1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

نمازِ وتر

PDF Print E-mail


تہجد کے وقت وتر پڑھنا افضل ہے

س… فرض نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہئے اور نفل نماز گھر میں، اس بارے میں حدیث بھی ہے۔ مزید معلومات کے لئے آپ سے رُجوع کیا ہے، اگر وتر تہجد کے وقت پڑھیں تو کیسا ہے؟ عشاء کے وقت افضل ہے یا تہجد کے وقت افضل ہے؟

ج… جو شخص جاگنے کا بھروسا رکھتا ہو اس کے لئے تہجد کے وقت وتر پڑھنا افضل ہے، اور جو بھروسا نہ رکھتا ہو اس کے لئے عشاء کے بعد پڑھ لینا بہتر ہے۔

بغیر عذر کے وتر بیٹھ کر ادا کرنا صحیح نہیں

س… اگر کسی وجہ سے نماز بیٹھ کر پڑھے تو کیا عشاء کی نماز میں وتر بھی بیٹھ کر پڑھے یا کھڑے ہوکر؟

ج… بغیر عذر کے فرض اور وتر بیٹھ کر ادا کرنے سے نماز نہیں ہوگی، اور اگر کھڑے ہونے پر قدرت نہ ہو تو مجبوری ہے۔

ایک رکعت وتر پڑھنا صحیح نہیں

س… کیا تین وتر کے بجائے ایک وتر بھی پڑھ سکتے ہیں؟

ج… نہیں! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک رکعت پر اکتفا کرنا ثابت نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمولِ مبارک تین رکعات وتر کا تھا، جیسا کہ متعدّد احادیث میں آیا ہے، اس لئے امام ابوحنیفہ کے نزدیک تنہا ایک رکعت وتر نہیں، اس مسئلے کی بقدرِ ضرورت تفصیل میری کتاب ”اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم حصہ دوم“ میں ملاحظہ فرمالی جائے۔

وتر کی تیسری رکعت میں دُعائے قنوت بھول جانا

س… نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور دُوسری سورة پڑھنے کے بعد ”اللہ اکبر“ کہہ کر کانوں کی لو کو ہاتھ لگاکر دوبارہ ہاتھ باندھ کر دُعائے قنوت پڑھنی ہے، اس کے بعد رُکوع میں جانا ہے، اگر کوئی سورہٴ فاتحہ اور دُوسری سورة پڑھ کر رُکوع میں مکمل جھک گیا ہے اور اسے فوراً ہی یاد آجاتا ہے کہ میں نے دُعائے قنوت پڑھنی تھی، کیا وہ رُکوع سے واپس آسکتا ہے؟ جبکہ اس نے رُکوع کی ایک تسبیح بھی نہیں پڑھی تھی۔ دُوسری صورت میں ایک تسبیح رُکوع میں پڑھ چکا ہے، اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ آیا وہ مکمل رُکوع کرنے کے بعد سجدہٴ سہو کرے یا رُکوع سے واپس آکر دُعائے قنوت پڑھے اور بعد میں سجدہٴ سہو کرے؟

ج… اگر رُکوع میں چلا گیا یا اس کے قریب پہنچ گیا کہ دونوں ہاتھ گھٹنوں کو لگ گئے تو واپس نہ لوٹے، بلکہ آخر میں سجدہٴ سہو کرلے، اور اگر اتنا نہیں جھکا کہ گھٹنوں تک ہاتھ پہنچ جائیں تو کھڑا ہوکر قنوت پڑھ لے، اس صورت میں سجدہٴ سہو نہیں۔

وتر میں دُعائے قنوت کے بجائے ”قل ھو اللہ“ پڑھنا

س… کیا وتر میں دُعائے قنوت کی جگہ تین دفعہ سورہٴ اِخلاص پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

ج… دُعائے قنوت یاد کرنی چاہئے، جب تک وہ یاد نہ ہو، ”ربنا اٰتنا“ والی دُعا پڑھ لیا کریں، یا کم از کم ”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ“ تین مرتبہ کہہ لیا کریں، سورہٴ اِخلاص دُعائے قنوت کی جگہ نہیں پڑھی جاتی۔

رمضان کے وتروں میں مقتدی کے لئے دُعائے قنوت

س… رمضان شریف میں جب امام کے پیچھے نمازِ وتر پڑھی جاتی ہے تو کیا مقتدی کو بھی دُعائے قنوت پڑھنی چاہئے؟

ج… دُعائے قنوت کا پڑھنا امام اور مقتدی دونوں پر واجب ہے، اس لئے مقتدیوں کو دُعائے قنوت ضرور پڑھنی چاہئے۔

وتر کی تیسری رکعت میں سورہٴ اِخلاص پڑھنا ضروری نہیں

س… نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں سورہٴ فاتحہ کے بعد سورہٴ اِخلاص پڑھتے ہیں، پھر تکبیر کے لئے کانوں کی لو کو ہاتھ لگاکر دوبارہ ہاتھ باندھ کر دُعائے قنوت پڑھتے ہیں، کیا یہ لازمی ہے کہ وتروں کی تیسری رکعت میں سورہٴ اِخلاص ہی پڑھنی چاہئے؟ یا کوئی اور سورة بھی پڑھ لی جائے تو کوئی گناہ تو نہیں؟

