادت پیش کرو کہ یہ دُودھ پیا گیا ہے، لڑکا اور لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہے، لڑکے نے لڑکی کی سوتیلی ماں کا دُودھ نہیں پیا ہے، میں اور خاندان کے چند اور بھائیوں نے اسی دوران اس بات پر لڑکے اور لڑکی کے والدین کے ساتھ فتویٰ لے کر قطع تعلق کیا، چونکہ تین شہادتیں ہمارے پاس نہیں تھیں۔ البتہ جس عورت کا دُودھ پیا گیا تھا، چونکہ لڑکی کے والد نے دُوسری شادی کی اور پہلی عورت سے ناچاقی ہوگئی ہے اس لئے وہ اپنے والدین کے ہاں رہائش پذیر ہے، ہم تین آدمی اس عورت کے پاس چلے گئے اور اس کے حالات معلوم کئے تو اس عورت نے کلمہ پڑھا اور کہا کہ میں نے اس لڑکے کو دُودھ پلایا ہے، اور اس کے خاوند کا کہنا ہے کہ چونکہ میرے اس عورت کے ساتھ تعلقات دُوسری شادی کی وجہ سے اچھے نہیں، اس لئے وہ مجھ سے انتقام لینا چاہتی ہے اور جھوٹ الزام لگاتی ہے۔

          اب چونکہ یہ بات مشکوک ہوگئی ہے کہ عورت سچ بولتی ہے یا جھوٹ اور تین گواہ بھی ہمارے پاس نہیں ہیں، اس لئے گزارش ہے کہ ہمیں اس بات کا فتویٰ صادر فرمایا جائے کہ آیا میں نے جو قطع تعلق کیا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟

ج… رضاعت کے ثبوت کے لئے دو گواہوں کی چشم دید شہادت ضروری ہے، صرف دُودھ پلانے والی کا یہ کہنا کہ: ”میں نے دُودھ پلایا ہے“ کافی نہیں، اس لئے صورتِ مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اور اس عورت کا قول ناقابلِ اعتبار ہے۔

لڑکے اور لڑکی کو کتنے سال تک دُودھ پلانے کا حکم ہے؟

س… بچے کو دُودھ پلانے کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ شریعت میں لڑکی کو پونے دو سال اور لڑکے کو دو سال کی عمر تک دُودھ پلانے کا حکم ہے، کیا دونوں کو دو سال تک دُودھ پلانے کا حکم ہے، یا دونوں کی مدّت کے درمیان فرق ہے؟

ج… دونوں کے لئے پورے دو سال دُودھ پلانے کا حکم ہے، دونوں کا دُودھ پہلے چھڑادینا بھی جائز ہے، اگر اس کی ضرورت و مصلحت ہو۔ بہرحال دونوں کی مدّتِ رضاعت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

بچے کے کان میں دُودھ ڈالنے سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی

س… بچے کے کان میں دُودھ ڈالنے سے رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

ج… اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

اگر رضاعت کا شبہ ہو تو احتیاط بہتر ہے

س… ایک عورت نے اپنی ہی ایک خواہرزادی کو دُودھ پلایا، اس کا اس عورت نے خود اقرار بھی کیا اور دو سال تک بھرپور انداز میں اس کو تسلیم بھی کیا۔ خاندان کے بقیہ افراد نے بھی اس کو تسلیم کیا، لیکن اچانک اس بچی کے رشتے کے لئے بیان کو حلفاً تبدیل کیا، اس عورت نے اقرار اس انداز میں کیا کہ: ”یہ بچی مجھے بہت پسند ہے میں اپنے بچے سے اس کا رشتہ کردیتی مگر اس نے میرا دُودھ پیا ہے۔“ بعد ازاں اس کے شوہر کے بھائی کے لئے اس رشتے کی بات چلی تو اس عورت نے اپنا بیان تبدیل کرلیا کہ اس نے میرا دُودھ نہیں پیا، ”میرے علم میں نہیں“، جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس عورت کا رشتے کے حصول کے لئے بیان تبدیل کرنا جائز ہے؟

ج… دُوسرے معاملات کی طرح دُودھ پلانے کا ثبوت بھی دو گواہوں کی شہادت سے ہوتا ہے، محض دُودھ پلانے والی کے کہنے سے نہیں ہوتا، تاہم جبکہ ایک عرصے تک دُودھ پلانے والی کے قول پر اعتماد کرکے یہ یقین کیا جاتا رہا کہ فلاں بچے نے فلاں عورت کا دُودھ پیا ہے، اس کے بعد اس عورت کا اپنے اقرار سے انحراف شک و شبہ کا موجب ہے، اس لئے اس بچی کا نکاح اس عورت کے دیور سے کرنا خلافِ احتیاط ہے، لہٰذا نہیں کرنا چاہئے، جیسے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”جس چیز کے بارے میں تمہیں شک ہو اس کو ترک کردو۔“

مدّتِ رضاعت کے بعد اگر دُودھ پلایا تو حرمت ثابت نہیں ہوگی

س… سلمیٰ اور عقیلہ دو سگی بہنیں ہیں، سلمیٰ کا لڑکا صغیر حسین جب چھ سال کی عمر کا تھا اس وقت عقیلہ کے لڑکے کبیر کی عمر ۹ ماہ تھی، عقیلہ نے ایک چمچ اپنا دُودھ دوا میں ملاکر صغیر حسین کو پلایا تھا، اس کے بعد عقیلہ کے چار لڑکے لڑکیاں اور پیدا ہوئیں، عقیلہ کا چوتھا لڑکا کرار حسین جوان ہوگیا جبکہ صغیر حسین کی لڑکی جمیلہ جوان ہوگئی، اور انڈیا میں دونوں کا نکاح کردیا گیا، فتویٰ دیجئے کہ صغیر حسین کی لڑکی جمیلہ اور عقیلہ کے لڑکے کرار حسین کا آپس میں نکاح جائز ہے یا نہیں؟

ج… چھ سال کے بچے کو دُودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اس لئے صغیر حسین کی لڑکی سے عقیلہ کے لڑکے کا نکاح صحیح ہے۔

شیرخوارگی کی مدّت کے بعد دُودھ پینا جائز نہیں

س… کیا کوئی بالغ شخص کسی عورت کا دُودھ پینے پر اس عورت کا بیٹا شمار ہوگا یا نہیں؟ یعنی رضاعت کا اعتبار زمانہٴ شیرخوارگی پر کیا جائے گا یا کہ دُودھ پر؟ کیونکہ ہمارے محلے میں ایک گھر ایسا ہے جہاں وہ لوگ اپنے جس نوکر کو گھر میں آنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں تو اسے عورت کا دُودھ کچھ مقدار میں پلادیا جاتا ہے۔ مزید برآں اگر بالغ شخص کو دُودھ پلانے پر رضاعت کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تو پھر شوہر کا اپنی بیوی کا دُودھ پینے کے متعلق قرآن و سنت کا کیا حکم ہے؟

ج… رضاعت صرف شیرخوارگی کے زمانے میں ثابت ہوتی ہے، جس کی مدّت صحیح قول کے مطابق دو سال ہے، اور ایک قول کے مطابق اڑھائی سال ہے۔ شیرخوارگی کی مذکورہ بالا مدّت کے بعد دُودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، نہ اس پر حرمت کے اَحکام جاری ہوتے ہیں۔ شیرخوارگی کی مدّت کے بعد اپنے بچے کو بھی دُودھ پلانا حرام ہے۔ اسی طرح کسی عورت کا دُودھ کسی بڑی عمر کے لڑکے کو پلانا حرام ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے محلے کے جس گھر کا ذکر کیا ہے ان کا فعل ناجائز ہے۔ بیوی کا دُودھ پینا بھی حرام ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔

۷-۸ سال کی عمر میں دُودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی

س… میری والدہ نے میری خالہ کا وہ دُودھ جو کہ وہ پھینکنے کے لئے دیا کرتی تھیں، تقریباً ۷-۸ سال کی عمر میں پی لیا تھا، جس کا میری خالہ کو قطعی علم نہیں تھا، اب آپ یہ فرمائیں کہ آیا میرا خالہ زاد بھائی میری والدہ کا دُودھ شریک بھائی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ میری بہن کی شادی میرے خالہ زاد بھائی سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟

ج… رضاعت کی مدّت دو سال (اور ایک قول کے مطابق اڑھائی سال) ہے، اس مدّت کے بعد رضاعت کے اَحکام جاری نہیں ہوتے، لہٰذا ۷-۸ سال کی عمر میں دُودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، اس لئے آپ کی بہن کا عقد خالہ زاد سے ہوسکتا ہے۔

بڑی بوڑھی عورت کا بچے کو چپ کرانے کے لئے پستان منہ میں دینا

س… ہمارے وطن میں رواج ہے کہ جب گھر کی عورتیں کام کاج میں لگ جاتی ہیں اور چھوٹے بچے جب رونا شروع کردیتے ہیں تو ان کو خاموش کرنے کے لئے گھر کی معمر ترین خاتون دُودھ پلانا شروع کردیتی ہے، جبکہ اس عورت کا دُودھ نہیں ہوتا۔ کیا اس سے یہ بچہ اس کی اولاد بن جاتا ہے؟ یہ صورت کبھی یوں بھی پیش آجاتی ہے کہ پڑوس کی کوئی عورت کسی کام کو جاتی ہے تو اپنا شیرخوار بچہ معمر عورت کے سپرد کردیتی ہے کہ سنبھال کر رکھے، ایسی صورت میں بچے کے رونے پر معمر خاتون دُودھ پلادیتی ہے حالانکہ دُودھ ہوتا نہیں ہے، کیا اس طرح یہ بچہ اس عورت کا بچہ بن جاتا ہے؟

ج… جن عورتوں کو زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے دُودھ نہیں آتا صرف بچوں کو خاموش کرانے کی غرض سے بچوں کو گود میں لیتی ہیں تو اس سے وہ بچے ان کی اولاد نہیں بنتے، کیونکہ اولاد بننے کے لئے شرط ہے کہ دُودھ پیا جائے، اور ان عورتوں کے دُودھ کا امکان ہی نہیں۔