ج… وتر کی تیسری رکعت میں سورہٴ اِخلاص ہی پڑھنا ضروری نہیں، کوئی اور سورة بھی پڑھ سکتے ہیں۔

وتر کی تیسری رکعت میں الحمد دوبار نہ پڑھیں

س… وتر نماز میں تیسری (آخری) رکعت میں دوبارہ تکبیر کے بعد ”الحمد شریف“ اور کوئی سورة لگاکر ”دُعائے قنوت“ پڑھنی چاہئے یا صرف دُعائے قنوت پڑھ لینی چاہئے؟

ج… تیسری رکعت میں پہلے الحمد شریف اور کوئی سورة پڑھی جائے، پھر تکبیر کہہ کر صرف دُعائے قنوت پڑھی جائے، دُعائے قنوت والی تکبیر کے بعد دوبارہ فاتحہ نہیں پڑھی جاتی۔

غیررمضان میں نمازِ وتر کی جماعت کیوں نہیں ہوتی؟

س… نمازِ وتر رمضان کے علاوہ باجماعت کیوں نہیں پڑھی جاتی؟

ج… صحابہ کرام کے وقت سے یوں ہی چلا آتا ہے۔

عشاء کی فرض نماز چھوٹنے پر کیا وتر باجماعت پڑھ سکتے ہیں؟

س… اگر کوئی شخص عشاء کی فرض نماز کے بعد آتا ہے، یعنی اس کی جماعت نکل گئی تو کیا وہ تراویح کے بعد باجماعت وتر نہیں پڑھ سکتا؟ ذرا تفصیل سے اور حوالے سے بتائیں۔

ج… علامہ شامی نے قہستانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس شخص نے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے ہوں (بلکہ علیحدہ پڑھے ہوں) وہ وتر کی جماعت میں شریک نہیں ہوسکتا، لیکن یہ قول ضعیف ہے، صحیح یہ ہے کہ شریک ہوسکتا ہے، جیسا کہ علامہ طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں تصریح کی ہے، اور اگر فرض کی جماعت ہی نہیں ہوئی تو وتر کی نماز باجماعت پڑھنا صحیح نہیں۔

کیا وتر کے بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھ سکتے؟

س… ”اجعلوا الصلٰوة العشاء الاٰخرة الوتر“ عشاء کی وتروں کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ (بخاری شریف) یہ سوال ایک عالم دین نے کیا ہے کہ وتروں کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے، حالانکہ بڑے بڑے عالم حضرات بھی وتروں کے بعد نماز پڑھتے ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟

ج… آپ نے جو لفظ نقل کئے ہیں وہ تو حدیث کی کسی کتاب میں نہیں، صحیح بخاری شریف (ج:۱ ص:۱۳۶) میں یہ ارشاد نقل کیا ہے: ”اجعلوا اٰخر صلٰوتکم باللیل وترًا“ یعنی رات کی نماز (جس سے مراد نمازِ تہجد ہے) کے آخر میں وتر پڑھا کرو۔ یہ حکم اہلِ علم کے نزدیک استحباب کے لئے ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے، مگر عام معمول وتر کے بعد نفل پڑھنے کا نہیں تھا، اس لئے اگر کوئی وتر کے بعد نفل پڑھتا ہے تو اسے منع نہ کیا جائے۔ البتہ عام لوگ یہ نفل بیٹھ کر پڑھتے ہیں، یہ غلط ہے، یہ نفل بھی کھڑے ہوکر پڑھنے چاہئیں۔

اگر وتر اور تہجد کی نماز رہ جائے تو؟

س… میں روزانہ تہجد کی نماز پڑھتی ہوں، اس لئے عشاء میں وتر چھوڑ دیتی ہوں، اور تہجد کے بعد پڑھتی ہوں، آج رات ہم دیر سے اُٹھے، سحری ختم ہوچکی تھی، اس لئے تہجد کی نماز رہ گئی، اب وتر جو میں نے چھوڑے ہیں اور تہجد کی نماز بھی، کیا اس کی قضا پڑھ سکتی ہوں؟

ج… اگر دیر سے آنکھ کھلے اور صبحِ صادق ہونے میں کچھ وقت ہو تو وتر تو صبحِ صادق سے پہلے پڑھ لینے ضروری ہیں، اور اگر صبحِ صادق کے بعد آنکھ کھلے تو فجر کی سنتوں سے پہلے وتر پڑھ لینے چاہئیں، نفل کی قضا نہیں ہوتی، لیکن جس شخص کی تہجد رہ گئی ہو وہ اشراق کے وقت تہجد کے نفل پڑھ لے، انشاء اللہ اس کو تہجد کا ثواب مل جائے گا۔

فونٹ انسٹال کریں

download-font

آپکے مسائل اور انکا حل

جلد ہشتم


جلد ہفتم

جلد ششم

جلد پنجم

جلد چہارم

جلد اول


جلد سوم

جلد دوم