دس سال بعد دُودھ پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کا مطلب

س… آپ نے یہ فرمایا تھا کہ کسی بچے نے شیرخوارگی کی مدّت میں کسی عورت کا دُودھ پیا ہو تو وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا ہوا، اور اس عورت کے بچے اس کے دُودھ شریک بھائی بہن ہوئے، اگر اس مدّت کے بعد دُودھ پیا ہو تو وہ رضاعت کے حکم میں نہیں آتا۔ مگر ایک مولوی صاحب نے مجھے بتایا کہ: ”نہیں، چاہے دُودھ کبھی بھی کیوں نہ پیا ہو، وہ دُودھ پینے والا یا والی نے جس عورت کا دُودھ پیا ہے اس کے رضاعی بیٹا یا بیٹی ہوگئے“۔ میں نے انہیں ”بہشتی زیور“ اَز مولانا اشرف علی تھانوی کا حوالہ دیا اور آپ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے اسی کے مسئلہ نمبر۱۴، چوتھا حصہ، صفحہ نمبر۲۱۱ کا حوالہ دیا، اس کے مطابق ایک لڑکا ہے اور ایک لڑکی، دونوں نے ایک ہی عورت کا دُودھ پیا ہے تو ان میں نکاح نہیں ہوسکتا، خواہ ایک ہی زمانے میں پیا ہو، یا ایک نے پہلے، دُوسرے نے کئی برس کے بعد، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اسی میں یہ بھی ہے کہ دُودھ پلانے کی مدّت اِمامِ اعظم کے فتویٰ کے بموجب زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ہے، اگر اس کے بعد دُودھ پیا ہو تو اس عورت کی لڑکی سے نکاح دُرست ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ ”بہشتی زیور“ کے اس مسئلہ نمبر۱۴ کی وضاحت فرمادیجئے۔

ج… ”بہشتی زیور“ کے اس مسئلے کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں نے مدّتِ رضاعت کے اندر دُودھ پیا ہو، خواہ لڑکے نے دس سال پہلے پیا تھا (جبکہ وہ شیرخوارگی کی حالت میں تھا) اور لڑکی نے دس سال بعد پیا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ حرمت تو اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ لڑکے اور لڑکی دونوں نے اپنی اپنی شیرخوارگی کی مدّت میں دُودھ پیا ہو۔ البتہ یہ شرط نہیں کہ دونوں نے ایک ہی وقت میں دُودھ پیا ہو۔ اور اگر دونوں نے یا ان میں سے ایک نے مدّتِ رضاعت (ڈھائی سال) کے بعد دُودھ پیا تو اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی، بلکہ دونوں کا نکاح جائز ہوگا۔

اگر دوائی میں دُودھ ڈال کر پلایا تو اس کا حکم

س… ایک عورت نے ایک بچے کو دوائی میں اپنا دُودھ ڈال کر پلادیا، اب اس کا رشتہ اس عورت کی اولاد کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ اس صورت میں کہ دُودھ غالب ہو۔

ج… جائز نہیں۔

س… اس صورت میں کہ دوائی دُودھ پر غالب ہو؟

ج… جائز ہے۔

س… اس صورت میں کہ دوائی اور دُودھ دونوں برابر ہوں؟

ج… جائز نہیں۔

دُودھ پلانے والی عورت کی تمام اولاد دُودھ پینے والے کے لئے حرام ہوجاتی ہے

س… میرے چھوٹے بھائی نے بچپن میں ہماری ممانی کا دُودھ پیا ہے، اب ان کی دونوں لڑکیوں سے ہم دونوں بھائیوں کی شادی کی بات چیت طے پائی ہے، میں نے بھائی کے سلسلے میں ان سے اختلاف کیا، جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے وہ یہ کہ کسی عورت کا دُودھ پی لینے کے بعد اس کی لڑکیوں سے دُودھ پینے والے لڑکے کا نکاح جائز نہیں ہے۔ لیکن ان کا (میرے بزرگوں کا) استدلال یہ ہے کہ دُودھ پیتے ہوئے جس کے حصے کا دُودھ پیا ہو، وہی اس کے لئے جائز نہیں، بعد کی یا پہلے کی اولاد سے نکاح ہوسکتا ہے۔ ہماری رہنمائی کرکے ہم پر احسان کریں، عین نوازش ہوگی۔

ج… جس بچے نے شیرخوارگی کے زمانے میں کسی عورت کا دُودھ پیا ہو وہ اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے، اور اس عورت کی اولاد، خواہ پہلے کی ہو یا بعد کی، اس بچے کے بہن بھائی بن جاتے ہیں، اس لئے آپ کی رائے صحیح ہے، آپ کے بھائی کا نکاح آپ کی ممانی کی لڑکی سے جائز نہیں، آپ کے بزرگوں کا خیال غلط ہے۔

شادی کے بعد ساس کا دُودھ پلانے کا دعویٰ

س… میرے شوہر نے میری ماں کا دُودھ پیا تھا اور میری شادی کو تقریباً ۱۶ سال ہو رہے ہیں، اور ۱۶ سال سے یہ مسئلہ میرے لئے عذاب بنا ہوا ہے۔ میری ماں کہتی ہیں کہ: ”تیرے شوہر نے میرا دُودھ تیرے اُوپر نہیں پیا تھا بلکہ بڑے بھائی کے ساتھ پیا تھا“، اور کبھی کہتی ہیں کہ: ”دُودھ نہیں پیا تھا بلکہ میں اس کو بہلانے کے لئے دے دیا کرتی تھی، دُودھ نہیں ہوتا تھا۔“ یاد رہے کہ جب میری ماں نے میرے شوہر کو دُودھ پلایا تھا اس وقت ان کی گود میں بھی بچہ تھا جو کہ دُودھ پیتا تھا اور وہ میرے بڑے بھائی تھے۔

ج… صرف آپ کی والدہ کا دعویٰ تو قابلِ قبول نہیں، بلکہ رضاعت کا ثبوت دو ثقہ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے ہوتا ہے، پس اگر دُودھ پلانے کے گواہ موجود ہیں تو آپ دونوں میاں بیوی نہیں بہن بھائی ہیں، اور اگر گواہ نہیں ہیں تو دُودھ پلانے کا دعویٰ غلط ہے اور نکاح صحیح ہے۔

جس نے خالہ کا دُودھ پیا فقط اس کے لئے خالہ زاد اولاد محرَم ہیں، باقی کے لئے نہیں

س… ایک عورت نے اپنی ہمشیرہ کے بڑے بچے کو دُودھ پلایا ہے، اب وہ خواہش مند ہے کہ اپنے چھوٹے لڑکے کی شادی اپنی بہن کی چھوٹی بچی سے کردے، لیکن بعض علماء صاحبان نے ممنوع فرمایا ہے۔ کیا آپ کی نظر میں ان کا یہ رشتہ ہوسکتا ہے؟

ج… جس لڑکے نے اپنی خالہ کا دُودھ پیا ہے اس کا نکاح اس خالہ کی کسی لڑکی سے نہیں ہوسکتا، اس کے علاوہ دونوں بہنوں کی اولاد کے رشتے آپس میں ہوسکتے ہیں۔

رضاعی بھائی کی سگی بہن اور رضاعی بھانجی سے عقد

س… ایک عورت جس کا دُودھ ”ت“ نے پیا ہے، اور اس عورت کا دُودھ ”ج“ نے بھی پیا ہے، ”ت“ کی عمر تقریباً ۳۸ سال ہے، جبکہ ”ج“ کی عمر تقریباً ۴۵ سال ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ”ت“ کی بیٹی کا رشتہ ”ج“ کے لئے مانگ رہے ہیں، جبکہ ”ج“ اور ”ت“ دونوں رضاعی بہن بھائی ہوگئے ہیں، دُودھ کے پینے سے کیا یہ رشتہ شریعت کے مطابق ٹھیک ہے یا غلط؟ رشتہ ہوا یا نہیں؟

س…۲: ایک عورت جس کا دُودھ ”ص“ نے پیا ہے اور اسی عورت کا دُودھ ”ج“ نے بھی پیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ”ص“ کے لئے ”ج“ کی چھوٹی بہن کا رشتہ مانگ رہے ہیں، لڑکی والے کہتے ہیں کہ یہ رشتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ لڑکی کا بھائی ”ج“ اور لڑکا ”ص“ نے ایک ہی عورت کا دُودھ پیا ہے۔

ج… ”ت“ کی بیٹی ”ج“ کی رضاعی بھانجی ہے، ان دونوں کا عقد نہیں ہوسکتا۔

ج…۲: رضاعی بھائی کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے،اس لئے ”ص“ کا نکاح ”ج“ کی بہن سے ہوسکتا ہے۔

بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائز ہے

س… رضاعی بہن میرے اُوپر نکاح میں لینا شریعت کی رُو سے جائز نہیں ہے، لیکن میرا جو بھائی ہے اس پر کیسا ہے؟ بھائی میرے سے یا تو پہلے پیدا ہوئے ہوں یا میرے بعد جو بھائی پیدا ہوجائے اس پر نکاح میں لینا کیسا ہے؟

ج… رضاعی بہن بننے کی تین صورتیں ہیں:

          ۱:… اس لڑکی نے آپ کی والدہ کا دُودھ پیا ہو، اس صورت میں وہ آپ کی والدہ کی رضاعی بیٹی اور آپ کی اور آپ کے سب بھائی بہنوں کی رضاعی بہن ہوئی، اس لئے آپ کے کسی بھائی کا رشتہ بھی اس سے جائز نہیں۔

          ۲:… آپ نے اس لڑکی کی ماں کا دُودھ پیا ہو، اس صورت میں اس کی ماں آپ کی رضاعی ماں ہوئی اور اس کی اولاد آپ کے رضاعی بہن بھائی ہوئے، اس لئے آپ کا نکاح اس کی کسی لڑکی سے جائز نہیں، لیکن آپ کے حقیقی بھائیوں کا نکاح اس کی لڑکیوں (آپ کی رضاعی بہنوں) سے جائز ہے۔

          ۳:… آپ اور اس لڑکی نے کسی تیسری عورت کا دُودھ پیا ہے، اس صورت میں وہ عورت آپ دونوں کی رضاعی ماں ہوئی، آپ دونوں رضاعی بہن بھائی ہوئے، آپ کے حقیقی بھائیوں کا نکاح اس لڑکی سے جائز ہے۔

رضاعی باپ کی لڑکی سے نکاح جائز نہیں

س… سعودی عرب میں پیش آنے والے ایک واقعہ (۲۱ برس تک بہن بیوی رہی، سعودی علماء نے اس شادی کو ناجائز قرار دیا)، اس بیان کے مطابق زید نے اپنی چچی کا دُودھ پیا اور اس کی وہ چچی وفات پاگئی، اس کے چچا نے دُوسری شادی کی، دُوسری چچی کی بیٹی سے زید نے شادی کی، چونکہ سعودی علماء نے اس شادی کو ناجائز قرار دیا، حنفیہ عقیدے میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

ج… یہ دُوسری لڑکی بھی اس کے چچا سے تھی، اس کا چچا ”رضاعی باپ“ تھا، اور باپ کی اولاد بہن بھائی ہوتے ہیں، اس لئے یہ لڑکی اس کی رضاعی بہن تھی۔ سعودی علماء نے جو فتویٰ دیا ہے وہ صحیح ہے اور چاروں مذاہب کے علماء اس پر متفق ہیں۔

رضاعی بہن سے شادی

س… میری اہلیہ کے بھائی کے گھر ایک بچی کی ولادت ہوئی، بچی کی ولادت کے چند ہفتے بعد میری اہلیہ نے اس بچی کو اپنا دُودھ پلایا، بچی نے مشکل سے ایک یا دو قطرے دُودھ پیا ہوگا، اور صرف ایک دفعہ ہی ایسا ہوا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے بڑے بیٹے کی شادی اپنی اہلیہ کے بھائی کی لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں، آپ حدیث اور شریعت کی رُو کے مطابق بتائیں کہ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

ج… آپ کی اہلیہ نے اپنے بھائی کی جس بچی کو دُودھ پلایا ہے وہ اس بچی کی رضاعی والدہ بن گئیں، اور یہ لڑکی آپ کے لڑکے کی رضاعی بہن ہے، اور رضاعی بہن بھائی کا نکاح آپس میں جائز نہیں ہے، لہٰذا آپ اپنے لڑکے کی شادی اس لڑکی سے نہیں کرسکتے۔

رضاعی بیٹی سے نکاح نہیں ہوسکتا

س… اگر کسی بچی کو دُودھ پلادیا جائے، بعد میں دُودھ پلانے والی عورت مرجائے تو مرنے والی عورت کا خاوند دُودھ پینے والی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

ج… یہ لڑکی اس عورت کے شوہر کی رضاعی بیٹی ہے، اس سے نکاح جائز نہیں۔

رضاعی بہن کی حقیقی بہن سے نکاح جائز ہے

س… میری منگنی میرے چچا کی لڑکی سے میرے والدین کرنا چاہتے ہیں، مگر جو لڑکی میرے نکاح میں لانا چاہتے ہیں اس کی بڑی بہن نے میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ میری ماں کا دُودھ پیا، مگر نہ تو میں نے اور نہ میرے کسی بہن بھائی نے میری چچی کا دُودھ پیا، کیا میری شادی جائز ہوگی یا ناجائز؟ میری تسلی فرمائیے۔

ج… جس لڑکی نے آپ کی والدہ کا دُودھ پیا ہے، اس کا نکاح تم بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ جائز نہیں، وہ آپ کی رضاعی بہن ہے، مگر جس لڑکی سے آپ کا رشتہ تجویز کیا گیا ہے وہ رضاعی بہن کی حقیقی بہن ہے، اس سے آپ کا نکاح جائز ہے۔

حقیقی بھائی کا رضاعی بھانجی سے نکاح جائز ہے

س… زید نے ثریا کا دُودھ پیا ہے، زید کا ایک بھائی جس کا نام ثاقب ہے، ثریا کی ایک بیٹی جس کا نام عندلیب ہے، عندلیب کی بیٹی کوثر کے ساتھ زید کے بھائی ثاقب کا نکاح شرعاً جائز ہے؟

ج… آپ کے سوال میں زید، ثاقب کا حقیقی بھائی ہے، اور کوثر، زید کی رضاعی بھانجی ہے، اور حقیقی بھائی کی رضاعی بھانجی سے نکاح جائز ہے۔

رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں

س… ہندہ و شاہدہ دو سگی بہنیں ہیں، ہندہ بڑی اور شاہدہ چھوٹی، ہندہ نے شاہدہ کی لڑکی زینب کو اَیامِ رضاعت میں دُودھ پلایا، اب ہندہ اپنی بہن شاہدہ کی لڑکی زینب کا نکاح اپنے حقیقی دیور یعنی شوہر کے حقیقی بھائی بکر سے کرنا چاہتی ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

ج… شاہدہ کی لڑکی زینب کا نکاح ہندہ کے حقیقی دیور بکر سے جائز نہیں، کیونکہ زینب ہندہ کے شوہر کی رضاعی لڑکی اور شوہر کے بھائی بکر کی بھتیجی ہے۔ تو اَز رُوئے شرع جس طرح نسبی بھتیجی سے نکاح حرام اور ناجائز ہے اسی طرح رضاعی بھتیجی سے بھی ناجائز ہے۔

دُودھ شریک بہن کی بیٹی سے نکاح

س… کیا دُودھ شریک بہن کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

ج… جائز نہیں، وہ حقیقی بھانجی کی مثل ہے۔

رضاعی والدہ کی بہن سے نکاح جائز نہیں

س… ایک نوجوان نے اپنی بھابھی کا بچپن میں دُودھ پیا، اب جوان ہے اور اپنی بھابھی کی نوجوان بہن کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے، کیا شرعی لحاظ سے ٹھیک ہے کہ نہیں؟

ج… بھابھی اس کی رضاعی ماں اور اس کی بہن اس کی رضاعی خالہ ہے، اور جس طرح نسبی خالہ سے نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی خالہ سے بھی نکاح جائز نہیں۔ اس لئے اس نوجوان کی شادی اس بھابھی کی بہن سے نہیں ہوسکتی۔

رضاعی ماموں بھانجی کا نکاح جائز نہیں

س… میری بیوی نے میری چھوٹی بہن کو دُودھ پلایا، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا میری چھوٹی بہن کی شادی میری بیوی کے بھائی (میرے سالے) سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟

ج… اس دُودھ پلانے کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ کی چھوٹی بہن کی رضاعی ماں بن گئی اور آپ کے سالے آپ کی چھوٹی بہن کے رضاعی ماموں بن گئے، جس طرح نسبی رشتے کے ماموں اور بھانجی کے درمیان نکاح جائز نہیں، اسی طرح رضاعی رشتے کے ماموں اور بھانجی کے درمیان نکاح جائز نہیں۔

دُودھ شریک بہن کی بیٹی کے ساتھ دُودھ شریک کے بھائی کا نکاح جائز ہے

س… ہندہ (لڑکی) کے ساتھ زید نے ہندہ کی ماں کا دُودھ زمانہٴ رضاعت میں پیا ہو اور اَب ہندہ کی بیٹی کے ساتھ زید کے چھوٹے بھائی کا نکاح ہوسکتا ہے؟ بوجہ رضاعت کے ہندہ حرمت میں تو نہیں؟

ج… ہندہ، زید کی رضاعی بہن اور اس کی بیٹی زید کی رضاعی بھانجی ہے، اور رضاعی بھانجی سے رضاعی ماموں کے حقیقی بھائی کا نکاح جائز ہے۔

دُودھ پینے والی لڑکی کا نکاح دُودھ پلانے والی کے دیور اور بھائی سے جائز نہیں

س… زید کی بیوی کا ایک لڑکی نے بچپن میں دُودھ پی لیا تھا، کیا اب اس لڑکی کا نکاح اس شخص کے چھوٹے بھائی یعنی دُودھ پلانے والی کے دیور سے یا زید کی بیوی کے بھائی سے جائز ہے یا نہیں؟ نیز ان سے اس بچی کا کیا رشتہ بنتا ہے؟

ج… دُودھ پلانے والی کا بھائی اس لڑکی کا ماموں ہے اور اس کا دیور لڑکی کا چچا ہے، اس لئے ان دونوں سے اس کا نکاح جائز نہیں۔

دُودھ شریک بہن کی دُودھ شریک بہن سے نکاح جائز ہے

س… میری ایک چچازاد بہن ہے اور وہ میری دُودھ شریک بہن بھی ہے، ہمارے محلہ کی ایک دُوسری لڑکی ہے وہ میری چچازاد بہن کی دُودھ شریک بہن ہے، آپ بتائیں کہ کیا میرا چچازاد بہن کی دُودھ شریک بہن سے نکاح جائز ہے؟

ج… دُودھ شریک بہن کی دُودھ شریک بہن سے نکاح جائز ہے، اگر وہ آپ کی دُودھ شریک بہن نہیں۔

دادی کا دُودھ پینے والے کا نکاح چچا کی بیٹی سے جائز نہیں

س… میں اپنی دادی کا دُودھ کبھی کبھی پی لیا کرتا تھا (پیٹ بھر کر نہیں ویسے ہی)، جس کی کہ میرے دادا نے بھی اجازت دے دی تھی، اب میری منگنی میرے چچا کی بیٹی سے ہوگئی ہے تو کیا اس سے میرا نکاح جائز ہوگا اور یہ شادی ہوسکتی ہے؟

ج… یہ نکاح جائز نہیں، آپ اس لڑکی کے رضاعی چچا ہیں۔

دادی کا دُودھ پینے سے چچا اور پھوپھی کی اولاد سے نکاح نہیں ہوسکتا

س… میرا بچہ جس کی عمر تقریبا ۳ سال ہے، اپنی دادی یعنی میری والدہ کا دُودھ پیتا ہے، کیونکہ اس کی امی نے دُوسرا بچہ ہونے پر دُودھ چھڑادیا تھا، اس لئے اس کی دادی نے صرف بہلاوے کے لئے اس کو اپنے سینے سے چمٹالیا اور اَب جبکہ وہ ماشاء اللہ تین سال کا ہے اس کی یہ عادت پختہ ہوچکی ہے اور وہ ہمیشہ دادی سے چمٹ کر ہی سوتا ہے۔ اس لئے آپ برائے مہربانی مجھے یہ بتادیجئے کہ اس کا ایسا کرنا کس حد تک جائز ہے؟ اور کیا اس بچے کا یہ فعل میرے اور اس کے رشتوں کے درمیان حائل تو نہ ہوگا؟ اُمید ہے جلد از جلد میری پریشانی دُور فرمائیں گے۔

ج… جس بچے نے دو سال (اور ایک قول کے مطابق ڈھائی سال) کے اندر اندر کسی عورت کا دُودھ پیا ہو وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا بن جاتا ہے، اور اس کا نکاح دُودھ پلانے والی کی اولاد، یا اولاد کی اولاد سے نہیں ہوسکتا۔ پس اگر آپ کے بچے نے اپنی دادی کا دُودھ ڈھائی سال کے اندر پیا ہے تو اس کا نکاح اس کے چچاوٴں اور پھوپھیوں کی اولاد سے جائز نہیں، اور اگر چھاتیوں میں دُودھ نہیں تھا محض بہلانے کے لئے ایسا کیا گیا تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

کیا دادی کا دُودھ پینے والی لڑکی کا نکاح چچاوٴں اور پھوپھیوں کی اولاد سے جائز ہے؟

س… میں نے بچپن میں ایک دفعہ اپنی دادی کا دُودھ پیا تھا، میری دادی کی سب سے چھوٹی اولاد یعنی میرے سب سے چھوٹے چچا بھی مجھ سے تقریباً چار پانچ سال بڑے ہیں، ان کے بعد میری دادی کے کوئی اور لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی۔ میں نے بہت سے علماء سے سنا ہے کہ کسی عورت کی اولاد ہونے کے بعد اگر دو سال کے اندر اس عورت کا دُودھ پیا جائے تو اس کے بچوں سے رضاعی بھائی بہن کا رشتہ ہوتا ہے، دو سال کے بعد پینے سے رضاعی بھائی بہن کا رشتہ نہیں ہوتا، اس لئے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیونکہ میری دادی کی سب سے چھوٹی اولاد بھی مجھ سے تقریباً چار پانچ سال بڑی ہے تو آپ یہ بتائیں کہ میں اپنے چچاوٴں اور پھوپھیوں کی رضاعی بہن ہوں یا نہیں؟ اور میرا ان کے لڑکوں سے رشتہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟

ج… اگر اس وقت آپ کی دادی کی چھاتیوں میں دُودھ تھا تو آپ اپنی دادی کی رضاعی بیٹی اور چچاوٴں اور پھوپھیوں کی رضاعی بہن بن گئیں، اور اگر چھاتیوں میں دُودھ نہیں تھا یونہی بچی کو بہلانے کے لئے دادی نے ایسا کیا تھا تو حرمت ثابت نہیں ہوئی۔

نواسے کو دُودھ پلانے والی کی پوتی کا نکاح اس نواسے سے جائز نہیں

س… میری اہلیہ نے اپنے نواسے کو بچپن میں دُودھ پلایا ہے، لیکن اب اس کی شادی اپنی پوتی سے کرانا چاہتی ہے، تو کیا یہ نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟

ج… آپ کی اہلیہ نے جس نواسے کو دُودھ پلایا ہے وہ اس کا رضاعی بیٹا بن گیا، اور اس کی اولاد کا بھائی بن گیا، اس کے لڑکوں کی اولاد کا رضاعی چچا اور لڑکیوں کی اولاد کا رضاعی ماموں بن گیا، اور جس طرح حقیقی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہیں ہوسکتا اسی طرح رضاعی بھتیجی یا رضاعی بھانجی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس لئے آپ کی اہلیہ کا اپنی پوتی کے ساتھ اس لڑکے کا نکاح کرنا صحیح نہیں۔

چھوٹی بہن کو دُودھ پلادیا تو ان کی اولاد کا نکاح آپس میں جائز نہیں

س… دو سگی بہنیں ہیں، ایک شادی شدہ ہے اور ایک چھ ماہ کی، کسی مجبوری کے تحت بڑی بہن چھوٹی بہن کو اپنا دُودھ پلادیتی ہے، چھوٹی بہن بھی اب بال بچے دار ہے، اب وہ اپنی بڑی بہن کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی شادی کرنا چاہتی ہے، کیا وہ شریعت کی رُو سے ایسا کرسکتی ہے؟ جبکہ دونوں خاندان راضی ہیں۔

ج… جب بڑی بہن نے چھوٹی بہن کو دُودھ پلایا تو چھوٹی بہن رضاعی بیٹی بن گئی، اور بڑی بہن کی اولاد اس کے رضاعی بہن بھائی بن گئے، جس طرح سگے بہن بھائیوں سے اس کی اولاد کا رشتہ نہیں ہوسکتا، اسی طرح رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نہیں ہوسکتا۔

نانی کا دُودھ پینے والے لڑکے کا نکاح ماموں زاد بہن سے جائز نہیں

س… میری ماں نے میرے بھانجے کو دُودھ پلایا اور میں اپنی لڑکی کی شادی اپنے بھانجے سے کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ رشتہ جائز ہے؟

ج… جس لڑکے نے آپ کی والدہ کا دُودھ پیا ہے وہ آپ کا رضاعی بھائی ہے، اس سے آپ کی لڑکی کا نکاح جائز نہیں۔

رضاعی خالہ کی دُوسرے شوہر سے اولاد بھی رضاعی بھائی بہن ہیں

س… میری خالہ جان نے دو شادیاں کیں، وہ ابھی پہلے شوہر کے گھر میں آباد تھیں جب مجھے دُودھ پلایا، اور پھر میری اس خالہ کا وہ شوہر وفات پاگیا۔ اور پھر خالہ جان نے حالات سے تنگ آکر دُوسری شادی کرلی اور اس شوہر سے بیٹی پیدا ہوئی، اب میرے والدین اور میری خالہ جان آپس میں رشتہ کرنا چاہتے ہیں، یعنی خالہ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟

ج… جس خالہ نے آپ کو دُودھ پلایا ہے اس کی لڑکی سے آپ کا نکاح جائز نہیں۔

ایسی لڑکی سے نکاح جس کا دُودھ شوہر کے بھائی نے پیا ہو

س… میں نے پچھلے سال اپنی بیٹی کا نکاح ایک ایسے لڑکے سے کردیا جس کے بڑے بھائی نے میری لڑکی کا دُودھ پیا ہے، اب مجھے پریشانی ہے کہ آیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟

ج… یہ نکاح صحیح ہے، پریشانی کی ضرورت نہیں۔

نانی کا دُودھ پینے والے کے بھائی کا نکاح خالہ زاد بہن سے جائز ہے

س… میری منگنی میرے خالہ زاد سے ہوئی، اور میرے جیٹھ نے میری نانی کا دُودھ پیا ہے، جس کی وجہ سے وہ میرے ماموں بھی ہوئے، مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا میری شادی میرے خالہ زاد سے ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جس سے میری شادی ہوگی انہوں نے میری نانی کا دُودھ نہیں پیا مگر ان سے بڑے بھائی نے دُودھ پیا ہے۔

ج… جس لڑکے نے آپ کی نانی کا دُودھ نہیں پیا اس سے نکاح جائز ہے، اس کا بڑا بھائی آپ کا رضاعی ماموں ہے اور رضاعی ماموں کے حقیقی بھائی سے نکاح دُرست ہے۔

مرد و عورت کی بدکاری سے ان کی اولاد بھائی بہن نہیں بن جاتی

س… میرے بچپن کے دوست ”خ“ کی کچھ عرصہ پہلے اپنے مرحوم والد کے دوست کی بیٹی کے ساتھ شادی ہوئی تھی، چند روز پہلے مجھ پر ایک سنگین انکشاف ہوا ہے، ایک شخص نے جو ”خ“ کے والد کے ساتھ لوہے کا کاروبار کرتا تھا، مجھے بتایا ہے کہ ”خ“ کے والد نے اپنی جوانی میں اپنے اسی دوست کی بیوی سے بدکاری کی تھی، جس کی بیٹی سے اب ”خ“ نے شادی کی ہے۔ اس بدکاری کا علم صرف ان دونوں کو تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”خ“ کے باپ نے اسے بتایا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے دوست کی بیٹی دراصل اس کی ہو، اور پھر اسے منع بھی کردیا تھا کہ اس بات کا علم کسی کو نہ ہونے دے، ورنہ وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔ اس عورت کا کچھ عرصہ کے بعد انتقال ہوگیا، ”خ“ کے والد کے انتقال کے بعد اس بیوپاری کا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہ رہا اور ”خ“ کی شادی کا بھی اسے کوئی علم نہ تھا۔ وہ آدمی ”خ“ کو یہ بات بتادینا چاہتا تھا لیکن میں نے اسے فی الحال ایسا کرنے سے منع کردیا ہے۔ اب آپ براہ کرم مذہبی نقطہٴ نظر سے بتائیے کہ کیا کیا جائے؟

ج… ان دونوں کا نکاح شرعاً صحیح ہے۔ اوّل تو اس بیوپاری کے بیان سے اس کہانی پر اعتماد کرنا ہی گناہ ہے۔ دوم مرد و عورت کی بدکاری سے ان کی اولاد بھائی بہن نہیں بن جاتی، اولاد کا نکاح آپس میں جائز رہتا ہے۔

Facebook Comments

Comments are closed.